#سونی ماہیوال #قسط 3 اس طرح جاتے وقت ان کے قاف…

#قسط 3
اس طرح جاتے وقت ان کے قافلے نے کہیں پڑائو نہیں ڈالا ۔ وہ صرف رات گزارنے اور آرام کرنے کے لیے رکتے تھے۔ یوں مسلسل سفر کرتے کرتے آخر کار دہلی پہنچ گئے۔ جب وہ دہلی پہنچے تو وہاں ہرطرف جشن کی خوشیاں منائی جارہی تھیں۔ شہر میں ملک ملک کے لوگ جمع تھے اور عمارتوں کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ عزت بیگ کے لیے تو یہ سب کچھ نیا تھا اور کسی قدر عجیب بھی۔ وہ حیرانی اور دلچسپی سے اِدھر اُدھر کا نظارہ کر رہا تھا۔ بازاروں میں قطار در قطار دکانیں قسم قسم کے سامان بھری ہوئی تھیں اور ہر طرف اَن گنت لوگ اِدھر اُدھر گھومتے دکھائی دے رہے تھے۔ دہلی کے تجارتی حلقوں میں بلخ کے مرزا عالی کا نام معروف تھا کیونکہ اس کے آدمی برسوں سے سامان تجارت فروخت کرنے آتے تھے اور جاتے میں دوسرا سامان خرید کے لے جاتے تھے۔ تاجروں کو جب یہ پتا چلا کہ اس بار قافلے کے ساتھ مرزا عالی کا بیٹا بھی آیا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور اس کی بڑی آئوبھگت کی گئی۔ عزت بیگ نے دربار میں شرف باریابی کی فرمائش کی تو انہوں نے اس کا بھی انتظام کردیا۔ یہ اعزاز عزت بیگ کے لیے اور بھی خوشی کا باعث تھا۔ وہ بادشاہ کو پیش کرنے کے لیے بلخ سے جو تحائف ساتھ لایاتھا، انہیں لے کر شاہی دربار میں حاضر ہوگیا جہاں شاہ جہاں نے اسے خوش آمدید کہا۔ عزت بیگ نے جب تحائف پیش کیے تو بادشاہ کو بہت پسند آئے۔ اس نے خوش ہوکر اسے ایک لاکھ مہریں بخشیں، خلعت دیا اور ساتھ ایک گھوڑا بھی عطا کیا۔ جب عزت بیگ شاہی دربار سے واپس آیا تو اس نے اپنے ساتھیوں کو دربار میں ہونے والی عزت افزائی کے بارے میں بتایا جس پر وہ سارے خوش ہوئے اور کہا۔
’’واپس وطن پہنچ کر مرزا عالی کوبتائیں گے کہ یہ اعزاز عزت بیگ کی وجہ سے حاصل ہوا ہے؟‘‘
قافلے والوں کا خیال تھا کہ ان کا سامان تجارت فروخت ہونے میں ابھی دن لگیں گے جیسے پہلے لگتے تھے لیکن اس بار ان کے اندازے کے برعکس سازوسامان بہت جلد فروخت ہوگیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شاہی جشن کی وجہ سے دہلی میں دور دور سے لوگ آئے ہوئے تھے جن میں بہت سے تاجر بھی شامل تھے۔ سامان فروخت ہونے کے بعد قافلہ چند دن دہلی میں ٹھہرا تاکہ لوگ دہلی کی سیر بھی کرلیں اور واپسی کے لیے سامان بھی خرید لیاجائے۔ ادھر عزت بیگ تو آیا ہی اسی لیے تھا کہ دہلی شہر دیکھے اور اس نے واقعی جی بھر کے دہلی کی سیرکی۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھوما، قابل دید مقامات پرگیا، باغوں کی سیرکی۔ ان دنوں یوں بھی وہاں بہت زیادہ رونق اور چہل پہل تھی۔ پھر جب اس کا دل شہر کی سیر سے بھرگیا تو انہوں نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ جو سامان وہاں سے خریداتھا، اسے اونٹوں اور گھوڑوں پر لادا اور واپس اپنے وطن کی طرف چل دیے۔آتے وقت تو انہیں وقت پر دہلی پہنچنے کی جلدی تھی جس کی وجہ سے وہ کسی شہر میں نہیں ٹھہرے تھے لیکن اب عزت بیگ کا ارادہ تھا کہ ایسے شہر ضرور دیکھتا ہوا جائے گا جو دیکھنے والے ہیں۔ اس نے لاہور شہر کی شہرت بھی سن رکھی تھی اور اس تاریخی شہر کا تذکرہ کئی بار اس کے باپ نے بھی کیاتھا، اسی لیے جب لاہور کے قریب پہنچے تو اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔
’’دوچاردن لاہور میں رک کر یہ شہر بھی دیکھنا چاہیے۔‘‘
وہ وہاں رک تو گئے مگر زیادہ دنوں تک ٹھہرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے‘پیچھے ان کا انتظار ہو رہا ہوگا۔ انہوں نے دوچار دن وہاں گزارے‘کچھ آرام کیا‘ لاہور کی سیر بھی کی اور پھر وہاں سے پڑائو اٹھاکر دوبارہ سفر پر چل دیے جب وہ گجرات کے قریب پہنچے تو عزت بیگ نے کہا۔
’’یہ شہربھی دیکھنا چاہیے۔ ایک دو روز یہاں بھی ٹھہرتے ہیں۔‘‘
????_????@????????????????????????????????????
ویسے بھی جب وہ گجرات کے قریب پہنچے تو اس وقت شام ہو رہی تھی اور انہیں رات بسرکرنے کے لیے پڑائو کرنا ہی تھا۔گجرات شہر اگرچہ اس دور میں اتنابڑا اور پھیلاہوا نہیں تھا مگر یہ ہندوستان کے اہم شہروں میں سے ایک تھا۔ خاص طور پر ان قافلوں کے لیے اس کی بڑی اہمیت تھی جو دہلی جاتے تھے اور وہاں سے واپسی پر یہاں سے گزرتے تھے۔ انہوں نے شہر کے باہر قافلہ روکا اور وہاں پڑائو کرکے بیٹھ گئے۔
گجرات شہر کی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہاں انتہائی خوبصورت اور نفیس و نازک ظروف تیار ہوتے تھے جن کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی۔ یہاں مٹی کے برتن بنانے والے ایسے ایسے کاریگر رہتے تھے جن کے فن کی کہیں اور مثال نہیں ملتی تھی اور انہی ماہر ظروف سازوں میں ایک تلا کمہار بھی تھا جو اپنے فن اور مہارت میں یکتا مانا جاتا تھا۔ اس کا اصلی نام تو عبداللہ تھا لیکن وہ تلا کہلاتا تھا اور اپنی اسی عرفیت سے ہی جانا پہچانا جاتا تھا۔ یہ کمہارکوزہ گری کے فن میں اس قدر ماہر تھا کہ اس کے بنائے ہوئے برتن لوگ تحفوں کے طور پر لیکر جاتے تھے جن کی نفاست اور نزاکت اپنی مثال آپ ہوتی تھی۔یوں تو اس کے برتن مٹی ہی کے ہوتے تھے لیکن وہ اس مہارت سے تیار کرتا تھا کہ برتن کاغذ کی طرح ہلکے ہوتے تھے۔ اس کے ڈیزائن اور ان پر بنے ہوئے بیل بوٹے دیکھنے والوں کا دل موہ لیتے تھے۔ یہ اس کی مہارت اور ہنر مندی تھی جو اسے اس فن میں اتنی شہرت اور ناموری حاصل تھی۔ اس کے برتن بہت بکتے تھے، اس طرح تلا غریب کمہار نہ تھا بلکہ کھاتا پیتا خوشحال شخص تھا۔ اسی تلے کمہار کے گھر میں لیلتہ القدر کو ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی جس کا چہرہ چاند کی طرح روشن تھا۔ اس کی اسی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے ماں باپ نے اس کا نام’’ سوہنی‘‘ رکھا تھا، اس لیے کہ وہ واقعی سوہنی تھی۔ وہ جوں جوں بڑی ہوتی گئی اس کا رنگ اور حسن نکھرتا چلا گیا۔ اور پھر جب اس پر جوانی کے شوخ وشنگ رنگوں کی دھنک بکھری تو اس کی طرف نظر بھر کے دیکھا نہ جاتا تھا۔ جو بھی اسے ایک نظر دیکھ لیتا، مسحور ہوکر رہ جاتا۔ شاعر نے اس کے حسن کی لفظوں میں تصویر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سوہنی مچلتے ہوئے شباب کی ایک تصویر جمیل تھی۔ اس کا ماتھا اتنا روشن تھا کہ چاند ستارے اور سورج بھی اس پر فدا ہوں۔ اس کے رخسار سرخ انار کی طرح خوبصورت تھے اور اس کے دلکش چہرے پر ایک تل تھا۔ اس کی ناک ایسے تھی جیسے تلوار کی دھار ہو، اس کی آنکھوں میں نیم خوابی کی کیفیت رہتی تھی اور ہونٹوں کی سرخی دیکھ کر لعل و جواہر بھی شرماتے تھے۔ اس کا چہرہ صاف بلور کی طرح تھا جس کی رکھوالی کے لیے سیاہ زلفوں کے ناگ تھے۔ اس کے پاؤں نرم و نازک تھے، باتوں میں بلا کی شیرینی تھی اور اس کی چال کے سامنے مور اور ہنس شرمسار ہوجاتے تھے۔ یہ تھی سوہنی جو اس وقت بھرپور شباب میں تھی اور پورے گجرات شہر میں اس جیسی حسین کوئی اور لڑکی نہ تھی۔
(جاری ہے)


