"ہماری شمو” تحریر: زویا حسن قسط نمبر: 2 بابا ٹی و…

تحریر: زویا حسن
قسط نمبر: 2
بابا ٹی وی لاؤنج سے اٹھ کے وہاں آگئے،
"اسلام علیکم ! خالوجی۔۔۔!”
شمو نے سر جھکا کے سلام کیا
بابا بھی ہماری طرح اسے پہچاننے سے قاصر تھے، امی نے تعارف کرایا۔ بابا نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا۔ امی رضیہ خالہ کی خیریت دریافت کرنے لگیں۔ گاؤں والوں کا پوچھا ۔ شمو نے دلچسپ قصے سنانا شروع کیے۔ امی اسکی نان سٹاپ کہانیاں سنتے سنتے یہ بھی بھول گئیں کہ اس سے کھانے پینے کا بھی پوچھنا ہے ۔میں نے اسے بیچ میں ٹوکا
"شمو ۔۔! باتیں تو چلتی رہیں گی ۔۔ یہ بتاؤ کہ کھاؤ گی کیا۔۔۔؟”
"صبا آپی۔۔! میں تو پزا کھاؤں گی۔۔ پتا ہے میری سہیلی کلثو م نے آج تک پیزا نہیں کھایا۔ میں نے تو ایک بار سرگودھا جاکر پیز کھا لیا۔۔ وہ وہاں ہے ناں۔۔ لکی پیزا والا۔۔۔ وہاں سے۔۔ اتنا مزیدار تھا۔ میں نے گھر جا کر کلثوم کو بتایا تو اسکے تو منہ میں پانی بھر آیا۔ اب بھی جب میں آنے لگی تو کہتی ہے ۔۔ شمو ۔۔ وعدہ کر لاہور جاکر سب سے پہلے پیزا ہی کھانا اور مجھے ضرور یاد کرنا۔۔ اس لیے مجھے تو اسکا وعدہ پورا کرنا ہے۔۔۔ ادھر پاس کوئی پیزا کی دکان ہے تو وہاں سے لے آتی ہوں۔۔ آپ لوگ بھی کھا لینا۔۔۔ ”
وہ امی کے پاس سے اٹھ کے میرے پاس بیٹھی۔۔ اور پیزا کہانی سنانے لگی۔ میری ہنسی نکل گئی۔۔
"شاہدہ۔۔! سرمد سے کہو کہ ایک پیزا آرڈر کردے۔۔”
امی نے ملازمہ کو آواز دی
"رکیں۔۔! میں آرڈر کردیتی ہوں۔۔ ”
میں نے اپنے فون سے ‘پیزا ہٹ’ کا نمبر ڈائل کیا
"ہائے۔۔! آپ آرڈر کررہی ہیں۔۔ وہ یہاں دے جائے گا۔۔۔ ؟”
میں نے سر ہلایا اور پیز ا کا آرڈر دینے لگی
"سنو۔۔! کونسا پیز کھاؤ گی۔۔ ؟”
میں نے اس سے پوچھا
"وہ۔۔ وہ ۔۔ جس پہ چکن کے ٹکڑے لگے ہوتے ہیں ناں ۔۔۔ گول سا ہوتا ہے۔۔ ”
وہ ہاتھ کے اشارے سے سمجھانے لگی
"ایک لارج سائز ‘چکن فجیتہ سسیلین ‘ ڈلیور کردیں”
میں نے آرڈر بک کرادیا
"جاتے ہوئے کلثوم کے لیے بھی ایک پیزا لے جاؤں گی۔۔۔ ”
وہ ہونٹوں میں بڑبڑانے لگی۔۔
"آج کل اماں کو بھولنے کی بیماری لگی ہوئی خالہ۔۔ میری تو جان عذاب ہوگئی ۔۔ ”
وہ میرے پاس سے اٹھ کے پھر سے امی کے بغل میں جا بیٹھی
"کیوں کیا ہوا رضیہ کو۔۔ ”
امی پوچھنے لگی
"ہونا کیا ہے۔۔ اپنے ہاتھ سے رکھی ہوئی چیزیں بھول جاتیں ہیں۔۔ اس کے بعد میری شامت آجاتی ہے۔۔ اب بھلا میں نے کیمرا لگایا ہوا کہ کدھر رکھ کے بھول گئیں۔۔ پھر کہتی ہیں میں انکا سارا بھیجہ چاٹ گئی ہوں اس لیے اب انھیں کچھ یاد نہیں رہیتا۔۔۔ اوپر سے نظر کمزور۔۔ اب کیا بتاؤ ں خالہ ۔۔۔ ”
اسکی زبان، آنکھیں اور ہاتھ۔۔ ایک ہی تال پہ چلتے تھے۔۔ زبان ہلاتی، ہاتھ لہراتی اور آنکھیں مٹکاتی۔۔۔ کمال کا سویگ تھا اس لڑکی میں۔۔ اسکی باتوں میں ایک چاشنی تھی۔۔ میں نے کتنی بار سوچا کہ اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی جاؤں لیکن ہر بار وہ نیا قصہ چھیڑ دیتی۔۔
"خالدہ۔۔۔ بات سنو۔۔”
بیٹھے بیٹھے وہ آواز دینے لگی
"خالدہ کون۔۔۔ ؟”
امی نے پوچھا
"آپکی ملازمہ ۔۔ اسکا نام خالدہ ہے ناں۔۔ ؟”
وہ بولی
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ اسکا نام شاہد ہ ہے۔۔ ”
امی نے بتایا
"اچھا۔۔ اچھا۔۔۔ شاہدہ۔۔ شاہدہ۔۔۔ گل سن”
وہ آواز دہ ینے لگی۔۔۔
"کچھ چاہیے بیٹا۔۔۔ ؟”
امی نے پوچھا
اتنے میں شاہدہ بھی آگئی۔۔
"جی باجی۔۔۔ !”
دوپٹے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے وہ بولی
"چل۔۔ پاس والی دکان سے بوتل لے آتے ہیں۔۔ ڈاھائی لیٹر والی۔۔۔ سب مل کے پئیں گے”
شمو کھڑی ہوگی
"گھر میں کولڈ ڈرنکس پڑی ہیں۔۔ جاؤ شاہدہ ۔۔ شمو کے لیے کولڈ ڈرنک لے آؤ۔۔۔ ”
امی نے اسے اشارہ کیا۔ شمو خوش ہو کے بیٹھ گئی
"خالدہ۔۔ ! کوکا کولا لانا۔۔۔ میں صرف کوکا کولا پیتی ہوں۔۔۔ ”
میں نے ہنسی ہونٹوں میں دبائی ، امی بھی مسکرانے لگیں
"پیپسی کا تو ذائقہ مجھے پسند نہیں ہے۔۔ پیزا کے ساتھ بھی کوکا کولا پئیں گے۔۔ مزہ آئے گا ناں۔۔ صبا آپی۔۔! آپکو کونسی بوتل اچھی لگتی ہے۔۔ ؟”
امی سے اسکا اینٹینا میری طرف گھوم گیا
"میں سبھی پی لیتی ہوں۔۔۔ ”
گلہ صاف کرتے ہوئے میں نے جواب دیا
"ہاہاہا۔۔۔ کہیں آپ افشاں کی امی کی طرح دو تین بوتلیں مکس کر کے تو نہیں پیتیں۔۔۔ ؟”
وہ قہقہہ لگا کہ ہنس پڑی۔
"خالہ۔۔! افشاں کی امی تو جو بوتل ہاتھ لگے پی جاتی ہیں۔۔ ایک دو بار تو مکس کرکے بھی پئیں۔۔۔ پھر کیا۔۔ پوری رات لیٹرین کے چکر لگاتی رہیں۔۔ پھر بھی باز نہیں آئیں۔۔۔ ”
میں نے سنجیدہ ہونے کی ناکام کوشش کی۔۔۔ لیکن ہو نہیں پایا۔۔ اس سے بڑا قہقہہ میرا نکلا۔۔ اتنے میں ڈور بیل بجی ، ڈلیوری بوائے نے پیزا ڈلیور کردیا۔
"ہائے۔۔ صبا آپی۔۔! آپ نے تو اتنا بڑا پیزا منگا لیا۔۔۔ یہ سار ا میں اکیلے کیسے کھاؤں گی۔۔ ”
وہ دیدے پھاڑے پیزا دیکھ رہی تھی
"تم جتنا کھا سکتی ہو کھا لینا۔۔ باقی شاہدہ کو دے دینا۔۔۔ ”
میں مسکرا کے بولی
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ شاہدہ تو کھاتی رہیتی ہوگی۔۔ باقی فریج میں رکھ دیتے ہیں۔ جاتے ہوئے میں کلثوم کے لیے لے جاؤں گی۔۔ ”
اس نے سلائیس لیا
"پگلی۔۔! اتنے دن فریج میں خراب ہوجائے گا۔۔ اور ویسے بھی اتنی دور پیزا لے کے نہیں جا سکتے۔۔ تم کلثوم کو سرگودھا سے پیزا کھلا دینا ناں۔۔ ”
امی بولیں
"خالہ۔۔! کلثوم بےچاری۔۔ سرگودھا نہیں جا سکتی۔۔ ایک ٹانگ سے معزورہے۔۔ بس پہ چڑھنے سے ڈرتی ہے۔۔ کبھی کہیں نہیں گئی۔۔ ”
بائیٹ گلے سے اتارتے ہوئے بولی
امی اور میں اسکے دلچسپ انداز کو غور سے دیکھنے لگے۔۔
"صبا آپی۔۔! برا مت مانیے گا۔۔ اس پیزا میں لکی پیزا والا مزہ نہیں ہے۔۔ پتا نہیں کیا کیا ڈالا ہوا ہے اس میں۔۔ ذائقہ ہی خراب کردیا۔۔”
ایک سلائیس ختم کرکے اس نے منہ بنایا
"ہاں بھئی۔۔ پیزا ہٹ والے بھلا سرگودھا کے لکی کا کہاں مقابلہ کرسکتے ہیں۔۔۔ صحیح کہہ رہی ہو۔۔۔ ”
میں ہنستے ہوئے بولی
"تم باتیں کرو۔۔ میں لان میں تمہارے انکل کے ساتھ بیٹھی ہوں۔۔ ”
امی اٹھ کے لان میں چلی گئیں
کولڈ ڈرنک کا آدھا کلاس گلے سے اتار کے اس نے ایک ڈکار لی۔۔۔
"آپی۔۔! آپ بھی کھائیں ناں۔۔۔ ”
ایک سلائیس ہاتھ میں لیے وہ میرے پاس آگئی۔۔
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ تم کھاؤ۔۔ میں نے تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا ہے۔۔ ”
میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا
"ایسے کیسے۔۔ میں کھا رہی ہوں۔۔ اور آپ سامنے بیٹھی مجھے دیکھ رہی ہیں۔۔۔ میرے پیٹ میں درد ہوگئی تو۔۔۔۔ ”
اس بار وہ مذاق کررہی تھی
"تم سکون سے کھاؤ۔۔ میں تمہاری طرف نہیں دیکھتی۔۔۔ ”
میں نے آنکھیں جھکا لیں
"ہو ہائے۔۔ میں تو مذاق کررہی تھی۔۔۔ اب تو آپکو کھانا پڑے گا۔۔ اس نے زبردستی میرا ہاتھ پکڑا اور پیزا منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔ ”
میں نے دونوں ہاتھوں کا زور لگا کے اسے خود سے دور کیا
ایک سلائیس اور کھا کے اس نے شاہدہ کو بلایا۔۔ اور پیزا فریج میں رکھوا دیا۔۔۔
"اب تم کمرے میں چل کے آرام کرو۔۔ تھکی ہوئی ہوگی۔۔۔ باقی باتیں شام میں کریں گے۔۔ ”
میں اٹھ کے بولی
"لئے۔۔۔۔ شمو لاہور آرام کرنے نہیں آئی۔۔ انجوائے کرنے آئی ہے۔۔۔ میں کونسا روز روز آؤں گی۔۔۔ واپس جاؤں گی تو اماں میری شادی کرادیں گی۔۔ میرا بندہ پتا نہیں کیسا ہو۔۔ ادھر لے کے آئے گا بھی یا نہیں۔۔۔ اس لیے تو میں شادی سے پہلے گھومنے پھرنے آگئی۔۔۔ چلیں خالہ کے پاس چل کے بیٹھتے ہیں۔۔”
وہ لان کی طرف جانے لگی
"تم چل کے بیٹھو وہاں میں آتی ہوں۔۔ ”
میں بہانہ کرکے اپنے کمرے میں آگئی۔۔ شمو کے آنے سے کم سے کم گھر کا سوگوار ماحول تو خوشگوار ہوا۔۔
"رکیں۔۔ رکیں خالو جی۔۔۔ میں اٹھاتی ہوں۔”
بابا گملا اٹھا کے دوسرے طرف رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن گملا بھاری ہونے کی وجہ سے ان سے اٹھایا نہیں جارہا تھا۔۔ امی انھیں روکتی رہیں کہ کے کمر کا درد لے کے بیٹھ جائیں گے۔۔ رہنے دیں۔۔ وہ پھر بھی کوشش کرتے رہے۔۔ لیکن شمو نے آگے بڑھ کے ان کی مدد کی۔۔
"یہ میں اکیلے ہی اٹھا لوں گی۔۔ آپ رہنے دیں۔۔”
اس نے گملے میں ہاتھ ڈالا
"بیٹا۔۔ تم رہنے دو۔۔ میں شاہدہ کو بلا لیتا ہوں۔۔۔ ”
بابا نے اسے روکا ۔۔
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ وہ تو دبلی پتلی سی ہے۔۔ اس سے کہاں اٹھایا جانا ہے۔۔ ”
اس نے منہ بنایا
"اچھا۔۔ ٹھیک ہے میں تمہاری مدد کرتا ہوں۔۔ ”
بابا اور شمو نے مل کے گملا اٹھایا۔۔ اسکے بعد اس نے خوب گپیں لگائیں۔۔ ایک بات تو طے تھی، اسکی کمپنی میں کبھی بور نہیں ہو سکتے۔۔ شام ہونے لگی۔۔ امی نے شاہدہ کو آواز دی کہ چائے بنا دے۔۔ پر شمو کمر کس کے اٹھ کھڑی ہوئی کہ چائے تو میں خود بناؤں ۔۔ پندرہ منٹ اپنی چائے کی تعریفیں کیں۔۔ امی روکتی رہیں کہ تم رہنے دو پر وہ کہاں سننے والی تھی۔۔۔ سینہ تان کے کیچن میں گھس گئی۔۔ شاہدہ نے چائے کا سارا سامان نکال کے دیا۔۔ شمو چائے بنانے لگی۔۔ سرمد چھٹی کا پورا دن سو کے ہی گزارتا تھا۔۔ امی اسے ڈسٹرب نہیں کرتی تھیں۔۔۔ نیند سے اٹھتے ہی اسے کوفی چاہیے ہوتی ہے۔۔ آنکھیں مسلتا وہ کیچن میں گیا۔۔
"شاہدہ۔۔! میرے لیے ایک کوفی بنا دو۔۔۔ ”
شمو کی پیٹھ اسکی طرف تھی اسے لیے وہ غلطی سے اسے شاہدہ سمجھ بیٹھا۔۔
"آپ سرمد بھائی ہیں ناں۔۔ ہائے اللہ۔۔ کیسے ہیرو جیسے ہوگئے ہیں آپ تو۔۔۔ ”
وہ سرمد کی طرف مڑی
"ہاں۔۔۔! پر تم کون ہو۔۔۔”
سرمد نے سڑے ہوئے انداز میں سر سے پاؤں تک اسکا جائزہ لیا
"میں شمو۔۔۔ آپکی رضیہ خالہ کی بیٹی۔۔۔ آپ نے بھی نہیں پہچانا ناں۔۔۔ وہی تو۔۔ کسی نے بھی نہیں پہچانا مجھے۔۔۔ پتا ہے کیا۔۔ جب میں پہلے آئی تھی۔۔ میرا رنگ کافی گورا تھا۔۔۔ اب تھوڑی سانولی ہو گئی ہوں۔۔ ہمارے ہاں دھوپ بہت پڑتی ہے اس لیے۔۔۔ ورنہ تو آپ مجھے جھٹ سے پہچان لیتے۔۔۔ ”
شمو کی نان سٹاپ ٹرین پھر سے چل پڑی۔۔ سرمد زیادہ دیر اسے سن نہیں سکا
"امی۔۔! میرے لیے کوفی بھجوائیں۔۔۔ ”
امی کو آواز دے کے پھر سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
"لگتا ہے۔۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا ہے۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے خود سے سرگوشی کرنے لگی۔۔
چائے بن گئی تو شاہدہ نے امی اور بابا کو لان میں چائے دے دی۔۔ شمو ایک چائے کا کپ لے کے سرمد کے کمرے کی طرف بڑھی۔ دروازہ ناک کیے بنا ہی اسکے کمرے میں گھس گئی۔۔ سرمد نے ہمیشہ کی طرح کمرے میں گند مچایا ہوا تھا۔۔ فون ، لیپ ٹاپ، چارجرز، فائلیں۔۔ اور کپڑے سب چیزیں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں۔۔ وہ خود واش روم میں تھا۔۔
"توبہ ۔۔ توبہ۔۔۔ کتنا گند مچایا ہوا ہے۔۔۔”
چائے کا کپ بیڈ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کے وہ بکھرے ہوئے کپڑے اٹھانے لگی
"تم۔۔۔ یہاں کیا کررہی ہو۔۔؟”
سرمد واش روم سے باہر نکلا اسے دیکھتے ہی چونک گیا
"سرمد بھائی۔۔۔! اتنا گندڈالا ہوا ہے آپ نے۔۔۔ ”
وہ تیوری چڑھا کے بولی
سرمد نے آگے بڑھ کے اسکے ہاتھ سے اپنی جینز کھینچی
"چھوڑو میرے کپڑے۔۔ اور جاؤ یہاں سے۔۔۔ ”
"لو۔۔۔ میں چوری کرنے تھوڑی آئی ہوں۔۔ الماری میں رکھ رہی ہوں۔۔”
میں خود رکھ لوں گا تم جاؤ یہاں سے۔۔
"اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔ میں تو بس مدد کررہی تھی۔۔۔ چائے ٹھنڈی ہوجائے گی ۔۔ پی لیجئے گا۔۔ ”
اس نے کپ کی طرف انگلی کا اشارہ کیا
"میں چائے نہیں پیتا۔۔۔ ”
وہ اسے گھور کے بولا
"آج پئیں تو سہی۔۔ مزہ نہ آئے تو پھر کہنا۔۔ جادو ہے میر ے ہاتھ میں۔۔۔ آدھا گاؤں میری چائے کے گن گاتا ہے۔۔ ہمارے ایک تایا لطیف ہیں صبح صبح ہمارے گھر پہنچ جاتے ہیں اس چائے کے چکر میں۔۔ اماں لاکھ طعنے ، کوسنے دیتی ہیں۔۔ باتیں سناتی ہیں۔۔ پر مجال ہے جو انھوں نے ایک دن بھی چھٹی کی ہو۔۔۔ آپ بھی پیو گے تو فین ہو جاؤ گے۔۔۔”
اس نے پھر سے تعریفوں کے پل باندھنا شروع کردیے
"ہیلو۔۔! تم کس پلینیٹ (سیارے) سے آئی ہو۔۔۔ ”
سرمد تپ کے بولا
"سلانولی کے پاس چھوٹا سا گاؤں ہے ہمارا۔۔ آپ تو کبھی آئے نہیں ہوں گے ادھر۔۔۔ سرگودھا۔۔ سرگودھا کا تو پتا ہے ناں۔۔۔ ”
وہ پتا سمجھانے لگی
"اف۔۔۔۔! ”
وہ خود کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
"عجیب آدمی ہے یہ تو۔۔۔ ”
شمو منہ بناتی کیچن میں آگئی۔۔ چائے کے دو کپ ہاتھ میں پکڑے اور میرے روم میں آئی۔۔ میں لائٹس آف کرکے لیٹی ہوئی تھی۔
"صبا آپی۔۔! یہ کیا آپ نے دن دیہاڑے اندھیرا کیا ہوا ہے۔۔ آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔۔ ”
کمرے کی لائیٹس آن کرکے وہ بولی
مجھے غصہ آیا، کیسے وہ منہ اٹھا کے اندر چلی آئی۔۔ لیکن اگلے ہی پل سارا غصہ مسکراہٹ میں بدل گیا جب اسے نے میرے ماتھے پہ پیار سے اپنا ہاتھ رکھا
"بخار تو نہیں ہے۔۔ تھکان ہوگئی ہوگی۔۔ یہ پکڑیں چائے۔۔۔ طبیعت فریش ہوجائے گی آپکی۔۔۔ ”
بنا پوچھے وہ میرے ساتھ بستر میں گھس گئی۔۔ میں اسے کچھ کہہ نہیں پائی صرف سوچتی رہی کہ وہ کیسی ہے ۔۔
اسکے ضد کرنے پہ میں نے چائے کا سپ لیا۔۔
"آپی۔۔! ایک بات تو بتائیں۔۔ ”
وہ میرا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی
میں نے آنکھ کا اشارہ کرکے پوچھا
"خالہ سے آپکی لڑائی چل رہی ہے۔۔ ؟”
اس نے قدرے سنجیدگی سے سوال کیا
"نہیں ۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔ ”
میں نے نفی میں سر ہلایا
"شمو کو پاگل بنانا آسان نہیں ہے۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔ آپ لوگ ایکدوسرے سے بات بھی نہیں کررہے۔۔ لیکن آپ پریشان نہ ہوں۔۔ میں خود صلح کراتی ہوں آپ لوگوں کی ۔۔ اماں اور میں دن میں پچاس دفعہ لڑتے ہیں۔ ۔۔ لیکن رات ہونے سے پہلے پہلے مان جاتے ہیں۔۔ اماں تو مناتی نہیں مجھے۔۔ میں ہی ہمیشہ پہل کرتی ہوں۔۔ مائیں ایسی ہوتی ہیں۔۔ وہ اس لیے روٹھتی ہیں کہ اولاد انھیں منائے۔۔ انکے تھوڑے نخرے اٹھائے۔۔ ویسے انکا حق بھی ہے۔۔ ہمارے لیے کیا کچھ نہیں کرتیں۔۔ ”
اسکی باتوں پہ میں سوچنے لگی۔۔ وہ جتنی پاگل لگتی ہے اتنی ہے نہیں۔۔
"سنو۔۔! تم امی سے کچھ مت کہنا۔۔ میں ایک دو دن میں خود بات کرلوں گی۔۔۔ ”
میں نے اسے منع کیا
"ہرگز نہیں۔۔ میں تو آج ہی صلح کراؤں گی آپ دونوں کی۔۔۔”
چائے پینے کے بعد وہ مجھے زور زبردستی کمرے سے باہر لے آئی۔۔۔
امی کو اپنے بیگ کھول کے دکھائے کہ اسکی ماں نے کیا کچھ بھجوایا ہے۔ ہاتھ کی بنی ہوئی شالز، رومال اور پتا نہیں کیا کیا تھا۔ اور ہر ایک چیز کی پیچھے ایک لمبی داستان تھی۔ دیسی چاولوں کی بوری کھول کے امی ، بابا اور مجھے چاول سونگھائے۔ ان چاول کی کاشت سے لے کے آفادیت کی تفصیلی ہسٹری بھی سننے کو ملی۔ میں موقع پاکر کمرے میں گھسنے لگتی تو پھر سے مجھے پکڑ کے امی کے ساتھ بٹھا دیتی۔ امی کیچن میں رات کا کھانا بنانے چلی گئیں۔ سرمد شام سے ہی غائب تھا۔ بابا ٹی وی کے آگے بیٹھے نیوز دیکھ رہے تھے۔ وہ بھی جاکے بیٹھ گئی۔۔
"خالو جی۔۔! آپ کس پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں۔۔۔ ”
اب بابا اسکے نشانے پہ تھے۔۔ دونوں کے درمیان تبصرہ شروع ہوا۔ میں نے موقع غنیمت جانا واش روم کے بہانے کمرے میں گھس کے اندر سے لاک کر لیا کہیں پھر سے نہ آجائے۔۔
بابا اور شمو کے درمیان تبصرہ جلد ہی بحث کی شکل اختیار کرنے لگا۔ کوئی بچ بچا کرانے والا بھی نہیں تھا۔ شمو نے لمبی تقریریں کیں۔۔ فیکٹ اینڈفیگر پہ بات کی۔ کرنٹ افئیر سے لے کے سپورٹس کے سارے معاملات زیر بحث آئے۔ اتنے میں سرمد آگیا۔ بابا نے اسے بھی بلا لیا۔
"سرمد بھائی۔۔! ذرا آپ ہی بتائیں خالو جی کو۔۔ کہ پرانی سیاسی پارٹیوں نے کیسے ملک کو کھایا ہے۔۔ اب نئے لوگوں کو آگے آناچاہیے۔۔ ”
سرمد بے بسی میں بابا کا منہ دیکھنے لگا۔۔
"خالو جی۔۔! میں ابھی آئی۔۔ ہو سکتا ہے خالہ کو میری مدد کی ضروت ہو۔۔۔ ”
ایکدم سے اسے خالہ کا خیال آگیا۔۔سیاسی مباحثے کو بریک ملی۔۔ سرمد نے اسکے جانے کے بعد سکھ کا سانس لیا۔۔۔
"میں اسے بے وقوف سمجھ رہا تھا۔۔ لیکن لڑکی بہت سمجھدار ہے۔۔۔ چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی لڑکی اتنی با علم ہے۔۔ کمال ہوگیا”
بابا اسکی تعریف کرنے لگی
"واٹ۔۔! آر یو سیریس بابا۔۔۔! اس پاگل سی لڑکی سے آپ ایمپریس ہوگئے۔۔۔ ”
سرمد کو حیرانی ہوئی
رات کے کھانے کے بعد سرمد دوست کی طرف چلا گیا۔ بابا دوائی لے کے اپنے کمرے میں سو گئے ۔ میں جانے لگی تو اس نے جھٹ سے میری کلائی پکڑ لی۔۔
"صبا آپی۔۔! کہاں جارہی ہیں۔۔ ؟ آج میرا فیورٹ ڈرامہ لگنا ہے۔۔ مل کے دیکھتے ہیں۔۔ کلثوم تو پاگل ہے اس ڈرامے کے لیے۔۔ آج وہ بے چاری اکیلی بیٹھ کے دیکھے گی۔۔ ”
میں بے بس ہوگئی
"خالہ۔۔! آپ بھی آئیں ناں۔۔۔ ”
اس نے امی کو بھی ساتھ کرلیا
ہم سب ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گئے۔۔
"لو۔۔ چائے کے بغیر تو مزہ آئے گا نہیں۔۔ میں چائے بنا کے لاتی ہوں۔۔”
وہ بولی
"بیٹا۔۔! تم رہنے دو۔۔ شاہدہ بنا لائے گی۔۔۔ جب سے آئی ہو کچھ نہ کچھ کررہی ہو۔۔۔ ”
امی نے اسے روکا
"خالہ جی۔۔! یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔ گھر میں میں اتنے کام کرتی ہوں۔۔ کبھی نہیں تھکتی۔۔۔ اچھا آپ بتائیں میری چائے کیسی لگی تھی۔۔۔ نمبر 1 تھی یا نہیں۔۔ سچ سچ بتائیے گا۔۔۔؟ صبا آپی۔۔ آپکو بھی پسند آئی ناں۔۔ مجھے پتا تھا”
ہنستی مسکراتی وہ کیچن میں چلی گئی ۔ میں اور امی چپ چاپ ٹی وہ سکرین کو دیکھتے رہے۔۔ نا امی نے مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی نا ہی میں نے کچھ کہا۔۔ دس پندرہ منٹ بعد شمو واپسی لوٹی۔ چائے کے کپ ٹیبل پہ دھر کے بولی
"لو بھلا۔۔! اس گھر میں ہر وقت خاموشی کیوں چھائی رہیتی ہے۔۔ میں ناں ہوں تو سناٹا چھایا رہے۔۔ آپ لوگ کیسے چپ چاپ بیٹھے ہیں۔۔ ”
ہم دونوں کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی
"خالہ جی۔۔! اب معاف کردیں آپی کو۔۔۔ غصہ جانے دیں۔۔۔ ”
وہ امی کا ہاتھ پکڑ کے بولی۔ امی کو غلط فہمی ہوئی کہ شائد میں نے شمو کو طلاق والی بات بتا دی ہے۔
"کیسے معاف کروں۔۔۔ میرا چین اور سکون لے لیا اس لڑکی نے۔۔ اتنی بڑی قیامت ڈھا دی ہم سب پہ۔۔ ”
میں نے سر پکڑ لیا۔۔ اب کیسے امی کو سمجھاؤں کہ شمو کو اصل بات نہیں پتا۔۔۔امی جذباتی ہوکے رونے لگیں
"خالہ۔۔! روئیں مت ۔۔۔ ماں کا دل تو بہت نرم ہوتا ہے۔۔ معاف کردیں۔۔ چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی رہیتی ہیں۔۔ ”
وہ امی کے آنسو صاف کرنے لگی۔۔ میں نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی لیکن شمو نے مجھے چپ کرادیا
"چھوٹی موٹی غلطی۔۔۔! طلاق جیسا کالک منہ پہ تھونپنا۔۔ چھوٹی موٹی غلطی ہے۔۔۔ ابھی تو طلاق ہوئی نہیں لوگ گھر پہ آکے ذلیل کرنے لگے۔۔ ہوگئی تو ہمارا جینا محال ہوجائے گا۔۔۔ ”
امی سسکیاں لینے لگیں
طلاق کا نام سن کے شمو کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ حیرت زدہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔
"امی۔۔ خدارا بس کردیں۔۔۔ مجھے میری ہی زندگی جینے کی تھوڑی سی آزادی تو دے دیں۔۔۔ ”
میں بھی پھٹ پڑی
"کیا آزادی چاہیے تمہیں۔۔ بتاؤ۔۔۔ ماں باپ کو ماردو پھر اپنی من مانی کرتی رہو۔۔۔ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔۔۔ خدا کے لیے طلا ق کی بات دل و دماغ سے نکال دو۔۔۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔۔ فیصلہ بدل دو۔۔۔ ”
امی نے ہاتھ چھوڑ دیے
"ایم سوری امی۔۔! اس پہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی ۔۔۔ یا تو طلاق لوں گی یا پھر خود کشی کروں گی۔۔ لیکن واپس دوبئی نہیں جاؤں گی۔۔۔ ”
میں نے دو ٹوک بات کی اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔
امی دہائیاں دیتی رہیں اور شمو انھیں سنبھالتی رہی۔۔۔ اتنے میں سرمد بھی آگیا۔ امی کی حالت دیکھ کے اسے شدید غصہ آیا۔۔ وہ میرے کمرے میں چلا آیا
"تم اتنی سنگدل اور خود غرض ہوسکتی ہو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ ”
وہ چلانے لگا
میں چپ چپ صوفے پہ بیٹھ رہی
"تم اپنی زندگی کے ساتھ جو کررہی ہوخوشی سے کرو لیکن خدارا امی کو معاف کردو۔۔ ان سے بحث مت کرو۔۔۔ ”
و ہ میرے سامنے کھڑا تھا
"بحث میں نے نہیں انھوں نے شروع کی۔۔۔ ”
میں نے جواب دیا
"یار ۔۔۔تھوڑا سا تو خیال کرلیتی اس لڑکی کے سامنے شروع ہوگئی تم۔۔۔ کون ہے وہ۔۔ پتا نہیں کہاں سے منہ اٹھا کے آگئی ہے۔۔ اور تم لوگ اسکے سامنے ایسی باتیں کررہے ہو۔۔۔ ”
وہ غرایا
"اسے کچھ پتا نہیں تھا۔۔ امی ہی شروع ہوگئیں۔۔۔ ”
میں نے صفائی دی
"واٹ ایور۔۔۔!” وہ باہر جانے کے لیے مڑاسامنے ہی شمو کھڑی تھی۔۔ شائد اس نے سرمد کی زہر آلود باتیں سن لی تھیں
سرمد کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی لیکن میں شرمندہ ہوئی۔۔ شمو نے ایسے ظاہر کیا جیسے اس نے کچھ سنا نہیں۔۔
"میں آپکے ساتھ سو جاؤں۔۔۔؟”
اس نے سوال کیا
"ہاں ۔۔ کیوں نہیں۔۔ ”
میں نے حامی بھری
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ کمرے کی لائیٹس آف کرکے ہم دونوں لیٹ گئے
"صبا آپی۔۔! نیو ائیر پارٹی منائیں ۔۔۔ ؟ سب کا موڈبھی اچھا ہوجائے گا ۔۔ خوب انجوائے کریں گے”
چھت پہ نظریں ٹکائے وہ بولی
"پگلی۔۔! سب کو پہلے ہی میری طلاق کی خبر ہوچکی ہے۔۔ لوگ باتیں کریں گے ”
میں نے گہری سانس لی
"اوہو۔۔ لوگوں کا تو کام ہے۔۔۔ ایسی باتیں بنانا۔۔۔ ”
وہ ایک کہنی ٹکا کے گال ہاتھ پہ رکھے میری طرف دیکھنے لگی
"لیکن۔۔ پارٹی میں بلائیں گے کسے۔۔۔ ؟ خاندان میں سے تو کسی کو نہیں بلا سکتے”
"آپکی فرینڈز نہیں ہیں۔۔۔ ؟”
"فرینڈز تو ہیں لیکن۔۔ کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔۔ اگر کسی کو بلا بھی لیا تو سب اسد کے بارے میں پوچھیں گے۔۔۔ ”
"اچھا تو ٹھیک ہے۔ میں اپنی سہیلیوں کو بلا لیتی ہوں۔۔۔ ”
وہ بولی
"ہیں۔۔! لاہور میں تمہاری سہلیاں ہیں ۔۔۔؟”
میں نے سوال کیا
"ہاں ۔۔تین چار تو ہیں۔۔”
"امی کو کون منائے گا۔۔۔؟”
"میں منا لوں گی خالہ کو۔۔۔ ”
"لیکن تمہاری فرینڈز آجائیں گی پارٹی میں۔۔۔؟”
"یہ تو ان سے مل کے پتا چلے گا۔۔۔ کل آپ مجھے لے چلیں ناں وہاں۔۔۔ ”
"اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ ”
میں نے سر ہلایا
25 دسمبر 2017 ، ناشتہ کرکے میں شمو کو بابا کی گاڑی میں گھمانے کے بہانے گھر سے لے گئی تاکہ وہ اپنی سہیلیوں سے مل سکے۔۔ اس چکر میں میرا بھی موڈ فریش ہوجائے گا۔
ماڈل ٹاؤں کی سڑکوں پہ گھماتے گھماتے اس نے ایک گھر کے سامنے بریک لگوائی۔۔
"یہاں بینا رہیتی ہے۔۔ ”
"یہاں۔۔ ؟ اس گھر میں۔۔۔ ؟ کام کرتی ہے کیا۔۔؟”
میں نے سوال کیا
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ کام تھوڑی کرتی ہے۔۔ یہ اسکا اپنا گھر ہے۔۔ ”
اس نے یقین دہانی کرائی
مجھے اسکی بات پہ ذرا بھی بھروسہ نہیں تھا۔۔ پھر بھی اسکی ضد پہ میں نے گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پہ گاڑی پارک کی اور نیچے اتر کے ڈور بیل بجائی۔۔
ایک لڑکی نے گیٹ کھولا۔۔۔ اور باہر نکلی
"بینا آپی یہاں رہیتی ہیں۔۔۔ ؟”
شمو نے پوچھا
"ہاں۔۔ لیکن آپ کون ہیں۔۔؟”
اس نے پوچھا
"مجھے چھوڑو۔۔۔ ! یہ بتاؤ تم ذکیہ ہو ناں۔۔۔ ”
شمو نے ہاتھ لہرایا
"ہاں۔۔۔ میں ذکیہ ہوں۔۔۔ ”
لڑکی نے حیران ہوکے جواب دیا
"میں شمو ہوں۔۔ بینا آپی سے ملنے آئی ہوں۔۔ سرگودھا سے۔۔۔ ”
شمو اندر گھسنے لگی۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روکا۔۔ اس پاگل لڑکی کے چکر میں کہیں بے عزتی نہ ہوجائے۔۔۔
بقیہ اگلے حصے میں۔۔۔
لائیک ، کمنٹ اور شئیر کرنا نہ بھولیں
"اس کہانی کی بلا رکاوٹ اپ ڈیٹس لینے کے لیے ابھی اس پیج کو "فالو” کریں اور "سی فرسٹ” پہ کلک کرکے ہر قسط بر وقت پڑھیں”
Click “Following” and select “See First””ہماری شمو”
تحریر: زویا حسن
قسط نمبر: 2
بابا ٹی وی لاؤنج سے اٹھ کے وہاں آگئے،
"اسلام علیکم ! خالوجی۔۔۔!”
شمو نے سر جھکا کے سلام کیا
بابا بھی ہماری طرح اسے پہچاننے سے قاصر تھے، امی نے تعارف کرایا۔ بابا نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا۔ امی رضیہ خالہ کی خیریت دریافت کرنے لگیں۔ گاؤں والوں کا پوچھا ۔ شمو نے دلچسپ قصے سنانا شروع کیے۔ امی اسکی نان سٹاپ کہانیاں سنتے سنتے یہ بھی بھول گئیں کہ اس سے کھانے پینے کا بھی پوچھنا ہے ۔میں نے اسے بیچ میں ٹوکا
"شمو ۔۔! باتیں تو چلتی رہیں گی ۔۔ یہ بتاؤ کہ کھاؤ گی کیا۔۔۔؟”
"صبا آپی۔۔! میں تو پزا کھاؤں گی۔۔ پتا ہے میری سہیلی کلثو م نے آج تک پیزا نہیں کھایا۔ میں نے تو ایک بار سرگودھا جاکر پیز کھا لیا۔۔ وہ وہاں ہے ناں۔۔ لکی پیزا والا۔۔۔ وہاں سے۔۔ اتنا مزیدار تھا۔ میں نے گھر جا کر کلثوم کو بتایا تو اسکے تو منہ میں پانی بھر آیا۔ اب بھی جب میں آنے لگی تو کہتی ہے ۔۔ شمو ۔۔ وعدہ کر لاہور جاکر سب سے پہلے پیزا ہی کھانا اور مجھے ضرور یاد کرنا۔۔ اس لیے مجھے تو اسکا وعدہ پورا کرنا ہے۔۔۔ ادھر پاس کوئی پیزا کی دکان ہے تو وہاں سے لے آتی ہوں۔۔ آپ لوگ بھی کھا لینا۔۔۔ ”
وہ امی کے پاس سے اٹھ کے میرے پاس بیٹھی۔۔ اور پیزا کہانی سنانے لگی۔ میری ہنسی نکل گئی۔۔
"شاہدہ۔۔! سرمد سے کہو کہ ایک پیزا آرڈر کردے۔۔”
امی نے ملازمہ کو آواز دی
"رکیں۔۔! میں آرڈر کردیتی ہوں۔۔ ”
میں نے اپنے فون سے ‘پیزا ہٹ’ کا نمبر ڈائل کیا
"ہائے۔۔! آپ آرڈر کررہی ہیں۔۔ وہ یہاں دے جائے گا۔۔۔ ؟”
میں نے سر ہلایا اور پیز ا کا آرڈر دینے لگی
"سنو۔۔! کونسا پیز کھاؤ گی۔۔ ؟”
میں نے اس سے پوچھا
"وہ۔۔ وہ ۔۔ جس پہ چکن کے ٹکڑے لگے ہوتے ہیں ناں ۔۔۔ گول سا ہوتا ہے۔۔ ”
وہ ہاتھ کے اشارے سے سمجھانے لگی
"ایک لارج سائز ‘چکن فجیتہ سسیلین ‘ ڈلیور کردیں”
میں نے آرڈر بک کرادیا
"جاتے ہوئے کلثوم کے لیے بھی ایک پیزا لے جاؤں گی۔۔۔ ”
وہ ہونٹوں میں بڑبڑانے لگی۔۔
"آج کل اماں کو بھولنے کی بیماری لگی ہوئی خالہ۔۔ میری تو جان عذاب ہوگئی ۔۔ ”
وہ میرے پاس سے اٹھ کے پھر سے امی کے بغل میں جا بیٹھی
"کیوں کیا ہوا رضیہ کو۔۔ ”
امی پوچھنے لگی
"ہونا کیا ہے۔۔ اپنے ہاتھ سے رکھی ہوئی چیزیں بھول جاتیں ہیں۔۔ اس کے بعد میری شامت آجاتی ہے۔۔ اب بھلا میں نے کیمرا لگایا ہوا کہ کدھر رکھ کے بھول گئیں۔۔ پھر کہتی ہیں میں انکا سارا بھیجہ چاٹ گئی ہوں اس لیے اب انھیں کچھ یاد نہیں رہیتا۔۔۔ اوپر سے نظر کمزور۔۔ اب کیا بتاؤ ں خالہ ۔۔۔ ”
اسکی زبان، آنکھیں اور ہاتھ۔۔ ایک ہی تال پہ چلتے تھے۔۔ زبان ہلاتی، ہاتھ لہراتی اور آنکھیں مٹکاتی۔۔۔ کمال کا سویگ تھا اس لڑکی میں۔۔ اسکی باتوں میں ایک چاشنی تھی۔۔ میں نے کتنی بار سوچا کہ اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی جاؤں لیکن ہر بار وہ نیا قصہ چھیڑ دیتی۔۔
"خالدہ۔۔۔ بات سنو۔۔”
بیٹھے بیٹھے وہ آواز دینے لگی
"خالدہ کون۔۔۔ ؟”
امی نے پوچھا
"آپکی ملازمہ ۔۔ اسکا نام خالدہ ہے ناں۔۔ ؟”
وہ بولی
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ اسکا نام شاہد ہ ہے۔۔ ”
امی نے بتایا
"اچھا۔۔ اچھا۔۔۔ شاہدہ۔۔ شاہدہ۔۔۔ گل سن”
وہ آواز دہ ینے لگی۔۔۔
"کچھ چاہیے بیٹا۔۔۔ ؟”
امی نے پوچھا
اتنے میں شاہدہ بھی آگئی۔۔
"جی باجی۔۔۔ !”
دوپٹے سے ہاتھ پونچھتے ہوئے وہ بولی
"چل۔۔ پاس والی دکان سے بوتل لے آتے ہیں۔۔ ڈاھائی لیٹر والی۔۔۔ سب مل کے پئیں گے”
شمو کھڑی ہوگی
"گھر میں کولڈ ڈرنکس پڑی ہیں۔۔ جاؤ شاہدہ ۔۔ شمو کے لیے کولڈ ڈرنک لے آؤ۔۔۔ ”
امی نے اسے اشارہ کیا۔ شمو خوش ہو کے بیٹھ گئی
"خالدہ۔۔ ! کوکا کولا لانا۔۔۔ میں صرف کوکا کولا پیتی ہوں۔۔۔ ”
میں نے ہنسی ہونٹوں میں دبائی ، امی بھی مسکرانے لگیں
"پیپسی کا تو ذائقہ مجھے پسند نہیں ہے۔۔ پیزا کے ساتھ بھی کوکا کولا پئیں گے۔۔ مزہ آئے گا ناں۔۔ صبا آپی۔۔! آپکو کونسی بوتل اچھی لگتی ہے۔۔ ؟”
امی سے اسکا اینٹینا میری طرف گھوم گیا
"میں سبھی پی لیتی ہوں۔۔۔ ”
گلہ صاف کرتے ہوئے میں نے جواب دیا
"ہاہاہا۔۔۔ کہیں آپ افشاں کی امی کی طرح دو تین بوتلیں مکس کر کے تو نہیں پیتیں۔۔۔ ؟”
وہ قہقہہ لگا کہ ہنس پڑی۔
"خالہ۔۔! افشاں کی امی تو جو بوتل ہاتھ لگے پی جاتی ہیں۔۔ ایک دو بار تو مکس کرکے بھی پئیں۔۔۔ پھر کیا۔۔ پوری رات لیٹرین کے چکر لگاتی رہیں۔۔ پھر بھی باز نہیں آئیں۔۔۔ ”
میں نے سنجیدہ ہونے کی ناکام کوشش کی۔۔۔ لیکن ہو نہیں پایا۔۔ اس سے بڑا قہقہہ میرا نکلا۔۔ اتنے میں ڈور بیل بجی ، ڈلیوری بوائے نے پیزا ڈلیور کردیا۔
"ہائے۔۔ صبا آپی۔۔! آپ نے تو اتنا بڑا پیزا منگا لیا۔۔۔ یہ سار ا میں اکیلے کیسے کھاؤں گی۔۔ ”
وہ دیدے پھاڑے پیزا دیکھ رہی تھی
"تم جتنا کھا سکتی ہو کھا لینا۔۔ باقی شاہدہ کو دے دینا۔۔۔ ”
میں مسکرا کے بولی
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ شاہدہ تو کھاتی رہیتی ہوگی۔۔ باقی فریج میں رکھ دیتے ہیں۔ جاتے ہوئے میں کلثوم کے لیے لے جاؤں گی۔۔ ”
اس نے سلائیس لیا
"پگلی۔۔! اتنے دن فریج میں خراب ہوجائے گا۔۔ اور ویسے بھی اتنی دور پیزا لے کے نہیں جا سکتے۔۔ تم کلثوم کو سرگودھا سے پیزا کھلا دینا ناں۔۔ ”
امی بولیں
"خالہ۔۔! کلثوم بےچاری۔۔ سرگودھا نہیں جا سکتی۔۔ ایک ٹانگ سے معزورہے۔۔ بس پہ چڑھنے سے ڈرتی ہے۔۔ کبھی کہیں نہیں گئی۔۔ ”
بائیٹ گلے سے اتارتے ہوئے بولی
امی اور میں اسکے دلچسپ انداز کو غور سے دیکھنے لگے۔۔
"صبا آپی۔۔! برا مت مانیے گا۔۔ اس پیزا میں لکی پیزا والا مزہ نہیں ہے۔۔ پتا نہیں کیا کیا ڈالا ہوا ہے اس میں۔۔ ذائقہ ہی خراب کردیا۔۔”
ایک سلائیس ختم کرکے اس نے منہ بنایا
"ہاں بھئی۔۔ پیزا ہٹ والے بھلا سرگودھا کے لکی کا کہاں مقابلہ کرسکتے ہیں۔۔۔ صحیح کہہ رہی ہو۔۔۔ ”
میں ہنستے ہوئے بولی
"تم باتیں کرو۔۔ میں لان میں تمہارے انکل کے ساتھ بیٹھی ہوں۔۔ ”
امی اٹھ کے لان میں چلی گئیں
کولڈ ڈرنک کا آدھا کلاس گلے سے اتار کے اس نے ایک ڈکار لی۔۔۔
"آپی۔۔! آپ بھی کھائیں ناں۔۔۔ ”
ایک سلائیس ہاتھ میں لیے وہ میرے پاس آگئی۔۔
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ تم کھاؤ۔۔ میں نے تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا ہے۔۔ ”
میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا
"ایسے کیسے۔۔ میں کھا رہی ہوں۔۔ اور آپ سامنے بیٹھی مجھے دیکھ رہی ہیں۔۔۔ میرے پیٹ میں درد ہوگئی تو۔۔۔۔ ”
اس بار وہ مذاق کررہی تھی
"تم سکون سے کھاؤ۔۔ میں تمہاری طرف نہیں دیکھتی۔۔۔ ”
میں نے آنکھیں جھکا لیں
"ہو ہائے۔۔ میں تو مذاق کررہی تھی۔۔۔ اب تو آپکو کھانا پڑے گا۔۔ اس نے زبردستی میرا ہاتھ پکڑا اور پیزا منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔ ”
میں نے دونوں ہاتھوں کا زور لگا کے اسے خود سے دور کیا
ایک سلائیس اور کھا کے اس نے شاہدہ کو بلایا۔۔ اور پیزا فریج میں رکھوا دیا۔۔۔
"اب تم کمرے میں چل کے آرام کرو۔۔ تھکی ہوئی ہوگی۔۔۔ باقی باتیں شام میں کریں گے۔۔ ”
میں اٹھ کے بولی
"لئے۔۔۔۔ شمو لاہور آرام کرنے نہیں آئی۔۔ انجوائے کرنے آئی ہے۔۔۔ میں کونسا روز روز آؤں گی۔۔۔ واپس جاؤں گی تو اماں میری شادی کرادیں گی۔۔ میرا بندہ پتا نہیں کیسا ہو۔۔ ادھر لے کے آئے گا بھی یا نہیں۔۔۔ اس لیے تو میں شادی سے پہلے گھومنے پھرنے آگئی۔۔۔ چلیں خالہ کے پاس چل کے بیٹھتے ہیں۔۔”
وہ لان کی طرف جانے لگی
"تم چل کے بیٹھو وہاں میں آتی ہوں۔۔ ”
میں بہانہ کرکے اپنے کمرے میں آگئی۔۔ شمو کے آنے سے کم سے کم گھر کا سوگوار ماحول تو خوشگوار ہوا۔۔
"رکیں۔۔ رکیں خالو جی۔۔۔ میں اٹھاتی ہوں۔”
بابا گملا اٹھا کے دوسرے طرف رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن گملا بھاری ہونے کی وجہ سے ان سے اٹھایا نہیں جارہا تھا۔۔ امی انھیں روکتی رہیں کہ کے کمر کا درد لے کے بیٹھ جائیں گے۔۔ رہنے دیں۔۔ وہ پھر بھی کوشش کرتے رہے۔۔ لیکن شمو نے آگے بڑھ کے ان کی مدد کی۔۔
"یہ میں اکیلے ہی اٹھا لوں گی۔۔ آپ رہنے دیں۔۔”
اس نے گملے میں ہاتھ ڈالا
"بیٹا۔۔ تم رہنے دو۔۔ میں شاہدہ کو بلا لیتا ہوں۔۔۔ ”
بابا نے اسے روکا ۔۔
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ وہ تو دبلی پتلی سی ہے۔۔ اس سے کہاں اٹھایا جانا ہے۔۔ ”
اس نے منہ بنایا
"اچھا۔۔ ٹھیک ہے میں تمہاری مدد کرتا ہوں۔۔ ”
بابا اور شمو نے مل کے گملا اٹھایا۔۔ اسکے بعد اس نے خوب گپیں لگائیں۔۔ ایک بات تو طے تھی، اسکی کمپنی میں کبھی بور نہیں ہو سکتے۔۔ شام ہونے لگی۔۔ امی نے شاہدہ کو آواز دی کہ چائے بنا دے۔۔ پر شمو کمر کس کے اٹھ کھڑی ہوئی کہ چائے تو میں خود بناؤں ۔۔ پندرہ منٹ اپنی چائے کی تعریفیں کیں۔۔ امی روکتی رہیں کہ تم رہنے دو پر وہ کہاں سننے والی تھی۔۔۔ سینہ تان کے کیچن میں گھس گئی۔۔ شاہدہ نے چائے کا سارا سامان نکال کے دیا۔۔ شمو چائے بنانے لگی۔۔ سرمد چھٹی کا پورا دن سو کے ہی گزارتا تھا۔۔ امی اسے ڈسٹرب نہیں کرتی تھیں۔۔۔ نیند سے اٹھتے ہی اسے کوفی چاہیے ہوتی ہے۔۔ آنکھیں مسلتا وہ کیچن میں گیا۔۔
"شاہدہ۔۔! میرے لیے ایک کوفی بنا دو۔۔۔ ”
شمو کی پیٹھ اسکی طرف تھی اسے لیے وہ غلطی سے اسے شاہدہ سمجھ بیٹھا۔۔
"آپ سرمد بھائی ہیں ناں۔۔ ہائے اللہ۔۔ کیسے ہیرو جیسے ہوگئے ہیں آپ تو۔۔۔ ”
وہ سرمد کی طرف مڑی
"ہاں۔۔۔! پر تم کون ہو۔۔۔”
سرمد نے سڑے ہوئے انداز میں سر سے پاؤں تک اسکا جائزہ لیا
"میں شمو۔۔۔ آپکی رضیہ خالہ کی بیٹی۔۔۔ آپ نے بھی نہیں پہچانا ناں۔۔۔ وہی تو۔۔ کسی نے بھی نہیں پہچانا مجھے۔۔۔ پتا ہے کیا۔۔ جب میں پہلے آئی تھی۔۔ میرا رنگ کافی گورا تھا۔۔۔ اب تھوڑی سانولی ہو گئی ہوں۔۔ ہمارے ہاں دھوپ بہت پڑتی ہے اس لیے۔۔۔ ورنہ تو آپ مجھے جھٹ سے پہچان لیتے۔۔۔ ”
شمو کی نان سٹاپ ٹرین پھر سے چل پڑی۔۔ سرمد زیادہ دیر اسے سن نہیں سکا
"امی۔۔! میرے لیے کوفی بھجوائیں۔۔۔ ”
امی کو آواز دے کے پھر سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
"لگتا ہے۔۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا ہے۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے خود سے سرگوشی کرنے لگی۔۔
چائے بن گئی تو شاہدہ نے امی اور بابا کو لان میں چائے دے دی۔۔ شمو ایک چائے کا کپ لے کے سرمد کے کمرے کی طرف بڑھی۔ دروازہ ناک کیے بنا ہی اسکے کمرے میں گھس گئی۔۔ سرمد نے ہمیشہ کی طرح کمرے میں گند مچایا ہوا تھا۔۔ فون ، لیپ ٹاپ، چارجرز، فائلیں۔۔ اور کپڑے سب چیزیں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں۔۔ وہ خود واش روم میں تھا۔۔
"توبہ ۔۔ توبہ۔۔۔ کتنا گند مچایا ہوا ہے۔۔۔”
چائے کا کپ بیڈ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کے وہ بکھرے ہوئے کپڑے اٹھانے لگی
"تم۔۔۔ یہاں کیا کررہی ہو۔۔؟”
سرمد واش روم سے باہر نکلا اسے دیکھتے ہی چونک گیا
"سرمد بھائی۔۔۔! اتنا گندڈالا ہوا ہے آپ نے۔۔۔ ”
وہ تیوری چڑھا کے بولی
سرمد نے آگے بڑھ کے اسکے ہاتھ سے اپنی جینز کھینچی
"چھوڑو میرے کپڑے۔۔ اور جاؤ یہاں سے۔۔۔ ”
"لو۔۔۔ میں چوری کرنے تھوڑی آئی ہوں۔۔ الماری میں رکھ رہی ہوں۔۔”
میں خود رکھ لوں گا تم جاؤ یہاں سے۔۔
"اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔ میں تو بس مدد کررہی تھی۔۔۔ چائے ٹھنڈی ہوجائے گی ۔۔ پی لیجئے گا۔۔ ”
اس نے کپ کی طرف انگلی کا اشارہ کیا
"میں چائے نہیں پیتا۔۔۔ ”
وہ اسے گھور کے بولا
"آج پئیں تو سہی۔۔ مزہ نہ آئے تو پھر کہنا۔۔ جادو ہے میر ے ہاتھ میں۔۔۔ آدھا گاؤں میری چائے کے گن گاتا ہے۔۔ ہمارے ایک تایا لطیف ہیں صبح صبح ہمارے گھر پہنچ جاتے ہیں اس چائے کے چکر میں۔۔ اماں لاکھ طعنے ، کوسنے دیتی ہیں۔۔ باتیں سناتی ہیں۔۔ پر مجال ہے جو انھوں نے ایک دن بھی چھٹی کی ہو۔۔۔ آپ بھی پیو گے تو فین ہو جاؤ گے۔۔۔”
اس نے پھر سے تعریفوں کے پل باندھنا شروع کردیے
"ہیلو۔۔! تم کس پلینیٹ (سیارے) سے آئی ہو۔۔۔ ”
سرمد تپ کے بولا
"سلانولی کے پاس چھوٹا سا گاؤں ہے ہمارا۔۔ آپ تو کبھی آئے نہیں ہوں گے ادھر۔۔۔ سرگودھا۔۔ سرگودھا کا تو پتا ہے ناں۔۔۔ ”
وہ پتا سمجھانے لگی
"اف۔۔۔۔! ”
وہ خود کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
"عجیب آدمی ہے یہ تو۔۔۔ ”
شمو منہ بناتی کیچن میں آگئی۔۔ چائے کے دو کپ ہاتھ میں پکڑے اور میرے روم میں آئی۔۔ میں لائٹس آف کرکے لیٹی ہوئی تھی۔
"صبا آپی۔۔! یہ کیا آپ نے دن دیہاڑے اندھیرا کیا ہوا ہے۔۔ آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔۔ ”
کمرے کی لائیٹس آن کرکے وہ بولی
مجھے غصہ آیا، کیسے وہ منہ اٹھا کے اندر چلی آئی۔۔ لیکن اگلے ہی پل سارا غصہ مسکراہٹ میں بدل گیا جب اسے نے میرے ماتھے پہ پیار سے اپنا ہاتھ رکھا
"بخار تو نہیں ہے۔۔ تھکان ہوگئی ہوگی۔۔ یہ پکڑیں چائے۔۔۔ طبیعت فریش ہوجائے گی آپکی۔۔۔ ”
بنا پوچھے وہ میرے ساتھ بستر میں گھس گئی۔۔ میں اسے کچھ کہہ نہیں پائی صرف سوچتی رہی کہ وہ کیسی ہے ۔۔
اسکے ضد کرنے پہ میں نے چائے کا سپ لیا۔۔
"آپی۔۔! ایک بات تو بتائیں۔۔ ”
وہ میرا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی
میں نے آنکھ کا اشارہ کرکے پوچھا
"خالہ سے آپکی لڑائی چل رہی ہے۔۔ ؟”
اس نے قدرے سنجیدگی سے سوال کیا
"نہیں ۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔ ”
میں نے نفی میں سر ہلایا
"شمو کو پاگل بنانا آسان نہیں ہے۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔ آپ لوگ ایکدوسرے سے بات بھی نہیں کررہے۔۔ لیکن آپ پریشان نہ ہوں۔۔ میں خود صلح کراتی ہوں آپ لوگوں کی ۔۔ اماں اور میں دن میں پچاس دفعہ لڑتے ہیں۔ ۔۔ لیکن رات ہونے سے پہلے پہلے مان جاتے ہیں۔۔ اماں تو مناتی نہیں مجھے۔۔ میں ہی ہمیشہ پہل کرتی ہوں۔۔ مائیں ایسی ہوتی ہیں۔۔ وہ اس لیے روٹھتی ہیں کہ اولاد انھیں منائے۔۔ انکے تھوڑے نخرے اٹھائے۔۔ ویسے انکا حق بھی ہے۔۔ ہمارے لیے کیا کچھ نہیں کرتیں۔۔ ”
اسکی باتوں پہ میں سوچنے لگی۔۔ وہ جتنی پاگل لگتی ہے اتنی ہے نہیں۔۔
"سنو۔۔! تم امی سے کچھ مت کہنا۔۔ میں ایک دو دن میں خود بات کرلوں گی۔۔۔ ”
میں نے اسے منع کیا
"ہرگز نہیں۔۔ میں تو آج ہی صلح کراؤں گی آپ دونوں کی۔۔۔”
چائے پینے کے بعد وہ مجھے زور زبردستی کمرے سے باہر لے آئی۔۔۔
امی کو اپنے بیگ کھول کے دکھائے کہ اسکی ماں نے کیا کچھ بھجوایا ہے۔ ہاتھ کی بنی ہوئی شالز، رومال اور پتا نہیں کیا کیا تھا۔ اور ہر ایک چیز کی پیچھے ایک لمبی داستان تھی۔ دیسی چاولوں کی بوری کھول کے امی ، بابا اور مجھے چاول سونگھائے۔ ان چاول کی کاشت سے لے کے آفادیت کی تفصیلی ہسٹری بھی سننے کو ملی۔ میں موقع پاکر کمرے میں گھسنے لگتی تو پھر سے مجھے پکڑ کے امی کے ساتھ بٹھا دیتی۔ امی کیچن میں رات کا کھانا بنانے چلی گئیں۔ سرمد شام سے ہی غائب تھا۔ بابا ٹی وی کے آگے بیٹھے نیوز دیکھ رہے تھے۔ وہ بھی جاکے بیٹھ گئی۔۔
"خالو جی۔۔! آپ کس پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں۔۔۔ ”
اب بابا اسکے نشانے پہ تھے۔۔ دونوں کے درمیان تبصرہ شروع ہوا۔ میں نے موقع غنیمت جانا واش روم کے بہانے کمرے میں گھس کے اندر سے لاک کر لیا کہیں پھر سے نہ آجائے۔۔
بابا اور شمو کے درمیان تبصرہ جلد ہی بحث کی شکل اختیار کرنے لگا۔ کوئی بچ بچا کرانے والا بھی نہیں تھا۔ شمو نے لمبی تقریریں کیں۔۔ فیکٹ اینڈفیگر پہ بات کی۔ کرنٹ افئیر سے لے کے سپورٹس کے سارے معاملات زیر بحث آئے۔ اتنے میں سرمد آگیا۔ بابا نے اسے بھی بلا لیا۔
"سرمد بھائی۔۔! ذرا آپ ہی بتائیں خالو جی کو۔۔ کہ پرانی سیاسی پارٹیوں نے کیسے ملک کو کھایا ہے۔۔ اب نئے لوگوں کو آگے آناچاہیے۔۔ ”
سرمد بے بسی میں بابا کا منہ دیکھنے لگا۔۔
"خالو جی۔۔! میں ابھی آئی۔۔ ہو سکتا ہے خالہ کو میری مدد کی ضروت ہو۔۔۔ ”
ایکدم سے اسے خالہ کا خیال آگیا۔۔سیاسی مباحثے کو بریک ملی۔۔ سرمد نے اسکے جانے کے بعد سکھ کا سانس لیا۔۔۔
"میں اسے بے وقوف سمجھ رہا تھا۔۔ لیکن لڑکی بہت سمجھدار ہے۔۔۔ چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی لڑکی اتنی با علم ہے۔۔ کمال ہوگیا”
بابا اسکی تعریف کرنے لگی
"واٹ۔۔! آر یو سیریس بابا۔۔۔! اس پاگل سی لڑکی سے آپ ایمپریس ہوگئے۔۔۔ ”
سرمد کو حیرانی ہوئی
رات کے کھانے کے بعد سرمد دوست کی طرف چلا گیا۔ بابا دوائی لے کے اپنے کمرے میں سو گئے ۔ میں جانے لگی تو اس نے جھٹ سے میری کلائی پکڑ لی۔۔
"صبا آپی۔۔! کہاں جارہی ہیں۔۔ ؟ آج میرا فیورٹ ڈرامہ لگنا ہے۔۔ مل کے دیکھتے ہیں۔۔ کلثوم تو پاگل ہے اس ڈرامے کے لیے۔۔ آج وہ بے چاری اکیلی بیٹھ کے دیکھے گی۔۔ ”
میں بے بس ہوگئی
"خالہ۔۔! آپ بھی آئیں ناں۔۔۔ ”
اس نے امی کو بھی ساتھ کرلیا
ہم سب ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گئے۔۔
"لو۔۔ چائے کے بغیر تو مزہ آئے گا نہیں۔۔ میں چائے بنا کے لاتی ہوں۔۔”
وہ بولی
"بیٹا۔۔! تم رہنے دو۔۔ شاہدہ بنا لائے گی۔۔۔ جب سے آئی ہو کچھ نہ کچھ کررہی ہو۔۔۔ ”
امی نے اسے روکا
"خالہ جی۔۔! یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔ گھر میں میں اتنے کام کرتی ہوں۔۔ کبھی نہیں تھکتی۔۔۔ اچھا آپ بتائیں میری چائے کیسی لگی تھی۔۔۔ نمبر 1 تھی یا نہیں۔۔ سچ سچ بتائیے گا۔۔۔؟ صبا آپی۔۔ آپکو بھی پسند آئی ناں۔۔ مجھے پتا تھا”
ہنستی مسکراتی وہ کیچن میں چلی گئی ۔ میں اور امی چپ چاپ ٹی وہ سکرین کو دیکھتے رہے۔۔ نا امی نے مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی نا ہی میں نے کچھ کہا۔۔ دس پندرہ منٹ بعد شمو واپسی لوٹی۔ چائے کے کپ ٹیبل پہ دھر کے بولی
"لو بھلا۔۔! اس گھر میں ہر وقت خاموشی کیوں چھائی رہیتی ہے۔۔ میں ناں ہوں تو سناٹا چھایا رہے۔۔ آپ لوگ کیسے چپ چاپ بیٹھے ہیں۔۔ ”
ہم دونوں کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی
"خالہ جی۔۔! اب معاف کردیں آپی کو۔۔۔ غصہ جانے دیں۔۔۔ ”
وہ امی کا ہاتھ پکڑ کے بولی۔ امی کو غلط فہمی ہوئی کہ شائد میں نے شمو کو طلاق والی بات بتا دی ہے۔
"کیسے معاف کروں۔۔۔ میرا چین اور سکون لے لیا اس لڑکی نے۔۔ اتنی بڑی قیامت ڈھا دی ہم سب پہ۔۔ ”
میں نے سر پکڑ لیا۔۔ اب کیسے امی کو سمجھاؤں کہ شمو کو اصل بات نہیں پتا۔۔۔امی جذباتی ہوکے رونے لگیں
"خالہ۔۔! روئیں مت ۔۔۔ ماں کا دل تو بہت نرم ہوتا ہے۔۔ معاف کردیں۔۔ چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی رہیتی ہیں۔۔ ”
وہ امی کے آنسو صاف کرنے لگی۔۔ میں نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی لیکن شمو نے مجھے چپ کرادیا
"چھوٹی موٹی غلطی۔۔۔! طلاق جیسا کالک منہ پہ تھونپنا۔۔ چھوٹی موٹی غلطی ہے۔۔۔ ابھی تو طلاق ہوئی نہیں لوگ گھر پہ آکے ذلیل کرنے لگے۔۔ ہوگئی تو ہمارا جینا محال ہوجائے گا۔۔۔ ”
امی سسکیاں لینے لگیں
طلاق کا نام سن کے شمو کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ حیرت زدہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔
"امی۔۔ خدارا بس کردیں۔۔۔ مجھے میری ہی زندگی جینے کی تھوڑی سی آزادی تو دے دیں۔۔۔ ”
میں بھی پھٹ پڑی
"کیا آزادی چاہیے تمہیں۔۔ بتاؤ۔۔۔ ماں باپ کو ماردو پھر اپنی من مانی کرتی رہو۔۔۔ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔۔۔ خدا کے لیے طلا ق کی بات دل و دماغ سے نکال دو۔۔۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔۔ فیصلہ بدل دو۔۔۔ ”
امی نے ہاتھ چھوڑ دیے
"ایم سوری امی۔۔! اس پہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی ۔۔۔ یا تو طلاق لوں گی یا پھر خود کشی کروں گی۔۔ لیکن واپس دوبئی نہیں جاؤں گی۔۔۔ ”
میں نے دو ٹوک بات کی اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔
امی دہائیاں دیتی رہیں اور شمو انھیں سنبھالتی رہی۔۔۔ اتنے میں سرمد بھی آگیا۔ امی کی حالت دیکھ کے اسے شدید غصہ آیا۔۔ وہ میرے کمرے میں چلا آیا
"تم اتنی سنگدل اور خود غرض ہوسکتی ہو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ ”
وہ چلانے لگا
میں چپ چپ صوفے پہ بیٹھ رہی
"تم اپنی زندگی کے ساتھ جو کررہی ہوخوشی سے کرو لیکن خدارا امی کو معاف کردو۔۔ ان سے بحث مت کرو۔۔۔ ”
و ہ میرے سامنے کھڑا تھا
"بحث میں نے نہیں انھوں نے شروع کی۔۔۔ ”
میں نے جواب دیا
"یار ۔۔۔تھوڑا سا تو خیال کرلیتی اس لڑکی کے سامنے شروع ہوگئی تم۔۔۔ کون ہے وہ۔۔ پتا نہیں کہاں سے منہ اٹھا کے آگئی ہے۔۔ اور تم لوگ اسکے سامنے ایسی باتیں کررہے ہو۔۔۔ ”
وہ غرایا
"اسے کچھ پتا نہیں تھا۔۔ امی ہی شروع ہوگئیں۔۔۔ ”
میں نے صفائی دی
"واٹ ایور۔۔۔!” وہ باہر جانے کے لیے مڑاسامنے ہی شمو کھڑی تھی۔۔ شائد اس نے سرمد کی زہر آلود باتیں سن لی تھیں
سرمد کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی لیکن میں شرمندہ ہوئی۔۔ شمو نے ایسے ظاہر کیا جیسے اس نے کچھ سنا نہیں۔۔
"میں آپکے ساتھ سو جاؤں۔۔۔؟”
اس نے سوال کیا
"ہاں ۔۔ کیوں نہیں۔۔ ”
میں نے حامی بھری
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ کمرے کی لائیٹس آف کرکے ہم دونوں لیٹ گئے
"صبا آپی۔۔! نیو ائیر پارٹی منائیں ۔۔۔ ؟ سب کا موڈبھی اچھا ہوجائے گا ۔۔ خوب انجوائے کریں گے”
چھت پہ نظریں ٹکائے وہ بولی
"پگلی۔۔! سب کو پہلے ہی میری طلاق کی خبر ہوچکی ہے۔۔ لوگ باتیں کریں گے ”
میں نے گہری سانس لی
"اوہو۔۔ لوگوں کا تو کام ہے۔۔۔ ایسی باتیں بنانا۔۔۔ ”
وہ ایک کہنی ٹکا کے گال ہاتھ پہ رکھے میری طرف دیکھنے لگی
"لیکن۔۔ پارٹی میں بلائیں گے کسے۔۔۔ ؟ خاندان میں سے تو کسی کو نہیں بلا سکتے”
"آپکی فرینڈز نہیں ہیں۔۔۔ ؟”
"فرینڈز تو ہیں لیکن۔۔ کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔۔ اگر کسی کو بلا بھی لیا تو سب اسد کے بارے میں پوچھیں گے۔۔۔ ”
"اچھا تو ٹھیک ہے۔ میں اپنی سہیلیوں کو بلا لیتی ہوں۔۔۔ ”
وہ بولی
"ہیں۔۔! لاہور میں تمہاری سہلیاں ہیں ۔۔۔؟”
میں نے سوال کیا
"ہاں ۔۔تین چار تو ہیں۔۔”
"امی کو کون منائے گا۔۔۔؟”
"میں منا لوں گی خالہ کو۔۔۔ ”
"لیکن تمہاری فرینڈز آجائیں گی پارٹی میں۔۔۔؟”
"یہ تو ان سے مل کے پتا چلے گا۔۔۔ کل آپ مجھے لے چلیں ناں وہاں۔۔۔ ”
"اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ ”
میں نے سر ہلایا
25 دسمبر 2017 ، ناشتہ کرکے میں شمو کو بابا کی گاڑی میں گھمانے کے بہانے گھر سے لے گئی تاکہ وہ اپنی سہیلیوں سے مل سکے۔۔ اس چکر میں میرا بھی موڈ فریش ہوجائے گا۔
ماڈل ٹاؤں کی سڑکوں پہ گھماتے گھماتے اس نے ایک گھر کے سامنے بریک لگوائی۔۔
"یہاں بینا رہیتی ہے۔۔ ”
"یہاں۔۔ ؟ اس گھر میں۔۔۔ ؟ کام کرتی ہے کیا۔۔؟”
میں نے سوال کیا
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ کام تھوڑی کرتی ہے۔۔ یہ اسکا اپنا گھر ہے۔۔ ”
اس نے یقین دہانی کرائی
مجھے اسکی بات پہ ذرا بھی بھروسہ نہیں تھا۔۔ پھر بھی اسکی ضد پہ میں نے گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پہ گاڑی پارک کی اور نیچے اتر کے ڈور بیل بجائی۔۔
ایک لڑکی نے گیٹ کھولا۔۔۔ اور باہر نکلی
"بینا آپی یہاں رہیتی ہیں۔۔۔ ؟”
شمو نے پوچھا
"ہاں۔۔ لیکن آپ کون ہیں۔۔؟”
اس نے پوچھا
"مجھے چھوڑو۔۔۔ ! یہ بتاؤ تم ذکیہ ہو ناں۔۔۔ ”
شمو نے ہاتھ لہرایا
"ہاں۔۔۔ میں ذکیہ ہوں۔۔۔ ”
لڑکی نے حیران ہوکے جواب دیا
"میں شمو ہوں۔۔ بینا آپی سے ملنے آئی ہوں۔۔ سرگودھا سے۔۔۔ ”
شمو اندر گھسنے لگی۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روکا۔۔ اس پاگل لڑکی کے چکر میں کہیں بے عزتی نہ ہوجائے۔۔۔
بقیہ اگلے حصے میں۔۔۔
لائیک ، کمنٹ اور شئیر کرنا نہ بھولیں
"اس کہانی کی بلا رکاوٹ اپ ڈیٹس لینے کے لیے ابھی اس پیج کو "فالو” کریں اور "سی فرسٹ” پہ کلک کرکے ہر قسط بر وقت پڑھیں”
Click “Following” and select “See First”


