مختصر کہانیاں

2nd episode of "tu Jo Mil jae” By Ana Ilyas… م…

2nd episode of
"tu Jo Mil jae”
By Ana Ilyas…

ملک ہاؤس ميں رقيہ بيگم کا راج تھا جن کے تين بيٹے اور تين ہی بيٹياں تھيں۔ حبيب صاحب سب سے بڑے بيٹے تھے جن کی اہليہ نفيسہ حقيقت ميں بہت ہی نفيس خاتون تھيں۔ انکے چار بچے سب سے بڑا وہاج، اسکے بعد خبيب پھر فارااور پھر نيہا تھی۔
وہاج شادی شدہ تھا۔ اسکی بيوی سمارا بہت ہی اچھے اخلاق کی اور سب ميں ايسے گھل مل کر رہتی تھی جيسے شروع سےانہی کا حصہ ہو۔ان کا پيارا سا بيٹا عمر تھا۔خبيب کی شخصيت وہاج بھائ کی نسبت الٹ تھی و محبت سب سے بہت کرتا تھا مگر ہر کسی کو ايک حد ميں رکھتا تھا۔ فارا اور نيہا وہاج کی نسبت خبيب سے زيادہ ڈرتی تھيں۔ کچھ وہ تھا بھی پوليس مين اور اپنی ڈاڑھی اور گھنی مونچھوں کے سبب نہ صرف خوبرو لگتا تھا بلکہ يہ دونوں چيزيں اسے اور بھی رعب اور دبدبہ والا بناتی تھيں۔
حبيب صاحب کے بعد فراز صاحب تھے ان کی اہليہ خديجہ بہت ہی عاجزی والی عورت تھيں جو ہروقت رقيہ بيگم کی تنقيد کا نشانہ بنی رہتيں پھر بھی اف تک نہيں کرتی تھيں۔جن کی دو بيٹياں اور ايک بيٹا تھا۔ سب سے بڑی وہيبہ تھی جسے دادی نے اپنی بيٹی بنايا ہوا تھا۔ اس کے بعد ربيعہ تھی اور پھر سبحان تھا جو لاڈلا بھی تھا۔
تيسرے نمبر پر کامران صاحب تھے جن کی اہليہ فہميدہ بہت اچھی خاتون تھيں اپنی بھابھيوں کے ساتھ مل جل کر رہنے واليں۔ ان کے دو بيٹے تھے اور دونوں ٹوئنز تھے۔ ناشر اور عاشر۔
رقيہ بيگم کی بيٹياں ايک ثمينہ تھين جو کہ حبيب صاحب سے چھوٹی تھيں مگر شادی چھوٹی عمر ميں ہوگئ تھی اسی لئۓ ان کا بيٹا سمير وہاج سے بھی بڑا تھا۔ شادی شدہ تھا اور دوبچوں والا تھا۔ اس سے چھوٹا کاشف خبيب کا ہم عمر تھا اور اس سے دوستی بھی بہت تھی۔
ثمينہ سے چھوٹی دونوں بہنيں فراز صاحب سے چھوٹی اور کامران سے بڑی تھيں۔ شبانہ کے تين بچے بيٹا ريان ميڈيکل کا اسٹوڈنٹ تھا جبکہ بيٹی فضا تھرڈ ائير کے پہلے سال ميں تھی اور اس سے چھوٹی صبغہ انٹرميڈيٹ کی طالبہ تھی۔ شبانہ سے چھوٹی بہن حسنہ کے بھی ايک بيٹا اور بيٹی تھے۔ بيٹافوزان بی بی اے کر رہا تھاجبکہ بيٹی زوہا ميٹرک کی طالبہ تھی۔
رقيبہ بيگم کے شوہر کی وفات بہت جلد ہوگئ تھی جب ابھی دو بيٹاں اور ايک بيٹے کو انہوں نے بياہا تھا۔ سب لوگ ملک ہاؤس ميں مل جل کر رہتے تھے۔ بيٹياں بھی پاس ہی رہتی تھيں۔ مگر گرميوں کی چھٹياں ہوتے ہی سب بچے ملک ہاؤس ہی آجاتے تھے اور پھر خوب ہلا گلا ہوتا تھا۔ جن مين وہيبہ جو کہ ايم اے سائيکالوجی کرنے کے بعد قريب کے ہی ايک کالج ميں ليکچرار تھی۔ مگر گھر ميں ہونے والی اسکی حرکتوں کو ديکھ کر کوئ کہہ نہيں سکتا تھا کہ يہ ليکچرار ہے۔ نيہا اور فارا سے پکی والی دوستی تھی۔ فارابھی سائيکالوجی کر چکی تھی مگر خبيب نے اسے جاب نہين کرنے دی۔
جبکہ وہيبہ کے معاملے مين کوئ کچھ نہيں کرسکتا تھا کہ اسکی زندگی کے فيصلوں کا اختيار رفيہ بيگم کے پاس تھا۔
____________________
وہ سب اس وقت وہيبہ کے کمرے ميں تھيں۔ گھر کے بڑے خاص طور پر رقيہ بيگم کسی جاننے والے کی وفات پر گئ ہوئيں تھيں۔گھر ميں بڑوں ميں صرف خديجہ بيگم تھيں۔ جنہيں خاندان کے بہت کم مواقع پر لے جايا جاتا تھا۔ اب تو وہ رقيہ بيگم اور انکی بيٹيوں کے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی عادی ہوگئيں تھيں۔ لہذا برا نہيں مناتی تھيں۔ لڑکياں بھی جانتی تھيں کہ وہ کچھ نہين کہيں گی لہذا اپنے من پسند گانے سنے جا رہے تھے۔ گھر ميں لڑکا بھی کوئ موجود نہين تھا۔
ابھی وہ سب بيٹھيں اپنے من پسند ناول پر تبصرے کر رہيں تھيں کہ يک لخت کوئ کمرے ميں داخل ہوا۔
آنے والا خبيب تھا اور اسکے پيچھے ثمينہ پھوپھو کا کاشف جو کہ خبيب کا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ جگری دوست بھی تھا۔ فارا کا اسکے ساتھ رشتہ بھی طے تھا۔
آواز اتنی اونچی تھی کہ وہ جو سب بيڈ کے دوسری طرف کمر بيڈ کے ساتھ ٹکاۓ بيٹھيں تھيں انہيں معلوم ہی نہ ہو سکا کہ کب خبيب کمرے ميں آيا ہے۔
متوجہ تو تب ہوئيں جب
Measure
کے
Begin again
کی آواز بند ہوئ۔
"يہ گھر ہے يا کلب۔۔۔؟” اس کی غصيلی نظروں نے سب کو باری باری اپنی لپيٹ ميں ليا۔
"انہين کيسے پتہ ايسے گانے کلبوں ميں سنے جاتے ہيں لگتا ہے يہ جاتے رہتے ہيں” وہيبہ کہاں اسکے غصے کو خاطر ميں لانے والی تھی۔ فارا کے کان ميں شرارتی لہجے ميں بولی جس کا سانس خشک ہوچکا تھا۔
"سوری بھائ وہ۔۔۔” اس سے پہلے کے وہ نيہا اور ربيعہ خبيب سے معافی مانگتيں وہيبہ نے تنبيہی نظروں سے اس سب کی جانب ديکھا۔
"کيا سوری اور کس بات کا سوری کريں ہم۔۔۔گانے ہی سن رہے ہيں کلب کا ماحول تو نہين بنا ديا ہم نے” اسکی بات پر خبيب کا دل چاہا آج واقعی اسے ايک کرارا ہاتھ جڑ ہی دے۔
"شٹ اپ آپکے تو ميں منہ لگنا بھی پسند نہيں کرتا” اسکی بات پر وہيبہ کے دماغ ميں جو تصور بنا اس پر اس نے ہزاروں مرتبہ توبہ کی۔
"مجھے بھی آپ سے بات کرنے کا شوق نہيں مگر آپ ہی ہر مرتبہ يہ فريضہ انجام ديتے ہيں اور کلب کی بات تو سنا دی۔ آپکو اتنی تميز نہين کہ کسی کے کمرے ميں ناک کرکے آتے ہيں” کمر پر ہاتھ باندھے وہ بھی کھا جانے والی نظروں سے اسے ديکھ رہی تھی۔
"جب آواز اتنی اونچی ہوگی کہ آپکو ميرے کمرے ميں آنے تک کا نہيں پتہ تو ناک کی آواز کيا خاک آۓ گی۔ ويسے بھی تميز مجھے کافی اچھے سے چھو کر گزری ہے اسی لئيۓ آنے سےپہلے تين مرتبہ ناک کيا تھا۔” اس نے وہيبہ کو جتا ديا کہ غلطی انہی کی تھی۔
"ہمارے گانوں پر بڑا اعتراض ہے خور جو نصيبو لعل کے واہيات گانے سنتے ہيں وہ۔۔۔” وہيبہ آج اسے بخشنے کو تيار نہين تھی۔
"ہبو پليز” نيہا خوفزدہ تھی اسکی زبان اور خبيب کے غصے سے۔
"اوہ تو اس کو بھی آپ سن چکی ہيں۔۔۔اسی سے پتہ چلپا ہے کہ ذہن کی گندگی کس قدر ہے۔” خبيب کے الٹا اسے لتاڑنے پر اس کا تو دماغ ہی گھوم گيا۔
"تو آپکے خيال ميں اس گھر کی لڑکياں ہی بگز سکتی ہيں لڑکے کيا گنگا سے نہا کر نکلے ہيں۔۔اب ہم نظر نہيں رکھيں گے تو کون رکھے گا” اس نے بے نيازی سے کہا۔
"آپ کو کوئ خاص ضرورت نہيں کيوں مجھے آپکے نظر رکھنے سے کوئ فرق نہيں پڑتا ميرے اچھے اور برے ہونے سے آپکا کوئ واسطہ ہونا نہيں چاہئيۓ ميرے گھر والے بہت ہيں۔۔اوروں کی گنجائش نہيں” سپاٹ لہجے ميں کہہ کر وہ مڑا۔
"اريٹيٹنگ عورت” بڑبڑا کر آگے بڑھا مگر اسکی بات سر کر وہيبہ غصے سے اسکے سامنے آئ۔
"اريٹينگ عورت” منہ ميں ہلکے سے کہہ کر وہ دروازے کی جانب بڑھا۔ مگر وہ تيزی سے آگے آگئ۔
"يہ عورت کسے کہا”
"عزت مآب وہيبہ ملک صاحبہ کو” اس نے تمسخرانہ لہجے ميں کہا۔
"آپ عورت کی عزت کرنا کيا جانيں۔۔ جو عورت کو بس ايک قيد ميں بند کرکے رکھنا چاہتے ہيں۔ اور ہاں يہ گھر جتنا آپکا ہے اس سے کہيں زيادہ ميرا ہے۔ لہذا ميرا جو دل چاہے گا ميں کروں گی اور جس کو چاہے اپنے ساتھ شامل کروں گی۔ ہر وقت دوسروں کی زندگيوں کو اپنے تابع کرنے والے سيک مائنڈڈ لوگ مجھے زہر لگتے ہيں۔ شکر کريں زيادہ واويلہ نہيں کر رہی۔ نہيں تو ميرے کمرے مين آکر بے عزتی کرنے والے کو ميں بخشتی نہيں۔ يو مے گوناؤ” ہر بات کا بدلہ اس نے ايک ہی بار ميں نکال ليا تھا۔
"ضرور مجھے بھی اس بے باک فضا ميں سانس لينے کو کوئ شوق نہين۔ ليکن اگر اس کمرے کی گندگی باہر تک آۓ گی تو ميں اسے ختم کرنے کے لئيۓ ہزار مرتبہ يہاں آؤں گا۔ ابھی تو جا رہا ہوں دوبارہ مجھے اس ڈيک کی آواو آئ تو آپ سميت يہ ڈيک ايسی جگہ پہنچاؤں گا کہ کوئ سراغ نہيں ڈھونڈ پاۓ گا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہ مانيں تو لاتيں لگانی پڑھتی ہيں” اسکی نظروں ميں نظريں ڈالے وہ بھی اسے جتا گيا کہ اسکی باتون سے خبيب کو کوئ فرق نہيں پڑنے والا۔
__________________

وہ جو آم والے واقع کو بھول چکی تھی ہفتے بعد يکدم ہی اسکی زندگی ميں ہلچل مچ گئ۔۔
خبيب کا وہی دوست جس سے وہيبہ کا ٹکراؤ اتفاقيہ ہوا تھا وہ پسنديدگی کی شکل ميں اس حد تک بدل گيا کہ ہفتے بعد ہی وہ لوگ سوالی بن کر انکے در پر آگۓ تھے وہيبہ کا رشتہ لے کر۔
"ارے واہ تم نے تو ايس پی صاحب کے دل پر بجلياں ہی گرا ديں۔”
"يہ کيا بکواس کر رہی ہو کون۔۔کس کی بات کر رہی ہو” وہ جو ابھی کالج سے آکر سکون کا سانس بھی نہين لے پائ تھی کہ فارا کی بات پر اور بھی بھنا گئ۔
"خبيب بھائ کا دوست جس کے سر پر گٹھلی پڑی تھی مگر لگتا ہے درد دل تک چلا گيا۔ وہ نہ صرف تمہيں پسند کرچکا ہے بلکہ رشتہ بھی بھجوا ديا ہے” فارا کی بات ختم ہونے تک اسکے چہرے کے زاويۓ بگڑ چکے تھے۔
"پہلی بات تو يہ کہ يہ عشقيہ گفتگو ميرے سامنے مت کيا کرو۔ دوسری بات يہ کہ اس کو اتنی ہمت کيسے ہوئ مين ابھی اماں سے بات کرکے آتی ہوں جب ايک دفعہ ميں کہہ چکی ہوں کہ مجھے اس بکھيڑے ميں پڑنا ہی نہيں تو يہ اس سب بکواس کا کيا مطلب ہے” وہ تن فن کرتی کمرے سے باہر نکلی سيڑھياں اترتے ہوۓ خبيب کا کمرہ ساتھ ہی تھا ابھی وہ اسکے پاس سے گزر کر نچلی منزل کی جانب جانے والی سيڑھيوں کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ اس کے کمرے سے آنے والی اونچی اونچی آوازوں ميں شامل اپنا نام سن کر ٹھٹھک گئ۔
"آپ لوگ آج ہی انہين انکار کريں۔ ميری ايک عزت ہے اس کے گھر ميں اس وہيبہ جيسی بے باک اور بدتميز لڑکی اگر وہاں چلی گئ تو جو ميری عزت بنی ہوئ ہے وہ سب ختم ہو جاۓ گی۔ اس قدر بدتہذيب ہے يہ۔۔منہ پھٹ اور مغرور۔۔ميں يہ رشتہ کبھی بھی نہيں ہونے دوں گا۔ جس کسی ايکس واۓ زيڈ سے دادو اسکی شادی کروائيں مگر ميرے کسی جاننے والے کے گھر نہيں۔ يہاں بھی اس کو بھگتو اور باقی کی زندگی بھی اسکے بوۓ ہوۓ بيج ہم کاٹيں۔” وہ يہ تو جانتی تھی کہ وہ اسے کبھی بھی کزن کی حيثيت سے بھی اسے اچھا نہيں سمجھتا مگر اتنی نفرت اور اتنا بغض اس نے اپنے دل ميں وہيبہ کے لئيۓ رکھا ہوگا اسے اس سب کی اميد نہيں تھی۔
ہونٹوں کو سختی سے بھينچتی وہ تيزی سے مڑی کے اس سے آگے سننے کی اس مين ہمت نہيں تھی۔ بمشکل اپنے امڈ آنے والے آنسوؤں کو پ پيچھے دھکيلا۔
اور سيڑھياں اترتے اماں کے کمرے کی جانب بڑھی۔
"اسلام عليکم ” اندر آتے ہی انہيں سلام کيا جو اپنی راکنگ چئير پر بيٹھيں کوئ کتا پڑھ رہی تھين۔
عينک کے پيچھے سے اسے ديکھا پھر اتار کر عينک ہاتھ ميں پکڑتے اس کے غصے سے لال ہوت چہرے کی جانب ديکھتے جواب ديا۔
"يہ رشتہ کيوں آيا ہے اور اگر آيا تھا تو آپ نے منع کيوں نہيں کيا آپکو پتہ ہے نہ مجھے شادی وادی ميں کوئ انٹرسٹ نہين” اس نے بغير کوئ تمہيد باندھے اپنے آنے کا مقصد بتايا۔
انہوں نے ناگواری سے اسکی خود اعتمادی کو ديکھا جو انکی ہی دی ہوئ تھی۔
"ميں نے ساری عمر تمہيں اس گھر مين بٹھا کر نہين رکھنا” انہوں نے ٹہرے ہوۓ لہجے ميں کہا۔
"مت رکھيں ميں کسی ہاسٹل ميں شفٹ ہو جاؤں گی مگر مجھے شادی نہيں کرنی اور دوبارہ کوئ رشتہ آۓ تو اسے دروازے سے چلتا کريں نہيں تو ميں آنے والوں کی بہت بے عزتی کروں گی جو يقيناّّ آپکو کسی صورت گوارا نہيں ہوگی” اس نے انکی آنکھوں مين آنکھيں ڈال کر ديکھتے سپاٹ لہجے مين کہا۔
"يہ کس انداز ميں تم مجھے سے بات کررہی ہو” انکے چہرے پر اب کی بار غصہ چھلکا۔
وہ کچھ عرصے سے نوٹ کر رہيں تھيں کہ اس کا لہجہ ان کے ساتھ گستاخ ہوتا جا رہا ہے مگر سمجھنے سے قاصر تھيں کہ کس وجہ سے۔
"اسی لہجے مين جس کی آپ نے مجھے تربيت دی ہے” آپ پر زور ديتی وہ اور بھی تلخی سے بولی اور اپنی بات کہہ کر وہاں ٹھہری نہيں۔ جس تيزی سے آئ تھی اسی تيزی سے نکل گئ۔
جب کہ وہ پيچھے اس کے انداز پر حيران پريشان تھيں۔
اسی شام خبيب کے دوست کو انکار بھجوا ديا

جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/