مختصر کہانیاں

سسی پنوں کی کہانی نام تو سنا ہوگا پارٹ 3 سسی کو …

سسی پنوں کی کہانی نام تو سنا ہوگا
پارٹ 3

سسی کو واقعی روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ محمد چودہری جو کچھ کماتا تھا اس میں سے کچھ مہمان نوازی پر خرچ کرتا باقی سسی کے حوالے کردیتا۔ اسے سے سسی کا ہاتھ خوب کھلاہوا تھا، وہ خوب اللے تللے کرتے تھی، محمد چودہری اس کا ہاتھ کبھی نہ روکتا بلکہ حوصلہ افزائی کرتا تھا اس کے آگے پیچھے اور تھا ہی کون، ایک بوڑھی عورت تھی جس نے اپنا خون دے کر ننھی سی جان کو جوانئ تک پالا تھا۔

دلاری دوسرے ہی دن مشک وغیرہ کے مسافر کا پتہ ٹھکانہ معلوم کرکے آگئی۔

"چل سسی میں سب کچھ معلوم کرآئی ہوں۔” دلاری نے آتے ہی کہا۔

سسی نے اسے حیران نظروں سے دیکھا۔”کہاں چلوں کیامعلوم کرکے آئی ہے تو؟”

"اری کل بات نہیں ہوئی تھی”دلاری بے تکلفی سے بولی۔ وہ سوداگر سرائے میں ٹھہرا ہوا ہے پوری سرائے میں خوشبو کے جھونکے چل رہے ہیں۔

اچھا وہ مشک و منبر کا سوداگر پنوں۔ سسی نے دلچسپی ظاہر کی۔”کیسا ہے وہ؟ دلاری تنک کر بولی

کان کھول کے سن لے سسی۔ میری شادی ہونے والی ہے میرا مردلاکھوں میں ایک ہے میں کیوں دیکھوں کون کیسا ہے؟

پھر ذرا رک کے بولی:

"اگر تجھے پسند آجائے تو کچھ بات چلاؤں”

"خدا غارت کرے تجھے کیوں مجھے بدنام کردے گی۔” سسی بگڑ گئی۔ "کسی نے سن لیا تو آفت آجائے گی۔”

ہوں آفت آجائے گی تجھے شادی نہیں کرنا ہے کیا؟” دلاری نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

دلاری نے کوئی جواب نہ دیا۔

"چپ کیوں ہے جواب کیوں نہیں دیتی؟”

"کاہے کا جواب دوں،کیاجواب دوں؟”

"یہی کہ کیا تجھے شادی نہیں کرنی ہے۔”

"کرنی ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

"اگر شادی کرنی ہے تو پھر اگر مگر۔ پنوں اچھا جوان ہے اگر تجھے پسند ہوتو۔۔۔۔۔۔۔؟”

پھر دلاری نے خود ہی تعارف کرایا

"میرا نام دلاری ہے”دلاری نے بے تکلف بتایا۔

پنوں نے چونک کے نظریں اوپر اٹھائیں۔

دلاری نے پھر بولنا شروی کیا:

"میرا نام دلاری ہے اور یہ میری سہیلی، اس کانام سسی ہے۔”

سسی کے نام پر پنوں اپنی جگہ اٹھ کے کھڑا ہوگیا۔
????????????????????????????????????????????????????????????????????????
{"….ناو????????????????????????????????????????????????????????????????????????
????????????????????????????????????????????????????????????????????????
یہ ????????????????????????????????????????????????????????????????????????
w????????????????????????????????????????????????????????
h????????????????????????????????????????????????????????????

"یہ۔۔۔۔۔۔۔یہ سسی ہیں۔ محمد چودہری کی بیٹی؟” پنوں نے ہکلاتے ہوئے کہا اور اس کی نظریں سسی کے سراپا پر اٹک کے رہ گئیں۔” یہ شاید محمد چودہری کی بیٹی ہیں؟”

دوسری طرف دلاری اور سسی کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ دلاری نے قدرے سخت لہجے میں کہ:

"ہم جانتے ہیں کہ تم پنوں ہو۔ مشک بیچنے والے مگر تم مشک بیچتے ہو کہ دوسرں کے باپ دادا کا نام پوچھنے والے ہو؟”
پنوں نے لاپروائی سے دلاری کو دیکھا پھر اس کی نظریں سسی پر اٹک کے رہ گئیں۔ دلاری کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے گھور کے "سسی” کو دیکھا مگر وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئیں کیونکہ سسی کی نظریں اک دم پنوں کے چہرے پر اٹک کے رہ گئیں تھیں۔

دلاری نے سسی کو تو اس کے حال پر چھوڑا اور پنوں پر برس پڑی:

"او سوداگر زادے تم مشک بیچتے ہو کہ کنواری لڑکیوں کو تاکتے پھرتے ہو؟”

دلاری کا لہجہ اس قدر کرخت تھا کہ "پنوں”سہم گیا ۔اس نے کچھ بولنے کی کوشش کی مگر اس نے دیکھا کہ خود سسی کی نظریں "پنوں” کے سراپا کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا بہانہ کرے۔آخر اسے کہنا ہی پڑا:

"سسی ہوش میں آؤ کہاں کھو گئی ہو؟”

دلاری نے پنوں کو چھوڑ کے سسی کی ٹانگ لی۔ اسے سسی پر سخت غصہ آرہا تھا۔

دلاری کی ڈانٹ پر سسی گھبرا گئی اور بھیگی بلی بن کے بولی۔

"مجھے معاف کردو دلاری”سسی نے بھی معذرت پیش کی۔

دلاری کو ہنسی آنے لگی۔

"چلو واپس چلیں دلاری۔”سسی دھیمی آواز میں بولی۔

"آئیں کس لیے تھیں۔ مشک نہیں لینا ہے دلاری کی ہنسی نکل گئی۔ "اگر اجازت ہوتو یہاں سوداگر کی کچھ مزاج پرسی کروں؟”

"انہوں نے کیا کیا ہے؟”

سسی نے فوراً پنوں کی حمایت کی۔

"کچھ کہا ہی نہیں انہوں نے میں پوچھتی ہوں کہ تمہارا اور تمہارے باپ کا نام کس نے بتایا انہیں؟” دلاری نے سسی سے سوال کیا۔

"میں بتاتا ہوں میں نے کہاں سنا ہے”دلاری پنوں کے سر ہوگئی۔

"میں بتاؤں تو برا تو نہیں مانو گی دلاری؟” پنوں نے آئندہ کے فتنے سے بچنے کے لیے پیش بندی کی کوشش کی۔

"اچھ تو تمہیں میرا نام بھی معلوم ہوگیا” دلاری آپے سے باہر ہوگئی۔” تم مشک پیچتے ہو کہ لڑکیوں کے نام پوچھتے پھرتے ہو؟”

"بگڑ کیوں رہی ہو دلاری؟” پنوں نے سنبھل کے کہا۔”ابھی تم نے خود ہی بتایا ہے اپنا نام مجھے اب پوچھ رہی ہو کہاں سے معلوم ہوا؟”

سسی نے پنوں کی حمایت کی۔”ہاں دلاری تم نے ابھی تو بتایا تھا نام۔”

"اچھا تو تم بھی حمایت کرنے لگیں سوداگر کی کب سے جانتی ہواسے۔” دلاری سسی پر پلٹ پڑی پنوں کو سسی کی طرف سے شہ ملی تو فوراً بولا:

"دیکھو دلاری تمہارا نام تو مجھے ابھی معلوم ہوا ہے یعنی تم نے خود مجھے اپنا نام بتایا ہے۔”

دلاری نے بات کاٹی۔

"میں پوچھتی ہوں تمہیں سسی اور اس کے باپ کا نام کہاں سے معلوم ہوا؟”

"وہی تو میں بتا رہا ہوں تمہیں”پنوں سنبھل کے بولا۔”سسی کا نام مجھے کسی نے نہیں بتایا بلکہ یہ تو پورے سندھ میں مشہور ہے۔ محمد چودہری کو کون نہیں جانتا۔ وہ بھمبور کے سب سے بڑے مہمان نواز ہیں۔یہاں سے گزرنے والے قافلوں کے قافلے سرداران کے مہمان ہوتے ہیں اور یہی سردار جب اپنی بستیوں میں پہنچتے ہیں تو محمد چودھری کی مہمان نوازی اور ان کی چاند جیسی بیٹی "سسی ” کی ضرور تعریف کرتے ہیں۔ سسی کی باتیں ہر جگہ ہوتی ہیں اور باتیں سننے والا سسی کو دیکھنے کے لیے بے چین ہوجاتا ہے۔”

"تو کیا تم بھی سسی کا نام سن کے بے چین ہوگئے تھے؟”دلاری نے منہ پھاڑ کے دریافت کیا ۔پنوں نے چور نظروں سے سسی کودیکھا پھرسر جھکا کر بولا:

"سچ پوچھو دلاری بات اصل میں یہی ہے ۔ میں نے جس دن سسی کے حسن کا چرچا سنا اسی دن فیصلہ کرلیا۔ کہ میں بھمبور ضرور جاؤں گااور وہاں کے چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا۔”

"اچھا تویہ بات ہے”اور دلاری نے ایک قدم بڑھا کے سسی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ چل سسی چلیں۔ سوداگر مسافر ہوتے ہیں،پردیسی ہوتے ہیں اور پردیسیوں سے ملنا اپنے دل کو روگ لگانا ہے۔”

اور دلاری، سسی کا ہاتھ کھنچتی ہوئی واپس ہوئی۔

پنوں نے آواز لگائی۔

"پھر کس وقت آنا دلاری میں تمہارا انتظار کروں گا۔”

"تجھے کیا ہوا تو چپ کیوں ہوگئی؟”دلاری نے واپس ہوتے ہوئے پوچھا۔

سسی نے کوئی معقول جواب نہ دیا بس ہاں ہوں کرکے رہ گئی۔ ٹال گئی۔

دوسرے دن دلاری،سسی کے پاس گئی تو اس کا حال ہی بگڑا ہوا تھا۔ سر جھاڑ منہ پہاڑ،آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جیسے رات بھر جاگی ہو۔

"تجھے کیا ہوا سسی؟” دلاری گھبرا گئی۔
"کچھ بھی نہیں” سسی نے ٹالا۔”بس یونہی سر میں درد ہوگیا تھا۔”

"تو چاچا کو بتایا ہوتا کوئی دوا منگائی تو نے؟” دلاری نے محبت سے پوچھا:

"دوا کا ہے کی کوئی مرض بھی تو ہو؟”

"اری بھولی تیرا چہرہ فق ہے۔ منہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں اور کہتی ہے کہ کوئی مرض ہی نہیں۔”

سسی نے کچھ جواب نہ دیا یا پھر وہ کیا جواب دیتی۔

دلاری نے مشورہ دیا:

"تومرض بڑھالے گی۔ میں جاکے چاچا سے بات کرتی ہوں۔”

"وہ گھر نہیں ہیں دریا پر گئے ہیں”سسی نے بتایا۔

پھر سسی کی چارپائی پر دلاری بیٹھ گئی اور پیار سے بولی:

"لا۔۔۔۔۔۔۔ میں تیرا سر دبادوں، کیارات بھر جاگی تھی؟” اور دلاری نے اسے محبت سے اپنی طرف کھینچا۔

"ہاں نیند نہیں آئی تھی رات بھر۔”سسی نے ٹھنڈی سانس بھری۔

"اب تو وہاں نہیں جائے گی۔” دلاری نے قدرے سخت مگر محبت بھرے لیجے میں کہا۔

"کہاں۔۔۔۔۔۔کدھر۔۔۔۔۔کس کے پاس؟”

"وہاں سوداگر کے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔ سودارگر مشک” اور پھر خود ہی شرما گئی۔

"ہوں تیرا دل پھر وہاں چلنے کو کہہ رہا ہے۔”

"کل کچھ خریدا ہی نہ تھا میں نے ۔”

"تو کہے تو میں بھی ساتھ چلوں۔ ایک سے دو بھلے ہوتے ہیں دلاری کا دل بھی جانے کو کر رہاتھا”

اس طرح دونوں ہنستی بولتی اور ادھر ادھرکی باتیں کرتی "پنوں” کے پاس پہنچ گئیں۔

پنوں برآمدے میں کھڑا تھا جیسے کسی کا انتظار کررہا ہو۔

دلاری نے چھیڑا:

"دیکھ وہ تیرا انتظار کررہا ہے۔”

اور سسی واقعی شرما گئی اور شرم سے دہری ہوگئی۔

اور پنوں بڑھ کے ان کے قریب پہنچ گیا۔

"ہم بن بلائے آگئے ہیں۔آپ کو ناگوار گزرا؟”

ایک تو مہربانی پھر معذرت،اور پنوں کا جیسے گلا خشک ہونے لگا۔

"اگر آپ یہ کہتے کہ میں آپ کا انتظار کررہا تھا تو شاید زیادہ موزوں ہوتا۔دلاری نے پنوں کو چھیڑا۔

پنوں کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ وہ گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا:

"آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ میں صبح سے انتظار کررہا تھا۔”

اور پھر وہ ان دونوں کو اپنے حجرے میں لے گیا۔

"دیکھو میاں سوداگر! میں بات کھری کہتی ہوں چاہے تمہیں برا کیوں نہ لگے۔”دلاری نے پنوں کو ٹٹولنے کی کوشش کی۔
"میں برا بالکل نہیں مانوں گا۔ جو تمہارے دل میں آئے کہہ ڈالو” پنوں اس کی بات سے بے اختیار ہوگیا۔

"پہلے تم اپنے دل کی بات کہو۔ میرا مطلب ہے کہ تم کون ہو۔کہاں سے ائے ہو، اور کیا چاہتے ہو”دلاری نے ایک ساتھ تمام سوالات کر ڈالے۔

پنوں کے جذبات امڈے آرہے تھے۔ دلاری کی شہ ملی تو اس نے چاہا کہ دل کا حال کھول کے رکھ دے مگر ڈرا کہ کہیں مصیبت میں نہ پھنس جائے۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا جواب دے کہ بات کھل بھی جائے اور سسی کو برا بھی نہ لگے۔

پنوں کوجواب دینے میں دیر لگی تو دلاری نے بگڑ کے کہا:

"پردیسی ابھی خیر ہے۔ چپ چاپ واپس چلے جاؤ یہ بڑے جوکھوں کاکام ہے اس میں جان بھی جاسکتی ہے”

"مجھے جان کی پروا نہیں”پنوں کے عشق نے زور مارا۔

تو پھر صاف صاف بتاؤ،یہ سوداگر کا بھیس کیوں بدلا ہے؟” دلاری نے اسے گھیر لیا۔

پنوں نے سر جھکا کے اقبال کیا:

"سچ پوچھو تو میں نے یہ سب کچھ سسی کے لیے کیا ہے۔ اب میری جان اور عزت تمہارے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرو۔”

دلاری کو پہلے ہی شبہ تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ پنوں سے بات کرنے کے بعد اس کا شبہ یقین میں بدل گیا گھر آکر اس نے سسی سے پوچھا:

"اب بتا تو کیا کہتی ہے؟”

سسی کے رگ وپے میں پنوں کی محبت سما گئی تھی۔ محبت تو اسے پہلے ہی دن سے ہوگئی تھی اور اب تو یہ عشق میں ڈھلتی جارہی تھی۔ دلاری کے سوال پر سسی رونے لگی پھر بھرائی آواز میں بولی:

"پیاری سکھی! جیسے بھی ہو پنوں سے ملاپ کی کوئی صورت نکالو ورنہ میں یونہی رو رو کے جان دے دوں گی۔”

دلاری نے اسے تسلی دی۔”دل کو سنبھال سسی! اگر زیادہ بے چین ہوئی تو بات کھل جائے گی اور پنوں کبھی نہ مل سکے گا۔”

"پھر میں کیا کروں دلاری تم ہی کچھ بتاؤ؟”

اور سسی کی رو رو کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

"اس کی صورت صرف یہی ہوسکتی ہے کہ تیرا اور پنوں کا بیاہ کردیا جائے” دلاری نے مشورہ دیا پنوں کیوں مانے گا۔ وہ اتنا بڑا سوداگر اور میں ایک دھوبی کی بیٹی۔ نہ معلوم پنوں کی کیاذات برادری ہے؟”

"یہ تو مجھ پر چھوڑ دے سسی” دلاری نے تسلی دی۔ میں نے پنوں کی انکھوں میں محبت دوڑتی دیکھی ہے وہ انکار نہیں کرے گا۔ اب مسئلہ تو تیرے گھر والوں کا ہے پتہ نہیں تیرے باپ ماں اس رشتہ کو پسند بھی کریں گے کہ نہیں؟”

"ماں کو تو میں راضی کرلوں گی: سسی نے بڑے اعتماد سے کہا:”رہا بابا کا معاملہ تو ان سے بات کرنا پنوں میں کونسا عیب ہے۔ بابا کیوں انکار کریں گے؟

"ایک بات یاد رکھ سسی”دلاری نے اسے سمجھایا۔”ہماری ذات دھوبیوں کی ہے اور ہمارے یہاں لڑکیاں اپنی برادری میں بیاہی جاتی ہیں۔ پتہ نہیں پنوں کس ذات کا ہے؟”

"پھر کیا ہوگا دلاری؟” سسی کا دل ڈولنے لگا۔ "میں پنوں کے بنا مر جاؤں گی دلاری۔”

"اپنے آپ کو سنبھال کے رکھ سسی ورنہ بنا بنایا کام بگڑ جائے گا۔ تو ماں کو راضی کر میں باباکے لیے کوئی ترکیب سوچتی ہوں۔”

دلاری،سسی کو تسلی دے کر پنوں کے پاس گئی اور اس سے تفصیلی گفتگو کی۔

دلاری نے اس سے پوچھا:

"اب بتاؤ میاں سوداگر تم کس کے بیٹے ہواور تمہاری ذات برادری کیا ہے؟”

"دیکھو دلاری! میں ذات برادری کے معاملے میں بہت آزاد خیال ہوں پھر محبت اور عشق ?میں ذات برادری نہیں پوچھی جاتی۔”
جاری ھے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/