مختصر کہانیاں

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_2 ڈیڈ دیکھیں بھئیا …

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی
#قسط_2

ڈیڈ دیکھیں بھئیا کو مجھے ڈانٹ رہے ہیں۔۔ زرتاشہ نے پاس سے گزرتے احسن صاحب کو آواز دی۔
پڑھو گی نہیں تو ڈانٹ کے ساتھ ساتھ مار بھی کھاؤ گی۔۔ احسن صاحب سے پہلے ہی تابش نے جواب دیا۔
ڈیڈ دیکھیں زرا بھئیا کیا کہہ رہے ہیں۔۔ اس نے رونے کی بھرپور اداکاری کی۔
احسن صاحب کی مسکراہٹ گہری ہو گئی جو زرتاشہ کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکی۔۔
ڈیڈ آپ ہنس رہے ہیں۔۔ بجائے اسکے کہ آپ بھئیا کو ڈانٹیں آپ ہنس رہے ہیں میں آپ سے ناراض ہوں۔۔ اس نے حیران نظروں سے باپ کو دیکھا اور رخ پھیر کر نارضگی کا اظہارکیا۔
ارے نہیں نہیں۔۔ میری گڑیا کیوں ناراض ہوتی ہے۔۔ میں ابھی ڈانٹتا ہوں تمہارے بھئیا کو۔۔
ہاں بھئی تابش خبردار جو میری گڑیا کو ڈانٹا تم نے۔۔ انہوں نے مصنوعی ڈانٹ پلائی۔۔
ہاں اور یہ جو آپ کی گڑیا نے پورے ایک سو پچیس منٹ میرا دماغ کھایا ہے وہ کس کھاتے میں جائے گا؟ مجال ہے جو ایک بھی سوال سہی کیا ہو اس نے۔۔ پتہ نہیں زاویار بےچارہ اسے کیسے برداشت کر لیتا ہے۔۔ تابش نے کہتے ہی اس کی کتابیں سامنے پڑے ٹیبل پر پٹخیں اور ٹانگیں سیدھی کرنے لگا۔۔ وہ دونوں بہن بھائی صوفوں سے ٹیک لگائے نیچے بچھے کالین پر بیٹھے تھے۔۔ ارد گرد کتابوں کا ڈھیر تھا۔
ہاں تو کب سے آپ کو کہہ رہی ہوں میں زاویار بھائی کے پاس چلی جاتی ہوں وہ اتنا اچھا میتھس سمجھاتے ہیں کے ساری زندگی کے لیے دماغ میں فٹ ہو جاتا ہے۔۔ آپ کو تو سمجھانا ہی نہیں آتا۔۔ زرتاشہ نے سارا ملبہ تابش پر ڈال کر ہاتھ جھاڑے۔
کیا کہا مجھے نہیں آتا میتھس۔۔ گولڈ میڈل تو مجھے تمہارے ماموں نے ایسے ہی دے دیا تھا ناں۔۔ تابش نے اس کے سر پر ہلکی سی چت لگائی۔
اوہو بھئیا۔۔ کانوں کا تو علاج کروا لیں میں نے کہا ہے سمجھانا نہیں آتا۔۔ یہ نہیں کہا کہ آپ کو میتھس نہیں آتا۔۔ زرتاشہ نے سر سہلاتے ہوئے جواب دیا۔
ڈیڈ میں زاویار بھائی کو بلا رہی ہوں وہ مجھے میتھس کروائیں گے آپ بھئیا کو دیکھیں وہ مجھے ڈانٹتے ہیں کہہ رہے ہیں نہیں بلانا۔۔ زرتاشہ نے اب رخ باپ کی طرف کیا۔
کیوں بھئی کیا بات ہے زاویار کو کیوں نہیں بلانا کہیں کوئی لڑائی تو نہیں ہوگئی تم میاں بیوی کی؟ احسن صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔
خدا کا نام لیں ڈیڈ۔۔ اب آپ تو ہمیں ایسے القابات سے مت نوازیں۔۔ بڑے پاپا ہی کافی ہیں اس کام کے لیے۔۔ اور کہی میری بیوی نے سن لیا تو کیا سوچے گی۔۔ تابش نے رازداری سے کہا تو احسن صاحب کا قہقہا گونج اٹھا۔
خیر بیٹا بھائی صاحب نے نام تو بہت اچھا رکھا ہے۔۔ تم دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارا بھی نہیں ہے اور نوک جھونک بھی لگی رہتی۔۔ ویسے اب اسے بلا کیوں نہیں رہے۔۔ اب وہ متفکر ہوئے مبادہ ان دونوں کی لڑائی تو نہیں ہو گئی۔
یار ڈیڈ یہ لڑکی تو ہر وقت اس بےچارے کو اپنے کاموں میں الجھائے رکھتی ہے۔۔ آپ جانتے تو ہیں آج وہ سارا دن سائیٹ پہ بزی رہا۔۔ اب ٹائم دیکھیں دس بج رہے ہیں سردیوں کی راتیں ہیں اسے تھوڑا آرام بھی کرنے دیں۔۔ مگر اس لڑکی کے دماغ میں اتنی سی بات نہیں آ رہی۔
ہمم۔۔۔ بیٹا سہی کہہ رہا ہے تابش۔۔ زاویار کو آرام کرنے دو تم اس سے سمجھ لو جو بھی سمجھنا ہے۔۔ احسن صاحب نے زرتاشہ کوسمجھایا۔
اچھا ٹھیک ہے مگر انہیں کہہ دیں اگر انہوں نے مجھے اب ڈانٹا تو اچھا نہیں ہو گا۔۔
اچھا بھئی نہیں ڈانٹتا۔۔ جلدی کرو مجھے آفس کا بھی کچھ کام کرنا ہے۔۔ تابش نے کہتے ہی کتابیں اٹھا کر اسے سمجھانا شروع کر دیا۔
کچھ اور دیر گزری تب بھی زرتاشہ کے پلے کچھ نہ پڑا۔۔ اب تابش کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔
زرتاشہ۔۔ کدھر ہے دھیان اب میں تمہارے ایک لگا دوں گا اگر موبائل کو ہاتھ بھی لگایا۔۔ تابش نے غصے سے کہا۔
میں زاویار بھائی کو بتاؤں گی آپ نے مجھے ڈانٹا ہے۔۔ اسنے آنکھوں میں نمی لیے احتجاج کیا۔
پڑھائی کے معاملے میں نو کمپرومائز۔۔ مائنڈ اٹ۔۔ تابش نے غصے سے کہا۔
زاویار یہ سب کچھ اپنا فون کان پہ لگائے سن رہا تھا۔۔ زرتاشہ کی آواز اس کے کان میں پڑی تو فوراً بستر چھوڑا اور احسن صاحب کے گھر کا رخ کیا۔۔
زاویار نے جیسے ہی اندر قدم رکھا تو سامنے بیٹھی زرتاشہ اور تابش پر نظر پڑی۔۔ وہ بھی اسے دیکھ چکی تھی اور اب تابش سے آزادی پر خوش ہوتی فوراً زاویار کی جانب بڑھی اور اس کے سینے سے لگ گئی۔
زار بھائی دیکھیں بھئیا نے مجھے اتنا ڈانٹا ہے۔۔ آپ کدھر تھے کب سے آپ کو میسج کر رہی تھی کہ آ کر مجھے ان ظالم سے بچا لیں۔
تابش نے حیران نظروں سے زرتاشہ کو دیکھا۔۔ زاویار بھی ہنسنے لگا۔
سوری پرنسز۔۔ میں نے موبائل نہیں دیکھا۔۔ پھر جب تمہاری کال آئی تو اٹینڈ کی میں ہیلو ہیلو کرتا رہا مگر تم کچھ بولی ہی نہیں۔۔ پھر مجھے گرج دار آواز سنائی دی تمہارے اس ظالم بھائی کی بس میں ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر دوڑھا آیا۔۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑے صوفے تک لے آیا اور ساتھ ساتھ مزے سے داستان سنانے لگا۔
تابش کو جب سمجھ آیا تو دل کیا اپنا سر پیٹ لے۔۔
اف تاشہ۔۔ کیا چیز ہو تم۔۔ میری نظر پوری طرح تم پر تھی مگر کس ہوشیاری سے تم نے اسے کال ملائی مجھے پتہ بھی نہ چلا۔۔
زرتاشہ کی تو خوشی دیکھنے والی تھی۔۔ بس دیکھ لیں بھئیا آپ کی بہن کتنی کام کی چیز ہے۔۔ میں نے یہ ایک مووی میں دیکھا تھا لڑکی کے گھر چور آگئے تھے اور وہ اپنے شوہر کو ایسے فون کرتی ہے۔۔ وہ جوش میں بولتی جا رہی تھی یہ سوچے سمجھے بغیر کہ زاویار کے دل پہ کیا گزر رہی ہے۔
بند کرتا ہوں میں تمہاری موویز۔۔ پڑھائی پر کوئی دھیان نہیں فضول کام کروا لو جتنے مرضی۔۔ خبردار جو تمہارے مارکس کم آئے۔۔ تابش نے ڈانٹنا ضروری سمجھا۔
اور تم کیا اس کی ہر بات ماننے بیٹھ جاتے ہو۔۔ اپنے آرام کا کوئی خیال نہیں ہے۔۔ تابش کی توپوں کا رخ اب زاویار کی جانب ہوا تو وہ مسکرانے لگا۔
او کم آن یار۔۔ چل چھوڑ غصہ تو ہے ناں میرا خیال رکھنے کو۔۔ زاویار نے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جسے تابش نے فوراً تھاما اور کھڑا ہوگیا۔
مومنہ بھابھی کدھر ہیں نظر نہیں آرہیں؟ زاویار نے بات کا رخ بدلہ۔
ہاں وہ تمہاری بھتیجی صاحبہ کو سلانے گئی تھی۔۔ لگتا ہے آج اس کا موڈ نہیں ہے سونے کا تب ہی آئی نہیں باہر ابھی تک۔۔
میں لے کر آتی ہوں دعا کو۔۔ بچی کا نہیں دل کر رہا سونے کو تو ضرور زبردستی کرنی ہے۔۔ زرتاشہ کہتے ہی اٹھ گئی تو زاویار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔ ارے لڑکی تم نے پڑھنا نہیں ہے کیا؟
نہیں۔۔ کل پڑھوں گی پہلے ہی بھئیا نے دماغ خراب کر دیا ہے میتھس کروا کروا کے۔۔
تو مجھے کیوں بلایا؟ زاویار حیران ہوا۔
ان سے جان چھڑوانے کے لیے آپ کا سہارا لیا۔۔ زرتاشہ نے کہا تو تینوں کا قہقہا گونج اٹھا۔۔ اور وہ مومنہ کے کمرے کی جانب چل دی۔
یار نہ ڈانٹا کر اسے۔۔ بڑی ہو گی تو سمجھ آجائے گی ہر بات کی۔۔ زاویار نے کہا تو تابش بھی مسکرانے لگا۔
یار میں کونسا خوشی سے ڈانٹتا ہوں۔۔ بس اس لیے ڈانٹتا ہوں کہ کل کو زمانے کی گرم ہوا سہہ سکے۔۔
اللہ نہ کرے ہماری تاشہ کو گرم ہوا چھو کر بھی گزرے۔۔ زاویار نے فوراً ٹوکا۔۔ یہ تو ہمارے گھر کی رونق ہے اسے تھوڑی سی بھی تکلیف ہم سب کو بے چین کر دیتی ہے۔۔ اور میتھس میں وہ تیری طرح ہے بس جان کے تجھے تپاتی ہے۔۔ زاویار نے رازداری سے کہا تو وہ دونوں ہنسنے لگے۔

۝۞۞۝۞۞۝

یہ ایک چھوٹا سا گھرانہ جس کے سربرہ تبریز ملک تھے۔ ان کے دو ہی بیٹے احمد ملک اور احسن ملک ہیں۔۔ انہوں نے اپنے گھرانے کو خوشحال دیکھنے کے لیے سرتوڑ محنت کی آخر ان کی محنت رنگ لائی جیسا وہ چاہتے تھے اپنی بیوی بچوں کو ہر سہولت مہیا کی۔
احمد ملک جب جوانی کو پہنچے تو اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر جانے کا شوق سر پر سوار ہو گیا۔ تبریز ملک نے بیوی کی مخالفت مول لے کر احمد ملک کو پڑھنے کے لیے U.K روانہ کر دیا۔
احسن بھی ابھی کالج کا طالب علم تھا اور باپ کے ساتھ تعلق ماں کی نسبت زیادہ گہرا تھا اس لیے جلد ہی ان کی زمہ داری اپنے کندھوں پہ اٹھا لی۔۔ احسن کے لیے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹی سی کمپنی میں ملازمت کرنا تھوڑا مشکل تو تھا مگر یہ سوچ کر کام جاری رکھا کہ جتنا جلدی کام سیکھ لوں گا اتنا جلدی اپنا کام شروع کر سکوں گا۔
کچھ عرصہ گزرا تو باپ کے ساتھ مل کر اپنا کاروبار شروع کرنے کا سوچا اور پھر اسے عملی جامہ پہنانے کی غرض سے بڑے بھائی احمد سے بات کی جو ان دنون U.K میں مقیم تھا۔۔
ہاں احسن۔۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے اگر ہمارا اپنا کاروبار شروع ہو جائے تو اس سے بڑھ کر کیا چاہیے ہمیں۔۔ ابا بھی سکون سے زندگی گزاریں گے۔۔ آخر ساری عمر ہمارے لیے اتنی محنت کرتے رہے ہیں۔
ہاں بھائی میں نے اپنے ایک دوست سے سرسری سی بات کی تھی وہ بھی سوچ رہا ہے کہیں انویسٹمنٹ کرنے کا تو کیوں نا ہم اس کے ساتھ مل کر شروع کر لیں۔
ہمم۔۔ آئیڈیا برا نہیں ہے۔۔ مگر دیکھو جو بھی کرنا پہلے اچھی طرح چھان بین کر لینا۔۔ اور کچھ رقم میں بھی تمہیں بھیج دوں گا۔۔ باقی ضرورت پڑی تو ابا سے کہہ دیں گے۔۔ لیکن میں کوشش کروں گا ان سے نہ لینی پڑے۔۔ ان شاءاللہ میں کرلوں گا۔۔ بس تم مجھے آگاہ کرتے رہنا۔ بس کچھ عرصہ رہ گیا ہے میری پڑھائی ختم ہونے میں پھر میں پاکستان آؤں گا تو کرتے ہیں کچھ۔
اوکے بھائی خیال رکھیے گا اپنا۔۔ پھر بات ہو گی اللہ حافظ۔
تم بھی اپنا اور اماں ابا کا بہت خیال رکھنا۔۔ خدا حافظ۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں بھائیوں کی محنت اور ماں باپ کی دعاؤں سے ان کا کاروبار ترقی کی سیڑھی چڑھنے لگا۔
تبریز صاحب بھی ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو مصروف رکھنے کے لیے بیٹوں کے ساتھ آفس جانے لگے۔۔ انہوں نے بہت اسرار کیا کہ اب آپ آرام کریں۔
ابا آپ نے ساری عمر تو اتنی محنت کی ہے اب ہمیں اپنی خدمت کرنے دیں۔۔ احمد نے باپ سے کہا تو وہ مسکرانے لگے۔
ارے میرے بچے میں کونسا اب کوئی محنت کرتا ہوں۔۔ آفس میں اس بڑے سے کمرے میں سکون سے بیٹھتا ہوں اور اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں اور ان کے لیے دعائیں کرتا ہوں اللہ انہیں اور ترقی دے۔
ابا جان یہ آپ کی دعاؤں کا ہی تو صلہ ہے کہ آج آپ کی اولاد کا کاروباری دنیا میں ایک نام ہے۔
ہاں بیٹا کرم ہے یہ اللہ سائیں کا۔۔ بس ایک بات یاد رکھنا کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہے ہمارے پاس۔۔ اور وہ جسے چاہے دے اور جس سے چاہے لے لے۔ اگر اس نے دیا ہے تو اسے اپنا سمجھ کر غرور و تکبر میں مبتلا مت ہو جانا۔۔ اللہ کے دیے میں سے اس کی مخلوق کو دو۔۔ یوں دو کہ دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے۔۔ اور دے کر بھول جاؤ۔
کیونکہ یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم دوسروں کا خیال رکھیں۔۔ اور اگر ہم دوسروں کا خیال رکھیں گے تو اللہ ہمارا خیال رکھے گا۔ سمجھ گئے ناں دونوں؟ انہوں نے مسکرا کر باری باری دونوں بیٹوں کو دیکھا۔
کیوں نہیں ابا جان۔۔ آپ جیسا باپ ہو تو دنیا میں کوئی برا بیٹا نہ ہو۔۔ احمد نے مسکرا کر کہا۔
یہ باتیں تو بہت ہو گئیں۔۔ اب ایک خاص بات بھی کرنی تھی۔
جی بولیں ابا جان۔
تمہاری اماں حضور آج کل تمہارے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا چاہ رہی ہیں۔
کیا مطلب۔۔ احسن نے پوچھا۔
مطلب یہ چھوٹے میاں۔۔ اماں گھر میں دو عدد بہوئیں لانا چاہ رہی ہیں۔۔ جواب تبریز صاحب کی بجائے احمد ملک نے دیا۔
تینوں کا قہقہا گونج اٹھا۔
ہاں بھئی میں نے تو لڑکیاں بھی دیکھ لی ہیں مجھے تو بہت اچھی لگی ہیں دونوں اور میں نے سوچ لیا ہے وہ ہی میری بہوئیں بنیں گی۔۔ اماں بھی کچن سے باہر آئیں اور اپنا فیصلہ ان کے گوش گزار کیا۔
آپ بتائیں ملک صاحب۔۔ آپ کو بھی وہ دونوں بچیاں ٹھیک لگی ہیں ناں ہمارے احمد کے لیے شہناز گل اور احسن کے لیے زرتاج بانو۔۔ اب انہوں نے تبریز صاحب کی رائے جاننے کے لیے ان کی طرف کیا۔
ہاں بیگم مجھے بھی بچیاں اچھی لگی ہیں سلجھی ہوئی خاندان بھی اچھا ہے۔
چلیں بس پھر فیصلہ ہو گیا میں آج ہی ان دونوں گھروں میں پیغام بھجواتی ہوں پھر ہم کچھ ہی دنوں میں جا کے شادی کی تاریخ لے آئیں گے۔
احمد تو ماں کی اس پھرتی کو دیکھ کر نیچے منہ کیے ہنستا جا رہا تھا جبکہ احسن حیرت سے کبھی ماں کو اور کبھی باپ کو دیکھتا۔
ارے اللہ کی بندی تم تو سرسوں ہتھیلی پہ جمائے بیٹھی ہو۔۔ تھوڑا صبر کرو بچوں سے تو پوچھ لو۔۔ آخر پڑھے لکھے سمجھدار بچے ہیں انہوں نے بھی تو کچھ سوچا ہی ہو گا ان کی بیوی کیسی ہونی چاہیے۔۔ تبریز صاحب نے ٹوکا۔
ارے ملک صاحب کیسی باتیں کرتے ہیں۔۔ اب یہ ہمیں بتائیں گے ان کے گھر والی کیسی ہونی چاہیے۔
کیا ہم ان کے ماں باپ نہیں جو ان کے لیے فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر ہی کریں گے۔۔ اماں کو ان کی بات پسند نہ آئی۔
ارے بیگم زندگی بچوں نے گزارنی ہے تو ان کی رائے لینا بھی ضروری ہے۔
رہنے دیں آپ تو پتہ نہیں کیسی باتیں کر رہے ہیں ہمارے وقتوں میں تو شادی والے دن ماں باپ آ کے کہتے تھے لو بھئی یہ کپڑے پکڑو اور نہا دھو کر باہر آؤ مولوی انتظار کر رہا ہے تمہارا نکاح ہے۔۔ اماں نے منہ بسور کر کہا تو تینوں کو ہنسی روکنا مشکل لگا۔
آۓ ہائے اب میں نے کونسا کوئی لطیفہ سنا دیا ہے جو تینوں باپ بیٹا ہنسنا شروع ہو گئے۔۔ اماں نے نارضگی سے کہا۔
ارے اماں لطیفہ نہیں مگر آپ نے بات ہی اس طرح بتائی ہے کہ تھوڑی سی ہنسی آ گئی۔۔ احسن نے ماں کے شانوں پر بازو رکھا۔
ارے بیٹا میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔ ایسا ہی ہوتا تھا کیونکہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔۔ اماں ابھی بھی اپنی بات پر ڈٹی رہیں۔
دیکھو فاطمہ بیگم بےشک تم ٹھیک کہہ رہی ہو کہ والدین اپنی اولاد کے لیے فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔۔ مگر یہ ان بچوں کی زندگی اور ان کی آنے والی نسل کا معاملہ ہے۔۔ اور ہمارا اسلام بھی ہمیں کہتا ہے کہ اولاد کی رائے لی جائے۔۔ یہ بات صرف لڑکے کی نہیں ہے لڑکی کے لیے بھی ایسا ہی حکم ہے کہ چاہے بیٹا کو یا بیٹی اس سے رائے لی جائے اور اگر اولاد چاہے تو اس کی وہاں شادی کی جائے زبردستی کی اجازت ہمارا اسلام نہیں دیتا۔
تم جانتی ہو ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ پر وحی نازل ہوئی تھی حضرت فاطمہؓ اور مولا کائنات حضرت علیؓ کی شادی کے لیے۔۔ کیونکہ یہ رشتہ اوپر تہہ کر دیا گیا تھا۔۔ حضور پاکﷺ جانتے تھے اللہ کا حکم ہے تو یہ ہو گا۔۔ مگر پھر بھی انہوں نے حضرت فاطمہؓ سے رائے لی تھی۔ انﷺ کی زندگی کی یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہمارے لیے مثال نہیں تو اور کیا ہیں۔۔ ہمیں چاہیے ہم ان باتوں پر غور کریں سمجھیں اور پھر عمل کریں تاکہ ہمارے لیے آگے کوئی مسائل نہ پیدا ہوں۔
یہ نہیں کہ ہماری ریت رواج یہ ہی ہے تو ہم نے بھی یہ ہی کرنا ہے۔۔ بھئی ریت اپنانی ہے تو اپنے پیارے نبی پاکﷺ کی باتوں پہ عمل کرو۔۔ تبریز صاحب نے بہت خوبصورتی سے بات اپنی بیگم کو سمجھائی کہ وہ داد دیے بنا نہ رہ سکیں۔
ملک صاحب میں تو سوچتی ہوں پتہ نہیں میں نے یا میرے ماں باپ نے کونسی ایسی نیکی کی تھی جس کا صلہ اللہ نے مجھے آپ کی صورت میں دیا۔۔ آپ نے ہمیشہ مجھے بہت اچھے طریقے سے ہر بات سمجھائی ہے۔۔ اس لیے تو میری زندگی اتنی خوبصورت ہے۔۔ انہوں نے دوپٹے کے پلو سے اپنی نم ہوتی آنکھوں کو رگڑا۔
اچھا چلو اب یہ رونا دھونا بند کرو اور بچوں سے پوچھو یہ اگر راضی ہیں تو ہم بات آگے بڑھائیں۔
ہاں بھئی بچوں کیا خیال ہے پھر اپنی ماں کی پسند پر اعتبار کرنا چاہو گے؟ تبریز صاحب نے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے مزاق کا سہارا لیا۔
ارے ابا آپ اعتبار کی بات کرتے ہیں ہمیں تو فخر ہے اماں کی پسند پہ احسن نے ابا کو شانوں سے پکڑ کر کہا تو وہاں بیٹھے سب نفوس ہنسنے لگے۔
چلو بھئی مبارک ہو بیگم۔۔ تمہارے بچوں نے منظوری دے دی ہے اب جو چاہو تم کرو۔۔ اور اسی خوشی میں ہمیں چائے بھی پلوا دو۔
جی جی کیوں نہیں میں چائے کے ساتھ حلواہ بھی بناتی ہو آخر خوشی کی بات ہے منہ تو میٹھا کرنا ہے ناں۔۔ وہ جوش سے کہتی کچن کی جانب چل دیں۔
پھر کچھ ہی دن میں شہناز گل احمد ملک کی بیگم اور زرتاج بانو احسن ملک کی اہلیہ بن کر اس گھر میں آگئیں۔
یہ ایک بہت وسیع پیمانے پر مشتمل جگہ تھی جس میں دو خوبصورت تطرز کے گھر بنائے گئے تھے۔۔ تبریز ملک نے اپنی زندگی میں یہ جگہ لے کر اپنے دونوں بیٹوں احسن ملک اور احمد ملک کے نام کر دی تھی اور ایک ہی طرح کے دو خوبصورت گھر بنوا دیے جس کے باہر وسیع پیمانے پر ہرا بھرا لان تھا۔۔ یہ باہر سے ایک ہی گھر تھا مگر اندر دو حصوں کو گھروں کی شکل دے رکھی تھی ان کی خواہش تھی ان کے دونوں بیٹے ایک ہی جگہ پر رہیں مگر یہ سوچ کر کہ آنے والی ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا اپنا گھر ہو جسے وہ اپنی مرضی سے سجائے سنوارے اس لیے انہوں نے دو پورشن بنوائے۔
زندگی کی گاڑی چلتی رہی کہ ایک دن اچانک حادثے نے تبریز ملک کی جان لے لی۔۔ اماں کا تو صدمے سے برا حال تھا۔۔ ان دنوں شہناز کو بھی اللہ نے خوشی سے نوازا تھا اس لیے زیادہ کام کاج کرنا مشکل ہو رہا تھا تو زرتاج بانو نے اس گھر کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا۔
زرتاج دن رات کام کاج میں لگی رہتی۔۔ گھر میں ملازموں کی کمی نہیں تھی مگر اتنا بڑا گھر ملازموں کے حوالے کر کے بیٹھنا انہیں پسند نہ تھا۔
شہناز بھابھی آپ یہ دودھ پی لیں۔۔ کافی دیر ہو گئی ہے کچھ نہیں کھایا آپ نے۔
ارے زرتاج اتنی پریشان مت ہو میں ٹھیک ہوں بالکل۔۔ تم اپنا بھی خیال رکھ لیا کرو۔۔ سارا دن میرے اور اماں کی فکر کرتی رہتی ہو۔
ہاں بھابھی اماں تو جیسے ابا جان کے بعد اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئی ہیں نہ زیادہ بات کرتی ہیں۔
ہاں میں سوچ رہی ہوں اماں کو کسی طرح اپنے پورشن میں لے آتی ہوں۔۔ ہو سکتا ہے اپنے کمرے سے نکلیں ادھر آئیں تھوڑا دھیان بٹ جائے گا۔
ہمم۔۔ دیکھ لیں آپ کو جیسے ٹھیک لگتا ہے۔۔
خیر سے کچھ ماہ میں خوشی آجائے گی گھر میں تو ان کا دل بھی بدل جائے گا۔۔ زرتاج نے مسکرا کر کہا۔۔ مگر اس مسکراہٹ میں چھپی محرومی شہناز نے محسوس کر لی۔۔
اللہ تمہارے گھر بھی بہت جلد ڈھیروں خوشیاں لائے گا ان شاءاللہ۔۔ شہناز نے زرتاج کا ہاتھ پکڑ کر مسکرا کے کہا۔
ان شاءاللہ۔۔ وہ بھی مسکرانے لگی۔
وقت گزرتا رہا اللہ نے زرتاج کے گھر بھی خوشی کا سماں کیا۔ خوشخبری سنی تو اماں ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔
اللہ نے شہناز کو ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا جس کا نام انہوں نے زاویار رکھا۔۔ اماں تو اس پہ واری صدقے جاتیں۔۔ اس کے کچھ عرصے ماہ بعد ہی زرتاج کے گھر بھی تابش کی آمد ہوئی۔
بچے بڑے ہوتے گئے بچوں کی شرارتوں سے گھر میں پھیلا سناٹا دور ہوا۔
کافی سال گزر گئے شہناز کے تو اور کوئی اولاد نہ ہو سکی مگر زرتاج کو اللہ نے ایک بار پھر خوشی سے نوازا مگر اس بار اس کی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔
بہت کوشش کے باوجود اس کی حالت نہ سنبھلی اور وہ بیٹی کو جنم دے کر اپنی زندگی کی بازی ہار گئی۔
گھر کی فضا ایک بار پھر سوگوار ہو گئی۔۔ اماں تو دس سالہ تابش کو دیکھ دیکھ کر روتیں۔ احسان صاحب کا بھی حال اجاڑ پرندے جیسا تھا جو اپنی جان سے پیاری ہمسفر کو کھو بیٹھے تھے۔۔ ننھی پری کو دیکھتے تو دل خون کے آنسو روتا۔
آخر شہناز بیگم نے ہی زرتاشہ کو اپنی گود میں لیا اور اپنا دن رات اس کے لیے وقف کر دیا۔۔ اپنی بہن جیسی دیورانی کو کھو دینے کا دکھ انہیں بھی چین نہیں لینے دے رہا تھا مگر بچوں کی خاطر ہمت کی۔
زرتاشہ سال کی ہوئی تو زرتاج کا دکھ پھر سے جاگ اٹھا۔۔
چاچو۔۔ آج تاشہ کا برتھ ڈے ہے۔۔ ہمیں باہر لے کر چلیں۔ زاویار احسن صاحب کے کندھوں پر چڑھنے لگا۔
ارے یار آج موڈ نہیں ہے۔۔ ہم کل تاشہ کا برتھ ڈے سیلیبریٹ کر لیں گے۔۔
نو نیور۔۔ آج ہے برتھ ڈے اور آج ہی ہم سیلیبریٹ کریں گے۔
زاویار چندا ضد نہیں کرو۔۔ پرامس کل میں آپ لوگوں کو لنچ بھی کرواؤں گا پھر ہم لوگ پلے لینڈ بھی چلیں گے اور کہو گے تو کارٹون مووی بھی دیکھنے چلیں گے۔۔ ڈن؟ انہوں نے وعدہ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
نو چاچو۔۔ آئی نو آپ آج کیوں نہیں جا رہے۔۔ آج چاچی کی ڈیتھ ہوئی تھی اور آپ اس وجہ سے کمرے میں بند ہو کر ان کا غم منانا چاہتے ہیں۔۔ بٹ چاچو ہماری میم بتا رہی تھیں جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔۔ اللہ تعالٰی ہمارے سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں اور اگر وہ ہمیں کچھ دیتے ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں ناں۔۔ اس لیے پھر اللہ تعالٰی ہمارے سے اگر کچھ لیں تو ہمیں صبر کرنا چاہیے۔۔ دیکھیں اللہ تعالٰی نے ہمارے سے چاچی لی ہیں تو ہمیں پرنسز بھی تو دی ہے ناں۔۔ وہ اپنی بات مکمل کر کے احسن صاحب کو دیکھنے لگا۔
اور وہ تو جیسے سکتے میں آگئے تھے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ بارہ سالہ بچہ اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے انہیں سمجھا گیا جسے نہ سمجھنے کی وہ خود سے ضد لگائے بیٹھے تھے۔
وٹ ہیپنڈ چاچو۔۔ میں نے کچھ غلط کہہ دیا؟ آئی ایم سوری۔۔ اسنے کان پکڑ کر معافی مانگی تو احسن صاحب نے بے اختیار اسے پکڑ کر سینے سے لگایا اور پیشانی پر بوسہ دیا۔
نہیں میرے بیٹے تم نے کچھ غلط نہیں کہا۔۔ تم واقع ہی بہت بہادر ہو اپنے نام کی طرح۔۔ اللہ تمہیں ہر آزمائش سے بچائے۔
زاویار کو ان کی بات کچھ خاص سمجھ تو نہیں آئی مگر اپنی کوشش میں کامیاب ہونے پر مسکرانے لگا۔
چلیں چاچو جلدی سے تیار ہو جائیے ہم سب تیار ہیں اور آپ کا ویٹ کر رہے ہیں۔۔ آپ جلدی سے فریش ہو کے آجائیں۔
اوکے ڈیئر آئی ایم کمنگ۔۔ وہ کہتے ہی واشروم میں گھس گئے۔
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزرتا ہی رہتا ہے اور بہت سی تکلیفوں کو ساتھ لے جاتا ہے۔۔ ان کے دکھوں پر بھی وقت نے مرہم رکھ دیا تھا زرتاشہ کا آج اٹھارواں یومِ پیدائش تھا۔۔ ہمیشہ کی طرح زاویار نے گھر کو سجا دیا تھا۔۔ تابش بھی باہر لان میں سجاوٹ کروا رہا تھا۔
ڈیڈ میرا ڈریس کدھر ہے؟ زرتاشہ بھاگتی ہوئی احسن صاحب کے پاس آئی اور استفسار کرنے لگی۔
تمہارا ڈریس تمہاری بڑی ماما کو پتہ ہو گا بیٹا۔۔ انہوں نے ہمیشہ کی طرح شفیق انداز میں جواب دیا۔
ڈیڈ بڑی ماما کو کیسے پتہ ہو گا میں نے آپ کو صبح کال کی تھی کہ ڈرائیور کو بھیج کے میرا ڈریس منگوا لیں ٹیلر سے۔
اوہ۔۔ میرے مائینڈ سے نکل گیا۔۔ انہوں نے اپنی پیشانی مسلی۔
واٹ؟؟ اب میں کیا پہنوں گی؟ وہ چلائی۔۔
ارے کیا ہو گیا لڑکی کیو چیخ رہی ہو ؟ اماں لاؤنج میں داخل ہوتے ہی تاشہ کے چلانے کی وجہ پوچھنے لگیں۔
دادو دیکھیں نا ڈیڈ میرا ڈریس منگوانا ہی بھول گئے ہیں۔۔ اب میں کیا پہنوں گی۔۔ ٹیلر بھی شاپ بند کر کے چلا گیا ہو گا اب تک۔۔ اس نے گھڑی پہ نظر ڈالی جو سات بجے کا پیغام دے رہی تھی۔
تو بچے کوئی اور سوٹ پہن لے اتنا ڈھیر تو ہے کپڑوں کا۔۔ مگر ہاں کوئی ڈھنگ کا سوٹ پہننا یہ چھوٹی چھوٹی قميض تنگ پینٹوں کے ساتھ نہ پہن لینا مہمان ہوں گے۔ اماں نے بات مکمل کر کے اپنی عینک اوپر کی اور آگے بڑھ گئیں۔
احسن صاحب کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔۔
زرتاشہ نے پہلے جاتی ہوئی اماں کو دیکھا پھر ہنستے ہوئے باپ کو گھورا۔۔ نتیجاً ان کی مسکراہٹ بلند قہقہے میں بدل گئی۔
ڈیڈ۔۔ میں۔۔ میں۔۔ زاویار بھائی کو شکایت لگاؤں گی آپ کی بھی اور دادو کی۔۔
زار بھائی۔۔ زار بھائی۔۔ کہتے ہی وہ زاویار کو پکارنے لگی۔۔
اس کی دوسری ہی آواز پر وہ بوتل کے جن کی طرح حاظر ہو گیا احسن صاحب اب بھی مسلسل ہنس رہے تھے۔۔ وہ کچھ سمجھا نہیں اور سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
زاویار بھائی یہ دیکھیں ڈیڈ نے کیا کیا اور دادو مجھے کہتی ہیں۔۔ وہ اپنی داستان غم اس کے گوشگزار کرنے لگی۔
زاویار کا بھی دل کیا کہ وہ اماں کی بات پر خوب ہنسے مگر وہ اس وقت زرتاشہ کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا تھا۔۔ کیونکہ مہمان آنے والے تھے اور انتظامات بھی اسنے دیکھنے تھے۔
چلو یہ رونا دھونا بند کرو آؤ جلدی۔۔ زاویار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
کدھر ؟ زرتاشہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
ارے یار نیو ڈریس دلوا دوں تمہیں۔۔ اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے ہمارے پاس۔۔ وہ کہتا ہوا باہر آگیا زرتاشہ بھی پیچھے چلی آئی۔
کچھ ہی دیر میں وہ شاپنگ مال میں موجود تھے۔۔ باری باری دکانیں چھان کر بھی زرتاشہ کو کوئی سوٹ پسند نہ آیا۔
تاشہ جلدی کرو ناں یار دیکھو ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا ہے ہمیں آئے ہوئے مگر ابھی تک تم نے کچھ نہیں لیا۔
زاویار بھائی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ اس نے معصومیت چہرے پر سجا کر کہا۔
ہمم۔۔ چلو پھر ادھر چلو۔۔ اس نے سامنے والی دکان کی طرف اشارہ کیا اور اسے لیے وہاں چلا گیا۔۔
اس نے دکاندار کو سامنے لٹکا ہوا سیاہ رنگ کا فراک جس کے گلے پر ہلکا سا نفیس کام تھا نکالنے کو کہا۔
دوکاندار نے نکال کر اس کے آگے رکھا۔
تاشہ یہ دیکھو۔۔ کیسا ہے؟ زاویار نے اس سے پوچھا۔
آپ کو کیسا لگا؟ الٹا سوال کیا گیا۔
مجھے تو بہت اچھا لگ رہا ہے بالکل پرنسز لگو گی یہ پہن کر۔۔ اس نے تاشہ کی ناک دبائی۔
اوکے۔۔ ڈن بس یہ ہی لے لیں۔۔ وہ مسکرائی۔
اوکے۔۔ پیک کردیں یہ۔
چلو اب اس کے ساتھ شوز اور جیولری بھی لے لیں۔
زار بھائی میں جیولری کہاں پہنتی ہوں آپ کو معلوم تو ہے۔۔ ہاں اس کے ساتھ ہائی ہیلز لوں گی۔
نہیں ہائی ہیلز نہیں لینی۔۔ کتنی بار منع کیا ہے تمہیں ہائی ہیلز سے۔۔ اگر گر گئی تو؟ وہ دونوں چلتے جا رہے تھے اور ساتھ ساتھ بحث بھی جاری تھی۔
اف اللہ ایک تو آپ بھی ناں۔۔ اب میں کوئی چھوٹی سی بچی تو نہیں ہوں جو ہیل پہن کر گر جاؤں گی۔۔ وہ ضد کرنے لگی تو زاویار کو اس کی بات ماننی پڑی۔
وہ دونوں اب ایک دکان میں گھسے جوتے پسند کر رہے تھے زرتاشہ کو یہاں بھی کچھ پسند نہ آیا۔
بیٹھو تم خاموشی سے میں خود ہی پسند کر لیتا ہوں۔ زاویار نے وہاں پڑے صوفے پر اسے بٹھایا اور خود اس کے لیے جوتے پسند کرنے لگا دو منٹ بعد وہ اس کے سامنے موجود تھا۔
یہ دیں انہیں چیک کریں سائز۔۔ زاویار نے پاس کھڑے لڑکے کو کہا جو ایک بلیک ہائی ہیل سینڈل ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔
جی سر۔۔ وہ سر کو ہلکا سا خم دے کر جھکا اور جوتا پہنانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔
میم پاؤں آگے کیجیے گا پلیز۔۔ اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
اس سے پہلے کہ زرتاشہ پاؤں آگے کرتی زاویار بول اٹھا۔
رہنے دو۔۔ وہ خود پہن لیں گی تم جاؤ۔۔ زاویار کی بات پر جہاں اس لڑکے نے اسے حیرت سے دیکھا وہیں زرتاشہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔ جسے زاویار کے گھورنے پر بریک لگی۔
وہ لڑکا بغیر کچھ کہے ادھر سے چلا گیا۔
اب تم منہ اٹھا کے کیوں بیٹھی ہو پہنو جوتا اور دیکھو سائز ٹھیک ہے؟؟ زاویار تھوڑا تلخ ہوا۔
پہنادیں۔۔ زرتاشہ نے بغیر اس کے غصے کی پرواہ کیے مسکرا کر کہا اور پاؤں اس کے آگے کر دیا۔۔ زاویار کے چہرے پر بھی مسکراہٹ ابھری اور وہ جھک کر اسے جوتا پہنانے لگا۔
(جاری ہے۔۔)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/