Episode 2 Man dare ishq bashama hastam دل بنجارہ…

Man dare ishq bashama hastam
دل بنجارہ تھا میرا تیرے بنا
میری دلہیز پہ تیرے قدم نے
میرے دل کو آباد کردیا
(ثمرین شاہ )
وہ کتاب کو دیکھنے لگی وہ کھبی بھی اُردو ،انگلش بُکس نہیں بھیجتا تھا ہمیشہ فارسی کی کتابیں ہوتی تھی ثمرن حیران ہوتی شاہد کوئی پرشین ہوگا جو اسے بھیجنے والا ان کتابوں میں اکثر شاعری ، رومی ، حافظ کی کتابیں کے ساتھ ساتھ کچھ خوبصورت کوٹیشن ہوتی جسے وہ پڑھتے ہوئے خود ہنستی تھی وہ کیا بول رہی ہے پھر ہر ایک ایک لفظ کے مطلب نکالتی شروع میں تو اسے مزا آتا تھا پھر بعد میں جنجھلاہٹ نے جگہ لے لی تھی وہ اریٹٹ ہورہی تھی کے یہ کون ہے اور کیوں بھیجتا ہے اسے یہ پارسل ہمیشہ اس وقت آتا تھا جب اس کے بابا گھر پہ موجود نہیں ہوتے تو اور قسمت ایسی تھی کے جب آتا تو اس کی ماما بھی منظر کے سامنے نہ پائی جاتی اور جب اسے کتابیں ملی اس نے انھیں بتانے کی زحمت نہ کی پتا نہیں شروع سے ایڈونچر پسند تھی کیا پتا کوئی
سپائی ہو جس کے پیچھے پڑ گیا ہو جی ہاں اس کتاب نے اس کا بھی دماغ خراب کیا تھا لیکن بس حد تک کیا تھا ورنہ اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی ہیرو میں وہ تو خود اپنی ہیرو بنا چاہتئ تھی ! ابھی ابھی اس کا آڈمیشن نسٹ یونی میں انڈسٹرل ڈیزائنر کے لیے ہوا تھا
لیکن شاہد اب وہ آگئے اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکے گی آنسو کی نھنی سی بوند کتاب کے صفحے پہ گری جہاں لکھا تھا
نیلوفرهای ایرانی سفید لیلی را ارائه می دهند
فنجان قرمز معطر خود را
چشم نارسیس آنیمون را نگاه می کند
(Persian lilies will offer the White Lilly
Their fragrant red cup
The narcissus eye will glimpse the anemone )
※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※
صلاح الدین نماز پڑھ کر تیار ہونے کے لیے جارہا تھا جب اس یاد پڑا کے دو دن تک تو کوئی فلائٹ نہیں ہے ٹینشن میں اسے بہت سی چیزیں یاد نہیں رہتی تھی ہادی ہمیشہ اسے پشتو میں کہتا
"لالہ ٹینشن ستاسو ښځه۔”
(لالہ ٹینشن تو تمھاری بیوی ہے )
وہ اور اریٹٹ ہوا کرتا تھا کے ٹینشن اور بیوی سے کیا مراد ہے تو وہ کوئی جواب نہ دیتا پھر جب ایک دن ڈیرے پہ اس نے صلاح الدین کو بتایا کے بیویاں ہر چیز بھلا دیتی ہے اور تیری تو کوئی بھی بیوی ہوگئ تیری محبوب ہوگی اور محبوب دنیا کی ہرچیز بھلا دیتی ہے ۔
صلاح الدین کے چہرے پہ مسکراہٹ آتی لیکن وہ دباتے ہوئے ہادی کو گھوری دکھاتا اور پھر کہتا
"لیزنی ستاسو پروردګار دی۔”
( اور کاہلی تو تیری محبوب ہے ۔)
اور وہ بھی وہی دُگنی گھوری نوازتا پھر کہتا ہاں تو کیا بھئی کاہلی محبوب ہے تو اب کیوں جلتے ہیں ، کس نے کہا تھا ہوا میں اڑنے کو اور صلاح الدین مسکرا پڑتا اسے ہوائوں سے عشق تھا وہ بچپن میں دیکھنے چاہتا تھا آسمانوں میں کیا ہے ، اُدھر سورج دیکھنے میں کیسا ہوگا بادل کیا واقی روئی جیسی دکھتی ہے
وہ سارے خاندان سے بے حد مختلف تھا اس کی ان کی طرح جاگیردارنہ سوچ نہ ہی پٹھانوں جیسا جوش کچھ بھی نہیں تھا انتہائی نرم مزاج بندہ کے لوگ اس کی مزاجی پہ حیرت سے غوطہ زن ہوجاتے کے یہ انھیں کے ہی حویلی سے ہے جہاں اک نہ کرنے پہ کیا سے کیا کر جاتے تھے ۔ لیکن صلاح الدین کو دیکھ کر ہر اک کی تمنا ہوتی کے کاش یہ بھی ہمارے گھر میں ہوتا آغا جان کھبی صلاح الدین کی نرم مزاج پہ ناگواری ہوتی تو جب بھری محفلوں میں اپنے پوتے کی تعریفیں سُنتے تو فخر سے ان کا سینہ چوڑا ہوجاتا اس نے کھبی انھیں شرمندہ نہیں کیا تھا اور وہ پُر امید تھے کے وہ اب بھی شرمندہ نہیں کریں گا کیا واقی میں وہ نہیں کریں گا وہ کیا واقی عام مردوں ک طرح خون بہا میں آئی لڑکی کے ساتھ انتہا درجے کے ظالمانہ سلوک کریں گا اسے ایک بکری کی مانند سمجھے گا جسے کے گلے میں رسی باندھے کہی بھی کھینچتا جائے گا وہ نا چاہیتے ہوئے بھی کھینچی چلائی آئی گی کیا وہ بلی کی طرح ان کو کھانے زمین پہ پھینکے گا تو وہ پیٹ کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر چُپ کرکے کھا لیا کری گی ، کیا وہ بھینس کی طرح باہر ٹھنڈ میں سوکھے پتوں میں سلائے گا اور وہ تب بھی خاموشی سے سو جایا کریں گی اور وہ اپنے عیاشی کی خاطر کسی غیر عورت کو اپنے دل کو سکون کریں گا اور وہ جانتے ہوئے بھی انجان اور خاموش ہوگی ساری زندگی حقوق نہ حاصل کرنے پر خاموش رہی گی کیونکہ خاموشی ہی ان کا مقدر بن جاتی ہے وہ یہاں قدم رکھنے سے پہلے اپنی زبان چھوڑ آتی ہے اور جو باغی نکلتی ہے ان کی زبان کاٹ کر پھینک دیں جاتی ہے وہ بستر پہ بیٹھا بالکل ساکت یہاں آئی لڑکیوں کی زندگیوں کو پندرہ سکینڈ میں ریوانیڈ کرکے دیکھ چکا تھا اور اس ہولناک منظر اس وقت دیکھنا تو مشکل تھا لیکن یہ چیز جو اب اس پر گزری گی جس کی تصویر میں وہ ظالم اور وہ جو کوئی بھی ہوگی وہ مظلوم بے حد ناقابل برداشت ۔
صبح کی کرن اس کے کمرے میں ہلکی سے آچکی تھی اور مرغی بھی اپنی بانگ پھر سے دینے لگا چڑیوں کی چہچہاٹیں ، کوئے کی کائے کائے پھر لوگوں کی آوازیں آنی لگی بس اک وہ کمرے میں بالکل خاموش تھا اس کے اندرونی جسم کے کھنڈر کے مانند تھا وہ کب ایسا اسے خود کی حالت سے وحشت محسوس ہوئی وہ اُٹھنے لگا جب دروازے پہ دستک ہوئی
****************
میرے درد کو اتنا مت چھید
میرے خون کی چھینٹے تیرے
وجود پہ پڑے گے
(ثمرین شاہ )
وہ آج اپنا لیونگ سرٹیفکیٹ لینے کے لیے یونی گئی تھی سب نے اسے چھوڑنے کی وجہ پوچھی تھی لیکن اس نے اپنی شادی کا کہہ کر بات ہی ختم کردیں شادی کا کہتے ہوئے اس کے لبوں پہ بڑی تلخ مسکراہٹ آئی تھی شادی ! شادی نہیں بلکہ وہ زندان میں ایک قیدی بنے جارہی تھی اور اس کا وقت آگیا تھا کے وہ ساری زندگی اس زندان میں گزارے اور وہاں موجود انسانی روپ میں حیوان کے حیوانیت بھی سہے ۔
انھیں بنا ہمدردی اور دلاسے کے لیے کندھے میسر کیے بنا بھیج دیتے ہیں اور اپنے لختِ جگر اپنے بھراپے کے سہارے کو سینے سے لگائے آنکھیں بند کردیتے ہیں کے کوئی اتنا تو منتظر ہوتا ہے کے کوئی ان کے عمل نامے کو بھگتنے لگا ہے اپنا آپ قربان کرنے لگا ہے کوئی اتنا تو کہہ دیں بیٹی رب رکھا ، اللّٰلہ کے حوالے کیا تمھیں جبکہ ایسا ہوتا ہی نہیں ہے نصیحتیں ہوتی ہے اور تین لفظ پہ مشتمل نصیحتیں صبر ، خاموشی ، عزت ان تین لفظوں کا پاس رکھنا ہے اور وہ ان تین لفظوں کا پاس رکھتے رکھتے اندر سے ختم ہوجاتی ہے لیکن ان تین لفظوں کو آخری دم تک قائم رکھتی ہے ۔
وہ وین سے اُتر کر گھر کی طرف آئی اس نے دیکھا بلیک مرسیڈیز کھڑی ہوئی تھی اور اس کے نمبر پلیٹ پہ خان لکھا ہوا تھا پڑھتے ہوئے اس کا دل رُک گیا سانیس تھم سی گئی چہرے پہ سفیدی آگئی یانی موت کا فرشتہ اس کے گھر خاضر ہوچکا تھا
*********************
صلاح الدین نے دروازہ کھولا تو ایک دم پیچھے ہوا
"اسلام و علیکم مورے !۔”
مورے بالکل خاموش تھی اپنے اس خوبرو بیٹے کو دیکھنے لگی جس کی آنکھیں خاصی سُرخ تھی جب سے ہادی کی موت ہوئی صلاح الدین کی آنکھیں دن با دن سُرخ پڑتی جارہی تھی ان کے دل کو کچھ ہوا
"یہ کیا حالت بنادی ہے دین ! ۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی صلاح الدین نے نظریں جھکا لی اور مسکرایا
"سو کر اُٹھا ہو نا اس لیے آپ کو عجیب لگ رہا ہو آپ بیٹھے ۔”
اس نے دروازہ بند کیا اور زبردستی مسکرانے کی ہلکی سے کوشش کی جو کوشش پہلی ٹرائی میں دم توڑ گئی
مورے نے اپنی کالی آنکھیں اس کے ہری آنکھوں سے نظر ہٹا کر اس کے چہرے کو دیکھا جہاں بڑھی ہوئی شیو پھیکا رنگ سمیت اک عجیب سی وحشت تھی اتنا غم لیا تھا اس نے ہادی کی موت کو ہاں دن ہی کتنے ہوئے ہیں لیکن انھیں کچھ عجیب لگ رہا تھا صلاح الدین کی حالت پر وہ چلتی ہوئی بستر کے پاس آئی اور صلاح الدین ان کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے گھٹنے کے بل بیٹھتا ہوا ان کی گود میں سر رکھ چکا تھا
وہ اپنے سیاہ ہاتھ اس کے بالوں میں پھیرنے لگی ان کی آنکھیں گیلی ہوکر اس بالوں میں بھگونے لگے
"پتا ہے دینی تاریخ پھر دھُرائی جارہی ہے ۔”
صلاح الدین خاموش رہا
"میں نے سُنا ہے وہ بارہ سال کی بچی ہے ۔”
خاموشی !
"وہ عام سے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے بھائی نے یہ سب کیا ۔”
ان کی آواز بھاری ہوگئی اور صلاح الدین ابھی بھی خاموش تھا
"وہ شاہد سیاہ فام بھی ہوگئ میرا دل پتا نہیں کیوں کہہ رہا وہ ویسی ہوگی جو گیارہ سال کی مانیزے تھی ۔”
صالح الدین نے اب کی بار سر اُٹھایا تو سُرخی کے ساتھ ناسمجھی بھی تھی جیسے اس نے آدھی باتیں سُنی نہیں تھی
"بارہ سال ؟۔”
مورے نے اپنے آنسو صاف کیے
"تمھیں انھوں نے نہیں بتایا کے وہ بارہ سال کی بچی ہے اس لڑکے کی چھوٹی بہن ۔”
اب لگا صلاح الدین کے سر پہ نیلم میں موجود تمام وادی اس کے سر پہ اگری ہو جسم میں درد اُٹھا تو وہ اُٹھ پڑا
مطلب جو مورے کہہ رہی ہے تاریخ دھُرائی جائی گی تو کیا واقی دوسری مانیزے اِدھر قدم رکھے گی غصے کی شدید لہر اس کے اندر دوری اور وہ چلتا ہوا وہاں سے چل پڑا اور مورے دھل گئی اسے کیا ہوا ہے ۔
*******************
میں جو ہنستا تھا ان لوگوں پر
آج وہی لوگ مجھے پہ ہنستے ہیں
(ثمرین شاہ )
آغا جان مردان خانے پہ بیٹھے ہوئے تھے کسی مسئلے کو غور سے سُن رہے تھے جب صلاح الدین دندانتا ہوا سارے لوگ وہاں موجود صلاح الدین کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے یہ ایک احترام کا طریقہ تھا اور یہ آغا جان کا حُکم تھا کے ان کی خاندان کے سپوت کو سُنہری حویلی کا بادشاہ سمجھا جائے
"میرا دینی دازرا قرار ۔”
(دین میرے دل کا سکون !۔)
آغا جان جب بھی اسے دیکھتے ہمیشہ یہی کہتے
صلاح الدین نے کوئی ردِ عمل نہیں کیا
"مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے ۔”
"خیرت ہے خانے ۔”
وہ اس کے لہجے پر چونک پڑے
"کیا مجھے چند منٹ مل سکتے ہے ۔”
وہ لب بھینچتے ہوئے بولا ورنہ دل کررہا تھا چیخ چیخ کر حویلی کو ہلا کر رکھ دیں
"لاړ شه۔”
سب لوگ سر ہلاتے ہوئے چل پڑے اور صلاح الدین کی نظر ہادی کی تصویر پہ تھی اس نے ابھی تک اندر آتے ہوئے ایک بار بھی آغا جان کو نہیں دیکھا تھا
"ووایه صلاح الدین ۔”
بولو صلاح الدین
"جس لڑکی سے آپ میرا نکاح پڑھوانا چارہے ہیں وہ کیا بارہ سال کی بچی ہے ۔”
آغا جان سمجھ گئے وہ اب کیا کہے گا
"تو !۔”
"تو کا کیا مطلب ہے میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے ۔”
"ہاں تو اس میں اتنا پریشان کیوں ہورہے ہو ۔”
صلاح الدین نے پہلی بار انھیں دیکھا اور اس کے لبوں میں زہریلی مسکراہٹ آگئی
"پریشان ! ہاہا پریشان ۔”
"صلاح الدین تمھیں ہوا کیا ۔”
وہ اب سنیجدگی سے بولے انھیں سمجھ آگئی کس نے اسے خبر دیں اور کس نے اس کے کان بھرے یہ سوچتے ہی ان کا چہرہ سُرخ انگارہ ہوگیا ۔
"مجھے کیا ہونا بھلا کٹپتلا تو حاضر ہے لیکن یہ نہیں پتا تماشے کے لیے اس کے ساتھ ایک بارہ سال کی معصوم بچی لائی جارہی ہیں جسے وہ اپنی درندگی کا ناشانہ بنائے گا اس کچھ نہیں بس ایک جانور تصور کریں گا ایک لڑکی کی روپ میں جانور اور آوڈینس اس کے تماشے پہ تالیاں بجائی گی وہ جب اس گڈی کو اپنے پیروں تلے روندے گا تو سب کا ہنس ہنس کر بُرا حال ہوگا اور اس سارے تماشے میں اور اس کٹپتلے کی عمل سے ہمارے خان کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگا دل کو ٹھنڈک ملے گی ہے نا پرفیکٹ ایک اور جنریشن اس عمل کو آگئے لے کر جائی گی اور یہ سائیکل ساری زندگی سے چلتا آئے گا ۔”
وہ تالی بجاتے ہوئے بولا اور وہ اس کی بات پہ اُٹھ پڑے اور وہ اس کڑواہٹ سے بھر پور صلاح الدین کو پہلی بار دیکھ رہے تھے
جاری ہے


