عالمی ادب

کتاب : کلیلہ و دمنہ تسہیل و تدوین ڈاکٹر حنا جمشید دنیا کی 40 بڑی زبانوں میں تر…

کتاب : کلیلہ و دمنہ
تسہیل و تدوین ڈاکٹر حنا جمشید
دنیا کی 40 بڑی زبانوں میں ترجمہ ہونے والا ہندوستانی کلاسیک شاہکار کلیلہ و دمنہ کہانیوں اور داستان کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کو مشہور عربی ادیب عبد اللہ بن المقفع نے عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ ابن المقفع نے اسے اپنے ہی انداز میں لکھا پھر اردو ترجمہ مفتی رفیع الدین قاسمی نے کیا اور اب خال ہی میں ڈاکٹر حنا جمشید نے اس کتاب کو اپنے انداز پایا تکمیل پر پہنچا ھے
مصنف نے اس کتاب میں جانوروں کے کردار پیش کئے ہیں۔ کتاب میں موجود کہانیاں کئی موضوعات پر مشتمل ہیں جن میں سب سے اہم موضوع بادشاہ اور رعایا کے درمیان میں تعلقات ہیں۔ کہانی کے ضمن میں حکمت و دانائی کی باتیں پیش کی گئی ہیں۔کلیلہ و دِمنہ دراصل دو گیدڑوں کے عربی نام ہیں جنکی کہانی اس کتاب میں بیان کی گئ ہے جو بہت ہی عقل مند اور زیرک کے ساتھ چالاک اور مکار ہیں جو بادشاہ کے قرب سے اس کو نصیحتیں کرتا ھے اور پھر اپنی چالاکی سے بادشاہ کے قریبی ساتھی شتربہ نامی بیل کا بادشاہ سے قتل کروا دیتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کلیلہ و دمنہ” قدیم ہندوستان کی دانش و حکمت پر مشتمل کتاب ہے۔جس کو بیدپا فیلسوف نامی ایک عاقل برہمن نے ہندوستانی بادشاہ کے سامنے پرندوں و جانوروں کی کہانیوں کے انداز میں پیش کیا اور کو پند و نصائح کیے۔ کچھ روایات کے مطابق بادشاہ پر یہ نصحیتیں کافی گراں گزریں جس پر اس نے بیدپا فیلسوف کو قید کروا دیا مگر اسی رات تاروں کی گردش نے اس کو سوچنے پر مجبور کیا اور اس نے برہمن فلسفی کو قید خانے سے بلا کر اس کی نصحیتیں سنیں۔پھر بادشاہ کے حکم پر ایک سال کے اندر بیدپا فیلسوف نے ان پند و نصائح اور کہانیوں کو کتاب کی صورت میں مکمل کیا۔ یہ کتاب سب سے پہلے سنسکرت زبان میں لکھی گئی.بیدپا فیلسوف نے بادشاہ سے یہ خواہش کی کہ اس کی یہ کتاب ہندوستان سے باہر نہ جائے بالخصوص ایرانیوں کے ہاتھ یہ کتاب نہیں لگنی چاہیے ، برہمن فلسفی کی خواہش کے احترام میں اس کتاب کو شاہی خزانے کا حصہ قرار دیا گیا اور اس کی حفاظت کا خصوصی انتظام کیا۔
اس کتاب کے ایران آنے کی داستان بھی کافی دلچسپ ہے۔ ایرانی بادشاہ نوشیرواں عادل کو اس کتاب کی شہرت کا پتہ چلا تو اس نے اس کو ایران لانے کے لیے اپنے وزیر بزرجمہر سے مشاورت کی تو بزرجمہر نے ایک ادیب بروزیہ جو کہ اچھی شہرت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ فارسی و ہندی زبان پر عبور رکھتا کا انتخاب کیا کہ وہ کسی طرح اس خزانے کو حاصل کرے۔ بروزیہ ہندوستان آیا اور یہاں پر بادشاہ کے خواص سمیت صاحب مرتبت افراد ، فلاسفہ اور صاحبان علم و فضل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کیے ۔ اس نے اپنے اصلی وطن اور مقصد کو چھپایا اور بتایا کہ وہ علم کا متلاشی ہے۔ اس نے طویل قیام کے دوران بہت سے دوست بنا لیے اور ایک ایسے ہی انتہائی قریبی دوست جس کو وہ آزما بھی چکا تھا سے اس نے اس کتاب کو حاصل کیا اور اس کو پہلوی میں منتقل کیا اور اس کے بعد وہ ایران واپس چلا گیا۔ کسری نوشیرواں عادل بروزیہ کی اس کوشش سے بے حد خوش ہوا اور اس کو منہ بولے انعام حتی کہ آدھی سلطنت تک کی پیشکش کی تو بروزیہ نے کہا کہ اس کتاب کے شروع میں اس کا ذکر اور روداد نقل کر دی جائے یہ ہی اس کا انعام ہے۔ اس سے بروزیہ کی دور اندیشی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، وہ بیشمار دولت لیکر اپنی زندگی آسان کر سکتا تھا اور پھر گمنام ہو جاتا مگر اس نے ایک کتاب میں اپنا ذکر درج کروا کر اپنے نام کو زندہ کر لیا۔ اب جب تک یہ کتاب موجود رہے گی بروزیہ کا ذکر باقی رہے گا۔ بروزیہ نے اپنی روداد میں ایک زبردست بات کی ہے کہ میں نے یہ دیکھا کہ غافل لاپروا شخص جو بالکل حقیر اور کمتر شے کو جو آج حاصل ہو کر کل ختم ہونے والی ہوتی ہے اس غیر معمولی اور عظیم چیز پر ترجیح دیتا ہے جس کا نفع برقرار رہنے والا ہوتا ہے ”
اس کتاب میں داستان گوئی اور اس میں دانش کے چھپے ہونے کو بیان کیا اور بتایا کہ کلیلہ و دمنہ کی تدریس سے وہ ہندوستان کے اس خزانے سے مکمل روشناس کیا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ھے کہ جانوروں کی حکایات بھی ایک قدیم طریقہ ہے جس سے قصہ گوئی کا کام لیا جاتا ہے یہ انسان کے زرخیز دماغ کا ایک ثبوت ہے کہ تخیل کرکے وہ مختلف جانوروں کی زبانی سبق آموز کہانیاں بناتا ہے۔ جانوروں کی حکایات سب سے پہلے مصری تہذیب و ادب میں پائی جاتی ہیں۔ وہاں سے یہ قصہ دوسری تہذیبوں میں داخل ہوئے۔
مصنف نے ہندوؤں کی اسی سوچ کو سامنے رکھتے ہوۓ دو کردار تخلیق کیے “کلیلہ و دمنہ” جو کہ دو گیدڑ ہیں اور وہ دونوں انتہائ چالاک، مکار اور ذی علم ہیں۔ یہ دونوں اس کتاب کے مرکزی کردار ہیں جس کے بعد اور بہت سے جانوروں کو پیش کیا گیا۔ جیسے شیر کو بادشاہ بنا کر اور اس کی رعایا میں باقی تمام جانوروں کو دکھایا گیا اور بادشاہ کو اشاروں کنائیوں سے سمجھایا گیا کہ رعایا کے ساتھ کیسے رہنا چاہیے۔ پھر الو اور کوے کی کہانی بیان کی کہ کسی دشمن سے کیسے بچ کر رہنا چاہیے۔ پھر چوہے اور بلی کی کہانی کہ دشمنوں سے دوستی اور مصالحت کرنی چاہیے کہ نہیں؟؟ اور اگر کرنی چاہیے تو کن خطوط پر۔ پھر کبوتر، لومڑی اور بگلے کی کہانی کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی کہ جو دوسروں کو راۓ اور مشورے دیتا ہے اسے خود بھی اس پر عمل کرنا چاہیے۔
ویسے تو یہ کتاب نصیحتوں سے بھری پڑی ہے اور انسان پڑھتے وقت شروعات کی جگہ پر بور ہو ہوتا ھے جیسے کہانی برتی ھے کتاب سے لطف آنے لگتا ھے۔ اس کتاب میں موجود تمام تر واقعات آپ نے کسی نہ کسی زبانی سنے ضرور ہوں گے بس کردار بدلے گئے ہیں۔ مطلب اس کتاب میں کوئ بھی ایسا واقعہ نہیں گزارہ جو سنا نہ ہو۔ مختلف کرداروں کے ساتھ، مختلف اوقات میں اور زندگی کے مختلف مواقعوں پر لیکن ان تمام سنے ہوئے واقعات سے ایک کمال اور اعلی درجہ کی کتاب ثابت ہوتی ھے اور جو کہ آج کے دور میں قصہ گوئی ختم ہونے پر ایک اچھی اور قابل ستائش کاوش ھے آپ بھی اپنے مطالعہ کی زینت بنایئے گا شکریہ۔
زین سلیم


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3878851959011975

Related Articles

9 Comments

  1. ایک ماہ قبل ہی میَں نے اس کتاب کے اردو ترجمہ کا مطالعہ مکمل کیا ہے
    عجیب سحر انگیز کتاب ہے یہ
    اس کا پی ڈی ایف تو گوگل میں باآسانی دستیاب ہے

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/