منتخب غزلیں
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں کس کس کی مہر…

لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِمحضر لگی ہوئی
——
آج اردو کو سب سے پہلے اپنی سلطنت کی سرکاری زبان بنانے والے اور نامور شاعر نظام الملک حیدرآباد میر محبوب علی خان آصف جا ششم کا یومِ وفات
(پیدائش: 17 اگست 1866ء – وفات: 29 اگست 1911ء)
——
منتخب کلام
——
منہ نہ کھولے بحر میں جب تک صدف
آبِ نسیاں سے گُہر ملتا نہیں
——
آصفؔ تو کبھی قول سے اپنے نہیں پھرتا
وہ اور کوئی ہو گا ، کہا اور کِیا اور
——
آصف کو جان و مال سے اپنے نہیں دریغ
گر کام آئے خلق کی راحت کے واسطے
——
کبھی نہ دب کے لیں گے ہم ان سے آصف
وہ شاہِ حسن سہی، شہر یار ہم بھی ہے
——
لو اور سنو کہتے ہیں وہ دیکھ کر مجھکو
یہ شخص بلاشبہ ہے دیوانہ کسی کا
——
نہیں ہے اگر تو ہمارا تو کیا ہے
زمانہ میں کوئی کسی کا ہوا ہے
——
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِمحضر لگی ہوئی
——
مژدہ قاصد کا روح افزا تھا
وہ فرشتہ خدا نے بھیجا تھا
جلوۂ یار کیا کہوں کیا تھا
اُس کی قدرت کا اک تماشا تھا
میں نے پوچھا رقیب کیسا تھا
جل کے بولے ترا کلیجا تھا
اب یہ جانا کہ ہم کو دھوکا تھا
دل ہمارا نہ تھا تمہارا تھا
لوٹتا تھا کوئی تڑپتا تھا
کُوئے قاتل میں اک تماشا تھا
ابھی آنسو پلک تک آیا تھا
ابھی دیکھا تو ایک دریا تھا
بزم میں اُس کی ایک میلا تھا
ہم نہ تھے اُس جگہ زمانا تھا
حشر میں بھی کہیں گے تجھ سے ہم
تجھ پہ دعوا ہے تجھ پہ دعوا تھا
اختلافِ مزاج سے نہ نبھی
کوئی قصہ نہ کوئی جھگڑا تھا
اُنکو بزمِ عدو میں جب دیکھا
راگ تھا رنگ تھا تماشا تھا
ماتمِ غیر میں وہ سو سو بار
مجھ سے کہتے تھے تجھ سے اچھا تھا
جا کے کنجِ لحد میں ہم سمجھے
زندگی عمر بھر کا جھگڑا تھا
درِ جاناں پہ جُبہہ سائی کی
اپنی تقدیر کا یہ لکھا تھا
دلِ عُشاق پر چھری سی پھری
کیا کہوں اک نگاہ میں کیا تھا
کہتے ہیں وہ کہے سُنے پہ نہ جاؤ
غیر کے پاس تم نے دیکھا تھا ؟
کہتے ہوں گے عدم میں اہلِ عدم
زندگی کا عجیب میلا تھا
چال تھی اُس کی یا قیامت تھی
نقشِ پا سے بھی فتنہ برپا تھا
زلف میں دل اگر نہ تھا نہ سہی
کیوں جی مٹھی میں آپ کی کیا تھا
کہتے ہیں قتل کر کے عاشق کو
اس نے کیا اپنے دل میں سمجھا تھا
غور کر لو شبِ فراق کا غم
مجھ سے کیا پوچھتے ہو تم کیا تھا
جلوہ تیرا کسی زمانے میں
جس نے دیکھا تھا اُس نے دیکھا تھا
دل نشیں غیر کا خیال رہا
وہ تو خلوت میں بھی نہ تنہا تھا
اب زمانے کا رنج ہے آصفؔ
کیا خوشی کا کبھی زمانا تھا
…………..
کس کس کی مہر ہے سرِمحضر لگی ہوئی
——
آج اردو کو سب سے پہلے اپنی سلطنت کی سرکاری زبان بنانے والے اور نامور شاعر نظام الملک حیدرآباد میر محبوب علی خان آصف جا ششم کا یومِ وفات
(پیدائش: 17 اگست 1866ء – وفات: 29 اگست 1911ء)
——
منتخب کلام
——
منہ نہ کھولے بحر میں جب تک صدف
آبِ نسیاں سے گُہر ملتا نہیں
——
آصفؔ تو کبھی قول سے اپنے نہیں پھرتا
وہ اور کوئی ہو گا ، کہا اور کِیا اور
——
آصف کو جان و مال سے اپنے نہیں دریغ
گر کام آئے خلق کی راحت کے واسطے
——
کبھی نہ دب کے لیں گے ہم ان سے آصف
وہ شاہِ حسن سہی، شہر یار ہم بھی ہے
——
لو اور سنو کہتے ہیں وہ دیکھ کر مجھکو
یہ شخص بلاشبہ ہے دیوانہ کسی کا
——
نہیں ہے اگر تو ہمارا تو کیا ہے
زمانہ میں کوئی کسی کا ہوا ہے
——
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِمحضر لگی ہوئی
——
مژدہ قاصد کا روح افزا تھا
وہ فرشتہ خدا نے بھیجا تھا
جلوۂ یار کیا کہوں کیا تھا
اُس کی قدرت کا اک تماشا تھا
میں نے پوچھا رقیب کیسا تھا
جل کے بولے ترا کلیجا تھا
اب یہ جانا کہ ہم کو دھوکا تھا
دل ہمارا نہ تھا تمہارا تھا
لوٹتا تھا کوئی تڑپتا تھا
کُوئے قاتل میں اک تماشا تھا
ابھی آنسو پلک تک آیا تھا
ابھی دیکھا تو ایک دریا تھا
بزم میں اُس کی ایک میلا تھا
ہم نہ تھے اُس جگہ زمانا تھا
حشر میں بھی کہیں گے تجھ سے ہم
تجھ پہ دعوا ہے تجھ پہ دعوا تھا
اختلافِ مزاج سے نہ نبھی
کوئی قصہ نہ کوئی جھگڑا تھا
اُنکو بزمِ عدو میں جب دیکھا
راگ تھا رنگ تھا تماشا تھا
ماتمِ غیر میں وہ سو سو بار
مجھ سے کہتے تھے تجھ سے اچھا تھا
جا کے کنجِ لحد میں ہم سمجھے
زندگی عمر بھر کا جھگڑا تھا
درِ جاناں پہ جُبہہ سائی کی
اپنی تقدیر کا یہ لکھا تھا
دلِ عُشاق پر چھری سی پھری
کیا کہوں اک نگاہ میں کیا تھا
کہتے ہیں وہ کہے سُنے پہ نہ جاؤ
غیر کے پاس تم نے دیکھا تھا ؟
کہتے ہوں گے عدم میں اہلِ عدم
زندگی کا عجیب میلا تھا
چال تھی اُس کی یا قیامت تھی
نقشِ پا سے بھی فتنہ برپا تھا
زلف میں دل اگر نہ تھا نہ سہی
کیوں جی مٹھی میں آپ کی کیا تھا
کہتے ہیں قتل کر کے عاشق کو
اس نے کیا اپنے دل میں سمجھا تھا
غور کر لو شبِ فراق کا غم
مجھ سے کیا پوچھتے ہو تم کیا تھا
جلوہ تیرا کسی زمانے میں
جس نے دیکھا تھا اُس نے دیکھا تھا
دل نشیں غیر کا خیال رہا
وہ تو خلوت میں بھی نہ تنہا تھا
اب زمانے کا رنج ہے آصفؔ
کیا خوشی کا کبھی زمانا تھا
…………..


