**منشی نول کشور: اسلام کے فروغ میں ایک غیر مسلم کا…

تاریخ کے صفحات میں بہت سے ایسے افراد کے نام ملتے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی خدمات کے ذریعے معاشرتی، مذہبی اور فکری تحریکوں کو پروان چڑھایا۔ ان میں سے ایک نمایاں نام منشی نول کشور کا ہے، جو ایک ہندو تھے، لیکن انہوں نے 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان میں اسلام کے تحفظ اور فروغ میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔
دارالعلوم دیوبند کے قیام کے وقت، منشی نول کشور نے اس عظیم ادارے کی بنیادیں مضبوط کرنے میں جو کردار ادا کیا، اس کا اعتراف خود اس وقت کے اکابر علماء نے کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے پہلے جلسہ تقسیم اسناد 1872ء کی رپورٹ میں منشی نول کشور کی خدمات کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا:
"مدرسہ کے مشیران منشی نول کشور، مالک مطبع اعظم، لکھنؤ کے بے حد شکر گزار ہیں، جنہوں نے اپنی دریا دلی سے مدرسہ کو کئی مفید کتابیں فراہم کیں، جن کی فہرست ساتھ دی گئی ہے۔”
رپورٹ کے ایک اور حصے میں ان کی خدمات کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا:
"منشی نول کشور، مالک چپاخانہ اعظم، لکھنؤ، کا ہم بے حد شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے دور دراز کے سفر کی مشکلات کے باوجود ہمیں قیمتی کتابیں فراہم کیں۔”
دس سال بعد دارالعلوم دیوبند کی ایک اور رپورٹ میں منشی نول کشور کا شکریہ ادا کیا گیا اور اس بات کی تصدیق کی گئی کہ انہوں نے اودھ اخبار اور سفیر بدھانہ جیسے مشہور اخبارات مدرسے کو بلا معاوضہ فراہم کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا:
"ہمارے خصوصی شکریے کے مستحق جناب منشی نول کشور، مالک اودھ اخبار، اور جناب راؤ امر سنگھ، مالک اخبار سفیر بدھانہ، ہیں۔ باوجود اس کے کہ یہ دونوں حضرات ہندو ہیں، وہ اپنا قیمتی اخبار اس مدرسہ کو بلا معاوضہ بھیجتے ہیں۔ مدرسہ کے تمام مشیران دل کی گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اخبارات اور پریس کو مسلسل ترقی عطا فرمائے اور ان کی طاقت اور خودمختاری کو برقرار رکھے۔”
یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ منشی نول کشور نے مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر اسلامی تعلیمات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یہ خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جانے کے لائق ہیں، اور آج بھی ان کے نام کو عزت اور احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی




