عالمی ادب

جب چھوٹا سا تابوت تیار ہو گیا تو اس لالٹین کو اس تابوت کے اندر اس ننھی بچی کے چہ…

جب چھوٹا سا تابوت تیار ہو گیا تو اس لالٹین کو اس تابوت کے اندر اس ننھی بچی کے چہرے کے پاس رکھ دیا گیا۔سیپیاں اور کاغذی گڑیاں بھی جن سے یاتسو کھیلا کرتی تھی۔۔اس کے دونوں بھائی اچانک دکھ سے بے اختیار ہو کر رونے لگے۔
دائے کیچی کو سسکیاں لیتے ہوئے اپنا کھیلنے کا رِنگ یاد آیا ۔جس سے کھیلنے کا یاتسو کو ہمیشہ شوق رہا تھا۔ اس نے یہ رِنگ کبھی اس کے حوالے نہ کرنے پر خود کو ملامت کی اور اب اس کی تلافی کا ارادہ کیا۔ اس نے یہ رِنگ یاتسو کے ہاتھوں میں پکڑانے کی کوشش کی جو سینے پہ بندھے ہوئے تھے لیکن اس کی سرد انگلیاں اب اسے تھامنے پہ تیار نہ ہوئیں۔رِنگ پھسل گیا اور تابوت کے فرش پہ جا گرا۔ نامیکی بھی روتے ہوئے اپنے
رنگدار کاغذ لے آیا جو وہ یاتسو کی نظر سے بچا کر اور بہت سنبھال کر رکھتا تھا۔ اس نے اِن کا غذوں کو موڑ کر چڑیاں ،سپاہی اور غبارے بنائے اور تابوت میں رکھ دیے۔ ان سارے تحفوں کے ساتھ یاتسو اگلے جہاں کو روانہ ہوئی…
یاتسو کی موت کے بعد مس اوئیشی اچانک عمر رسیدہ دکھائی دینے لگیں۔ وہ اپنے قد سے بھی چھوٹی معلوم ہونے لگیں اور ان کا وزن گھٹ گیا۔ جب وہ جھکتیں تو بالکل اپنی مرحوم اماں جیسی نظر آتیں۔ دائے کیچی چھوٹا سا بچہ تھا لیکن اپنی اماں کو یوں تیزی سے بوڑھا ہوتے دیکھ کر سُن رہ گیا۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3871860213044483

Related Articles

2 Comments

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/