عالمی ادب
ایک رات جب وہ ہدی بان کے ساتھ کھجوریں کھا رہا تھا تو ہدی بان بولا : ” میں زندہ ہ…

ایک رات جب وہ ہدی بان کے ساتھ کھجوریں کھا رہا تھا تو ہدی بان بولا : ” میں زندہ ہوں ۔ جب میں کھانا کھا رہا ہوتا ہوں تو کھانے کےبارے میں سوچتا ہوں اور جب سفر کررہا ہوں تو سفر کے بارے میں سوچتا ہوں ۔ اگر مجھے لڑنا پڑ گیا تو میرے لئے آج کے دن مرنا بھی ایسا ہی ہوگا جیسے کسی اور روز ، نہ تو مجھے اپنے ماضی سے کوئی سروکار ہے اور نہ مستقبل سے ، مجھے فکر ہے تو صرف اپنے حال کی ۔ اگر انسان صرف اپنے حال پر توجہ دے تو انسان بہت خوش رہ سکتا ہے پھر اسے صحرا میں بھی زندگی نظر آتی ہے ۔ اسے آسمان میں ستارے نظر آتے ہیں اور قبائل کے درمیان لڑائی کوئی خوفناک عمل محسوس ہونے کے بجائے انسانی جبلت کا ایک عمل لگتی ہے ۔ زندگی ایک جشن بن جاتی ہے ۔ کیونکہ زندگی صرف لمحہٴ موجود کا ہی تو نام ہے ۔
~ الکیمسٹ
#ابن_قدیر
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3852726181624553




ندگی صرف لمحہ موجود کا نام نہیں ۔زندگی ماضی،حالاور مستقبل کے تسلسل کا نام ہے ۔ہم ماضی کو یادرکھتے ہیں تو ہی ماضی میں کی گئ غلطیوں سے سبق سیکھ کر۔حال کو بہتر بناتے ہیں ۔اور اگر آنے والے کل کے لیۓ نہ سوچیں تو اُج کوئ معنی ہی نہیں رکھتا۔!
سوچیں زرا یہ جو اتنے سائنسدان اور علماء دن رات تحقیق میں صرف کرتے ہیں ان کا مقصد مستقبل کو بہتر بنانا ہوتا ہے ۔اگرمستقبل۔کے بارے میں نہ سوچا جاتا تو آج۔ہمارے پاس جو کچھ ہے _گاڑیاں ،ہوبئ جہاز ،آلاتِِ مواصلات ۔انٹرنیٹ ،موبائل فون کچھ بھی ٹو نہ ہوتا
مذہبی نقطہ نظر سے پھی ہم۔مستقپل کی ابدی زندگی کے بارے میں سوچٹے ہیں تو حال _آج_میں عمل کرتے ہیں
صرف آج __لمحہ موجودمیں جینا تو جانوروں کا طرز زندگی ہے ۔جنہیں صرف اسوقت کا چارہ درکار ہوتا ہے !!!
نہایت عمدہ سوچ۔۔