منتخب نظمیں

وہ محمد ﷺ تھے۔ چہرے پر گھبراہٹ نہیں تھی۔ شکوہ نہیں…

وہ محمد ﷺ تھے۔
چہرے پر گھبراہٹ نہیں تھی۔ شکوہ نہیں تھا۔ بددعا نہیں تھی۔ صرف صبر تھا، 🥹

مکہ کی صبحیں بھی عجیب تھیں۔

سورج جب حرم کی دیواروں پر اترتا تو پتھر سونے جیسے دکھائی دیتے، مگر انہی پتھروں کے بیچ کچھ دل ایسے تھے جن میں رات کبھی ختم نہیں ہوتی تھی۔ کعبہ کے گرد لوگ آتے جاتے، کوئی بتوں کے آگے سر جھکاتا، کوئی قبیلے کی بڑائی پر سینہ پھلاتا، کوئی بازار کی بات کرتا، کوئی اونٹوں کے بھاؤ پوچھتا۔ مگر اس ہجوم میں ایک چہرہ ایسا تھا جس کے سکون سے قریش کی نیندیں ٹوٹ جایا کرتی تھیں۔

وہ محمد ﷺ تھے۔

آپ ﷺ بیت اللہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ ہوا رکی ہوئی سی تھی۔ جیسے مکہ کی گلیاں بھی جانتی ہوں کہ آج پھر حق اور تکبر آمنے سامنے ہیں۔

قریش کے چند سردار دور کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر وہی پرانی جھنجھلاہٹ تھی جو ایک سچ بولنے والے آدمی کو دیکھ کر جھوٹوں کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ حیران تھے کہ اتنی مخالفت، اتنی اذیت، اتنی گالیاں، اتنے پتھر، اتنے طعنے، مگر یہ شخص اپنے رب کے سامنے جھکنے سے باز کیوں نہیں آتا؟

عقبہ بن ابی معیط بھی وہیں تھا۔

اس کی آنکھوں میں وہ غصہ تھا جو دلیل ختم ہونے کے بعد آدمی کے ہاتھوں میں اتر آتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ اس نے اپنی چادر اتاری۔ کچھ لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ کسی نے سرگوشی کی۔ کسی نے گردن بڑھا کر دیکھا۔

نماز جاری تھی۔

آپ ﷺ کا چہرہ قبلے کی طرف تھا۔ دنیا کی ساری دشمنی ایک طرف کھڑی تھی، اور آپ ﷺ کا دل اپنے رب کے حضور حاضر تھا۔

عقبہ قریب آیا۔

ایک لمحے کے لیے مکہ کی ہوا نے سانس روک لیا۔

اس نے چادر کو آپ ﷺ کی گردن مبارک میں ڈال دیا اور پوری قوت سے کھینچنے لگا۔

وہ منظر دیکھ کر پتھر بھی شاید کانپ اٹھے ہوں گے، مگر انسانوں کے دل نہیں کانپے۔ کچھ تماشائی بنے رہے، کچھ خوش ہوئے، کچھ خاموش رہے۔ خاموشی بھی کبھی کبھی ظلم کی شریک بن جاتی ہے۔

چادر کا پھندا سخت ہوتا گیا۔

آپ ﷺ کا جسم مبارک دبنے لگا، مگر نماز کا وقار نہ ٹوٹا۔ چہرے پر گھبراہٹ نہیں تھی۔ شکوہ نہیں تھا۔ بددعا نہیں تھی۔ صرف صبر تھا، وہ صبر جو کمزوروں کی مجبوری نہیں، انبیاء کی شان ہوتا ہے۔

اسی وقت ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔

یہ حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے۔

ان کے چہرے پر خوف نہیں، غیرت تھی۔ آنکھوں میں آنسو نہیں، ایمان کی آگ تھی۔ انہوں نے عقبہ کو زور سے پیچھے ہٹایا۔ ہاتھوں سے چادر کھولی۔ آواز کانپی، مگر ایمان نہ کانپا۔

“کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟”

مکہ کی فضا میں یہ جملہ دیر تک گونجتا رہا۔

قریش کے سردار خاموش ہو گئے۔ عقبہ پیچھے ہٹ گیا، مگر اس کے ہاتھوں کی سختی تاریخ کے چہرے پر نقش ہو چکی تھی۔

حضرت ابوبکرؓ نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں محبت تھی، بے بسی بھی تھی، مگر سب سے بڑھ کر وفاداری تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ راستہ آسان نہیں۔ یہ صرف پھولوں کا راستہ نہیں، کانٹوں کا راستہ ہے۔ اس راستے میں گالیاں بھی ہیں، پتھر بھی ہیں، طنز بھی ہے، تنہائی بھی ہے، اور کبھی کبھی گلے میں ڈال دیا جانے والا پھندا بھی۔

مگر آپ ﷺ نے کلمہ نہیں چھوڑا۔

یہی تو مکہ کو سب سے زیادہ کھلتا تھا۔

وہ چاہتے تھے آپ ﷺ خاموش ہو جائیں۔ وہ چاہتے تھے حق کی آواز بازار کے شور میں دب جائے۔ وہ چاہتے تھے کہ کعبہ کے صحن میں پھر صرف بتوں کے نام سنائی دیں۔ مگر حق کی آواز عجیب ہوتی ہے۔ اسے جتنا دباؤ، وہ اتنی ہی گہری ہو کر دلوں میں اترتی ہے۔

اس دن بھی ایسا ہی ہوا۔

عقبہ نے سمجھا تھا کہ وہ ایک گردن پر چادر ڈال رہا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنی بدبختی کو تاریخ کے گلے میں ڈال رہا تھا۔ قریش نے سمجھا تھا کہ وہ ایک نمازی کو ستا رہے ہیں، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ صبر کے سائے میں کھڑی ہوئی یہ نماز آنے والی صدیوں کے سجدوں کی بنیاد بن رہی ہے۔

مکہ کے پتھروں نے وہ منظر دیکھا۔

کعبہ نے وہ ظلم دیکھا۔

اور آسمان نے وہ صبر دیکھا جس کے آگے ظلم کی ساری طاقتیں آخرکار شکست کھا جاتی ہیں۔

برسوں بعد جب اسلام کی روشنی پھیلی، جب اذانوں نے فضاؤں کو بدل دیا، جب وہی کعبہ توحید کا مرکز بنا، تو شاید مکہ کی دیواروں نے خاموشی سے گواہی دی ہوگی کہ حق کو پھندوں سے نہیں روکا جا سکتا۔

کچھ گردنیں دبائی جاتی ہیں، مگر ان کے پیغام بلند ہو جاتے ہیں۔

کچھ آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر وہ قیامت تک دلوں میں گونجتی رہتی ہیں۔

اور کچھ لوگ پتھر کھا کر بھی دعا دیتے ہیں، کیونکہ وہ دنیا بدلنے آئے ہوتے ہیں، بدلہ لینے نہیں۔

©️ انتخاب سخن

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/