مجید امجد کی یہ نظم "میونخ”، شاعر کی اپنی سوانح میں بھی ایک خصوصی مقام کی حامل ہ…

مجید امجد نے اپنی مشہور نظم "میونخ” 25 دسمبر 1958ء (یعنی کرسمس کے دن) کو تخلیق کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ایک نظم میں مجید امجد نے نہ صرف پہلی اور آخری بار شالاط کا نام لکھا ہے بلکہ اس کے بارے میں کچھ معلومات بھی بہم پہنچائی ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ میونخ سے آئی تھی جہاں اس کی بوڑھی ماں دس برس تک اس کا انتظار کرتی رہی۔ دوسری جنگ عظیم 1945ء میں ختم ہو گئی تھی جس کے کم و بیش تین برس بعد یعنی 1948ء میں شالاط سیاحت یا شاید حصول رزق کے لئے گھر سے روانہ ہوئی ہو گی۔ امکان اس بات کا ہے کہ اُس وقت اُس کی عمر اکیس برس کی ہوگی۔ ممکن ہے، مجید امجد نے دس برس کی مدت محض زیبِ داستاں کے لئے لکھ دی ہو اور شالاط، درحقیقت دو تین برس ہی بیرونِ ملک رہی ہو۔ ایسی صورت میں اس نے 1955ء کے لگ بھگ اپنے سفر کا آغاز کیا ہو گا۔ اس کا سفر زیادہ تر مشرقِ بعید کا تھا۔ نظم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملایا اور چین میں بھی پھرتی رہی۔ واپسی پر پاکستان سے ہوتے ہوئے، کرسمس کے روز میونخ پہنچی۔ ممکن ہے، پاکستان کے بعد ایران وغیرہ کی سیاحت کے دوران میں اس نے مجید امجد کو خط میں بتایا ہو کہ وہ کرسمس کے روز (کرسمس کا تحفہ بن کر) اپنی بوڑھی ماں کو سرپرائز دے گی۔
(ڈاکٹر وزیر آغا)
Munich
It’s Christmas today
In the city of Munich it’s Christmas today
Over the bridge on river Isar
where the road of ice-slabs
turns towards Fünf Kontinente
the processions of laughters have landed
Today, the dwellers of this settlement of liquor
with the sweat of defeats on their façade
and tattered hearts full of scars
have thronged to the whirling paths
with a renewed resolve to live the life to the fullest,
arms in arms, lips locked with lips
The snow falls, the music echoes
In a tiny abode of Marienstraße
for a frail, lonely mother
the flowers smile on a niche
In the shaky reflection of the fireplace
a fire burns high in the mirror
A knock! Who’s there?
In every nook of the pale room
the crucified shadow of the cruelties of past
starts breathing its last
Every deep wrinkle on the face of mother
moulds into some lovely angles
with a beam of surprise
“Shalat, Oh my Shalat
may you live long, Oh, you are back my darling!”
And when that daughter of the land of Almania
throws away her rucksack to weep in the feet of her mother
the dust of so many countries accumulated
over her eye-lashes
drowns into a single teardrop
The daughter of a subdued nation,
kept on drifting from one place to another, all alone
just for a piece of bread, all over the world
What did she bring with her
after ten long years?
A bit of every season of all those countries in her soul!
What did she earn from her long date with time?
The cowrie-shell bracelets of Malaya
The skin of a Chinese ptython
A broken tile from Mohenjo Daro
A delicate notebook with my name, full of poetry
Who’ll solve this riddle?
Free of all limitations of the expanses
my heart is like the city of Munich
as far as one can see, everywhere in it
the snow falls, the music echoes…
Original poem in Urdu by Majeed Amjad
English translation by Kamran Awan
میونخ
مجید امجد
آج کرسمس ہے
شہر میونخ میں آج کرسمس ہے
رودبارِ عسار کے پُل پر
جس جگہ برف کی سلوں کی سڑک
فان کاچے کی سمت مڑتی ہے
قافلے قہقہوں کے اترے ہیں
آج اس قریۂ شرا ب کے لوگ
جن کے رخ پر ہزیمتوں کا عرق
جن کے دل میں جراحتوں کی خراش
ایک عزمِ نشاط جو کے ساتھ
امڈ آئے ہیں مست راہوں پر
بانہیں بانہوں میں، ہونٹ ہونٹوں پر!
برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں
کوئے میریں کے اک گھروندے میں
ایک بوڑھی، اداس ماں کے لیے
پھول اک طاقچے پہ ہنستے ہیں
گرم انگیٹھی کے عکسِ لرزاں سے
آگ اک آئینے میں جلتی ہے
ایک دستک ہے! کون آیا ہے؟
زرد کمرے کے گوشے گوشے میں
جورِ ماضی کا سایۂ مصلوب
آخری سانس لینے لگتا ہے
ماں کے چہرے کی ہر عمیق شکن
ایک حیران مسکراہٹ کے
دلنشیں زاویوں میں ڈھلتی ہے
’’میری شالاط، اے مری شالاط
اے میں قرباں، تم آ گئیں، بیٹی!‘‘
اور وہ دختِ ارضِ الماں جب
سر سے گٹھڑی اتار کر جھک کر
اپنی امی کے پاؤں پڑتی ہے
اس کی پلکوں پہ ملک ملک کی گرد
ایک آنسو میں ڈوب جاتی ہے
ایک مفتوح قوم کی بیٹی
پارۂ ناں کے واسطے، تنہا
روئے عالم کی خاک چھان آئی
دس برس کے طویل عرصے کے بعد
آج وہ اپنے ساتھ کیا لائی؟
روح میں، دیس دیس کے موسم!
بزمِ دوراں سے کیا ملا اس کو؟
سیپ کی چوڑیاں ملایا سے
کینچلی چین کے اک اژدر کی
ٹھیکری اِک مہنجودارو کی
ایک نازک بیاض پر، مرا نام
کون سمجھے گا اس پہیلی کو؟
فاصلوں کی کمند سے آزاد
میرا دل ہے کہ شہرِ میونخ ہے
چار سو، جس طرف کوئی دیکھے
برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3832236677006837




Muhammad Afzal
Wah
Thank you STAR brother for your very thoughtful sharing.
Bless you!