فلسطینی ادیب و شاعر رفعت العریر رفعت العریر غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضے کے دورا…

رفعت العریر غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضے کے دوران 1979 میں غزہ شہر میں پیدا ہوئے، انہوں نے 2001 میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے انگریزی میں بی اے اور 2007 میں یونیورسٹی کالج لندن سے ایم اے کیا تھا ۔ 2017 میں جان ڈون پر ایک مقالہ لکھ کر جامعہ پٹرا ملائیشیا سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں ادب اور تخلیقی تحریر کی تعلیم دی ۔ وہ ایک تنظیم we are not numbers کے شریک بانیوں میں تھے، اس تنظیم نے غزہ کے نوجوان قلمکاروں کو تجربہ کار مصنفین کے ساتھ کھڑا کیا اور مزاحمتی ادب کو فروغ دیا ۔
6 دسمبر 2023 کو،العریر غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے دوران اپنے بھائی، بہن اور ان کے تین بچوں سمیت شمالی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے ۔
ان کی شہادت کے بعد Euro-Med Monitor نامی صحافتی ادارے نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ العریر کو بظاہر جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا، عمارت پر سرجیکل طور پر بمباری کی گئی تھی، انہیں کئی ہفتوں سےقتل کی دھمکیاں مل رہیں تھی ۔
اسرائیلی سفاکیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے جناب رفعت العریر شہید کی ایک نظم If i must die کا ترجمہ پیش خدمت ہے :
اگر مجھے مرنا ہی ہے
تو اس موت سے پہلے
زندگی کی مہلت کو
اپنی کہانی سنانے کے لیئے
کام میں لائوں
اور اپنی کچھ چیزیں فروخت کروں
تاکہ کپڑے کا ایک ٹکڑا
اور کچھ لمبی تاریں
خرید لوں
(جس سے ایک سفید پتنگ بن سکے لمبی سی دم کے ساتھ)
تاکہ غزہ میں موجود کوئی بچہ
اپنی آنکھوں میں جنت کا خواب سجائے
منتظر ہو اپنے بابا کا
جنہوں نے خود پہ برسائی گئی آگ
کے حصار میں
داعی اجل کو لبیک کہا
اور جو کہہ نہ سکے الوداع اپنے لخت جگر کو
اور نہ اتنی مہلت ملی ہوگی ان کو
کہ اپنے جھلسے ہوئے جسم کو دیکھ پاتے
اور میری بنائی ہوئی پتنگ
کو اڑاتے ہوئے وہ بچہ
آسمان کی سمت دیکھتے ہوئے
جنت کی سمت سے آتے ہوئے کسی فرشتے کا
منتظر ہوگا
کہ وہ فرشتہ محبت و شفقت کی سوغات
لے کر آ رہا ہوگا
ہاں، گر مجھے مرنا ہی ہے
تو امید کے دیئے کو روشن کر دوں
ایک اور کہانی کی تخلیق کے لیئے
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3830074540556384




zaberdast.
للہ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔انکی جرات دلیری اور بہادری کو سلام