عالمی ادب

”جنت اور دوزخ“ مترجم #مسافرِشَب | Paulo Coelho جنوبی فرانس کے قصبے وسکو…

”جنت اور دوزخ“ 💥🌴😳
مترجم #مسافرِشَب | Paulo Coelho

جنوبی فرانس کے قصبے وسکوس میں ایک روایت مشہور ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک آدمی اپنے گھوڑے اور کُتے کے ہمراہ پائنیریز کے پہاڑوں میں جا رہا تھا۔ موسم ابرآلود تھا۔ بارش ہونے والی تھی۔ وہ ایک درخت کے نیچے سے گزرا۔ اچانک بجلی کڑکی اور درخت پر گر گئی۔ درخت آناً فاناً آگ کی لپیٹ میں آ گیا، آدمی اور اُس کے دونوں جانوروں سمیت۔ سب کچھ اتنی سبک رفتاری سے ہوا کہ آدمی کو سوچنے کا موقع تک نہ مل سکا۔

چناچہ، وہ آدمی، اُس کا گھوڑا اور کتا، بدستور پگڈنڈی پر چلتے رہے۔ اُنہیں پتا ہی نہ چل سکا کہ وہ تینوں مر چکے ہیں اور اب بطور روح چل رہے ہیں۔

مناظر تو وہی تھے مگر کچھ معاملات بدل چکے تھے۔ ہلکی دھند شروع ہو گئی۔ مگر سورج بھی کسی جانب سے نکل رہا تھا۔ اُس کی شعائیں پہاڑوں، وادی اور دھند کو روشن کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ خوشبو بدل چکی تھی۔ ایک ‘برزخ نما’ ماحول وجود میں آ چکا تھا۔ آدمی اور جانوروں نے توجہ نہ دی، پہاڑوں میں موسم یک دم بدلتے رہتے ہیں۔ وہ چلتے رہے۔ اب انہیں پیاس لگ رہی تھی مگر قریب کوئی چشمہ موجود نہ تھا۔

کچھ دور پہنچ کر آدمی کو پگڈنڈی سے دائیں جانب سنگِ مرمر کا ایک بڑا سا دروازہ نظر آیا۔ وہ کافی حیران ہوا کیونکہ آج سے پہلے یہاں ایسا کوئی دروازہ نہ تھا۔ پیاس کی شدت زوروں پر تھی۔ تینوں دروازے کے قریب پہنچے تو وہاں ایک دربان نظر آیا۔ آدمی نے دروازے کی سنگِ مرمری سلاخوں سے اندر جھانکا۔ سنگِ مرمر کا عظیم الشان محل نظر آ رہا تھا۔ بہت سے امیر کبیر لوگوں کی چہل پہل دکھائی تھی۔ ایک سرخوشی کا ماحول تھا۔ سامنے قریب ایک سفید فوارا تھا جس میں سے تازہ پانی ابل رہا تھا۔

آدمی نے دربان سے کہا ”محترم، ہمیں پیاس لگی ہے۔ فوارا سے پانی پی لیں؟“

دربان نے میٹھی مسکراہٹ سے جواب دیا ”ہاں ہاں۔ آ جاؤ۔ اسے اپنی جگہ ہی سمجھو۔ یہ جگہ اُس کی ہوتی ہے جسے نظر آ جائے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آ جاؤ۔“

دروازہ کھل گیا۔ آدمی اپنے جانوروں سمیت اندر جانے لگا تو دربان نے کہا ”یہاں صرف انسانوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ اپنے جانور باہر باندھ کر آ جاؤ۔“

آدمی نے کہا ”مگر پیاس تو ہم تینوں کو لگی ہے۔ مَیں اپنے جانوروں کو پیاسا رکھ کر اپنی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ یا تو ہم تینوں پانی پئیں گے، یا تینوں پیاس سے مریں گے۔“

دربان نے دروازہ واپس بند کرتے ہوئے کہا ”چلو ٹھیک ہے۔ جیسے تمہاری مرضی۔ کوشش کرنی چاہیے کہ اگر یہ دروازہ نظر آ جائے تو اِسے اپنے پر بند مت کرواؤ۔ بدنصیبی کی بات ہے۔“

آدمی نے کہا “یہ کیسی جگہ ہے؟ مجھے پہلے کیوں نظر نہیں آئی؟“

دربان نے کہا ”یہ جنت ہے۔ تب نظر آتی ہے جب اعمال درست ہوں۔ مزید یہ کہ روح جسم سے آزاد ہو چکی ہو۔“

آدمی کے پسینے چھوٹ گئے۔ اُسے شک سا پڑ گیا کہ جیسے وہ واقعی مر چکا ہے۔ مگر پیاس کی شدت نے اس بات پر مزید سوچنے نہ دیا۔ وہ اپنے جانوروں سمیت واپس مڑ کر پگڈنڈی پر آ گیا اور آگے بڑھ گیا۔

بہت دیر گزر گئی۔ تینوں کی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ اچانک پگڈنڈی سے بائیں جانب اُنہیں ایک خستہ حال پھاٹک نظر آیا جس کے قریب ایک اُتنا ہی خستہ حال بوڑھا بیٹھا ہوا تھا۔

آدمی نے پھاٹک کے قریب پہنچ کر اندر کا منظر دیکھا۔ اُسی قسم کے درخت تھے جیسے پگڈنڈی پر تھے۔ البتہ پھاٹک کے اندر چھاؤں کا ماحول تھا اور گھاس کافی بلند تھی۔ کوئی خاص جگہ نہیں تھی۔

آدمی نے بوڑھے سے کہا ”باباجی، مجھے اور میرے جانوروں کو شدید پیاس لگی ہے۔ آپ کے پاس پانی ہے؟“

بوڑھے نے نیم وا آنکھوں سے آدمی کی جانب دیکھا اور کہا ”پھاٹک کھول کر اندر چلے جاؤ۔ وہ بڑے پتھروں کے پیچھے چشمہ نکل رہا ہے۔ سب مل جُل کر پانی پیو۔ بعد میں گھوڑے کو گھاس چرنے دو۔ کتے کے لیے بھی یہاں کوئی ہڈی یا گوشت وغیرہ ہو گا۔ فارغ ہو کر میرے پاس آ جانا۔ مَیں قہوہ بنانے لگا ہوں۔“

آدمی فوراً اپنے جانوروں سمیت چشمے پر پہنچا، سب نے خوب سیراب ہو کر پانی پیا، گھوڑا اور کتا جیسے دوبارہ جی اُٹھے۔ اُنہیں کھانے کے لیے بھی مل چکا تھا۔

قہوہ پینے کے دوران آدمی نے بوڑھے سے پوچھا ”باباجی، یہ کونسی جگہ ہے؟ پہلے کبھی نظر نہیں آئی۔ آپ کو بھی پہلی بار دیکھا ہے۔“

بوڑھے نے قہوہ کی چسکی لیتے ہوئے کہا ”یہ جنت ہے۔ فردوسِ برِیں ہے۔“

آدمی نے کہا ”مگر وہ تو مَیں پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ وہاں تو محلات تھے۔ امیر کبیر لوگوں کی چہل پہل تھی۔ ہر چیز سنگِ مرمر سے تعمیر شدہ تھی۔“

بوڑھے نے کہا ”مجھے معلوم ہے کہ تُم وہیں سے آ رہے ہو۔ جو جو شخص میرے پاس پہنچتا ہے، وہ وہیں سے ہو کر آیا ہوتا ہے۔ جو مجھ تک نہ پہنچ سکے، وہ بدنصیب وہیں رہ جاتا ہے۔“

آدمی نے کہا ”بدنصیب؟ وہ کیسے؟“
بوڑھے نے کہا ”کیونکہ وہ جنت نہیں، دوزخ تھی۔“

آدمی نے کہا ”مَیں سمجھا نہیں۔ وہ دوزخ کیسے ہے؟“

بوڑھے نے کہا ”پہلے ہمیں جنت کی تعریف سمجھنی چاہیے۔ خدا نے نیک دِل رحم دل انسانوں کے لیے دِل کی تسکین کا انتظام کیا ہوا ہے۔ اس کے لیے مرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ جنت ایسے انسانوں کو بحالتِ زندگی ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ بلکہ کائنات بھر میں موجود ہے۔ ایسے انسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ خدا کی باقی مخلوق کے لیے بھی اُتنا ہی رحم دل ہوتے ہیں جتنا خود اپنے لیے۔ اسی لیے جنت میں خود بھی جاتے ہیں اور اپنے پیاروں کو بھی ہمراہ لے جاتے ہیں، چاہے پیاروں میں جانور بھی کیوں نہ شامل ہوں۔ اسی سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ دوزخ کس شے کا نام ہے۔ وہ پچھلی جگہ اسی لیے دوزخ ہے کیونکہ وہاں آپ تو چلے جاؤ گے مگر اپنے پیارے نظر نہیں آئیں گے۔ وہاں انسان تو نظر آئیں گے مگر باقی کی مخلوق نہیں۔ ایک بار سنگِ مرمر کے دروازے سے اندر چلے جاؤ تو پھر قید شروع ہو جاتی ہے۔ وہ غلامی ہے، جبکہ یہ آزادی ہے جہاں تُم اور تمہارے جانور اس وقت موجود ہیں۔ جب چاہے آؤ جاؤ۔ کائنات گھومو۔ یہ جنت ہمیشہ ہمراہ رہے گی۔ یاد رکھو، خدا دوسرے جانوروں کو دوزخ میں نہیں ڈالتا، مگر انسانوں کا امتحان ضرور لیتا ہے۔ اگر تُم دوزخ کے جادو میں آ کر اُس میں داخل ہو جاتے تب ہمیشہ وہیں رہتے۔ تمہارے جانور تم سے بچھڑ جاتے۔ جی ہاں، دوزخ دور سے خوبصورت نظر آتی ہے۔ پتا تب چلتا ہے جب اُس کے اندر خود کو پاؤ۔“

بوڑھے نے آخری چسکی لی اور پھر آخری الفاظ بولے ”اگر تمہیں کسی جاندار سے محبت ہو، مگر جنت میں وہ تمہارے ہمراہ نہ ہو، تو سمجھ لو کہ تم جنت میں نہیں ہو۔“
•••

Excerpt from
The Devil & Miss Pryme
by Paulo Coelho
Translator: مسافرِشَب

#Heaven #Hell #PauloCoelho


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3829354600628378

Related Articles

7 Comments

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/