عالمی ادب

” میں ایک پرہجوم شہر میں گزرا ” میں ایک مرتبہ ایک…

” میں ایک پرہجوم شہر میں گزرا "

میں ایک مرتبہ ایک پرہجوم شہر میں سے گزرا تھا۔۔۔
اپنی یاداشت پر نقش کرتا اسکا طرز تعمیر، رسوم، روایات اور محفلیں۔۔۔
تاکہ، مستقبل میں انکا حوالہ دے سکوں
لیکن اب، اس شہر کی یاداشتMore میں اور کچھ باقی نہیں ہے۔۔۔

سوائے ایک عورت کے۔۔۔

ایک عورت،
جو مجھے اس شہر میں سر راہ ملی تھی اور۔۔۔۔
اس نے مجھے روک لیا تھا۔۔۔
کیونکہ، وہ مجھ سے محبت کرتی تھی۔۔۔۔
ہر دن جو دن تھا اور ہر رات جو رات تھی ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔۔۔

اس کے سوا تو میں سب کچھ ایک عرصے سے بھول چکا ہوں۔۔۔

مجھے صرف وہ عورت یاد ہے جو جذبے کی شدت سے مجھ سے لپٹ جایا کرتی تھی۔۔

پھر ہم آوارہ پھرتے تھے۔۔۔ محبت کرتے تھے۔۔۔ اور پھر جدا ہو جاتے تھے۔۔۔

وہ میرا بازو تھام لیتی تھی، تم نے اس شہر سے نہیں جانا۔۔۔
میں آج بھی اس کی قربت محسوس کرتا ہوں۔۔۔
خاموش ہونٹ جو اداسی میں لرزاں تھے، ان کی قربت محسوس کرتا ہوں۔۔

میں ایک مرتبہ ایک پر ہجوم شہر میں سے گزرا تھا۔۔۔

•••••••
شاعر : والٹ وہٹ مین
مترجم : مستنصر حسین تارڑ
حوالہ : نیو یارک کے سو رنگ
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال

May be art
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3022112988019214

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/