کافکا برلبِ ساحل، جاپانی ناول نگار ہاروکی موراکامی…

کافکا برلبِ ساحل، جاپانی ناول نگار ہاروکی موراکامی کے ناول
Kafka on the Shore
کا اردو ترجمہ ہے، جسے اردو کے قالب میں جناب نجم الدین احمد نے ڈھالا ہے.
کافکا برلبِ ساحل کا شمار موراکامی کے گنجلک ترین ناولوں میں کیا جاتا ہے. طلسماتی حقیقت نگاری کو خوبصورتی سے برتتے ہوئے یہ ناول ایسی بجھارتیں ڈالتا ہے جن کی گتھیاں سلجھانے کا کام قاری کو خود سرانجام دینا پڑتا ہے. خواب و حقیقت، ماضی، حال و مستقبل کے درمیان پینڈولم کی طرح جھولتے، حقیقی و متبادل دنیا کے مابین سفر کرتے دو مرکزی کرداروں کی داستان. پہلا کردار اپنی عمر سے زیادہ پختہ ایک پندرہ سالہ لڑکا کافکا تامورا ہے جو اوڈی پس سے ملتی جلتی صورتحال سے دوچار ہے. اپنے باپ کی بد دعا سے فرار کی راہ اختیار کرتے ہوئے گھر سے بھاگ نکلتا ہے. البتہ، اوڈی پس کی طرح وہ بھی قضا و قدر کا شکار ہوتا ہے یا نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بھجارت کی گتھی قاری سلجھا پاتا ہے؟ کافکا کا سفر محبت، جنس، اکلاپے، فرار اور نارسائی کے تجربات سے مرکب ہے.
اسی کے متوازی پلاٹ میں خاندان اور سماج کی طرف سے مردود حرم، دوسرا کردار ایک بوڑھے آدمی ناکاتا کا ہے جو بچپن میں ہوئے ایک حادثے کے نتیجے میں اپنی یادداشت کا بیشتر حصہ کھو بیٹھتا ہے، پڑھنا لکھنا بھول جاتا ہے اور اسی باعث ایک بھولے بھالے، سادہ اور معصوم شخص کے کردار میں ڈھل جاتا ہے. ناکاتا کا عجیب و غریب کردار بلیوں سے بات چیت کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے. جس کے کہے پر آسمان سے مچھلیوں اور جونکوں کی بارش برستی ہے.
بظاہر دونوں متوازی پلاٹ / کردار ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کے تال میل کے بغیر اپنا اپنا سفر حیات جاری رکھتے ہیں البتہ ناول کے اختتامیے کی جانب بڑھتے ہوئے دونوں پلاٹ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں. دونوں پلاٹوں کو مربوط کرنے اور انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ناول میں مختلف معاون کردار کافکا یا ناکاتا کے ساتھ تعلق بناتے ہیں. اوشی ما اور ہوشینو انہیں کرداروں میں سے ہیں. تیسری جنس کا نمائندہ اوشی ما کافکا کے فکری، تخیلاتی اور مادی مسائل کو تدبر سے حل کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے اور ناکاتا کے ادھورے کام، کی تکمیل کیلئے ہوشینو خود کو وقف کرتا ہے. سب سے سحر انگیز کردار دونوں پلاٹوں میں ربط قائم کرنے والی شخصیت، آنسہ سائیکی، جسکی ذات میں محبت، وجودی تنہائی اور بیگانگی مجسم ہو جاتی ہے.
ناول میں خواب اور حقیقت آپس میں یوں مدغم ملتے ہیں کہ قاری کو یہ احساس بمشکل ہی ہو پاتا ہے کہ کب خواب ختم ہوا اور کب حقیقت خواب میں ڈھل گئی. موراکامی نے وجودی تنہائی، بیگانگی، اکلاپا، محبت، احساس زیاں اور تقدیر سے فرار کے تھیمز کو اس ناول میں بڑی مشاقی سے برتا ہے.
ناول کا اردو ترجمہ اردو کے جانے مانے ادیب اور مترجم جناب نجم الدین احمد نے کیا ہے جو اس سے پہلے بھی متعدد تراجم کر چکے ہیں. ترجمہ انتہائی رواں اور بامحاورہ کیا گیا ہے جس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ پڑھتے ہوئے اس پر ترجمے کا گمان شاذ ہی ہوتا ہے. حتی کہ اردو میں رائج بعض انگریزی الفاظ کا بھی ترجمہ کیا گیا ہے جیسا کہ فریج، ریفریجریٹر اور منرل واٹر وغیرہ (جو کہ میری رائے میں ضروری نہیں اور اس رائے کے حتمی ہونے کا میرا کوئی دعویٰ بھی نہیں) میرا خیال ہے کہ مذکورہ الفاظ اب اردو زبان میں مروج ہیں اور ان کے ترجمہ کردہ عربی و فارسی الفاظ کی نسبت بہتر طور پر جانے اورسمجھے جاتے ہیں. جنسی افعال و سرگرمیوں کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے اکثر اردو مترجمین کے الفاظ نیم مردہ اور ان کے قلم کی سیاہی خشک ہو جاتی ہے، لیکن کافکا برلبِ ساحل میں نجم الدین احمد کا قلم اس معاملے میں بھی پوری قوت کے ساتھ رواں نظر آتا ہے. پروف ریڈنگ کی خال خال غلطیاں موجود ہیں (اگرچہ عام طور پر ترجمہ ہونے والی کتب کی نسبت کم ہیں) جن کی تصحیح دوسرے ایڈیشن میں کی جا سکتی ہے.
کافکا برلبِ ساحل میں ہاروکی موراکامی کے ایک انٹرویو کا اضافہ بھی کیا گیا ہے. 773 صفحات کا یہ ناول عکس پبلیکیشنز نے 1200 روپے کی قیمت میں شائع کیا ہے.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2994202090810304



