عالمی ادب

"انسان کی زندگی کی سات اسٹیجز" یہ دنیا …

"انسان کی زندگی کی سات اسٹیجز"

یہ دنیا ایک اسٹیج( کھیل) ہے۔
اور اس میں موجود تمام مرد اور عورتیں اس کھیل کے محض کھلاڑی ہیں
اور جس طرح ایک اسٹیج ڈرامے کے داخلی اور خارجی راستے ہوتے ہیں
جن سے گزر کر ہر فنکار مختلف کردار ادا کرتے ہیں
اسی طرح ایک انسان بھی اپنی زندگی میں بہت سے کردار ادا کرتا ہے
بنیادی طور پہ اس کے کردار سات ہیں۔

سب سے پہلے وہ ایک شیر خوار بچہ ہوتا ہے
جو اپنی آیا کی بانہوں میں روتا اور چلاتا رہتا ہے
اور پھر اس کی بانہوں میں قے کر دیتا ہے
یہ اس کی زندگی کا پہلا کردار ہے ۔
پھر وہ تھوڑا بڑا ہو جاتا ہے اور ایک اسکول جانے والے بچے کی طرح شکایتی بن جاتا ہے۔
اب اس نے اپنے وزن سے بڑا بستہ اٹھا رکھا ہے۔
جس کے تلے وہ ایک کیڑے کی طرح رینگتے ہوے
بے دلی سے اسکول جاتا ہے
البتہ اس کا چہرہ صبح کی تازگی میں دمک رہا ہوتا ہے ۔

پھر وہ بلوغت میں قدم رکھتا ہے
یہ لڑکپن کا زمانہ ہے
اب وہ ایک عاشق بن جاتا ہے اور ایک بھٹی کی طرح ہر وقت آہیں بھرتا رہتا ہے
اور اپنی محبوبہ کے ابرووں پہ اداس گیت لکھتا ہے ،

پھر وہ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتا ہے اور فوج میں بھرتی ہو جاتا ہے
اور ایک سپاہی کے طور پہ عجیب و غریب خلف اٹھا لیتا ہے ۔
اب اس نے ایک چیتے کی طرح داڑھی بڑھا لی ہے۔
اس عمر میں وہ اپنی عزت کے متعلق بڑا جیلس اور لڑائی جھگڑا مول لینے میں بہت جلد باز ہوتا ہے ،
وہ محض عارضی شہرت کے پیچھے بھاگتا ہے
اور اس کے لیۓ وہ توپ کے منھ میں جانے کے لئے بھی تیار رہتا ہے ۔

پھر وہ درمیانی عمر میں قدم رکھتا ہے اور ایک جج بن جاتا ہے۔ اب اس نے ایک بہت اچھی ٹوپی پہن رکھی ہے
تا کہ وہ معزز لگے،
چیتے والی داڑھی کٹوا کے اب وہ ایک مناسب سی داڑھی بنا لیتا ہے۔ خوش حالی اور عمر کی وجہ سے اس کا پیٹ آگے کو نکل جاتا ہے۔
لوگوں کو بہت تیکھی نظروں سے دیکھتا ہے
اور بات بہ بات اقوال زریں اور جدید حوالہ جات سناتا رہتا ہے
تا کہ لوگ اس کے علم و فضل کی قدر کریں
اور اس طرح وہ اپنی زندگی کا یہ کردار ادا کرتا ہے ۔

پھر چھٹی اسٹیج آتی ہے۔
اب وہ بڑھاپے میں داخل ہو چکا ہے ۔
نظر کی عینک اس نے ناک پہ لٹکای ہے
اور گھر کا سودا سلف لانے کے لئے تھیلا ہر وقت پاس رکھتا ہے ۔
اس کا جسم عمر کی کمزوری کی وجہ سے سوکھ چکا ہے۔
اس لئے اسے اب کوئی پینٹ فٹ نہیں آتی
اور وہ اس کے نحیف جسم سے کھسکتی رہتی ہے ۔
جوانی کے اس کے سنبھالے کپڑے
اب اس کے لاغر جسم کے لئے بہت کھلے ہو چکے ہیں
اور اس کی بھاری مردانہ آواز ،
دوبارہ بچے کی باریک آواز میں بدل جاتی ہے
اور ایسا لگتا ہے جیسے وہ ناک میں بول رہا ہے ۔

پھر زندگی کی آخری اسٹیج آتی ہے،
جو کہ اس کی اس عجیب لیکن دلچسپ زندگی کا خاتمہ کرتی ہے
اس دور کو دوسرا بچپنا که سکتے ہیں
اب اس انسان کو کوئی بات یاد نہیں رہتی
نہ اس کے دانت بچے ہیں کہ وہ کچھ کھا سکے
اگر کچھ کھا لے تو کوئی ذائقہ محسوس نہیں ہوتا
کمزور نظر سے اسے اب کچھ دکھائی نہیں دیتا
اب اس کے لئے ہر شےختم ہو رہی ہے
(اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا )
!!

ترجمہ: طاہر راجپوت
ڈرامہ نگار : وليم شیکسپیئر


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2939505809613266

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/