عالمی ادب

کارل مارکس (Karl Heinrich Marx) کے اہم سیاسی اور م…

کارل مارکس (Karl Heinrich Marx) کے اہم سیاسی اور معاشی نظریات۔ حصہ اول۔۔۔

مارکس کا مختصر تعارف:

کارل مارکس (May 5, 1818–March 14, 1883) ٹائر، جرمن رائن لینڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ مارکس ایک وکیل کا بیٹا تھا جس نے یہودی عقیدے کو ترک کر کے عیسائیت اختیار کرلی تھی کیونکہ اس وقت جرمن حکومت نے یہودیوں پر یہ پابندی عائد کر دی گئی تھی کہ کوئی یہودی قانون میں درس و تدریس حاصل نہیں کر سکتا یا کوئی یہودی وکیل نہیں بن سکتا۔ مارکس کا خاندان دولت مند نا ہونے کے باوجود آرام دہ اور پرسکون زندگی گزار رہا تھا، مارکس کے والدین اپنے بیٹے کو بون یونیورسٹی (Bonn University) کے شعبہ قانون میں داخلہ دلوانے میں کامیاب رہے۔ وہاں اس نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ دوسرے عام کاموں میں مشغول رہا، جس میں مقامی بیئر ہال میں شراب نوشی، سیاست پر گفتگو کرنا، اور مخالف طالبہ گروپوں سے لڑائی جھگڑے کرنا شامل ہیں۔ 1867 میں مارکس نے اپنی مشہور کتاب "داس کیپیٹل" کی پہلی جلد شائع کی، جس میں انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام اور اس نظام کی اپنی تباہی کی طرف لامحدود رجحانات کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کیۓ، اور اس کے علاوہ مارکس نے اپنے انقلابی نظریات کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کارکنوں کی تحریک (international workers’ movement) میں حصہ لیتا رہا۔

مارکس کا نظریہ تاریخ کا پس منظر:

ہیگل (1770-1831) کی موت کے بعد اس کے پیروکار دو اہم کیمپوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک طرف کنزرویٹو رائٹ ہیگلینز (conservative Right Hegelians) تھے، جنہوں نے ہیگل کے فلسفہ تاریخ کو مذہبی اصطلاحات میں تشریح (philosophy of history in theological terms) کی۔ ان کے لئے "روح " (spirit) سے مراد خدا یا روح القدس تھا، اور انسانی تاریخ کا مطلب خدا کے منصوبے کو منظر عام پر لانا تھا اور ان کے لیے عقیدہ یا روحانی نظریات ہی وہ بنیادی چیزیں ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں لوگ مختلف طبقات میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور ان کے درمیان کشمکش یا جنگ چلتی آرہی ہے۔ دوسری طرف ینگ یا لیفٹ ہیگلینز (Young or Left Hegelians) تھے، جن میں کارل مارکس نمایاں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہیگل کے فلسفہ کی کہیں زیادہ تشریح ممکن ہے جتنا ہیگل کو سمجھا اور بیان کیا گیا ہے۔ لہذا ہیگل کے فلسفے "صوفیانہ خول کے اندر عقلی دانا" (the rational kernel within the mystical shell) کے بارے میں مارکس نے 1843–1844 میں اپنے مطالعے کی تجدید کی۔ ہیگل کی طرح مارکس نے تاریخ کو انسانی مشقت اور جدوجہد کی کہانی کے طور پر دیکھا۔ لیکن مارکس کے لئے تاریخ مایوسی والی روح کی جدوجہد کی نہیں بلکہ انسانی نسلوں کی مادی دنیا پر ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد کی کہانی ہے۔ انسانوں کو گرمی اور سردی سے بچنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے اور بحرانی کیفیت سے زندگی گزارنے کے لئے بھوک کے خطرے سے دوچار رہنا پڑتا ہے۔ لیکن بھوک، پیاس، گرمی، سردی کے علاوہ اب انسانوں نے بھی ایک دوسرے کے خلاف بھی جدوجہد کرنا شروع کیا ہے۔ تاریخی تناظر میں ان تنازعات میں سے سب سے اہم تنازعہ ایک طبقے کے خلاف دوسرے طبقے کی جدوجہد ہے۔

مارکس کا نظریہ تاریخ (Theory of history) یا تاریخ کا مادیت پرستانہ تشریح (materialistic interpretation of history) یا طبقاتی کشمکش (Class struggle):

کمیونسٹ منشور (Communist Manifesto) میں مارکس اور اینگلز تاریخ کو "طبقاتی جدوجہد" (history of class struggles) کا نام دیتے ہیں۔ مختلف ادوار اور مختلف معاشرے میں انسان الگ الگ طبقے (classes) میں بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ جیسے کہ غلامانہ معاشرے (salve society) میں غلام اور آقا، جاگیردارانہ معاشرے (feudal society) میں زمیندار اور کسان، اور سرمایہ درانہ معاشرے (capitalist society) میں سرمایہ دار اور مزدور یا کارکن (workers) طبقات ہوتے ہیں۔ اگر چہ یہ طبقے متنازعہ طور پر ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرتے لیکن ان کے مفادات (interests)، مقاصد (aims) اور خواہشات (aspirants) ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جب معاشرے کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا جاتا ہے، طبقاتی کشمکش ناگزیر (class conflict is inevitable) ہے۔

ہمیں یہاں مارکس کے نظریہ یا سوچ کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ مارکس کے طبقات کا کیا مطلب ہے؟

کیسے مختلف طبقات وجود میں آتے ہیں اور ان طبقات کو کن مختلف تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اس سے ہم کیسے ایک کمیونسٹ معاشرے کے تشکیل کی توقع کر سکتے ہیں۔ ان چیزوں کو سمجھنے کے لئے ہمیں مارکس کے مادیت پسند تصور یا تشریح (materialistic interpretation) کو قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جنہیں مارکس نے خود اپنے زندگی کا سب سے خاص کام (leading thread in my studies) کہا ہے۔ مارکس نے تاریخ کی تشریح کو "مادیت پسند" (materialist) کا اصطلاح دیا ہے، تاکہ اسے ہیگل کی "آئیڈیلسٹ" تشریح (idealist interpretation) سے ممتاز کیا جائے۔

جہاں ہیگل نے تاریخ کو روح کی خود شناسی کی کہانی (story of spirit’s self-realization) کے طور پر دیکھا تھا، وہیں مارکس نے تاریخ کو مادی، یا معاشی مفادات اور وسائل پر طبقاتی جدوجہد کی کہانی (story of class struggles over opposing material, or economic, interests and resources) کے طور پر دیکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مارکس پر جیسے کبھی کبھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، "معاشی استقامت پسند" (economic determinist) تھا جو "ہر چیز کو معاشیات تک محدود (reduce everything to economics) کرنے کی کوشش کرتا تھا۔" تاہم اس نے مادی پیداوار کی بنیادی اہمیت (primary importance of material production) پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "اس سے پہلے کہ مرد کوئی اور کام کرے، انھیں پہلے اپنی روزی کا سامان تیار کرنا چاہئے" (they must first produce the means of their subsistence) جیسے کہ وہ کھانا پینا جو انہیں زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے، لباس جیسے وہ پہنتا ہے، مکان جس میں رہائش اختیار کرتا ہے، وغیرہ۔

مارکس کا کہنا ہے کہ مادی پیداوار (Material production) میں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پہلی چیز؛ وہ مادی قوتیں جس سے پیداواری وجود میں آتی ہے یا پیداوار حاصل کی جاتی ہے (material forces of production)۔ یہ مادی قوتیں پیداوار ہر معاشرے میں مختلف ہوں گے۔

مثال کے طور پر شکاری معاشرے (primitive hunting society) میں پیداوار کی قوتوں میں جنگلی کھیل (wild game)، شکاری کا دخش (hunter’s bow)، تیر، چھری اور دیگر اوزار شامل ہیں۔

کسی پیچیدہ زرعی معاشرے (sophisticated agrarian society) میں پیداواری قوتوں میں لگائے جانے والی بیج (seeds to be planted)، ہل (plows)، کدال (hoes)، فصلیں لگانے اور کٹائی میں استعمال ہونے والا سامان، گندم کو بھوسی سے الگ کرنے، کھانا پکانا اور دیگر اناج کی کھدائی میں استعمال ہونے والے اوزار شامل ہیں۔

جدید ترین صنعتی معاشرے (sophisticated industrial society) میں پیداوار کی قوتوں میں خام مال (raw materials)؛ دھاتیں، کوئلہ، لکڑی، پٹرولیم، اور اسی طرح کی دوسری قوتیں شامل ہیں۔ ان قدرتی خام مال کو استعمال میں لانے کے لئے مشینری (جیسے کہ وہ مشینری جن سے فیکٹریوں میں یہ خام مواد استعمال کے قابل بنا یا جاتا ہے یا اجناس (commodities) میں تبدیل کیا جاتا ہے) ذریعے آمد و رفت یا مال بردار گاڑیاں، بحری جہازیں (یعنی فیکٹریوں کی تیار شدہ مصنوعات کو منڈی تک پہنچانے کے لئے مال بردار کاریں اور ٹرک کا استعمال کیا جاتا ہے)۔

یہ تمام چیزیں مادی قوتیں پیداوار (material forces of production) کہلاتی ہیں۔ آسان لفظوں میں وہ آواز، قوتیں اور ذریعہ جن سے کسی چیز کی پیداوار میں مدد ملتی ہے۔

دوسری چیز؛ مادی پیداوار میں پیداواری قوتوں کے علاوہ ایک دوسرا عنصر درکار ہوتا ہے جس کے لئے مارکس نے "پیداوار کے معاشرتی تعلقات" (the social relations of production) کا اصطلاح استعمال کی ہے۔ خام مال نکالنے اور استعمال میں لانے کے لیے مشینری بنانے، چلانے، مرمت کرنے، فیکٹریوں کی تعمیر اور ان کے عملے کے لئے انسان خود کو منظم کرتا ہے۔ اسی طرح مادی پیداواری کے لیے ہر ایک کو کسی خاص صلاحیت یا ڈگری (degree of specialization) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسے ایڈم اسمتھ نے "مزدوری کی تقسیم" (division of labor) اور مارکس نے "پیداوار کے معاشرتی تعلقات" یا "معاشرتی تعلقات" کا نام دیا ہے۔ جیسا کہ مارکس کہتے ہیں کہ مختلف ادوار اور مختلف قسم کے معاشروں میں پیداوار کی وجہ سے مختلف معاشرتی تعلقات وجود میں آتے ہیں۔

مثال کے طور پر شکاری معاشرے (Hunting society) میں شکار کرنے والے جوان مرد جو شکار پارٹیوں کی شکل میں منظم ہوتے ہیں۔ وہ خواتین جو بچوں کی پرورش کرتی ہیں، چھپوں (hides) کو لباس، کمبل اور دیگر مفید اشیاء میں تبدیل کرتی ہیں۔ اور دوسرے کاموں کو جو انجام دینے کے لئے مخصوص لوگوں ہوتے ہیں۔

ایک زرعی معاشرے (Agricultural society) میں پیداوار کے معاشرتی تعلقات میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو اوزار تیار کرتے ہیں، جو گھوڑوں کے جوتے کا کام کرتے ہیں، جو بیج لگاتے ہیں اور فصل کاٹتے ہیں، جو اناج کو استعمال کے قابل بناتے ہیں، آٹا چکی والے، اور دوسرے وہ لوگ جو روٹی پکاتے ہیں۔

صنعتی معاشرے ( industrial society) میں پیداوار کے سماجی تعلقات باقی معاشروں سے کئ زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ان میں کان کن شامل ہیں جو خام مال نکالتے ہیں۔ درختوں کو کاٹنے والے، ریلوے کے کارکنان اور دوسرے مال بردار گاڑیوں کے کارکن جو خام مال کو فیکٹری میں پہنچاتے ہیں، وہ لوگ جو مشینوں کی ایجاد، اور مرمت کا کام کرتے ہیں۔ بینکر اور دلال جو سرمایہ اکٹھا کرتے ہیں اور جو سرمایہ کار سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اور کئی دوسرے جو پیداوار کے معاملات کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں یا پیداوار میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

پیداوار کے ان معاشرتی تعلقات سے ہی مختلف طبقات جنم لیتے ہیں۔ جیسے کہ ایک غلامانہ معاشرے (slave society) میں آقاؤں (masters) کو غلبہ حاصل ہوتا ہے، اور غلام ایک ماتحت طبقہ (class) ہوتا ہے۔

جاگیردارانہ معاشرے (feudal society) میں بھی دو طبقے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتے ہیں، یعنی جاگیردار (feudal lords) جو غالب ہوتے ہیں اور ان کے خادم (serfs) جو ماتحت ہوتے ہیں۔

اور ایک صنعتی سرمایہ دارانہ معاشرے (industrial capitalist society) میں جو طبقے ہوتے ہیں وہ سرمایہ دار (Capitalists) جو کہ غالب ہوتے ہیں اور دوسرا ماتحت طبقہ ان کے زیر اثر رہتا ہے، مارکس اس ماتحت طبقے کو مزدور (wage-laborers) یا پرولتاری (proletariat) کا نام دیتے ہیں۔

آپ کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں کیا اس بات کا انحصار آپ کا پیداواری قوتوں کے ساتھ تعلق پر ہے؟

بہت ہی واضح طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آپ کا تعلق ماتحت طبقے (subservient class) سے ہے اگر آپ خود محض ایک ذریعہ پیداوار (means of production) یا قوت پیداوار (forces of production) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی حیثیت ایک اوزار یا مشینری کے ایک ٹکڑے جتنی ہے۔ اگر آپ پیداواری قوتوں بشمول انسانی قوت (ماتحت طبقہ) کے مالک ہیں یا اس پر آپ کا کنٹرول ہے تو آپ کا تعلق غالب طبقے (dominant class) سے ہے۔ واضح طور پر آپ کا تعلق ماتحت یا مزدور طبقے سے ہے اگر آپ کے پاس پیداوار کی ملکیت نہیں ہے لیکن حقیقت میں آپ مجبور ہیں کہ آپ اپنی مزدوری یا صلاحیت کو کسی دوسرے (غالب طبقہ) کی خوشی یا نفع کے خاطر استعمال کریں۔

ہر طبقاتی تقسیم معاشرے میں مارکس نوٹ کرتے ہیں، کہ غالب طبقے (جیسے کہ آقا، زمین دار، جاگیر دار، سرمایہ کار) کی تعداد ماتحت طبقے (جیسے کہ کسان، غلام، مزدور اور متوسط طبقہ) سے بہت کم ہوتی ہے۔ غلامانہ معاشرے (slave society) میں غلام مالکان سے کہیں زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں، جاگیردارانہ معاشرے (Feudal) جاگیردار (feudal lords) کسانوں کے مقابلے میں تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں، اور سرمایہ دارانہ معاشرے (capitalist society) میں مزدور (wage-workers) سرمایہ داروں (capitalists) کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں۔

حکمران طبقہ جو کہ تعداد میں کم ہوتا ہے، تاہم یہ دو دیگر طریقوں سے ماتحت طبقے پر بھاری ہوتا ہے اور ماتحت طبقات کو قابو میں رکھتا ہے؛

پہلی بات؛ حکمران طبقہ طاقتور ایجنٹوں اور ایجنسیوں جیسے کہ پولیس، عدالتیں، جیلیں اور ریاست کے دیگر اداروں کو کنٹرول کرتا ہے۔ مارکس کا کہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں جدید ریاست (modren state) محض متوسط طبقے (bourgeoisie) کے مشترکہ امور اور معاملات کو چلانے کے لیے ایک انتظام کمیٹی (executive committee) ہے۔ تاہم مارکس اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکمران طبقہ تنہا طاقت کے ذریعہ حکمرانی نہیں کرسکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ حکومت زیادہ دن قائم نہیں رہے گی۔

دوسری بات؛ حکمران طبقہ کی زیادہ عرصے کے لیے غلبے اور حکومتی استحکام کی دوسری اہم وجہ یا عنصر لوگوں کے خیالات کو قابو میں رکھنا ہے؛ حکمران طبقہ مزدور طبقے یا ماتحت طبقے کے افکار، عقائد اور نظریات کو کنٹرول کیا کرتے ہیں، جسے مارکس نے شعور (consciousness of the working class) کا نام دیا۔ ہر معاشرے کی مادی معاشی بنیاد کو ایک نظریاتی سپر اسٹیکچر (ideological superstructure) نے گھیرا ہوا ہے۔ معاشرے میں ایسے نظریات، اور عقائد کا ایک مجموعہ جو اس معاشرے کے انتظامات اور اداروں کو جواز فراہم (legitimizes and justifies) کرتا ہے۔ ان خیالات اور عقائد کے مختلف خصوصیت اور متعدد سیاسی، مذہبی، قانونی، اور معاشی شکلیں ہیں، لیکن ان سب کا حتمی تجزیہ ایک جیسا ہے؛ مزدوری کی تقسیم (division of labor)، طبقاتی اختلافات (class differences)، دولت کا حصول (vast disparities of wealth, status) اور ایک مخصوص معاشرے کے اندر طاقت (power) کے حصول کی وضاحت، جواز اور جائز بنانا۔ مارکس کا کہنا ہے کہ طبقاتی معاشرے میں روحانی خیالات یا عقائد کو حکمران طبقہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے، جس سے حکمران طبقہ ماتحت طبقے کے شعور کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ وہ روحانی طور پر ان کا تابعدار رہے۔ مارکس کا کہنا ہے کہ تمام عقائد حکمرانوں نے اپنے فائدے کے لئے متعارف کرائے ہیں۔

مارکس مزید لکھتے ہیں کہ "حکمران طبقے کے عقائد ہر دور میں حکمران نظریات میں شامل رہتے ہیں، اور "مین اسٹریم" کے نظریات حکمران طبقے کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ حکمران طبقے کے ممبران کے انفرادی ذاتی اور سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن ایک طبقے کی حیثیت سے وہ اپنے معاشرتی، سیاسی اور معاشی تسلط کو برقرار رکھنے میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں اور آپس میں متحد رہتے ہیں۔ وہ اپنے غلبے کو عام، قدرتی اور شاید ضروری بھی سمجھتے ہیں۔

مثال کے طور پر جیسے کہ قدیم یونانی معاشرے (ancient Greek society) میں ارسطو (Aristotle) اور دوسروں کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ فطری غلام ہیں (slaves by nature)۔ فطری طور پر یہ غلام یا نوکر ہیں اس کے علاوہ کسی اور کردار کے لئے فٹ نہیں ہیں۔ اسی طرح امریکی سیول جنگ (1861-65) سے پہلے جنوبی علاقوں میں غلاموں اور غلامی کے نظام کا منبر سے یہ تعلیم دی گئی تھی کہ غلامی کا ادارہ خدا کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے، غلامی کا ادارہ خدا کی رحمت کی نشانی ہے اور اس پر کسی طرف سے کوئی سوال یا تنقید نہیں کرنی چاہئے۔

مارکس کا دعوی ہے کہ جدید سرمایہ دار معاشروں میں لوگ ان نظریات کو روحانی شکل دیتے ہیں جو کہ اصل میں حکمران سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے لئے ہوتی ہیں۔ ان میں مذہبی نظریات بھی شامل ہیں، مذہبی نظریات میں بھی ایسے بیانیے (slogans)ہیں جس سے ماتحت طبقے کو بیوقوف بنایا جاتا ہے، جیسے یہ دنیا ایک "آنسوؤں کا سرقہ" (vale of tears) ہے، "خدا غریبوں اور مسکینوں سے محبت کرتا ہے" (God loves the poor and the meek)، "اگر وہ اس زندگی میں اپنے خدا کے اصولوں اور مرضی کے ساتھ عاجزی سے چلیں تو اگلے جہاں میں جنت میں جائیں گے" (if they walk humbly with their God in this life, will go to heaven in the next)۔

مارکس نے مذہب کو "لوگوں کی افیون" (the opium of the people) کہا کیونکہ اس سے ان ماتحت لوگوں کے ذہنوں کو اپنے تابع بنا لیا جاتا ہے یہ ماتحت، غریب، مزدور اور غلام لوگ نہایت ہی خراب حالات، مشکلات اور غربت میں بھی غیر مشروط طور پر جینا قبول کر لیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کو یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ اپنے مفادات کی دلچسپی (self interested)، مقابلہ کرنے کی صلاحیت (competitive) اور دیگر خصوصیات "انسانی فطرت" (human nature) میں ہے۔ مزید مارکس کا کہنا ہے کہ وہ "آزادی" میں صرف "آزاد تجارت" (free trade) کو ترجیح دیتے ہیں، یعنی ایک ایسا معاشرہ جس میں لوگوں کے درمیان منافع کمانے کا مقابلہ ہے، مفت انٹرپرائز سسٹم اور حکومت کی طرف سے مداخلت (interference) کئے بغیر خدا کی عطا کردہ غیر مساوی نعمتوں سے لوگوں کا لطف اندوز ہونا۔ نرسری سے لے کر کالج تک پورے تعلیمی نظام یہی بزور طاقت پڑھایا جاتا ہے۔ کالج کے پروفیسرز، وکلاء اور مذہبی رہنماؤں بھی مصلحت پسندی کے اس عمل اور ان نظریات کے پرچار کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔

سرمایہ دارانہ معاشروں میں مرکزی (mainstream) اور بڑے پیمانے پر گردش کرنے والے ذرائع ابلاغ کا سرمایہ دارانہ طبقے کے ساتھ تعلقات کو فطری اور ضروری سمجھا جاتا ہے، اور کوئی سرمایہ دارانہ متبادل معاشی نظام جیسے کہ سوشلزم یا کمیونزم کو غیر فطری (unnatural)، غیر معمولی (abnormal)، مکروہ (aberrant)، اور ناقابل عمل (unworkable) سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام طریقوں سے محنت کش طبقے کو اس کی اصل صورتحال کی صحیح تصویر جاننے سے روکا گیا ہے۔ یہ غلطی سے حکمران طبقے کے نظریات کو اپنا سمجھتے ہیں۔

اب ہم نے مذکورہ مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک معاشرے میں مختلف طبقوں کے مابین تنازعات کے نتیجے میں مختلف معاشرتی یا معاشی حیثیتیں (economic positions) وجود میں آتی ہیں، اور معاشی طبقاتی حیثیتیں مخالف مفادات کی عکاسی (reflecting opposed interests) کرتا ہے۔ طبقاتی جنگ (class war) کو طبقاتی تنازعہ (class conflict)، یا طبقاتی کشمکش (class warfare) بھی کہا جاتا ہے۔ سرمایہ داروں اور کارکنوں کے مابین سیاسی اور معاشی طاقت کے حصول کے لئے جدوجہد جاری رہتی ہے۔ طبقاتی کشمکش یا گروہی تنازعہ اس وقت وجود میں آتا ہے کہ جب دو یا دو سے زیادہ الگ خصوصیات کی قوتیں معاشرتی میل جول میں ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں اور جب کوئی قوت غیر مساوی اہداف کے حصول کی کوشش میں معاشی طاقت کو باہمی طور پر استمعال کرتے ہیں اور حریف کو ان کے حقوق کے حصول سے روکتے ہیں۔ یہی اصل وجوہات ہیں طبقاتی کشمکش یا کلاس وار کی۔

معاشرہ ایک مستقل تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور یہ تبدیلی معاشی قوتوں (economic factors) کی وجہ سے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ معاشرے میں پیداواری نظام مستقل طور پر تبدیل ہورہا ہے، اور معاشرتی ترقی ہر دور میں معاشی قوتوں کے ذریعہ ہی کی گئی ہے۔ معاشرے میں موجود پیداوار کا نظام (system of production) معاشرے کے پورے کردار اور ڈھانچے کا تعین کرتا ہے۔ سیاسی یا ریاستی طاقت اس طبقے کے پاس ہوتا ہے جو معاشی طور پر مضبوط ہے۔ ریاست غالب معاشی گروہ کی مرضی کے مطابق تمام معاملات کو چلاتی ہے۔ موجودہ قوانین صرف مضبوط معاشی طبقے یا مضبوط معاشی قوتوں کے حفاظت کے لئے بنائے گئے ہیں، یہاں تک کہ مذہب اور اخلاقیات کا پسندیدہ موضوع بھی مادیت پسند عوامل ہے اور ان مادی معاشی قوتوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ معاشرے میں تبدیلی بنی نوع انسان نظریات یا روحانی عقائد سے نہیں بلکہ معاشی قوتوں سے طے ہوتی ہے اور یہی معاشی قوتیں انقلاب کی جڑیں ہیں۔

حوالے:
1. A Contribution to the Critique of Political
Economy (Karl Marx)
2. Western Political Thought (Judd Harmon).
3. Western Political Thought (Dr. Bhandari).
4. Political Ideologiesand the Democratic Ideal (Terence Ball, Richard Dagger, Daniel I. O'Neill).
5. A History of Western Political Thought (Subrata Mukherjee and Sushila Ramaswamy)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2924800387750475

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/