ہماری خوبصورت کائنات کا بھی ایک نہ ایک دن اختتام ہ…

ہماری خوبصورت کائنات کا بھی ایک نہ ایک دن اختتام ہونا ہے، کیا کریں دل نہیں مانتا مگر یہ حقیقت ہے کہ ان رنگینیوں کو تاریکیوں میں کبھی نہ کبھی تو بدلنا ہوگا۔ اس ضمن میں کائنات کے اختتام کے متعلق بیشتر مفروضات سائنس کی وادی میں مقبول ہیں، جن میں سے دو یہ ہیں:
ہمیں علم ہے کہ کائنات میں کہکشائیں لوکل گروپ کی شکل میں دور ہورہی ہیں، یعنی ہمارے لوکل گروپ کے باہر موجود دیگر کہکشائیں ہم سے دُور ہوتی جارہی ہیں۔ جب بیگ بینگ کا واقعہ ہوا تو یہ مادہ ایک نقطے میں یکجا تھا سو کائنات کا درجہ حرارت لامتناہی حد تک زیادہ تھا لیکن جیسے جیسے کائنات پھیل رہی ہے اس کا درجہ حرارت کم ہوتا جارہا ہے آج اس کا درجہ حرارت منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، لیکن اگر یہ یونہی پھیلتی رہی تو ایک وقت آئے گا کہ اس کا درجہ حرارت منفی 273 ڈگری سینٹی گریڈ (Absolute Zero) ہوجائے گا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ستارے اپنے اختتام کو پہنچ کر تباہ ہوجائیں گے، کائنات میں مزید ستارے بننے کا عمل ختم ہوجائے گا اور یہ کائنات ٹھنڈی ہوکر جانداروں کے رہنے کے لائق نہیں رہے گی سو نئے ستارے نہ بننے کے باعث بلیک ہولز کا اس کائنات پر راج قائم ہوجائے گا، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا، اس دور کو ہم Dark Era کے نام سے بھی جانتے ہیں، اس دوران بھی کائنات پھیلتی رہے گی آہستہ آہستہ بلیک ہولز بھی ہاکنگ ریڈیشن کے باعث ختم ہوجائیں گےیوں کائنات میں توانائی ہی رہ جائے گی لیکن توانائی کی کثافت اس حد تک کم ہوگی کہ اس سے کوئی نئی چیز وجود میں نہیں آسکے گی، ہماری کائنات تاریکی کا شکار ہوجائے گی عجب خوفناک احساسِ تنہائی ہوگا،اس نظریے کو فلکیات میں Big Freeze کے نام سے جانا جاتا ہے۔
دوسرا مقبول مفروضہ یہ ہے کہ جیسا کہ 20 سال پہلے ہمیں معلوم ہوا کہ کائنات کے expand ہونے کی رفتار میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ہےاس کی بنیادی وجہ ڈارک انرجی ہے ،ڈارک انرجی ہماری کائنات کو پھیلانے کا کام کرتی ہے جبکہ ڈارک میٹر نامی پرسرارمادہ ستاروں کو کہکشاؤں میں اکٹھارکھے ہوئے۔ جدید سائنسی تحقیقات کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً5 ارب سال پہلے ڈارک میٹر ،ڈارک انرجی پر حاوی تھا مگر پھر ڈارک انرجی نے اس پر سبقت حاصل کرلی۔اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم سب ایٹمز سے ملکر بنے ہیں۔سو سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ ڈارک انرجی نے جیسے 5 ارب سال پہلے ڈارک میٹر پر غلبہ حاصل کیا تو ہوسکتا ہے کہ آنے والے وقت میں ڈارک انرجی مادے پربھی غلبہ حاصل کرلے اگر ایسا ہوگیا تو الیکٹران اور نیوکلیون (پروٹان، نیوٹران) کے درمیان موجود خلاء بھی ڈارک انرجی سے پُر ہوجائے گی اور اگر ایسا ہواتو جس ڈارک انرجی کے تحت کہکشائیں ایک دوسرے سے دُور جارہی ہیں، اسی تاریک توانائی کے تحت کائنات میں موجود تمام مادے اور جانداروں کے ایٹمز پھٹ جائیں گے اور کائنات میں کوئی بھی مادہ باقی نہیں رہے گا اس نظریے کو سائنسدان Big Rip کا نام دیتے ہیں۔ اس طرح کے کچھ اور دل دہلا دینے والے نظریات سائنس کی دنیا میں مقبول ہیں جن کو آپ مندرجہ ذیل لنک پر موجود اُردو ڈاکومنٹری میں دیکھ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ کائنات میں کہکشائیں گروپس کی شکل میں موجود ہیں، ہم کہکشاؤں کے جس حصے میں واقع ہیں اسے "لوکل گروپ" کہا جاتا ہے۔ ہمارے لوکل گروپ میں موجود 52 کہکشاؤں کے علاوہ کُل کائنات ہم سے دور ہورہی ہے، لہٰذا ایک وقت آئے گا کہ یہ سب ہمارے لوکل گروپ سے اتنی دور ہوجائیں گیں کہ کسی بھی آلے کی مدد سے انہیں دیکھ پانا ممکن نہیں ہوگا… پھر کیا ہوگا؟ اگر اس دوران کوئی ذہین مخلوق ملکی وے کہکشاں میں آباد ہوئی تو اس کے لیے ہمارے لوکل گروپ میں موجود 52 کہکشائیں ہی کائنات ہوگی، لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں کائناتی اسکیل پر انتہائی بہترین وقت میں تخلیق کیا ہے، اگر ہم بگ بینگ کے بعد یہاں موجود ہوتے تو کائنات بےپناہ روشن ہوتی اور ہم کائنات کو سمجھ نہ پاتے، اگر اربوں سال بعد ہم یہاں موجود ہوتے تو دیگر کہکشائیں اتنی دور چلی جاتیں کہ ہمارے لیے پوری کائنات 52 کہکشاؤں پر ہی مشتمل ہوتی، ہم کبھی بھی کائنات کی حقیقت کو نہ جان پاتے، اسکی وسعتوں کا ادراک نہ کرپاتے۔
محمد شاہ زیب صدیقی
زیب نامہ
کائنات کے بھیانک اختتام کے متعلق مقبول نظریات کے متعلق اُردو ڈاکومنٹری دیکھنے کے لیے
https://youtu.be/iDu9vCyHdss
#زیب_نامہ
#کائنات #کائنات_کا_انجام #UltimateFateOfUniverse
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2915207558709758



