ادیب کی ذمہ داری : مارگریٹ ایٹ ووڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…

ادیب کی ذمہ داری : مارگریٹ ایٹ ووڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹرویوور: کیا ادیب کی معاشرے کی طرف کوئی ذمہ داری بنتی ہے؟
ایٹ وُڈ: کیا معاشرے کی ادیب کی طرف کوئی ذمہ داری نکلتی ہے؟جس دن معاشرے نے فیصلہ کرلیا کہ اُس کی میری طرف کوئی ذمہ داری ہے پھراُس کے بعد میں اِس بات پر غوروفکر شروع کروں گی کہ میری معاشرے کی طرف کیا ذمہ داری بنتی ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ معاشرے کا یہ میری طرف عمومی رویہ ہے کہ جب سے میں نے لکھنے کا آغاز کیا ہے مجھے ایک طرح سے عجیب سمجھا گیا،اگر سوسائٹی میرے متعلق یہ خیالات رکھتی ہے تو میں نہیں سمجھتی کہ سوسائٹی کی طرف میری کوئی خاص ذمہ داری بنتی ہے۔
ہر ابتدا ءکرنے والے کے ساتھ سوسائٹی کا یہی رویہ ہوتا ہے۔ لیکن جب ایک مرتبہ آپ کامیاب ہوگئے تو پھر جو کام بھی آپ کررہے ہیں وہ بہتر اور اچھا ہے، ہم جانتے ہے کہ معاشرہ کامیابی پر زیادہ توجہ دیتا ہے،یہ لکھائی کے عمل کی عزت نہیں ہے بلکہ محض کامیابی کا احترام ہے۔ اگر آپ پرانی کاروں کی فروخت کے کاروبار میں کامیاب ہوجائیں تو پھر بھی ایسی ہی عزت ملے گی اور اِس میں لکھائی کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔
(کراچی ریویو کیلئے مارگریٹ ایٹ ووڈ کے مترجمہ انٹرویو سے اقتباس)
— شیخ نوید کی وال سے
— with Shaikh Naveed.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2868214640075717



