نظم :آرام طلب شاعر : ٹینی سن مترجم: امیر چند بہا…

نظم :آرام طلب
شاعر : ٹینی سن
مترجم: امیر چند بہار
ٹرائے کی جنگِ عظیم کے بعد جب یونانی سپہ سالار یولیسز اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ اپنے وطن کو لوٹتا ہے تو رستے میں اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کافی مدت گھومنے پھرنے کے بعد ایک دن جب انکا جہاز ایک جزیرے پر جاکر رکتا ہے تو یولیسز کے ساتھی وہاں کے باشندوں سے مل کر وہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں اور اپنے لیڈر یولیسز کے ساتھ آگے جانے سے انکار کر دیتے ہیں وجہ یہ تھی کہ وہاں کہ باشندے ان ملاحوں کو لوٹس نامی ایک پھول کھانے میں دیتے ہیں جس سے ان پر غنودگی طاری ہوجاتی ہے اور یہ لوگ آرام پسند بن جاتے ہیں۔ اس کیفیت میں وہ اسی وادیِ دلکش میں لیٹ کر ایک گیت گاتے ہیں جس کے ذریعے وہ ہر قسم کی دھوڑ دھوپ اور گردش پیہم سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں نظم "آرام طلب" ان ملاحوں کے اس گیت کا ترجمہ ہے۔
دنیا کی ہر چیز کو مل جاتا ہے آرام
انسان کے لیئے ہےدن رات فقط کام
ہر چیز کو جب ہوتا ہے آرام میسر
انساں ہی کیوں رہتا ہے پریشان اکثر
ہر روز نئے رنج ہیں ارمان نئے ہیں
انساں کی تخریب کے ساماں نئے ہیں
دم بھر کے لیئے گردش ایام تو ٹھہرے
کبھی صبح ٹھہرے کبھی شام ٹھہرے
دیکھو تو ذرا صحن گلستاں کا تماشا
کونپل میں بھی ہوتا ہے اثر بادِ صبا کا
دن کو وہ سورج کی شعاؤں میں نہائے
پھر رات چاندنی شبنم کا دودھ پلائے
دیکھے کوئی پھول کی ہستی کا تماشا
کھلتا ہے مرجھا جاتا ہے نہ فکر نہ فاکا
کچھ کام نہ مشقت سے نہ آرام سے کام
بخشا ہے مشیت نے ہر ایک چیز کو آرام
اس گنبد افلاک کے چکر میں نہ آنا
اس قلزمِ ذخار میں ڈبکی نہ لگانا
انسان کی ہستی کا ہے اگر موت ہی انجام
پھر کس لیئے کاوشیں پھر کس لیئے کام
ہم وقت کی رفتار کو ٹھہرا نہیں سکتے
گزرے ہوئے لمحات کو پھر لا نہیں سکتے
کیا جانے کب آجائے موت کا پیغام
بہتر ہے آرام کریں چھوڑ کر سب کام
وہ کون سی شئے ہے جسے دنیا میں بقا ہے
پھر جہدِ مسلسل کا کیا خاک مزا ہے
اس وادیِ پر کیف میں چین سے سوجائیں
چھوڑ کے گھر بار اسی دیس کے ہوجائیں
خوش رنگ کنول دیکھیے ہر سمت کھلا ہے
اس وادیِ رنگیں کی فضا ہوش ربا ہے
ہر وقت یہاں چلتی ہیں جاں بخش ہوائیں
اس وادیِ شاداب کو کیوں چھوڑ کے جائیں
ہم گردش پیہم کا مزہ دیکھ چکے ہیں
ہم پیشِ نظر اپنی قضا دیکھ چکے ہیں
ہم بحر کے گرداب بلا دیکھ چکے ہیں
ہم حشر کے طوفاں بپا دیکھ چکے ہیں
اے ساتھیو ہم آج قسم کھا کے کہیں گے
تا قیامت اس وادیِ دلکش میں رہیں گے
آرام کریں گے ہم اسی سرسبز زمیں پر
بل کیوں آئے شورِ حوادث سے جبیں پر
رہتے ہیں ملائک بھی یونہی عرش بریں پر
اور بجلیاں برساتے ہیں رفعت سے زمیں پر
ایوانوں میں لیٹے پیتے ہیں وہ دن رات
ہنس دیتے ہیں جب دیکھیں دہر کے آفات
دنیا میں کہیں جنگ کہیں قحط کہیں آگ
انساں کو امراض کے ڈستے رہتے ہیں ناگ
تقدیر کے روندے ہوئے لوگوں کی شکایت
ہے عرش نشینوں کے لیئے لغو حکایت
یہ قہر ذدہ لوگ جو فریاد کناں ہیں
مظلوم ہیں پامالِ ستم ہائے زماں ہیں
یہ اہل زمیں کرتے ہیں دن رات مشقت
حصے میں مگر انکے نہ دولت نہ راحت
ہوجائے گا جب ختم یہ ہستی کا فسانہ
ملے گا بیچاروں کو دوزخ میں ٹھکانہ
یہ آتشِ دوزخ کی بھی دیکھیں گے اذیت
باقی ہے ابھی انکے لیئے یہ بھی مصیبت
سنا ہے جنت میں بھی کچھ لوگ رہیں گے
جو راحت و آرام پر لبیک کہیں گے
آرام میں ہستی کا ایک راز نہاں ہے
جو مزا ساحل کا وہ موجوں میں کہاں ہے
اس وادیِ رنگیں میں بھی جنت کا مزا ہے
پھولوں کا بچھونا ہے اور دلآویز فضا ہے
بہتر ہے مشقت سے تو بہرحال آرام
یارو! بھولے سے بھی نہ لو جانے کا نام

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2839707102926471



