تحریر:عبدالولی زندگی کا نغمہ گبریل گارشیا مارکیز…

تحریر:عبدالولی
زندگی کا نغمہ
گبریل گارشیا مارکیز کو دنیا 20 صدی کا ایک عظیم ادیب مانتی ہے۔
مارکیز کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں چھپتی اور بکتی تھی اس کا ناول ”Hundered years of solitude " کو ادب کا ایک شاکار مانا جاتا ہے۔ اسے اس کی ادیبی خدمات کے لیے 1982 میں ادب کا نوبل انعام دیاگیا۔ دنیا جہاں میں اس نے خوب عزت کمائی اور ایک شاندار قسم کی زندگی گزاری۔ لیکن جب وہ بہت ہی بوڑھا ہوچکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی قوت سماعت بہت ہی کم ہوگئی تھی۔ اس کی بنائی بالکل ختم ہوگئی تھی۔ وہ صرف دھوپ اور چھاؤں میں ہی تمیز کرسکتاتھا۔ وہ سکھ کر ہڈیوں کا بے حس و بے حرکت پتلا بن چکا تھا۔ اس دوران عین بستر مرگ پر جب موت اس کے در پہ کھڑی تھی تب اس نے اپنے چاہنے والوں کے نام اپنے سیکرٹری سے اپنا آخری پیغام آخری تحریر لکھوائی
وہ لکھتا ہے۔
اے خدا مجھے ایک لمحہ کے لیے بے حس و بے حرکت گڈے سے ایک جیتا جاگتا انسان بنا دے قسم ہے مجھے تمھاری میں پھر کبھی وہ نہیں کہونگا جو کہ مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا میں ہمیشہ اچھا کہونگا۔ اے خدا پھر میں چیزوں کی قیمت نہیں ان کی اہمیت دیکھوں گا میں ان کی قدر کروں گا میں کم سوؤں گا اور زیادہ خواب دیکھوں گا کہ میں جان چکا ہوں کہ ایک منٹ اگر آنکھیں بند ہوں تو ہم روشنی کے ساٹھ سیکنڈ کھو دیتے ہیں۔اے میرے خدایا تو اگر مجھے ایک موقع اور دے دے تو میں اس وقت چلوں گا جب لوگ رک جاہیں گے میں اس وقت جاگوں گا جب لوگ سوجائیں گے میں اس وقت خاموش رہوں گا جب لوگ بولیں گے۔ یہ خدا میں پورے لطف سے آئسکریم کہاؤں گا اور کافی پیوں گا۔ اے خدا مجھے توڑی سی مہلت اور دے تو میں ہمیشہ سادہ کپڑے پہنوں گا۔ اے خدا مجھے توڑی دیر کے لیے اگر اپنا دل واپس مل جاۓ تو میں اس میں سے نفرت کے سارے جزبات مٹا دوں گا۔ میں دنیا میں پیار بانٹوں گا کہ میں جان چکا ہوں کہ دنیا میں پیار ہی سب کچھ ہے۔ اے خدا اگر تو مجھے ایک اور موقع دے دے تو میں بچوں کو پر دوں گا میں انھیں اڑنا سیکھاوں گا۔
وہ مزید کہتا ہے کہ یہ انسان میرے پڑھنے والے انسان تم میں سے ہر کوئی چوٹی پر پہنچنا چاہتا ہے یہ جانے بغیر کہ چوٹی کچھ نہیں اصل چیز سفر ہے اصل چیز تو وہ مسافت ہے جو چوٹی کو سر کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ انسان تیرا شکریہ کہ میں نے تم میں سے ہر ایک سے سیکھا ہے بہت کچھ سیکھا ہے۔۔۔ آپ کا گبریل گارشیا مارکیز۔
عظیم گبریل گارشیا مارکیز کی تحریر میں ہمارے لیے ایک بہت ہی ہم پیغام پوشیدہ ہے۔ کہ ایک عظیم کامیاب اور نوبل انعام یافتہ شخص عین اپنی زندگی کے اختتام پر خود کوادھورا, ناکام اور نامکمل کہہ رہا ہے۔ چنانچہ اگر ہم اور آپ اپنی موجودہ زندگی کا ذرہ جائزہ لیں تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی پوری طرح سے گزار رہیں؟ یا زندگی گزارنے کا حق ادا کررہے ہیں؟ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے یہ نغمہ ایک ہی بار ہی پلے ہوگا۔ یاد رہے کہ اس پلیر میں ریورس کا بٹن بھی نہیں اور ہاں یہ بٹن دب چکا ہے۔ زندگی کا نغمہ رواں دواں ہے احتیاط کیجیے بہت احتیاط کہ اس نغمہ کا اختیتام ہونا ہے۔ کہ ہم میں سے ہر ایک کو ایک دن مرنا ہے۔
آہیں ہم سب اپنی قیمتی زندگیوں کے ہر پل اور لمحہ کو کارآمد، بہتر اور شاندار طریقہ سےگزارنے کا عہد کریں۔
عبدالولی 4/8/2020
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2838471056383409



