ایک وقت میں اس کے ماں باپ #غلام تھے۔ لیکن اس نے ب…

ایک وقت میں اس کے ماں باپ #غلام تھے۔
لیکن اس نے بیس کروڑ انسانوں پر حکمرانی کی۔
تاریخ نے اسے سفاک قاتل،ظالم ڈکٹیٹر لاکھوں انسانوں کے قاتل کے ساتھ ایک عظیم #انقلابی بھی لکھا۔وہ ایسا تھا کہ لاکھوں آدمی اس سے #محبت اور لاکھوں لوگ اس سے نفرت بھی کرتے تھے۔
وہ 9 دسمبر 1879ءکو روسی تیل کے ذخیروں کے قریب
#گوری_جارجیا میں ایک چھوٹے سے تاریک اور بوسیدہ مکان میں پیدا ہوا۔اس مکان کا ماہوار کرایہ چھ شلنگ تھا۔وہ جارجیا کا رہنے والا تھا اس کا اصل نام۔
آئیوسف وسارونیووچ ڈزوگاشولی تھا۔
اس کا باپ اسے موچی بنانا چاہتا تھا کیونکہ اس کا باپ خود بھی ایک موچی تھا۔لیکن اس کی ماں دوسری ماوں
کی طرح اپنے بیٹے کی ترقی اور عروج کے خواب دیکھتی رہتی تھی۔اس کی ان پڑھ ماں جو مکمل غلامی کے ماحول میں پیدا ہوئی تھی اور جو دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے لیے سارا دن کپڑے سیتی اور برتن دھوتی رہتی تھی۔
اپنے بیٹے کے لیے بہتر اور اچھی دنیا کی خواہشمند تھی۔
اس کی خواہیش تھی کہ اس کا بیٹا ایک پادری بن جاے۔
لیکن جب وہ پندرہ برس کا تھا تو اس کے ہاتھ ایک #کتاب لگی وہ کتاب کارل مارکس تصنیف "کیپٹل"(سرمایہ)تھی
اس کتاب نے اس نوجوان کے جذبات کو اس طرح متحرک کردیا کہ وہ فوراً کارل مارکس کے آدمیوں کے ساتھ خفیہ سرگرمیوں میں مشغول ہوگیا۔اس کتاب سے وہ اتنا متاثر
ہوا کہ اس نے اپنی زندگی عوام کے مفاد کی خاطر گزارنے
کا تہہ کر لیا۔اس کو یقین تھا کہ کسانوں اور مزدوروں
کی حالات زندگی بہتر بنانے کا واحد ذریعہ #انقلاب ہے۔
اس نے پچیس برس اپنے نصب العین کی خاطر دن رات کام کیا کہیں سال تک وہ بے گھر رہا کئی کئی ہفتے وہ رات۔ مختلف جہگوں پر بسر کرتا اپنے مقصد کے لیے اس نے آٹھ برس قید خانے میں تکلفیں برداشت کیں۔اس نے مصیبت کے دور میں بھی ہمیشہ اپنی پارٹی کا ساتھ دیا وہ #انقلابی تقریریں کرتا اور سینٹ پیٹرزبرگ میں خفیہ طور پر ایک انقلابی اخبار میں شائع کرتا۔جب 1905 کا انقلاب ناکام ہوا تو #لینن اور #ٹراٹسکی اپنی جان بچانے کے لیے سوئزر لینڈ بھاگ گئے لیکن وہ نوجوان اپنی زندگی کے خطرے کے باوجود روس میں رہا۔روس کی پولیس ہر وقت اس کی تلاش میں رہتی اور اگر وہ ان کے ہاتھ آجاتا تو کسی دیوار کی طرف منہ کرکے اسے گولی سے اڑادیا جاتا۔
جلاوطنی کے زمانے میں لینن چوری چھپے روس میں اشتراکی #ادب بیجھتا رہتا ایسے مضمون سگریٹ کے کاغذوں پر لکھے ہوتے اور انہیں شراب کے ڈرموں میں چھپا کر روس درآمد کیا جاتا اور یہ نوجوان ان مضمونوں کو اپنے خفیہ اخبار میں شائع کرتا۔اس کو چھ مرتبہ سائبیریا میں جلاوطن کیا گیا۔پانچ مرتبہ وہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا فرار ہونے کے بعد وہ پھر سے اپنی #ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہوجاتا قید خانے،کوڑے اور موت کی دھمکیاں اس کو متزلزل نہ کرسکیں۔چھٹی دفعہ جب روس کی پولیس نے اسے گرفتار کیا تو اس کی پوری پوری نگرانی کا تہہ کرچکی تھی۔پولیس نے سپاہیوں کی نگرانی
میں اسے ایسے علاقے میں جلاوطن کردیا جہاں بہت تھوڑےلوگ بچ کر واپس آئے تھے۔یہ جگہ سائبیریا میں
بحر منجمند جنوبی سے فقط اٹھارہ میل اس طرف تھی
اگر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتا تو اس بار سردی اور
بھوک سے مر جاتا۔اس نے چار برس انتہائی غیر انسانی اور
خوفناک ماحول میں بسر کئے وہاں اسے کئی کئی روز کھانے
کے لیے کچھ نہیں ملتا اگر اسے لکڑیوں کی ضرورت ہوتی
تو جنگل جاتا اور خود لکڑیاں کاٹ کر لاتا وہاں اتنی شدت۔
کی سردی تھی کہ اس سے مطالعہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔
خود کو منجمد ہونے سے بچانے کے لیے اسے سخت
جسمانی محنت کرنا پڑتی اسے یقین تھا کہ ایک روز
وہ کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوجاے گا۔
آخر 1906ء میں جب روس میں #انقلاب آیا
تو اسے بھی وہاں سے #آذاد کیا گیا۔
بعد میں دنیا نے اس نوجوان کو #جوزف_سٹالن کے
نام سے جانا جو بعد میں روس کا سپریم حکمران بنا!
نوٹ۔زیر نظر تصاویر جوزف سٹالن کے پرانے جارجیا والے گھراور دوسری تصویر جوزف سٹالن کی جوانی کی ہے جو ایک نامعلوم(Unknown Artist) آرٹسٹ نے بنائی ہے،،
بحوالہ کتاب: کلیات ڈیل کارنیگی
مصنف: ڈیل کارنیگی
انتخاب و ٹائپنگ: Shams Ullah Khan


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2834124033484778



