عالمی ادب

Paul Lawrence Dunbar (1872-1906) پال لارنس ڈنبار…

Paul Lawrence Dunbar
(1872-1906)
پال لارنس ڈنبار ایک امریکی شاعر، افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار ہیں۔ وہ ان ابتدائی افریقی-امریکی شاعروں میں سے ہیں جن کو شہرت اور پہچان ملی۔ ان کے والدین امریکہ میں غلامی کے خلاف تحریک سے پہلے غلام رہ چکے تھے۔ غربت اور نسلی تعصب کی وجہ سے بچپن سے جوانی تک اور تعلیم سے ملازمت تک کئی طرح کے مسائل سے دوچار رہے۔ چھ سال کی عمر سے شاعری لکھنا شروع کی۔ مسائل کے باوجود ان کی شاعری کو امریکہ اور دیگر دنیا میں کافی مقبولیت ملی۔ انہوں نے افریقی-امریکی لوگوں کے حقوق کی جدوجہد میں بھی حصہ لیا۔ 1906 میں تینتیس سال کی عمر میں وفات پائی۔
ان کی نظم "Sympathy " نقادوں میں کافی مقبول ہوئی ۔ اس میں ایک پرندے کا دکھ ہے جس کی پرواز اس سے چھین لی جائے۔ اور اس درد کو شاعر سمجھ سکتا ہے کیونکہ اس نے بھی غلامی کا درد کسی نہ کسی صورت میں جھیلا ہے۔ اور یہ نظم آج کے حالات کے لیے بھی ایک آئینہ ہے جیسے کہ آج بھی امریکہ کے سیاہ فام اپنے حقوق کی جنگ میں مصروف ہیں۔ اس نظم کو ہر مظلوم انسان کے دل کی آواز کہا جا سکتا ہے کیونکہ ابھی اس دھرتی کے سب لوگ آزاد نہیں ہوئے۔
معروف شاعرہ مایا اینجلو نے اپنی خودنوشت سوانح حیات کا عنوان اس نظم کی ایک لائن پر رکھا ہے:
'I know why the caged bird sings'

ہمدردی

قفس میں قید پرندے کا درد کیسا ہے
افسوس ہائے افسوس! دل میرا جانتا ہے
ان وادیوں میں جب بھی سورج کا لمس جاگے
سبزے کی نرم لہریں ہلکے سے سرسرائیں
دریا جو بہہ رہا ہے شفاف پانیوں کا
آکاش آ ئے اس میں اپنی شبیہہ کو دیکھے
بلبل کا پہلا نغمہ جب بھی فضا میں گونجے
غنچہ وہ صبحِ نو کا جونہی کھلے تو دیکھو
ننھا سا ایک جھونکا خوشبو چرا کے بھاگے
میں جانتا ہوں اس پل
قفس میں قید پرندے پہ کیا گزرتی ہے !

میں جانتا ہوں کس لیے پر پھڑپھڑائے پنچھی
پر پھڑپھڑائے اس قدر
رنگیں ہوئی ہیں خون سے پنجرے کی یہ سلاخیں
اڑنے کی آرزو ہے
دھن ہے اسے یہ ہر پل شاخِ چمن پہ بیٹھے
برسوں پرانے گھاؤ لو دے رہے ہیں اب تک
اور درد پل رہا ہے کچھ اور شدتوں سے
میں جانتا ہوں اس لیے پر پھڑپھڑائے پنچھی

میں جانتا ہوں کس لیے نغمے سنائے پنچھی
جب جب ہوں پر لہو لہو، زخموں سے سینہ چور ہو
شاید ملے رہائی ظالم سلاخیں توڑ کر
نہیں یہ نغمہ خوشی کا نہیں، دعا ہے یہ
اور التجا ہے یہ
دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی معصوم دعا
اک مناجات ہے جو عرش کو یہ بھیج رہا
میں جانتا ہوں کس لیے، افسوس ہائے افسوس!
میں جانتا ہوں کس لیے نغمے سنائے پنچھی۔

Sympathy

I know what the caged bird feels, alas!
When the sun is bright on the upland slopes;
When the wind stirs soft through the springing grass,
And the river flows like a stream of glass;
When the first bird sings and the first bud opes,
And the faint perfume from its chalice steals—
I know what the caged bird feels!

I know why the caged bird beats its wing
Till its blood is red on the cruel bars;
For he must fly back to his perch and cling
When he fain would be on the bough a-swing;
And a pain still throbs in the old, old scars
And they pulse again with a keener sting—
I know why he beats his wing!

I know why the caged bird sings, ah me,
When his wing is bruised and his bosom sore,—
When he beats his bars and he would be free;
It is not a carol of joy or glee,
But a prayer that he sends from his heart's deep core,
But a plea, that upward to Heaven he flings—
I know why the caged bird sings!


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2818121571751691

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/