منتخب غزلیں
اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنے ہم نے سوچ …
اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنے
ہم نے سوچ رکھا ہے، رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گے، شوخ تیرے قدموں پہ
ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اُتاریں گے
تُو کہ آج قاتل ہے ، پھر بھی راحتِ دل ہے
زہر کی ندی ہے تُو، پھر بھی قیمتی ہے تُو
پست حوصلے والے، تیرا ساتھ کیا دیں گے
زندگی ادھر آ جا, ہم تجھے گزاریں گے
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہے
انگلیوں سے جو ٹپکے، اُس لہو کی حاجت ہے
آپ زلفِ جاناں کے، خم سنوارئیے صاحب
زندگی کی زلفوں کو، آپ کیا سنواریں گے؟؟
ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں
بے قرار لمحے ہیں، بے تھکان صدیاں ہیں
کوئی ساتھ میں اپنے آئے یا نہ آئے
جو ملے گا رستے میں، ہم اُسے پکاریں گے
(ظفر گورکھپوری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

