ساری موتیں نوبل انعام یافتہ جرمن شاعر اور ادیب ہی…

ساری موتیں
نوبل انعام یافتہ جرمن شاعر اور ادیب ہیرمان ہَیسے کی ایک نظم
(Alle Tode / Hermann Hesse)
میں ساری موتیں مر بھی چکا
میں ساری موتیں پھر سے مرنا چاہوں
درخت میں لکڑی کی موت
پہاڑوں میں پتھر کی موت
ریت میں مٹی کی موت
گرما کی گھاس کے کڑکڑاتے پتوں کی موت
اور بے بس خون آلود انسان کی موت
میں چاہتا ہوں کہ پھول بن کر پھر جنم لوں
پیڑ اور گھاس کی صورت پھر میرا ظہور ہو
مچھلی، ہرن، پرندے اور تتلی کی صورت بھی
وجود کی ایسی ہر شکل میں وصل کی خواہش
مجھے مرحلہ وار چیرتی پھاڑتی
اس حتمی دکھ تک لے جائے گی
جو انسانوں کا دکھ ہے
اے تنی ہوئی، تھرکتی ہوئی کمان!
جب شدید تر ہوتی وصل کی خواہش
اس ہاتھ سے مطالبہ کرے کہ وہ
زندگی کے قطبین کو موڑ کر
ایک دوسرے کے قریب تر کر دے
تب تم میرا شکار کرو گی،
پھر ایک بار اور پھر بار بار،
موت سے لے کر کئی شکلوں میں پیدائش تک،
شکلیں جو پُردرد راستے کے پڑاؤ ہیں
شکلیں جو شاندار راستے کے پڑاؤ ہیں
(جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک)
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2753599598203889



