منتخب غزلیں

آج جانے کی ضد نہ کرو یونہی پہلو میں بیٹھے رہو ہائ…


آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
ہائے مرجائیں گے، ہم تو لٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
تم ہی سوچو ذرا، کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جانِ جاں
بات اتنی میری مان لو
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر ابھی جانِ جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو
کتنا معصوم و رنگیں ہے یہ سماں
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جانِ جاں
روک لو آج کی رات کو
گیسوؤں کی شکن ہے ابھی شبنمی
اور پلکوں کے سائے بھی مدہوش ہیں
حسنِ معصوم کو جانِ جاں
بے خودی میں نہ رسوا کرو

فیاض ہاشمی۔۔۔!!

Related Articles

24 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/