منتخب غزلیں

کبھی پیغامِ سکوں تیری نظر نے نہ دیا زِندگی …

کبھی پیغامِ سکوں تیری نظر نے نہ دیا
زِندگی چھین لی اِس طرح کہ مرنے نہ دیا

تھی بہارِ گُلِ جلوہ کہ ہوا کا جھونکا
جس نے دامن نگہِ شوق کا بھرنے نہ دیا

دی جِس احساس نے مرنے کی تمنا ہم کو
اُسی احساس کی رعنائی نے مرنے نہ دیا

جانے کیا قصۂ غم تھا کہ نظر نے تیری
بھُولنے بھی نہ دیا یاد بھی کرنے نہ دیا

عُمر بھر ایک تمنائے سکوں نے ہم کو
دِل کی بیتابی کا اندازہ بھی کرنے نہ دیا

مشفق خواجہ

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/