عالمی ادب
بلوچستان کے پست قبائل (دوسرا حصہ) لوہڑی یہ عجیب…

بلوچستان کے پست قبائل (دوسرا حصہ)
لوہڑی
یہ عجیب وغریب لوگ پورے علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی ہر قبیلہ اور قبائلی گروہ سے منسلک ہیں۔ یہ سرمسٹاری بھی کہلاتے ہیں، کیوں کہ یہ سرمست کو اپنا مورث بتاتے ہیں جو ان کے مطابق احمد زئی براہویوں کے مورث کا بھائی تھا۔ لیکن دیگر قبائلی ان کے دعویٰ کو بالکل لغو قرار دیتے ہیں۔ یہ بلوچستان کا واحد قبیلہ تھا جو صنعت و حرف سے منسلک تھا۔ یہ دستکار ہیں، جیسے ترکھان، لوہار اور سنار یا مسیقار اور گائک ہیں۔ جو سرکردہ قبائلی خاندانوں میں شادی و مرگ پر منظوم قصے گاتے ہیں اور ان مہمان خانوں میں ضروری خدمات بجالاتے ہیں۔ وہ اپنے مربی قبیلوں اور طایفوں کی خصوصی حفاظت میں ہیں اور اپنی مراعات و حقوق کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔
جو لوہڑی آباد نہیں بلکہ خانہ بدوش ہیں، مذکور بالا پیشوں کے علاوہ بازی گری بھی کرتے ہیں اور ان کی عورتیں ہاتھ دیکھنے اور قسمت کا حال بنانے میں ماہر سمجھی جاتی ہیں۔ لوہڑی غنڈے اور آوارہ بھی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی چوریاں ضرب المثل ہیں۔
کسی لوہڑی سے پوچھا جائے کہ وہ کون ہے؟ تو وہ خود کو لوہڑی نہیں کہے گا، بلکہ بتائے گا کہ وہ سرمستاری۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو سب لوہڑیوں نے اپنا لیا ہے یا ایک استاد۔ آخر الذکر نام دستکاروں یا ٹھٹھیروں کے پیشے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سب لوہڑی اپنی میں منہک رہتے ہیں۔ ان کی خصیت ان کی ایک خفیہ بولی ہے جو کہ مختلف زبانوں مثلاً بلوچی، اردو، پنجابی، پشتو وٖغیرہ کے الفاظوں کو الٹ کر ترتیب دی گئی ہے اور آپس اکثر بات جیت کرتے ہیں۔
قلات کے دہوار
روایت کے مطابق احمد زئیوں کا قلات پر قبضہ دیہواروں کی مدد کا مرحون منت ہے۔ انہوں نے گورنر مندو کو مار دیا تھا اور میر ابراہیم میرواڑیوں کو مسند نشینی کی دعوت دی۔ جس نے اپنے پوتے میر حسن کو بھیج دیا۔ ماضی میں قریباً تمام دہوار خان کے مزارع تھے اور انتظامی مقاصد کے لیے وہ براہویوں کے برعکس خالص سرکاری رعایا سمجھے جاتے تھے اور خان کی تمام خدمات بلاتنخوا بجا لاتے تھے۔ اس کے علاوہ مہمانوں کی ضروریات از قسم ایندھن، چارہ اور ایلچی مہیا کرتے تھے۔
دہوار محنت اور بے ضرور لوگ ہیں۔ وہ دہیہ یا گاؤں میں رہنے کی وجہ سے دیہوار کہلاتے ہیں۔ وہ براہویوں میں رہنے کے باوجود ان کی طرح میدانوں میں سالانہ ہجرت نہیں کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں خان کو فوجی دستہ بھی مہیا نہیں کرتے تھے، لیکن براہویوں کی ماتحتی گوارہ تھی۔ یہ قبیلہ تاجک ماخذ ہے اور انہی کی طرح فارسی بولتا ہے۔ قلاتی دہواروں کے پانچ ٹھکر ڑوڈکی، رئیس طوق، ٹونسٹی، علی زئی اور مغلزئی ہیں۔ جب کہ مستونگی دہوار اپنے علاقوں کے نام سے مشہور ہیں۔ جیسے مستونگی دہوار، پڑنگی آبادی دہوار اور تیرچی، مستونگی خواجہ خیل، شیخ، سارنگ، ہوتیزئی، سولانی، آبیزئی، زرخیل اور دادیزئی اور کئی چھوٹی اکائیاں اور بہت سے بے گانے بھی ان میں شامل ہیں۔
بلوچستان کے جاٹ
جاٹوں کا مرکزہ اس علاقے کے قدیم باشندوں میں معلوم ہوتا ہے اور اغلب یہ کہ ان میں سے کچھ جو اصلی ہندؤں کی اولاد ہیں اور مسلمانوں کی فتوحات کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ لیکن یہ اب ایسے مسلمانون گروہوں کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے جو افغان، بلوچ، سیّد اور براہوئی نہیں ہیں، یا ان نسلوں کی باقیات ہیں جو قصر ذلت میں گر گئیں ہیں اور اپنی قومیت کھو بیٹھی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں آرائیں اور گوجر ہمسایہ صوبوں میں علحیدہ زاتیں ہیں، بہت سے لوہری ہیں جو یہاں نوارد ہیں اور دیگر کئی نسلی پاڑے جاٹ کی اصلاحی کوزے میں بند کردئے جاتے ہیں۔ یہ آمزیش قدرتی اور مصنوعی دونوں قسم کی وجوہات کا نتیجہ ہیں۔ کیوں کہ اعداد شمار بتاتے ہیں ان تمام لوگوں کو جاٹ میں شمار کرنے کا رجحان عام ہے جن کا ماخذ مشکوک تھا یا جن کے متعلق معلومات کا فقدان تھا۔
مقامی جاٹوں سب سے زیادہ تعداد ابرا کی ہے، اس کے علاوہ یہاں ماچھی، سُمرا، بمان، چھُکڑا، بُرا، باہنی، بوہڑا، مستوئی، ڈنڈور، کلوار، اٹاریہ دریع، مہیا، بارا، رہواجہ، اور بانو شامل ہیں۔ سندھ اور پنجاب سے آنے والوں میں بھٹی، سیال، کھوکر، ارائیں، جویا، رِد، گجر، اعوان، کالا، ڈھنیڈو، کرل اور ڈھیڑ شامل ہیں۔ دیگر طائفوں میں کٹ پار، جنگر، ٹونیہ یا تنجیہ، منجھو، پیجھو، چاچڑ، ایری، کڑاڑ، ساہتو، ڈیتھا، سیاپوست، دھر پال، سپر برہیجا، بلال، جٹائی، واجہ، مہین، اوٹران، کوری یا جولاہے بہی، گگرا یا خاکورب، سیانج اور مانا قابل ذکر ہیں۔ یہ سندھی جاٹ ہیں اور سندھ سے آئے ہیں۔
مندرجہ ذیل طائفہ بلوچ ماخذ کے بتائے جاتے ہیں، لیکن اب جاٹوں میں شمار ہوتے ہیں، کہر، بھنڈ، رستی، گولا، اور ہڈکری کے علاوہ لوہری کا شمار جاٹوں میں ہوتا ہے۔
ہیوگز بلر کا کہنا کہ جاٹوں میں بھی اندرونی تمیز ہے بلوچ، شتربانوں اور چرواہوں کو جاٹ قبیلہ کے اندر جت طائفہ سے پکارا جاتا ہے۔ یہ شتر بان دیگر جاٹوں سے مختلف زبان بولتے ہیں اور ان کی کئی رسمیں دیگر جاٹوں بھی الگ ہیں۔ ماخذ کے لحاظ سے بھی وہ جاٹوں سے علحیدہ ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچوں کے ساتھ سن کے چرواہوں کی حثیت سے آئے تھے۔ ان کے بڑے بڑے طائفہ میر جت، لاشاری، مجیدانی، بَھنڈ، لجوانی، بّبر، سوانی اور بلادی ہیں۔
ماضی میں جاٹ براہویوں اور بلوچوں کے محکوم رہتے ہیں۔ وہ کاشت کار ہیں اور اپنی پیداوار کا ایک حصہ اپنے آقاؤں کو دیتے ہیں، قبائل انہیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور خود جاٹ بھی اس حثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
لانگو
لانگو ساروانی قبائل میں سب سے کثیر التعداد ہیں۔ لانگو منگوچر وادی میں کاشت کرتے ہیں اور زیادہ تر خان، رئیسانی، اور محمد شاہیوں کہ مزارحین کی حثیت سے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مستونگ، گرگینہ، اسپنچی اور دشت بیدولت کے علاوہ دشت گوران، ماما ناوا، نال اور وڈھ میں ملتی ہے۔
قبیلہ کا مرکزہ حاجی خان کی اولاد ہے، جو میر چاکر کا وفادار تھا اور نان کے قریب گریشہ میں رہتا تھا، اس کی ایک بیٹی تھی جو میر قیصر والی قلات سے بیاہی گئی تھی۔
لانگو کا طائفہ بلکہ ہر خاندان میں بے گانے بروک ہیں، جس میں حب کے نوتانی، چھٹہ، لسبیلہ کے لمریا، خاران کے رخشانی، قندھار کے افغان، جھلان کے سناری اور محمد حسنی، بنہ اور پشین کے کاکڑ، کوئٹہ کے کاسی، کولواہ کے میرواڑی،نوشکی کے ذگر مینگل، کچھی کے ڈومبکی، ہارونی، قلندرانی، مینگل، بنگلرانی شامل ہیں۔ حلانکہ لانگو ایک ماتحت نسل سمجھی جاتی ہے۔ ان کا سردار دیگر ساروانی سرداروں کے ہم پلہ نہیں ہے۔ ان کا بڑا پیشہ زراعت ہے۔ پرانی رسم کے مطابق قبیلہ کو خان کی زمینیں کاشت کرنی پرتی ہیں۔
قلات میں براہوئی انہیں ایک گھٹیا نسل سمجھ کر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن نوشکی میں ایسا نہیں ہے، جہاں وہ کبھی کبھار دیگر قبائل سے رشتہ ناطہ کرتے ہیں۔
لسبیلہ میں لنگاہ ٹھوری تعداد میں مختلف قبائل میں ملتے ہیں اور شادی، مرگ اور خطنہ پر عطیات پر گزارہ کرتے ہیں۔ وہ یہاں زیادہ تر گھریلو ملازم ہیں۔
عبدالمعین انصاری
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2090043787892810
لوہڑی
یہ عجیب وغریب لوگ پورے علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی ہر قبیلہ اور قبائلی گروہ سے منسلک ہیں۔ یہ سرمسٹاری بھی کہلاتے ہیں، کیوں کہ یہ سرمست کو اپنا مورث بتاتے ہیں جو ان کے مطابق احمد زئی براہویوں کے مورث کا بھائی تھا۔ لیکن دیگر قبائلی ان کے دعویٰ کو بالکل لغو قرار دیتے ہیں۔ یہ بلوچستان کا واحد قبیلہ تھا جو صنعت و حرف سے منسلک تھا۔ یہ دستکار ہیں، جیسے ترکھان، لوہار اور سنار یا مسیقار اور گائک ہیں۔ جو سرکردہ قبائلی خاندانوں میں شادی و مرگ پر منظوم قصے گاتے ہیں اور ان مہمان خانوں میں ضروری خدمات بجالاتے ہیں۔ وہ اپنے مربی قبیلوں اور طایفوں کی خصوصی حفاظت میں ہیں اور اپنی مراعات و حقوق کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔
جو لوہڑی آباد نہیں بلکہ خانہ بدوش ہیں، مذکور بالا پیشوں کے علاوہ بازی گری بھی کرتے ہیں اور ان کی عورتیں ہاتھ دیکھنے اور قسمت کا حال بنانے میں ماہر سمجھی جاتی ہیں۔ لوہڑی غنڈے اور آوارہ بھی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی چوریاں ضرب المثل ہیں۔
کسی لوہڑی سے پوچھا جائے کہ وہ کون ہے؟ تو وہ خود کو لوہڑی نہیں کہے گا، بلکہ بتائے گا کہ وہ سرمستاری۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو سب لوہڑیوں نے اپنا لیا ہے یا ایک استاد۔ آخر الذکر نام دستکاروں یا ٹھٹھیروں کے پیشے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سب لوہڑی اپنی میں منہک رہتے ہیں۔ ان کی خصیت ان کی ایک خفیہ بولی ہے جو کہ مختلف زبانوں مثلاً بلوچی، اردو، پنجابی، پشتو وٖغیرہ کے الفاظوں کو الٹ کر ترتیب دی گئی ہے اور آپس اکثر بات جیت کرتے ہیں۔
قلات کے دہوار
روایت کے مطابق احمد زئیوں کا قلات پر قبضہ دیہواروں کی مدد کا مرحون منت ہے۔ انہوں نے گورنر مندو کو مار دیا تھا اور میر ابراہیم میرواڑیوں کو مسند نشینی کی دعوت دی۔ جس نے اپنے پوتے میر حسن کو بھیج دیا۔ ماضی میں قریباً تمام دہوار خان کے مزارع تھے اور انتظامی مقاصد کے لیے وہ براہویوں کے برعکس خالص سرکاری رعایا سمجھے جاتے تھے اور خان کی تمام خدمات بلاتنخوا بجا لاتے تھے۔ اس کے علاوہ مہمانوں کی ضروریات از قسم ایندھن، چارہ اور ایلچی مہیا کرتے تھے۔
دہوار محنت اور بے ضرور لوگ ہیں۔ وہ دہیہ یا گاؤں میں رہنے کی وجہ سے دیہوار کہلاتے ہیں۔ وہ براہویوں میں رہنے کے باوجود ان کی طرح میدانوں میں سالانہ ہجرت نہیں کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں خان کو فوجی دستہ بھی مہیا نہیں کرتے تھے، لیکن براہویوں کی ماتحتی گوارہ تھی۔ یہ قبیلہ تاجک ماخذ ہے اور انہی کی طرح فارسی بولتا ہے۔ قلاتی دہواروں کے پانچ ٹھکر ڑوڈکی، رئیس طوق، ٹونسٹی، علی زئی اور مغلزئی ہیں۔ جب کہ مستونگی دہوار اپنے علاقوں کے نام سے مشہور ہیں۔ جیسے مستونگی دہوار، پڑنگی آبادی دہوار اور تیرچی، مستونگی خواجہ خیل، شیخ، سارنگ، ہوتیزئی، سولانی، آبیزئی، زرخیل اور دادیزئی اور کئی چھوٹی اکائیاں اور بہت سے بے گانے بھی ان میں شامل ہیں۔
بلوچستان کے جاٹ
جاٹوں کا مرکزہ اس علاقے کے قدیم باشندوں میں معلوم ہوتا ہے اور اغلب یہ کہ ان میں سے کچھ جو اصلی ہندؤں کی اولاد ہیں اور مسلمانوں کی فتوحات کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ لیکن یہ اب ایسے مسلمانون گروہوں کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے جو افغان، بلوچ، سیّد اور براہوئی نہیں ہیں، یا ان نسلوں کی باقیات ہیں جو قصر ذلت میں گر گئیں ہیں اور اپنی قومیت کھو بیٹھی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں آرائیں اور گوجر ہمسایہ صوبوں میں علحیدہ زاتیں ہیں، بہت سے لوہری ہیں جو یہاں نوارد ہیں اور دیگر کئی نسلی پاڑے جاٹ کی اصلاحی کوزے میں بند کردئے جاتے ہیں۔ یہ آمزیش قدرتی اور مصنوعی دونوں قسم کی وجوہات کا نتیجہ ہیں۔ کیوں کہ اعداد شمار بتاتے ہیں ان تمام لوگوں کو جاٹ میں شمار کرنے کا رجحان عام ہے جن کا ماخذ مشکوک تھا یا جن کے متعلق معلومات کا فقدان تھا۔
مقامی جاٹوں سب سے زیادہ تعداد ابرا کی ہے، اس کے علاوہ یہاں ماچھی، سُمرا، بمان، چھُکڑا، بُرا، باہنی، بوہڑا، مستوئی، ڈنڈور، کلوار، اٹاریہ دریع، مہیا، بارا، رہواجہ، اور بانو شامل ہیں۔ سندھ اور پنجاب سے آنے والوں میں بھٹی، سیال، کھوکر، ارائیں، جویا، رِد، گجر، اعوان، کالا، ڈھنیڈو، کرل اور ڈھیڑ شامل ہیں۔ دیگر طائفوں میں کٹ پار، جنگر، ٹونیہ یا تنجیہ، منجھو، پیجھو، چاچڑ، ایری، کڑاڑ، ساہتو، ڈیتھا، سیاپوست، دھر پال، سپر برہیجا، بلال، جٹائی، واجہ، مہین، اوٹران، کوری یا جولاہے بہی، گگرا یا خاکورب، سیانج اور مانا قابل ذکر ہیں۔ یہ سندھی جاٹ ہیں اور سندھ سے آئے ہیں۔
مندرجہ ذیل طائفہ بلوچ ماخذ کے بتائے جاتے ہیں، لیکن اب جاٹوں میں شمار ہوتے ہیں، کہر، بھنڈ، رستی، گولا، اور ہڈکری کے علاوہ لوہری کا شمار جاٹوں میں ہوتا ہے۔
ہیوگز بلر کا کہنا کہ جاٹوں میں بھی اندرونی تمیز ہے بلوچ، شتربانوں اور چرواہوں کو جاٹ قبیلہ کے اندر جت طائفہ سے پکارا جاتا ہے۔ یہ شتر بان دیگر جاٹوں سے مختلف زبان بولتے ہیں اور ان کی کئی رسمیں دیگر جاٹوں بھی الگ ہیں۔ ماخذ کے لحاظ سے بھی وہ جاٹوں سے علحیدہ ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچوں کے ساتھ سن کے چرواہوں کی حثیت سے آئے تھے۔ ان کے بڑے بڑے طائفہ میر جت، لاشاری، مجیدانی، بَھنڈ، لجوانی، بّبر، سوانی اور بلادی ہیں۔
ماضی میں جاٹ براہویوں اور بلوچوں کے محکوم رہتے ہیں۔ وہ کاشت کار ہیں اور اپنی پیداوار کا ایک حصہ اپنے آقاؤں کو دیتے ہیں، قبائل انہیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور خود جاٹ بھی اس حثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
لانگو
لانگو ساروانی قبائل میں سب سے کثیر التعداد ہیں۔ لانگو منگوچر وادی میں کاشت کرتے ہیں اور زیادہ تر خان، رئیسانی، اور محمد شاہیوں کہ مزارحین کی حثیت سے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مستونگ، گرگینہ، اسپنچی اور دشت بیدولت کے علاوہ دشت گوران، ماما ناوا، نال اور وڈھ میں ملتی ہے۔
قبیلہ کا مرکزہ حاجی خان کی اولاد ہے، جو میر چاکر کا وفادار تھا اور نان کے قریب گریشہ میں رہتا تھا، اس کی ایک بیٹی تھی جو میر قیصر والی قلات سے بیاہی گئی تھی۔
لانگو کا طائفہ بلکہ ہر خاندان میں بے گانے بروک ہیں، جس میں حب کے نوتانی، چھٹہ، لسبیلہ کے لمریا، خاران کے رخشانی، قندھار کے افغان، جھلان کے سناری اور محمد حسنی، بنہ اور پشین کے کاکڑ، کوئٹہ کے کاسی، کولواہ کے میرواڑی،نوشکی کے ذگر مینگل، کچھی کے ڈومبکی، ہارونی، قلندرانی، مینگل، بنگلرانی شامل ہیں۔ حلانکہ لانگو ایک ماتحت نسل سمجھی جاتی ہے۔ ان کا سردار دیگر ساروانی سرداروں کے ہم پلہ نہیں ہے۔ ان کا بڑا پیشہ زراعت ہے۔ پرانی رسم کے مطابق قبیلہ کو خان کی زمینیں کاشت کرنی پرتی ہیں۔
قلات میں براہوئی انہیں ایک گھٹیا نسل سمجھ کر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن نوشکی میں ایسا نہیں ہے، جہاں وہ کبھی کبھار دیگر قبائل سے رشتہ ناطہ کرتے ہیں۔
لسبیلہ میں لنگاہ ٹھوری تعداد میں مختلف قبائل میں ملتے ہیں اور شادی، مرگ اور خطنہ پر عطیات پر گزارہ کرتے ہیں۔ وہ یہاں زیادہ تر گھریلو ملازم ہیں۔
عبدالمعین انصاری
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2090043787892810



