عالمی ادب
کھڑکی کے شیشوں پر شبنم کی آشوب ہے میری نگاہ میں …

کھڑکی کے شیشوں پر شبنم کی آشوب ہے
میری نگاہ میں کوئی راستہ نہیں
جس پر چلتے ہوئے تم میرے اندر آ جاؤ
اور خود کو دیکھ سکو
سورج اور آگ میں وہ والی گرمی اور
روشنی نہیں رہی کہ تم چنگاری زدہ
خواب سے سرد خاک کو کم کر سکو
یہ کوئی اور موسم ہے جو ہمارے اندر
موجود خوبصورتی کے واضح ترین
احساس کو پیچیدہ بنا رہا ہے
بھلا ہو خزاں کا جو ہمارے منظر میں
رنگ برنگا طوفان بپا کرتا ہے
میں خود خاموش ہوں
عرض مطلب یہ ہے کہ کچھ افسردگی ہے
جو اس سال بھی ختم نہیں ہو گی
میرے سینے سے
میرے جسم سے
ایرانی شاعر احمد شاملو
ترجمہ : مدثر عباس
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2965283997035447



