زندگی میں سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ نہیں ہوتا جب کوئی…
سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب ایک دن اچانک آپ کو احساس ہو کہ وہ شخص تو کب کا جا چکا تھا، صرف آپ ہی تھے جو اب تک اس کی زندگی کے برآمدے میں رکھی ایک اضافی کرسی کی طرح موجود تھے۔ ایسی کرسی، جسے کوئی پھینکتا بھی نہیں، مگر کبھی اس پر بیٹھتا بھی نہیں۔
یہ احساس مجھے کسی جھگڑے، کسی الزام یا کسی بے وفائی نے نہیں دیا۔
یہ احساس ایک خاموش شام نے دیا۔
میں اس کے گھر گیا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا، مسکرائی بھی، عزت سے اندر بھی بٹھایا۔ چائے بھی آئی، رسمی باتیں بھی ہوئیں، گھر والے بھی آتے جاتے رہے۔ ہر چیز بالکل ٹھیک تھی۔
صرف ایک چیز غلط تھی۔
میری موجودگی سے کسی چیز میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
میں وہاں ہوتا یا نہ ہوتا، گفتگو اسی رفتار سے چلتی، قہقہے اسی شدت سے گونجتے، چائے ویسی ہی ٹھنڈی ہوتی، شام ویسے ہی ڈھل جاتی۔
میں پہلی بار اپنی غیر موجودگی کو اپنی موجودگی سے زیادہ واضح دیکھ رہا تھا۔
واپسی پر اس نے دروازے تک آ کر کہا،
"پھر کبھی آئیے گا۔”
یہ جملہ برسوں سے سنتا آیا تھا، مگر اس دن پہلی بار اس کے اندر کی خالی جگہ سنائی دی۔
میں گھر آ کر دیر تک آئینے کے سامنے کھڑا رہا۔
انسان جب دوسروں کی نظروں سے گرنے لگتا ہے تو پہلے آئینہ بدلتا ہے۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں، مگر اپنے اندر کہیں ایک سوال جنم لیتا ہے:
"کیا میں واقعی کسی کی زندگی میں ضروری ہوں، یا صرف ایک اچھی عادت؟”
اس رات میں نے ہماری پرانی گفتگو کھولی۔
صرف ایک تجربہ کرنے کے لیے۔
میں نے پورا صفحہ اوپر تک اسکرول کیا۔
ہر بار بات میں نے شروع کی تھی۔
ہر ملاقات کی خواہش میری تھی۔
ہر ناراضی میں نے منائی تھی۔
ہر خاموشی میں نے توڑی تھی۔
اور ہر انتظار…
صرف میرا تھا۔
مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ بعض رشتے محبت سے نہیں، ایک ہی شخص کی مستقل کوشش سے زندہ رہتے ہیں۔
جس دن وہ کوشش رک جائے، رشتہ اپنی اصل عمر بتا دیتا ہے۔
اگلی صبح میں نے کوئی اعلان نہیں کیا۔
کوئی شکوہ نہیں لکھا۔
کوئی آخری پیغام نہیں بھیجا۔
کوئی حساب نہیں مانگا۔
محبت اگر عزتِ نفس چھیننے لگے تو وہ محبت نہیں رہتی، ایک خاموش بھیک بن جاتی ہے۔
اور میں بھکاری نہیں بننا چاہتا تھا۔
میں آہستہ آہستہ اس کی دنیا سے نکل آیا۔
اتنی خاموشی سے کہ شاید اسے کئی دن بعد احساس ہوا ہو… یا شاید کبھی نہ ہوا ہو۔
شروع میں بہت تکلیف ہوئی۔
صبحیں بے رنگ لگیں، شامیں لمبی ہو گئیں، اور راتیں سوال پوچھتی رہیں کہ اگر وہ ایک بار بلا لے تو؟
لیکن پھر ایک دن میں نے جان لیا کہ ہجر انسان کو کمزور ضرور کرتا ہے، مگر ذلیل نہیں کرتا۔
ذلت تب شروع ہوتی ہے جب آدمی وہاں کھڑا رہے جہاں اس کی ضرورت ختم ہو چکی ہو، اور وہ پھر بھی اپنی موجودگی کا جواز ڈھونڈتا پھرے۔
آج برسوں بعد بھی میں اس کے لیے بددعا نہیں کرتا۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں رہنے کے لیے نہیں آتے، صرف یہ سکھانے آتے ہیں کہ محبت مانگی نہیں جاتی، اور اپنی قدر کسی کے دروازے پر رکھ کر واپس نہیں ملتی۔
اب اگر کبھی کوئی پوچھے کہ محبت کا سب سے مشکل سبق کیا تھا؟
میں صرف اتنا کہوں گا:
"جس دن مجھے معلوم ہوا کہ میں کسی کی زندگی میں ایک اضافی شے ہوں، اسی دن میں نے خاموشی سے منظر چھوڑ دیا۔ کیونکہ محبت ہجر تو برداشت کر لیتی ہے… مگر تذلیل نہیں۔”
اضافی شے
©️ انتخاب سخن