منتخب غزلیں
تعلق ایسا بندھن ہے جو توڑا بھی نہیں جاتا اسے گر چھ…

تعلق ایسا بندھن ہے جو توڑا بھی نہیں جاتا
اسے گر چھوڑنا چاہیں تو چھوڑا بھی نہیں جا تا
….
نوشاد نوریؔ کا یومِ وفات
July 18, 2000
محمد مصطفٰے معصوم ہاشمی کا قلمی نام نوشاد نوریؔ تھا اور اسی نام سے وہ جانے جاتے تھے۔ وہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۶ میں در بھنگہ میں پیدا ہوئے تھے۔
اب کوئی چارہ نہیں قطع محبت کے سوا
اب کوئی راہ نہیں جنگ مسلح کے بغیر
اب کوئی ربط نہیں ، جذبۂ نفرت کے سوا
تاریخ کا دیباچہ ‘‘
بیتے ہوئے ادوار کے ہم بھی نگراں ہیں
نادیدہ زمانے کی طرف ہم بھی رواں ہیں
اس دور المناک میں ہم چشم و زباں ہیں
…..
تعلق ایسا بندھن ہے جو توڑا بھی نہیں جاتا
اسے گر چھوڑنا چاہیں تو چھوڑا بھی نہیں جا تا
بدل دیتے ہیں بیداری میں رخ اپنے خیالوں کا
مگر سوتے میں رخ خوابوں کا موڑا بھی نہیں جاتا
نہ اب یارائے ہجرت ہے نہ تاب دشت پیمائی
یہی مشکل ہے اب زنداں کو چھوڑابھی نہیں جا تا
نظم ’’ وارفتگی ‘‘
روزن در کو کھلا رکھنے کا مو سم آیا
ٹوٹتی رات میں کب کس کا پیام آجائے
نیم شب چھپتا چھپاتا ہوا سناٹے میں
کس طرف سے کوئی آوارہ خرام آجائے
نطق کو مہر کرو ، ہونٹ کو سی کر رکھو
بارے لب پر کوئی بے ساختہ نام آجائے
نظم ’’ روایت ہے ‘‘
میں زمانے پہ صحیفے کی طرح اترا ہوں
روشنی مجھ سے تفکر کو ودیعت ہو گی
میرے مخطوطہٗ کمیاب کو محفوظ رکھو
اس حوالے کی مؤرخ کو ضرورت ہو گی
اس کٹھن دور کی نا گفتہ صداقت لو گو
میری ہی ذات گرامی سے روایت ہوگی
اپنی آخری عمر میں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہے اور ۷۵ سال کی عمر میں ۱۸ جولائی سن ۲۰۰۰ میں ڈھاکے میں انتقال کیا۔
اسے گر چھوڑنا چاہیں تو چھوڑا بھی نہیں جا تا
….
نوشاد نوریؔ کا یومِ وفات
July 18, 2000
محمد مصطفٰے معصوم ہاشمی کا قلمی نام نوشاد نوریؔ تھا اور اسی نام سے وہ جانے جاتے تھے۔ وہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۶ میں در بھنگہ میں پیدا ہوئے تھے۔
اب کوئی چارہ نہیں قطع محبت کے سوا
اب کوئی راہ نہیں جنگ مسلح کے بغیر
اب کوئی ربط نہیں ، جذبۂ نفرت کے سوا
تاریخ کا دیباچہ ‘‘
بیتے ہوئے ادوار کے ہم بھی نگراں ہیں
نادیدہ زمانے کی طرف ہم بھی رواں ہیں
اس دور المناک میں ہم چشم و زباں ہیں
…..
تعلق ایسا بندھن ہے جو توڑا بھی نہیں جاتا
اسے گر چھوڑنا چاہیں تو چھوڑا بھی نہیں جا تا
بدل دیتے ہیں بیداری میں رخ اپنے خیالوں کا
مگر سوتے میں رخ خوابوں کا موڑا بھی نہیں جاتا
نہ اب یارائے ہجرت ہے نہ تاب دشت پیمائی
یہی مشکل ہے اب زنداں کو چھوڑابھی نہیں جا تا
نظم ’’ وارفتگی ‘‘
روزن در کو کھلا رکھنے کا مو سم آیا
ٹوٹتی رات میں کب کس کا پیام آجائے
نیم شب چھپتا چھپاتا ہوا سناٹے میں
کس طرف سے کوئی آوارہ خرام آجائے
نطق کو مہر کرو ، ہونٹ کو سی کر رکھو
بارے لب پر کوئی بے ساختہ نام آجائے
نظم ’’ روایت ہے ‘‘
میں زمانے پہ صحیفے کی طرح اترا ہوں
روشنی مجھ سے تفکر کو ودیعت ہو گی
میرے مخطوطہٗ کمیاب کو محفوظ رکھو
اس حوالے کی مؤرخ کو ضرورت ہو گی
اس کٹھن دور کی نا گفتہ صداقت لو گو
میری ہی ذات گرامی سے روایت ہوگی
اپنی آخری عمر میں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہے اور ۷۵ سال کی عمر میں ۱۸ جولائی سن ۲۰۰۰ میں ڈھاکے میں انتقال کیا۔



