منتخب نظمیں

"میں تمہارا شوہر ہوں۔ کیا میں سب سے زیادہ اہم نہیں…

💥”میں تمہارا شوہر ہوں۔ کیا میں سب سے زیادہ اہم نہیں؟” 💔🥺

کبھی کبھی آدمی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دو الگ زمانوں میں بسنے لگتا ہے۔

وہ شام بھی ایسی ہی تھی۔

مغرب کی اذان ابھی محلے کی مسجد سے بلند ہوئی تھی۔ صحن میں نیم کا درخت ہلکی ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کر رہا تھا۔ چولہے پر دال کی خوشبو تھی، مگر گھر کے اندر ایک ایسی خاموشی اتر آئی تھی جو کسی ٹوٹے ہوئے برتن کی آواز کے بعد پھیلتی ہے۔

عالیہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی کے موڑ پر اس کا شوہر حمزہ جاتے ہوئے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھ سکا۔

وہ دروازہ بند ہونے کی آواز سنتی رہی، جیسے کوئی پرانا قصہ اپنے آخری صفحے پر پہنچ گیا ہو۔

عالیہ اکلوتی اولاد تھی۔ اس کی زندگی ہمیشہ ایک درخت کی طرح رہی تھی جس کی جڑیں ایک ہی مٹی میں بہت گہری اتر گئی ہوں۔ والدین، خالائیں، ماموں، پھوپھیاں، چچا زاد، ماموں زاد… سب ایک ہی شہر میں تھے۔ کسی کے گھر چائے، کسی کے ہاں عیادت، کسی کی خوشی، کسی کا غم۔ اس کی زندگی ایک گھر نہیں، پورا محلہ تھی۔

جب حمزہ اس کی زندگی میں آیا تھا تو اس نے پہلی ملاقاتوں ہی میں کہہ دیا تھا،

"میں اس شہر سے کبھی نہیں جاؤں گی۔ اگر زندگی میرے ساتھ گزارنی ہے تو یہی میرا آسمان ہے۔”

حمزہ نے مسکرا کر کہا تھا،
"انسان جگہ سے نہیں، انسان سے بندھتا ہے۔”

اس وقت دونوں کو معلوم نہ تھا کہ بعض اوقات انسان جگہ سے نہیں، یادوں سے بندھ جاتا ہے، اور یادوں کی جڑیں زمین سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہیں۔

شادی ہوئی۔

حمزہ اپنے شہر، اپنے ماں باپ اور اپنے بچپن کی گلیاں چھوڑ کر اس کے شہر آ گیا۔

ابتدا کے چند برس ایسے گزرے جیسے موسم بہار خاموشی سے درختوں پر اترتی ہے۔ پھر ایک دن اس نے کہا،

"یہ شہر میرے خوابوں سے چھوٹا ہے۔ بڑی کمپنی میں موقع ملا ہے۔ اگر ہم منتقل ہو جائیں تو زندگی بدل سکتی ہے۔”

عالیہ نے بہت دیر خاموش رہ کر صرف اتنا پوچھا،

"اور میری زندگی؟”

حمزہ شاید اس سوال کا مطلب نہ سمجھ سکا۔

اس نے اعداد و شمار گنوائے۔ زیادہ تنخواہ، بہتر مستقبل، بڑے شہر کی سہولتیں، نئے امکانات…

عالیہ نے صرف اتنا کہا،
"یہ سب تمہارے لیے امکانات ہیں، میرے لیے جدائیاں۔”

بحث کئی دن چلتی رہی۔

آخر ایک شام حمزہ نے بے بسی سے کہا،

"میں تمہارا شوہر ہوں۔ کیا میں سب سے زیادہ اہم نہیں؟”

عالیہ نے آہستہ سے جواب دیا،

"تم بہت عزیز ہو… مگر تم میری پوری دنیا نہیں ہو۔ میری دنیا میں میرے ماں باپ بھی ہیں، وہ خالہ بھی ہیں جنہوں نے میری ماں کی بیماری میں مجھے سنبھالا تھا، وہ ماموں بھی ہیں جو ہر عید پر سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، وہ کزن بھی ہیں جن کے بچوں کی پہلی آوازیں میں نے سنی ہیں۔ محبت ایک چراغ نہیں جس کی ساری روشنی ایک ہی طرف رکھی جائے۔ محبت تو کئی دیوں کی لو ہے۔ تم ان میں سے ایک روشن دیا ہو… مگر واحد نہیں۔”

یہ سنتے ہی حمزہ کے چہرے پر ایسی خاموشی اتری جیسے کسی نے اندر سے ایک دروازہ بند کر دیا ہو۔

وہ اٹھا۔

جوتے پہنے۔

اور چلا گیا۔

رات گئے عالیہ صحن میں بیٹھی رہی۔

اسے اچانک اپنے نانا کی کہی ہوئی بات یاد آئی۔

"بیٹی، گھر صرف وہ نہیں ہوتا جہاں آدمی رہتا ہے۔ گھر وہ بھی ہوتا ہے جہاں کوئی اس کا انتظار کرتا ہو۔”

اس نے پہلی بار سوچا…

حمزہ نے بھی تو اپنا پورا گھر چھوڑا تھا۔

اپنی ماں کی دعا، اپنے باپ کی خاموش شفقت، بہن کی ہنسی، دوستوں کی محفلیں… سب کچھ۔

وہ صرف شہر نہیں چھوڑ کر آیا تھا، اپنا انتظار چھوڑ آیا تھا۔

اور شاید اب وہ ایک ایسے گھر میں رہ رہا تھا جہاں اسے ہمیشہ مہمان ہونے کا احساس رہا۔

ادھر حمزہ شہر کی خالی سڑکوں پر چل رہا تھا۔

اسے عالیہ کے الفاظ بار بار یاد آ رہے تھے۔

"تم میری پوری دنیا نہیں ہو…”

جملہ غلط نہیں تھا۔

مگر بعض سچائیاں کانٹوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کا جھوٹ ہونا ضروری نہیں، ان کا چبھ جانا کافی ہوتا ہے۔

اسے پہلی بار احساس ہوا کہ محبت میں سب سے بڑا خوف بے وفائی نہیں، غیر مرکزی ہو جانا ہے۔

یہ جان لینا کہ تم کسی کی زندگی میں موجود تو ہو، مگر اس کے گرد نہیں گھومتی۔

صبح ہوئی۔

عالیہ نے اپنی ماں کے گھر جانے کے لیے چپل پہنی، مگر دروازے تک پہنچ کر رک گئی۔

پھر پہلی بار اس نے رخ بدل دیا۔

وہ سیدھی حمزہ کے دفتر پہنچی۔

وہ باہر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا۔

کافی کا کپ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔

عالیہ اس کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئی۔

کافی دیر دونوں کچھ نہ بولے۔

پھر عالیہ نے دھیرے سے کہا،

"میں آج بھی اپنے شہر سے نہیں جانا چاہتی۔”

حمزہ نے تلخ مسکراہٹ سے سر ہلایا۔

"مجھے معلوم ہے۔”

"مگر شاید میں یہ سمجھنے میں دیر کر گئی کہ تم نے صرف شہر نہیں چھوڑا تھا… تم نے اپنے لوگ چھوڑے تھے۔”

حمزہ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔

"اور شاید میں یہ سمجھنے میں دیر کر گیا کہ تم صرف ضد نہیں کر رہیں… تم اپنی جڑیں بچا رہی تھیں۔”

دونوں خاموش ہو گئے۔

کوئی فیصلہ اس دن بھی نہ ہو سکا۔

کچھ سوال عدالتوں میں نہیں، زندگی میں سنے جاتے ہیں۔

اور زندگی اکثر فیصلہ سنانے کے بجائے انسان کو آئینہ تھما دیتی ہے۔

اس آئینے میں نہ کوئی مکمل مجرم ہوتا ہے، نہ مکمل بے گناہ۔

صرف دو آدمی ہوتے ہیں…

جو اپنے اپنے گھروں کو بچاتے بچاتے، ایک دوسرے کا گھر بنانا بھول جاتے ہیں۔

افسانہ: گھر لوٹنے والے
©️ انتخاب سخن

#husbandandwifelife #understandingothers

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/