بیٹا دبئی میں ہے۔ بیٹی سیالکوٹ۔ دونوں اپنے اپنے ن…
بستیوں کی بھی اپنی یادداشت ہوتی ہے۔
وہ نقشوں میں نہیں رہتی، دروازوں پر رہتی ہے۔ صبح کے دھندلکے میں رکھی ہوئی دودھ کی تھیلی، اخبار کے نیچے دبایا ہوا بجلی کا بل، نیم وا دروازہ، یا رات بھر جلنے والا برآمدے کا بلب… انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی گھر کے اندر وقت کس رفتار سے چل رہا ہے۔
میرا نام بشیر احمد ہے۔
تہتر برس کا ہوں۔
اپنی عمر کے چالیس برس میں نے ایک ہی شہر کی گلیوں میں دودھ بانٹتے گزارے۔ جب آسمان ابھی رات کے قبضے میں ہوتا، دور کسی مسجد سے اذان کی پہلی صدا سرد ہوا میں تیرتی، اور درختوں پر سوئے پرندے اپنے پروں میں منہ چھپائے بیٹھے رہتے، تب میری سائیکل خاموش گلیوں سے گزرتی تھی۔ ہینڈل سے لٹکی ہوئی دودھ کی ایلومینیم کی کین ہر موڑ پر ہلکی سی آواز کرتی، جیسے وہ بھی اس بستی کی نبض سن رہی ہو۔
لوگ سمجھتے تھے میں دودھ پہنچاتا ہوں۔
مجھے معلوم تھا، میں عادتیں پہنچانتا ہوں۔
کون سی بہو دودھ کی خالی تھیلی دھو کر تہہ لگا کر رکھتی ہے، کس گھر کے بچے امتحانوں کے دنوں میں ایک تھیلی زیادہ منگواتے ہیں، کہاں عید سے دو دن پہلے مقدار بڑھ جاتی ہے، اور کس دروازے پر خاموشی اچانک پہلے سے زیادہ ٹھہرنے لگتی ہے۔
دروازے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔
چالیس برس میں صرف دو مرتبہ مجھے کسی کے لیے مدد بلانی پڑی۔
ایک بار سردیوں کی صبح ایک باورچی خانے کی کھڑکی سے دھواں اٹھتا دیکھا۔
دوسری بار ایک بزرگ مسجد جانے کے لیے نکلے تھے، مگر گلی کے نکڑ پر کھڑے اپنے ہی گھر کا راستہ بھول گئے تھے۔
دونوں مرتبہ سورج نکلنے سے پہلے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ زندگی کہیں ٹھٹھک گئی ہے۔
تیسری بار…
دسمبر اپنے پورے جوبن پر تھا۔
ایسی صبح، جب سانس بھی دھند بن کر سامنے آتی ہے۔
گلی نمبر پانچ کے آخری سرے پر حاجی سلیم کا گھر تھا۔ اکیاسی برس کے تھے۔ بیگم کو اللہ کو پیارے ہوئے آٹھ برس گزر چکے تھے۔ ہر دوسرے دن دو دودھ کی تھیلیاں لیتے تھے۔ انیس برس میں ایک دن بھی ترتیب نہیں بدلی۔
پیر کی صبح، ہفتے کو رکھی ہوئی تھیلیاں ویسے ہی دروازے کے پاس پڑی تھیں۔
میں نے دل میں ایک چھوٹا سا سوال رکھا اور آگے بڑھ گیا۔
زندگی میں ہر خاموشی کسی حادثے کا نام نہیں ہوتی۔
بدھ کی صبح وہی تھیلیاں اب بھی وہیں تھیں۔
ان پر شبنم کئی بار اتر کر خشک ہو چکی تھی۔
ایک کوّا چونچ مار کر اڑ گیا۔
میں کافی دیر سائیکل کے ساتھ کھڑا رہا۔
پھر پہلی بار اس دروازے پر دودھ والے کی نہیں، ایک انسان کی دستک ہوئی۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسٹنے کی آواز آئی۔
دروازہ کھلا۔
حاجی سلیم سامنے تھے۔
کندھوں پر پرانی شال، چہرے پر تھکن، مگر آنکھوں میں ایسی شرمندگی جیسے بیماری نہیں، کوئی قرض چھپایا ہو۔
انہوں نے مجھے دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے۔
"بشیر… تم نے پہچان لیا۔”
یہ سوال نہیں تھا۔
اعتراف تھا۔
گھر کے اندر چائے کی کیتلی چولہے پر الٹی رکھی تھی۔
الماری کے اوپر دوائیں دھول اوڑھے پڑی تھیں۔
نماز کی جائے نماز ابھی تک بچھی ہوئی تھی، مگر اس پر کئی دنوں کی خاموشی جمی ہوئی تھی۔
انہوں نے آہستہ سے کہا،
"غسل خانے میں پھسل گیا تھا… ہڈی نہیں ٹوٹی…”
وہ رکے۔
"…بس آدمی کا بھروسا ٹوٹ جائے تو اٹھنے میں دیر لگتی ہے۔”
میں نے پوچھا، "کسی کو خبر نہیں کی؟”
وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے۔
"بیٹا دبئی میں ہے۔ بیٹی سیالکوٹ۔ دونوں اپنے اپنے نصیب کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں نے سوچا، میری کمزوری ان کے حصے کیوں لکھوں؟”
اس ایک جملے میں پوری بڑھاپے کی تہذیب سمٹ آئی۔
میں نے چولہا جلایا۔
چائے بنائی۔
پھر انہی کے فون سے ان کے بھانجے کو کال کی۔
ادھر سے حیران آواز آئی۔
"ماموں نے تو ہمیشہ یہی کہا کہ سب خیریت ہے۔”
میں نے صرف اتنا کہا،
"آج شام آ جائیے۔”
جب میں جانے لگا تو حاجی سلیم دروازے تک آئے۔
نیچے پڑی ہوئی دودھ کی تھیلیوں کو دیکھتے رہے۔
پھر بولے،
"بوڑھا آدمی بیماری سے کم، بوجھ بن جانے کے خوف سے زیادہ ڈرتا ہے۔”
میں نے تھیلیاں اٹھا کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیں۔
"کبھی کبھی بوجھ نہیں… صرف ایک دستک بانٹنی پڑتی ہے۔”
اس دن کے بعد میری عادت بدل گئی۔
میں ہر صبح ان کے دروازے پر پہلے دستک دیتا، پھر دودھ رکھتا۔
کبھی وہ صرف "الحمدللہ” کہہ دیتے۔
کبھی ہم چائے پی لیتے۔
کبھی مرحومہ بیگم کی بات نکلتی تو وہ مسکرا دیتے، جیسے دکھ بھی عمر کے ساتھ آہستہ بولنے لگتا ہے۔
فروری میں کمپنی نے گھروں تک دودھ پہنچانے کا سلسلہ بند کر دیا۔
کہا گیا، اب ہر گلی میں سپر اسٹور ہے۔
حساب کتاب یہی کہتا ہے۔
میں اپنی پرانی ایلومینیم کی کین گھر لے آیا۔
برآمدے کے ایک کونے میں رکھ دی۔
پہلی بار وہ خالی تھی۔
اور پہلی بار مجھے اس کا وزن محسوس ہوا۔
تقریباً ایک سال بعد ایک خط آیا۔
حاجی سلیم کے بھانجے کا۔
لکھا تھا:
"ماموں اب ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ شام کو اکثر دروازے کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کل کہنے لگے، ‘اس دسمبر اگر بشیر دستک نہ دیتا تو شاید میرے بعد کئی دن تک کسی کو خبر بھی نہ ہوتی کہ میں زندہ تھا یا نہیں۔’ پھر کچھ دیر خاموش رہے اور بولے، ‘اللہ ہر بستی کو ایک ایسا آدمی ضرور دیتا ہے جو گنتی دودھ کی کرتا ہے، مگر خیال انسانوں کا رکھتا ہے۔'”
میں نے خط تہہ کیا۔
برآمدے میں آیا۔
کین پر ہاتھ پھیرا۔
اس کی ٹھنڈی دھات میں برسوں کی صبحیں سانس لے رہی تھیں۔
تب پہلی بار سمجھ آیا…
میں نے چالیس برس دودھ نہیں بانٹا تھا۔
میں لوگوں کی زندگیوں میں یہ یقین پہنچاتا رہا تھا کہ اس دنیا میں کوئی ایک شخص ایسا بھی ہے جو ان کے دروازے کی خاموشی بدل جائے تو اسے محسوس کر لیتا ہے۔
اور بعض اوقات…
ایک انسان کو بچانے کے لیے صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ کوئی اس کی غیر حاضری کو معمول نہ سمجھے۔
افسانہ: فجر ویلے دا گواہ
©️ انتخاب سخن