“میں آٹھ سال کا تھا. جب مجھے پہلی بار پتا چلا کہ …
میرا نام حارث ہے…
اور میں آٹھ سال کا تھا… جب مجھے پہلی بار پتا چلا کہ “جنازہ” کیا ہوتا ہے۔
موت ہمیشہ اچانک آتی ہے۔
کوئی تیار نہیں ہوتا۔
حتیٰ کہ وہ بھی نہیں… جو مرنے والے ہوتے ہیں۔
میرے ابّا صرف ستائیس سال کے تھے۔
نہ وہ کوئی مشہور آدمی تھے… نہ کوئی ہیرو…
بس ایک عام سا باپ… جو غیر معمولی حد تک محبت کرتا تھا۔
وہ ایسے باپ تھے…
جو سزا دینے سے پہلے ہنسا دیتے تھے…
جو سونے سے پہلے ماتھے پر بوسہ دیتے تھے…
اور جو اپنی پسندیدہ ٹیم زبردستی مجھ پر مسلط کر دیتے تھے۔
ایسے باپ…
زندگی میں کم ملتے ہیں…
اور جب چلے جائیں… تو عمر بھر کم ہی رہتے ہیں۔
انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ وہ مرنے والے ہیں۔
ہسپتال کے بستر پر… ٹیوبز میں جکڑے ہوئے بھی…
وہ اگلے سال کے پلان بنا رہے تھے۔
“اگلے سال ہم مچھلی پکڑنے جائیں گے…”
“اگلے سال ہم گھومنے جائیں گے…”
میں بھی یقین کرتا رہا۔
مگر وہ “اگلا سال”…
شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔
ایک دن امی مجھے اسکول سے لے کر سیدھا ہسپتال گئیں۔
ڈاکٹر نے وہ جملہ کہا… جو ڈاکٹروں کے لیے عام ہوتا ہے… مگر سننے والوں کے لیے قیامت۔
امی رو رہی تھیں…
اور میں…
میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ سب کیا ہے۔
پھر پہلی بار مجھے غصہ آیا۔
“آپ نے بتایا کیوں نہیں؟!”
میں چیخا… رویا…
مگر اس بار کوئی مجھے چپ کروانے والا نہیں تھا۔
چند دن بعد… ایک نرس میرے پاس آئی۔
اس کے ہاتھ میں ایک جوتوں کا ڈبہ تھا۔
اس نے کہا،
“یہ تمہارے ابو نے دیا تھا… کہا تھا صحیح وقت پر دینا ہے۔”
میں نے ڈبہ کھولا…
اندر درجنوں لفافے تھے۔
ہر لفافے پر ایک جملہ لکھا تھا۔
“جب تم پہلی بار محبت میں پڑو…”
“جب تم اپنی ماں سے لڑو…”
“جب تم شادی کرو…”
“جب تم باپ بنو…”
اور ایک لفافہ…
سب سے نیچے رکھا ہوا…
“جب تمہارا وقت آئے…”
میری سانس رک گئی۔
سب سے اوپر ایک خط رکھا تھا۔
میں نے کھولا۔
“بیٹا،
اگر تم یہ پڑھ رہے ہو… تو میں مر چکا ہوں۔
میں جانتا تھا… مگر تمہیں بتانا نہیں چاہتا تھا۔
میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
یہ خطوط میں نے تمہارے لیے لکھے ہیں۔
ہر ایک کو اُس کے وقت پر کھولنا… یہ ہمارا وعدہ ہے۔
اپنی ماں کا خیال رکھنا۔
اب تم اس گھر کے مرد ہو۔
پیار،
ابّا”
نیچے ایک لائن تھی…
“میں نے تمہاری ماں کے لیے کوئی خط نہیں لکھا… اسے میری گاڑی مل گئی ہے۔”
میں ہنس پڑا…
آنکھوں میں آنسو تھے… مگر ہنسی بھی تھی۔
یہی تھے میرے ابّا…
رونے سے پہلے ہنسانے والے۔
وہ ڈبہ میری زندگی بن گیا۔
میں ہر دن… ہر مشکل… ہر موڑ…
ابّا کے ایک خط کے ساتھ جیتا گیا۔
سات سال بعد…
میں پندرہ سال کا تھا…
اور امی سے میری زندگی کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔
میں نے حد پار کر دی تھی۔
انہوں نے تھپڑ مارا…
اور میں کمرے میں جا کر چیخنے لگا۔
تب اچانک مجھے یاد آیا…
وہ خط۔
“جب تم اپنی ماں سے سب سے بری لڑائی کرو…”
میں نے پورا کمرہ الٹ پلٹ کر دیا…
آخرکار ڈبہ مل گیا۔
میں نے خط کھولا۔
صرف چند لائنیں تھیں…
“جا کر معافی مانگو۔
مجھے نہیں پتا تم کس بات پر لڑ رہے ہو…
مگر میں تمہاری ماں کو جانتا ہوں۔
وہ تم سے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
جھک کر معافی مانگو…
وہ تمہیں معاف کر دے گی۔
پیار،
ابّا”
—
میں دوڑا…
امی کے کمرے میں گیا…
وہ بھی رو رہی تھیں۔
میں نے کچھ نہیں کہا…
بس جا کر انہیں گلے لگا لیا۔
ہم دونوں خاموش کھڑے رہے…
مگر اس خاموشی میں…
ابّا موجود تھے۔
—
پھر ایک ایک کر کے…
میں نے زندگی کے ہر موڑ پر وہ خطوط کھولے۔
پہلا پیار…
پہلی غلطی…
شادی…
باپ بننا…
ہر جگہ…
وہ میرے ساتھ تھے۔
ہر بار…
وہ مجھے ہنسا دیتے…
سمجھا دیتے…
سنبھال لیتے۔
—
سب سے مشکل خط وہ تھا…
جب امی اس دنیا سے چلی گئیں۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔
صرف چار لفظ تھے…
“وہ اب میرے پاس ہے۔”
میں پہلی بار نہیں ہنسا۔
مگر میں سمجھ گیا…
وہ اب بھی…
امی کو بھی ہنسا رہے ہوں گے۔
—
آج…
میں پچاسی سال کا ہوں۔
ہسپتال کے بستر پر لیٹا ہوا…
بالکل اپنے ابّا کی طرح۔
اور میرے ہاتھ میں…
وہی آخری لفافہ ہے۔
“جب تمہارا وقت آئے…”
میں ڈر رہا ہوں۔
کیونکہ انسان کبھی نہیں مانتا…
کہ اب اس کی باری ہے۔
—
میں نے گہری سانس لی…
اور لفافہ کھول دیا۔
—
“بیٹا،
امید ہے تم اب بوڑھے ہو گے۔
یہ خط سب سے پہلے لکھا تھا…
کیونکہ یہی وہ خط تھا… جس نے مجھے تمہیں کھونے کے درد سے آزاد کیا۔
میں نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں سوچا…
کہ میں نے کیا پایا؟
میں تمہارا باپ تھا…
اور تمہاری ماں کا شوہر۔
اور مجھے لگا…
یہ کافی ہے۔
اب تم بھی ایسا ہی محسوس کرنا۔
ڈرو مت۔
پیار،
ابّا
PS: مجھے تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے۔”
—
میں نے آنکھیں بند کر لیں…
اور پہلی بار…
موت سے ڈر ختم ہو گیا۔
—
اس دن مجھے سمجھ آیا…
کہ کچھ لوگ مرتے نہیں…
وہ بس اپنی جگہ بدل لیتے ہیں۔
کاغذ کے چند ٹکڑوں میں…
یادوں کے چند لمحوں میں…
اور دل کے کسی نرم کونے میں…
ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے کے لیے۔
افسانہ: جنازہ
©️ انتخاب سخن
#fatherhood #fatherandson