عالمی ادب
جوسٹن گارڈر jostein garder(ناروے) کا شہرہ آفاق ناول Sophie’s world(1991) ہے جس ک…

جوسٹن گارڈر jostein garder(ناروے) کا شہرہ آفاق ناول Sophie’s world(1991) ہے جس کا ترجمہ،شاہد حمید نے سوفی کی دنیا کے نام سے کیا ہے۔ پہلی مرتبہ اس قسم کا ناول پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کو فلسفے اور تاریخ کے امتزاج سے تشکیل دیا گیا ہے اور ناول کی بنت میں ،جس تکینک کو ملحوظ رکھا گیا ہے، نظریاتی سطح پر وہ فلسفے کا ہی حصہ ہے، اس کا احساس ناول کی نصف قرآت کے بعد ہوتا ہے ،جب آئرش فلسفی "برکلے” کا ذکر آتا ہے” جس کے مطابق ہم صرف خدا کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں”۔
سوفی امیڈسن چودہ سال کی ایک لڑکی ہے، جس سے البرٹو نامی فلسفی، عہد عتیق سے لے کر فرائیڈ تک کے متعلق سلسلے وار گفتگو کرتا ہے اور سوفی کو فلسفے کی تعلیم دیتا ہے، جن میں ان تمام فلسفیوں کے نظریات پر طویل مکالمے وجود میں آتے ہیں۔ ناول کے ابتدائی حصے میں خط و کتابت کے ذریعے یہ سلسلہ چلتا ہے۔اس کے بعد بالمشافہ ملاقات ،مزید گفتگو کو آگے بڑھاتی ہے۔ ناول کے اس (ابتدائی) حصے پر مشتمل گفتگو، دوسرے حصے میں ،ہلڈے نامی لڑکی____ جو سوفی کی ہم عمر ہے____کو فائل کی شکل میں (اس کی پندرہویں سالگرہ پر)موصول ہوتے ہیں۔ جس کو بھیجنے والا ،لبنان میں مقیم اس کا باپ البرٹ تھا۔ اس یہ بات آہستہ آہستہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ہلڈے کا باپ اپنی بیٹی کے لیے فلسفے کی کوئی کتاب لکھ رہا ہے، سوفی اور البرٹو محض اس کتاب کے کردار ہیں،جن کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہے۔ کہانی میں کئ مقام ایسے آتے ہیں جہاں اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آیا سوفی اور البرٹو کی دنیا حقیقی ہے یا ہلڈے اور البرٹ کی۔
ناول کے اختتامی حصے میں یہ دونوں کردار،بتوسط ہلڈے ،مصنف کا دھیان بھٹکا کر ،کتاب سے نکل بھاگتے ہیں۔ ان کا مقصد البرٹ تک پہنچ کر ،اس کو یہ سب کرنے سے روکنا ہوتا ہے تاکہ یہ دونوں(سوفی اور البرٹو) آزاد زندگی گزار سکیں۔ لیکن وہ بظاہر زمان و مکاں سے ماورا ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ سب کچھ دیکھ تو سکتے ہیں، مگر صرف اسی چیز کو چھو سکتے ہیں جو ان کے خیال (ذہن) میں ماضی بعید کا حصہ ہو۔ وہ ہلڈے اور البرٹ تک پہنچ جاتے ہیں لیکن انھیں اپنی موجودگی کا احساس دلانے سے قاصر رہتے ہیں۔
ناول کے درمیانی حصے میں ،جہاں” برکلے” Berkley باب کے بعد” بجارکلی” کا آغاز ہوتا ہے ،پہلی مرتبہ براہ راست ہلڈے سے متعارف کروایا گیا ہے۔ ہلڈے کے مکان کا نام بجارکلی تھا، وہیں دوسری طرف ،میجر(ہلڈے کا باپ) کی اس کٹیا میں جہاں سوفی اور البرٹو کی ابتدائی ملاقاتیں ہوئی تھیں، اسی بجارکلی کی تصویر آویزاں تھی۔ جو ہلڈے کا گھر تھی۔ یہاں سے ناول میں جا بجا کئ انکشاف ہوتے ہیں اور بہت سے سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ بارکلی کی فلسفیانہ توجیہ، پورے ناول کو محیط نظر آتی ہے۔پہلا سوال یہ کہ آیا ناول میں دو متوازی دنیا موجود ہیں:ایک بجارکلی کے اندر ہلڈے کی دنیا ،دوسری اس کے باہر سوفی کی دنیا۔ دوسرا یہ کہ ‘برکلے” کے فلسفے کے مطابق” جس میں حقیقت صرف وہ ہے جس کا ادراک حواس کے ذریعے کیا جاسکے۔” تو پھر کیا سوفی کی دنیا حقیقی ہے اور ہلڈے خواب؟؟۔۔ مزید یہ کہ ” زمان و مکاں کا کوئی مطلق یا آزادانہ وجود ہے؟؟ زمان و مکاں کا ہمارا اپنا ادراک بھی محض ذہن کی اختراع ہوسکتا ہے”۔(برکلے کے مطابق)تو پھر سوفی اور البرٹو کے بقول ان کا کا نکل بھاگنا، ذہنی اختراع ہے، درحقیقت وہ کتاب میں ہی موجود ہیں۔؟؟۔۔ (مزید سوالات قائم کیے جاسکتے ہیں) اس ناول میں metafiction کی تکنیک موجود ہے۔
دراصل برکلے اور بجارکلی کہانی کا turning point ہے جو سوفی اور ہلڈے کی کہانی کو پراسرار بناتا ہے، اشتباہ کی کیفیت کے ساتھ ،حقیقت اور خواب کے درمیان التباس بھی پیدا کرتا ہے۔
نوٹ: ناول عمیق مطالعے کا متقاضی ہے۔
سوفی امیڈسن چودہ سال کی ایک لڑکی ہے، جس سے البرٹو نامی فلسفی، عہد عتیق سے لے کر فرائیڈ تک کے متعلق سلسلے وار گفتگو کرتا ہے اور سوفی کو فلسفے کی تعلیم دیتا ہے، جن میں ان تمام فلسفیوں کے نظریات پر طویل مکالمے وجود میں آتے ہیں۔ ناول کے ابتدائی حصے میں خط و کتابت کے ذریعے یہ سلسلہ چلتا ہے۔اس کے بعد بالمشافہ ملاقات ،مزید گفتگو کو آگے بڑھاتی ہے۔ ناول کے اس (ابتدائی) حصے پر مشتمل گفتگو، دوسرے حصے میں ،ہلڈے نامی لڑکی____ جو سوفی کی ہم عمر ہے____کو فائل کی شکل میں (اس کی پندرہویں سالگرہ پر)موصول ہوتے ہیں۔ جس کو بھیجنے والا ،لبنان میں مقیم اس کا باپ البرٹ تھا۔ اس یہ بات آہستہ آہستہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ہلڈے کا باپ اپنی بیٹی کے لیے فلسفے کی کوئی کتاب لکھ رہا ہے، سوفی اور البرٹو محض اس کتاب کے کردار ہیں،جن کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہے۔ کہانی میں کئ مقام ایسے آتے ہیں جہاں اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آیا سوفی اور البرٹو کی دنیا حقیقی ہے یا ہلڈے اور البرٹ کی۔
ناول کے اختتامی حصے میں یہ دونوں کردار،بتوسط ہلڈے ،مصنف کا دھیان بھٹکا کر ،کتاب سے نکل بھاگتے ہیں۔ ان کا مقصد البرٹ تک پہنچ کر ،اس کو یہ سب کرنے سے روکنا ہوتا ہے تاکہ یہ دونوں(سوفی اور البرٹو) آزاد زندگی گزار سکیں۔ لیکن وہ بظاہر زمان و مکاں سے ماورا ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ سب کچھ دیکھ تو سکتے ہیں، مگر صرف اسی چیز کو چھو سکتے ہیں جو ان کے خیال (ذہن) میں ماضی بعید کا حصہ ہو۔ وہ ہلڈے اور البرٹ تک پہنچ جاتے ہیں لیکن انھیں اپنی موجودگی کا احساس دلانے سے قاصر رہتے ہیں۔
ناول کے درمیانی حصے میں ،جہاں” برکلے” Berkley باب کے بعد” بجارکلی” کا آغاز ہوتا ہے ،پہلی مرتبہ براہ راست ہلڈے سے متعارف کروایا گیا ہے۔ ہلڈے کے مکان کا نام بجارکلی تھا، وہیں دوسری طرف ،میجر(ہلڈے کا باپ) کی اس کٹیا میں جہاں سوفی اور البرٹو کی ابتدائی ملاقاتیں ہوئی تھیں، اسی بجارکلی کی تصویر آویزاں تھی۔ جو ہلڈے کا گھر تھی۔ یہاں سے ناول میں جا بجا کئ انکشاف ہوتے ہیں اور بہت سے سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ بارکلی کی فلسفیانہ توجیہ، پورے ناول کو محیط نظر آتی ہے۔پہلا سوال یہ کہ آیا ناول میں دو متوازی دنیا موجود ہیں:ایک بجارکلی کے اندر ہلڈے کی دنیا ،دوسری اس کے باہر سوفی کی دنیا۔ دوسرا یہ کہ ‘برکلے” کے فلسفے کے مطابق” جس میں حقیقت صرف وہ ہے جس کا ادراک حواس کے ذریعے کیا جاسکے۔” تو پھر کیا سوفی کی دنیا حقیقی ہے اور ہلڈے خواب؟؟۔۔ مزید یہ کہ ” زمان و مکاں کا کوئی مطلق یا آزادانہ وجود ہے؟؟ زمان و مکاں کا ہمارا اپنا ادراک بھی محض ذہن کی اختراع ہوسکتا ہے”۔(برکلے کے مطابق)تو پھر سوفی اور البرٹو کے بقول ان کا کا نکل بھاگنا، ذہنی اختراع ہے، درحقیقت وہ کتاب میں ہی موجود ہیں۔؟؟۔۔ (مزید سوالات قائم کیے جاسکتے ہیں) اس ناول میں metafiction کی تکنیک موجود ہے۔
دراصل برکلے اور بجارکلی کہانی کا turning point ہے جو سوفی اور ہلڈے کی کہانی کو پراسرار بناتا ہے، اشتباہ کی کیفیت کے ساتھ ،حقیقت اور خواب کے درمیان التباس بھی پیدا کرتا ہے۔
نوٹ: ناول عمیق مطالعے کا متقاضی ہے۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3301527333411110




PDF available?
کیا یہ ناول ترجمہ شدہ کتاب کی صورت میں مل سکتا؟
یہ فلسفے کی بہترین کتاب ہے اس کتاب میں کائناتی کیفیت بہت خوبصورت انداز میں پیش کی گئی ہے
ایک ہی وقت میں وہی بات یا وہی چیز کہیں دور کسی اور مقام پر اسی طرح ہو رہی ہے
معرکتہ الآرا تصنیف ۔
Translated from Norsk? Or English?
صوفی؟ یا سوفی؟
Price please
Adabi Sangat Norway ne us k sath 2011 mein program kya tha…..
Ibtisam Ali Aadarsh you can choose it for your research work.
بہت خوب تجزیہ
یہ بہت عمدہ ناول ہے
کیا اردو بازار کراچی میں مل سکتی ہے
پسندیدہ ❤
A book of par excellence !
وش لسٹ میں شامل ہے کافی عرصہ سے
bahot khobsorat novel hai …..
یہ واقعی بہترین کتاب ہے
کہاں سے ملے گی ؟
ان دنوں میری بھی زیر مطالعہ یہی کتاب ہے، آپ کی ریویو کا شکریہ۔
فلسفے کو سمجھنے کے لٸے بھت اچھي کتاب ھے۔
bht shandar kitab hai , iss ki review b aap ny boht khubsurati se ki hai jazakAllah!
بہترین ترجمہ
بہت خوبصورت کتاب ہے۔
10 سال پہلے پڑھی تھی ۔ضرور پڑھنی چاہیئں ۔
Amazing
I have this book in hard form but paperback.same printing issues.once started reading but only less than quarter was covered