کادرے کو نوبیل انعام ملنا چاہیے: اورحان پاموک کو ترکی سے محبت ہے، پر وہ کہیں اش…

اورحان پاموک کو ترکی سے محبت ہے، پر وہ کہیں اشارہ نہیں دیتے کہ وہ مسلمان بھی ہیں یا یہ کہ جس ملک کو وہ بیان کر رہے ہیں، مسلمان ملک ہے یا رہا ہوگا۔۔ اپنی تہذیب کو ماضی تصور کر رہے ہیں، اس میں زندہ نہیں۔۔ مجھے اس سے تھوڑی سی وحشت بھی ہوئی۔۔ استنبول سے اتنی محبت ہے، تفصیلات بڑے خوبصورت طریقے سے بیان کی ہیں۔۔ تاریخ کے معاملات اور موجودہ صورت حال کو بڑے اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔۔ مائی نیم از ریڈ، میں کلاسیکی منی ایچر پینٹنگ کے پورے اسلوب پر بڑی عمدگی سے لکھا ہے۔۔ کم سے کم اپنے ماضی کا شعور ہے، اور اسے گرفت میں لانا چاہتے ہیں، لیکن ایک فاصلے کے ساتھ، معلوم ہوتا ہے کہ راوی کو اس سے خاص لگاؤ نہیں، لیکن اس کو کہیں دیکھا ہے، اس لیے بتا رہا ہے، شالا مار باغ دیکھا ہے، بیان کر رہا ہے لیکن شالا مار میں وہ ہے نہیں، یہ مجھے ان سے شکایت ہے۔۔
اسماعیل کادرے کا معاملہ بھی اورحان پاموک سے ملتا جلتا ہے۔۔ میرے خیال میں اسے ادب کا نوبیل انعام ملنا چاہیے لیکن البانیہ والوں کو کون پوچھتا ہے؟ جہاں تک سوال ناول نگاری کی قوت کا ہے، اُس میں کادرے، پاموک سے بڑھ کر ہے۔۔ اس کے فکشن میں البانیہ میں انور خوجہ کی حکومت کا وہ دور ہے جب چین سے البانیہ کی دوستی ہوئی۔۔ اسٹالن اور سوویت روس سے اُن کی نہیں بن رہی تھی۔۔ انور خوجہ نے اسٹالن اور اسٹالن ازم کو طلاق دے دی۔۔ کادرے کے تقریباً ہر ناول میں یا تو وہ تاریخ ہے جو ترکوں کے آنے سے پہلے کی ہے یا پھر کمیونسٹ انقلاب کے بعد کی، خاص طور پر انور خوجہ کے زمانے کی۔۔ مشرقی یورپ اور البانیہ کی مسلمان تہذیب میں وہ ڈوبا ہوا ہے، لیکن وہ اسے مسلمان تہذیب نہیں کہتا، البانیہ یا سینٹرل یورپ کی تہذیب بتاتا ہے۔۔
اُس نے اپنے ناولوں میں بتایا ہے کہ استبداد کے زمانے میں آدمی کیسے جیتا ہے۔ ہمدردی ، غصے یا خوف کا اظہار کہیں نہیں ، بس یہ کہ اس زمانے میں انسان پر کیا گزر رہی تھی، خاص کر وہ زمانہ جب مین لائن کمیونسٹ ان سے الگ ہیں۔ اس دور کا سارا جبر ہر صفحے پر پھیلا ہے، لیکن بغیر کسی غصے ، ترحم یا افسوس کے۔۔ بہت ہی زبردست آدمی ہے۔۔ البانیہ کا ہے، اس لیے کم لوگ جانتے ہیں۔۔۔
ابھی کچھ عرصہ قبل اس کی ناول نما چیز پڑھی ہے۔ ساٹھ کے زمانے میں، جب وہ ماسکو یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، اس دور کے مشاہدات کو بیان کیا اور پھر اسے جوڑا ہے البانیہ میں ماقبل مسلمان کلچر سے۔۔ اس میں داستان گو ہے، جس کی داستان ریکارڈ کرنے لوگ آتے ہیں، وہ ایک جملہ کہتا ہے :
” یہ جو لکھے ہوئے حرف ہیں، یہ تو بولے ہوے حرف کے لاشے ہیں۔۔”
اس جملے نے رونگٹے کھڑے کر دیے۔۔ پوری تہذیب کا نچوڑ اس جملے میں آگیا۔۔ ادھر دریدا صاحب اس پر مرے ہیں کہ تحریر مقدم ہے، تقریر کے اوپر۔۔۔ ہمارے ہاں زبانی روایت مقدم رہی ہے۔۔ محمد حسن عسکری نے بتایا کہ زبانی روایت کے معنی کیا ہیں، کیا اس کی قوت ہے لیکن ہماری بد قسمتی کہ دو سو برس کی تاریخ میں ہمارے ہاں عسکری ایک ہی پیدا ہوا۔۔
•••
کتاب: شمس الرحمن فاروقی
جس کی تھی بات بات میں اک بات
مصنف: محمود الحسن
انتخاب و ٹائپنگ: احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3857886024441902




برادر۔یہ اپ تعارفی پیراگرافس دے رھے ھین۔اپ ھمین پوری کتابیین پڑھنے کیلیےموقع کب دین گے۔؟
کیایھان پوری کتاب کی e.book نھین دی جا سکتی۔
ذرا دل بڑا کرین۔ھم دور دیھات مین بیٹھے ھین۔
کچھہ دن پھلے یہ سلسلہ شروع ھوا تھا لیکن پھر نجانے کس نےبند کرا دیا۔
کسی بھی کتاب کا سادہ سا لنک دین۔جھان سے ھم کتاب ڈاون لوڈ کرلین ۔گھما پھرا کر کتابون کو بیچنے والےتاجرون کا کردار ادا نہ کرین۔
ارسطو نے آپنی بو طیقا میں تقریر کو تحریر پر تر جیح دی.ہے یہ سارے سلسلے وہیں سے ملتے ہیں
ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے اپنی کتاب "ارسطو سے ایلیٹ تک” میں لکھا ہے کہ مغرب نے Poetics کو پکڑ لیا اس لئے وہاں تکنیک اور تحریر کی روایت نے جڑ پکڑ لی جب کہ مشرق نے Rhetorics کا انتخاب کیا اس لئے یہاں جوش خطابت اور تقریر مقدم ٹھہری۔
Yasir Habib sir
ابھی اگر میں نے یہاں جواب دیا تو آپ کو برا لگ سکتا ہے خود دیکھیں!