عالمی ادب

اے سراپا روشن چاند ! میرے اور تمہارے درمیان ایک مشابہت اور رابطہ ہے ، تو اپنے آ…

اے سراپا روشن چاند !

میرے اور تمہارے درمیان ایک مشابہت اور رابطہ ہے ، تو اپنے آسمان میں اکیلا ہے اور میں اپنی زمین پر تنہا ، ہم دونوں خاموشی سے سر جھکائے اپنی زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں ، ہم میں سے ہر ایک غم سے ٹوٹا ہوا ہے ، نہ کوئی اس کا پرسان حال ہے اور نہ وہ کسی کی غمگساری کا منتظر۔ہم دونوں رات کی تاریکی میں اپنے محبوب کو یاد کرتے ہیں ، اور اس کی یادوں کے ساتھ چلتے چلتے اسے آواز دیتے ہیں۔جب کوئی مجھے دیکھتا ہے تو وہ مجھے خوش اور مطمئن خیال کرتا ہے ، کیونکہ وہ میرے لبوں پر سجی مسکان اور چہرے کی بشاشت سے دھوکہ کھا جاتا ہے۔ لیکن جو اس پر میرے دل کا حال ظاہر ہو اور وہ اس پر چھایا درد و آلام کا انبار دیکھے تو میرے حال پر ایسے رونے لگے جیسے ایک غمگین غم کے اثر سے روتا ہے۔اسی طرح دیکھنے والا تجھے دیکھ کر خوش رو اور مسرور خیال کرتا ہے، کیونکہ وہ تیرے چہرے کے جمال ، تیری پیشانی کی چمک اور تیرے صافی روپ سے دھوکہ کھا جاتا ہے۔ مگر جو تیرا عالم اس پر عیاں ہو تو وہ اسے عالمِ خراب اور جہانِ ویران پائے ، جس میں نہ ہوا چلتی ہے ، نہ درخت جھومتے ہیں ، نہ کوئی انسان بولتا ہے اور نہ کوئی جانور اپنی بولی سناتا ہے۔

اے سراپا روشن چاند !

میرا ایک محبوب ہوا کرتا تھا جس نے میری روح نور سے بھر دی، اور میرے دل کو لذت و سرور کی نعمت بخشی ، میں ہر لمحہ تیری آنکھوں کے سامنے اور تیری سماعت کے گوش گزار اسے پکارتا ہوں اور وہ مجھے پکارتا رہتا ہے۔وقت نے مجھے اس سے جدا کر دیا ہے ، کیا تو مجھے اس کی کوئی بات سنا سکتا ہے؟ یا مجھے اس کے رہنے کی جگہ دکھا سکتا ہے ؟ شاید وہ بھی کبھی تجھے میری نظر سے دیکھتا ہو، میری پکار کی طرح تجھے پکارتا ہو ، اور میری چاہت کی طرح تیرے حضور مجھے چاہتا ہو۔اب میں یہاں ، گویا تیرے آئینے میں اس کا چہرہ دیکھتا ہوں ، میں اسے دیکھتا ہوں کہ وہ میرے لیے یوں ہی رو رہا ہے جیسے میں اس کی خاطر روتا ہوں ، اس منظر نے میرا شوق اور غم بڑھا دیا ہے۔

أيها القمر المنير

إنَّ بيني وبينك شبهًا واتصالًا، أنت وحيد في سمائك، وأنا وحيد في أرضي، كلانا يقطع شوطه صامتًا هادئًا، منكسرًا حزينًا، لا يلوي على أحد ولا يلوي عليه أحد، وكلانا يبرز لصاحبه في ظلمة الليل فيسايره ويناجيه، يراني الرائي فيحسبني سعيدًا؛ لأنه يغترُّ بابتسامةٍ في ثغري وطلاقةٍ في وجهي، ولو كُشف له عن نفسي ورأى ما تنطوي عليه من الهموم والأحزان، لبكى لي بكاء الحزين إثر الحزين، ويراك الرائي فيحسبك مغتبطًا مسرورًا؛ لأنه يغترُّ بجمال وجهك، ولمعان جبينك، وصفاء أديمك، ولو كشف له عن عالمك لرآه عالمًا خرابًا، وكونًا يبابًا، لا تهبُّ فيه ريحٌ، ولا يتحرَّك شجرٌ، ولا ينطق إنسانٌ، ولا يَبْغَمُ حيوانٌ.

أيها القمر المنير

كان لي حبيبٌ يملأ نفسي نورًا، وقلبي لذةً وسرورًا، وطالما كنت أناجيه ويناجيني بين سمعك وبصرك، وقد فرق الدهر بيني وبينه، فهل لك أنْ تحدثني عنه وتكشف لي عن مكان وجوده؟ فربما كان ينظر إليك نظري، ويناجيك مناجاتي، ويرجوك رجائي. وهأنذا كأني أرى صورته في مرآتك، وكأني أراه يبكي من أجلي كما أبكي من أجله، فأزداد شوقًا إليه وحزنًا عليه.

🪶(النظرات:مصطفى لطفي المنفلوطي )


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3851999338363904

Related Articles

One Comment

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/