عالمی ادب

کل… میں جانتا ہوں… کہ میں نے شبِ رفتہ اس خیال کے بارے سوچا تھا جو آج میں لک…

کل…

میں جانتا ہوں… کہ میں نے شبِ رفتہ اس خیال کے بارے سوچا تھا جو آج میں لکھ رہا ہوں ، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس گھڑی میں نے قلم اپنی انگلیوں سے تھام رکھا ہے اور ایک کورا سفید کاغذ میرے سامنے آویزاں ہے، جو کہ رفتہ رفتہ میرے قلم چلانے سے سیاہ ہوتا جا رہا ہے۔لیکن میں نہیں جانتا کہ میرا قلم اس صفحے کو پورا رقم کر سکے گا ، یا اس غایت سے پہلے ہی دم توڑ دے گا۔کیا میں اپنا یہ رسالہ مکمل کر سکوں گا ؟ یا پھر حوادث زمانہ سے کوئی رکاوٹ اسے رستے میں ہی آن لے گی ، کیونکہ آنے والے کل کے حالات کا مجھے ادراک نہیں اور روشِ مستقبل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

میں جانتا ہوں ۔۔۔ کہ صبح میں نے اپنے کپڑے زیب تن کیے تھے اور اب تک یہ میرے بدن پر ہی ہیں ، مگر میں نہیں جانتا کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے اتار سکوں گا یا غسل دینے والے کے ہاتھ انہیں مجھ سے جدا کریں گے ؟

اے آنے والے کل ! ہماری کچھ ننھی منی سی چاہتیں ہیں ، کچھ اچھی بری سی خوشیاں ہیں، ہمیں ہماری ان آرزوؤں کا بتانا : وہ تیرے پاس کس جگہ رہتی ہیں؟ ہماری چاہتوں کی خبر سنانا کہ تو نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ کہیں تو نے ان کو رسوا و حقیر تو نہیں بنا دیا ، یا پھر قدردانی سے انہیں عزت بخشی ہے؟

نا نا ! ابھی اپنا یہ راز اپنے سینے میں ہی رکھنا، ابھی اپنے چہرے سے نقاب نہ ہٹانا ، ابھی ہماری چاہتوں اور خوشیوں کے احوال کی کوئی خبر نہ سنانا !! کہ کہیں یہ خوشیاں ہمارے اندر وقت سے پہلے ہی نہ مر جائیں، کہیں ہمارے دل اور روحیں اس غم سے مرجھا نہ جائیں !!
ہم تو ان چاہتوں کے سہارے ہی جی رہے ہیں ، چاہے وہ کبھی پوری ہونے والی نہیں!!
اور ان امیدوں کے دامن سے ہی وابستہ ہیں چاہے وہ جھوٹی ہیں !!

"انساں کی زندگی ایک خواہش کے سوا اور ہے ہی کیا ؟ جو وہ بھی مٹ جائے تو زندگی بھی اس کے پیچھے گم ہوتی جاتی ہے.”

…………..

عرفت أني فكرت ليلة أمس فيما أكتب اليوم، وعرفت أني آخذٌ الساعة بقلمي بين أناملي وأنَّ بين يديَّ صحيفة بيضاء، تسود قليلًا قليلًا كلما أجريت القلم فيها، ولكني لا أعلم هل يبلغ القلم مداه أو يكبو دون غايته؟ وهل أستطيع أنْ أتمم رسالتي هذه أو يعترض عارضٌ من عوارض الدهر في سبيلها لأني لا أعرف من شئون الغد شيئًا، ولأن المستقبل بيد الله؟

عرفت أني لبست أثوابي في الصباح وأنها لا تزال فوق جسمي حتى الآن، ولكني لا أعلم هل أخلعها بيدي أو تخلعها يد الغاسل؟

أيها الغد! إنَّ لنا آمالًا كبارًا وصغارًا، وأمانيَّ حسانًا وغير حسانٍ، فحدثنا عن آمالنا، أين مكانها منك؟ وخبرنا عن أمانينا ماذا صنعت بها؟ أَأَذْلَلْتَها واحتقرتها، أم كنت لها من المكرمين؟

لا، لا! صن سرك في صدرك، وأبقِ لثامك على وجهك، ولا تحدثنا حديثًا واحدًا عن آمالنا وأمانينا حتى لا تفجعنا فيها فتفجعنا في أرواحنا ونفوسنا، فإنما نحن أحياءٌ بالآمال وإنْ كانت باطلةً، وسعداء بالأماني وإنْ كانت كاذبةً:

وليست حياة المرء إلا أمانيا
إذا هي ضاعت فالحياة على الأثَرْ

(النظرات: مصطفى لطفي المنفلوطي)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3849887038575134

Related Articles

4 Comments

  1. خواہش و امید دراصل پیٹرول کا کام دیتے ہیں۔ خواہشات رستے پر چلنے کی ترغیب و تحریک دیتی ہیں۔ خواہش دراصل ایک ٹارگٹ دیتی ہے اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے انسان ساری زندگی چلتا رہتا ہے اور چلتے رہنا ہی زندگی ہے یعنی حرکت میں برکت ہے۔ وگرنہ خالی آرام تو لوہے کو بھی زنگ لگا دیتا ہے۔

    دوسری طرف خواہشاٹ مر بھی جاتی ہیں۔ انسان حوادثِ زمانہ کے ہاتھوں امید کی کرن کھو بیٹھتا ہے اور چاھتا ہے کہ فانی دنیا سے اٹھ جائے۔ یہ چاہنا دراصل کم علمی ہے ۔ اگر ایسے خیالات کا مالک سوچ لے کہ کبھی کبھی کھوٹا سکہ بھی چل جاتا ہے تو یہی انسان رستے پر چل پڑے گا۔

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/