عالمی ادب
گستاؤ فلابئیر کا مادام بوواری ، ایما بوواری کی داستان سناتاہے۔ ایما جسے اس زندگی…

گستاؤ فلابئیر کا مادام بوواری ، ایما بوواری کی داستان سناتاہے۔ ایما جسے اس زندگی اور اس محبت کی تلاش تھی جس کے بارے میں اس نے کتابوں میں پڑھا تھا۔ اسے ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جسے دیکھ کے من کے تار بج اٹھیں۔ جب اس خیالی دنیا کا نتیجہ شارل بوواری کی صورت نکلا تو ایما زندگی سے ہی خفا ہو گئی۔ایما کو زندگی سے کچھ چاہئے تھا۔ وہ کچھ جو اس نے ناولوں اور کتابوں میں پڑھ رکھا تھا۔ ایک ایسا شخص جو شاید ہی حقیقی زندگی میں مل پاتا۔۔ ایک ایسی محبت جو شاید ہی اس دنیا میں وجود رکھتی ہو( انسانی ازلی بیوقوفی۔ کو ہے وہ برا جو کہیں وجود نہیں رکھتا اس کی چاہ)۔ اور اسی وجہ سے کبھی وہ ایڈوولف بولنجے اور کبھی لوواں کی طرف ملتفت ہوئی جاتی. اپنی تصوراتی دنیا میں کھوئی ایما اپنی زندگی سے غیر مطمئن ایک ایسی زندگی کی طالب تھی جو ہر وقت عشق ، محبت اور عیش و عشرت سے معمور ہو ۔ایما دنیا کی ہر نعمت ہونے کے باوجود اپنے پاس موجود ہر چیز سے شاکی تھی۔۔اپنی دستیاب نعمتوں کا تقابل ان سے کرنا جو کسی اور کے پاس ہوتیں ہا پھر کوئی وجود ہی نہ رکھتیں، ایک نیک دل پیار کرنے والے شوہر کی عادات اور اطوار کو شاکی اور ناپسندیدہ نظروں سے دیکھنا اور اس کی ہر اچھائی میں سے برائی نکال لانا ایما کے کردار کی ہی خصوصیات ہیں. ان سب کی تلاش میں ایما ایک ایسے راستے پہ چل نکلتی جو آخر کار اس کے المناک انجام تک جا پہنچتا ہے.
.
جتنا کچھ فرانسیسی ادب میں نے پڑھا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرے اور معاشرتی رویوں کے جیسے نباض فرانسیسی ادیب ہیں اور اپنے عصری معاشرے کی جو حقیقت پسندانہ منظر نگاری فرانسیسی ادیبوں نے کی ہے شاید ہی کسی اور زبان میں کسی نے کی ہو ۔ ہوس، عیش و عشرت کی تمنا اور معاشرتی تفریق کی ایسی عکاسی کہیں اور آپ شاید پڑھ پائیں۔
اپنی اشاعت کے ساتھ ہی فرانس کے اس وقت کے پبلک پراسیکیوٹر نے اس ناول پہ فحاشی کا الزام دھر دیا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ میری نظر میں شاید مادام بوواری کی صورت میں معاشرے کی تصویر اس قدر واضح اور بغیر ڈھکے چھپے دکھانا ہے ۔اپنی اولین اشاعت کے ساتھ ہی تنازعات میں گھر جانے والا یہ ناول آج ایک سو چھیاسٹھ سال گزرنے کے باوجود اب بھی ادبی حلقوں میں اسی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھا اور زیر بحث لایا جاتا ہے۔اگر اب ایسا ادبی شاہکار پڑھنا چاہتے ہیں جو نہ صرف جزئیات نگاری کا شہ پارہ ہو بلکہ انسانی نفسیات کے مختلف پہلوؤں پہ بھی روشنی ڈالتا ہو تو یہ ناول آپ کے لئے ہی ہے۔
۔
جہاں تک کتاب کی اشاعت کی بات ہے تو محمد حسن عسکری صاحب کے اس خوبصورت ترجمے کو فکشن ہاؤس والوں نے انتہائی بھونڈے اور برے طریقے سے شائع کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ ایکسٹرا ایفرٹس ڈال کے پوری کوشش کی کہ جتنا برا ہو سکے اتنا شائع کریں۔ پروف کی جتنی غلطیاں اس ناول میں ہیں شاید ہی کسی اور کتاب میں آپ کی نظر سے گزری ہوں
۔
نوٹ۔۔ جنہیں روسی کرداروں کے نام مشکل لگتے ذرا فرانسیسی نام پڑھ کے دیکھیں لگ پتا جانا
.
جتنا کچھ فرانسیسی ادب میں نے پڑھا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرے اور معاشرتی رویوں کے جیسے نباض فرانسیسی ادیب ہیں اور اپنے عصری معاشرے کی جو حقیقت پسندانہ منظر نگاری فرانسیسی ادیبوں نے کی ہے شاید ہی کسی اور زبان میں کسی نے کی ہو ۔ ہوس، عیش و عشرت کی تمنا اور معاشرتی تفریق کی ایسی عکاسی کہیں اور آپ شاید پڑھ پائیں۔
اپنی اشاعت کے ساتھ ہی فرانس کے اس وقت کے پبلک پراسیکیوٹر نے اس ناول پہ فحاشی کا الزام دھر دیا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ میری نظر میں شاید مادام بوواری کی صورت میں معاشرے کی تصویر اس قدر واضح اور بغیر ڈھکے چھپے دکھانا ہے ۔اپنی اولین اشاعت کے ساتھ ہی تنازعات میں گھر جانے والا یہ ناول آج ایک سو چھیاسٹھ سال گزرنے کے باوجود اب بھی ادبی حلقوں میں اسی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھا اور زیر بحث لایا جاتا ہے۔اگر اب ایسا ادبی شاہکار پڑھنا چاہتے ہیں جو نہ صرف جزئیات نگاری کا شہ پارہ ہو بلکہ انسانی نفسیات کے مختلف پہلوؤں پہ بھی روشنی ڈالتا ہو تو یہ ناول آپ کے لئے ہی ہے۔
۔
جہاں تک کتاب کی اشاعت کی بات ہے تو محمد حسن عسکری صاحب کے اس خوبصورت ترجمے کو فکشن ہاؤس والوں نے انتہائی بھونڈے اور برے طریقے سے شائع کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ ایکسٹرا ایفرٹس ڈال کے پوری کوشش کی کہ جتنا برا ہو سکے اتنا شائع کریں۔ پروف کی جتنی غلطیاں اس ناول میں ہیں شاید ہی کسی اور کتاب میں آپ کی نظر سے گزری ہوں
۔
نوٹ۔۔ جنہیں روسی کرداروں کے نام مشکل لگتے ذرا فرانسیسی نام پڑھ کے دیکھیں لگ پتا جانا
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3846064225624082




Can’t hold up tears in the end 😭
اچھا ناول ہے۔مطالعہ کے دوران انسان اس میں کھو جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کرداروں کے آس پاس کہیں موجود ہے۔
کمال۔۔کیا شاندار تجزیہ پیش کیا ہے
عسکری صاحب نے کمال کا ترجمہ کیا ہے۔
Kahn se publish howa?.