عالمی ادب
– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 18 – اناگزَگورس (Anaxagoras) انا…

– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy)
– قسط: 18
– اناگزَگورس (Anaxagoras)
اناگزَگورس کی تقریباً 510BCE میں پیدائش ہوتی ہے اور وفات ہوتی ہے 428BCE میں۔
اناگزَگورس وہ فلسفی ہے کہ جس نے فلسفہ کو ایتھنز (Athens) پہنچایا۔
یہ کہا جاتا ہے کہ اناگزَگورس سقراط کا استاد بھی تھا اور اگراناگزَگورس نہ ہوتا تو فلسفہ کے بنیادی خیالات کبھی بھی ایتھنز نہ آتے۔ نہ سقراط، نہ افلاطون اور نہ ارسطو شاید پیدا ہوتے۔
اناگزَگورس علم فلسفہ اور سیکھنے کے اس قدر شوقین تھے کہ اس نے ایک لمبا سفر طے کیا کہ میں دنیا دیکھنا چاہتا ہوں، میں دنیا کو سمجھنا چاہتا ہوں، جب سفر سے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی تقریباً ساری جائیداد تباہ و برباد ہو چکی ہیں، اس کی زمین بنجر ہو چکی ہے، اس کا کسی نے خیال نہیں رکھا۔ مگر اس کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں تھی وہ کہتا تھا کہ بے شک یہ جائیدادیں میرے پاس نہ ہو، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، میں صرف فلسفہ سیکھنا چاہتا ہوں، میں صرف علم سیکھنا چاہتا ہوں۔
اس کے ایک دوست نے اس کے ملکیت کے تباہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تو اس نے یہ کہا کہ یا تو یہ بچتی یا میں بچتا اب یہ تباہ ہوئی ہے، اب میں اپنے اصل عشق یعنی فلسفے کی طرف جا سکتا ہوں۔
ایتھنز کا ایک سیاستدان تھا جس کا نام تھا پیریکلیز (Pericles)، وہ بہت ہی اہم سیاستدان تھے۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ ایتھنز میں جو محدود جمہوریت نظام، جس میں غلام اور عورتیں حصہ نہیں لے سکتی، اشرافیہ اور ڈیموس حصہ لے سکتے ہیں، وہ یہ چاہتا تھا کہ اس جمہوری نظام میں رہتے ہوئے لوگ کچھ تہذیب سیکھے، کچھ آرٹ کے بارے میں سیکھے، کچھ فلسفے کے بارے میں سیکھے، کچھ دنیا اور سائنس کے بارے میں سیکھے۔
لہذا اس نے اناگزَگورس کو دعوت دی کہ کیوں نہ آپ ایتھنز آئیں اور یہاں آکر اپنا فلسفہ پڑھائے۔
اناگزَگورس ایتھنز گیا اور اس نے وہاں کے لوگوں کو پڑھایا۔
اناگزَگورس دراصل ایک فلورلسٹ (Pluralist) بھی تھا اور "Eleatic School of Thought” سے بھی متاثر تھے۔
مثال کے طور پر وہ بھی یہی سمجھتا تھا کہ جو چیز ہم حس سے سمجھ رہے ہیں، آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہ ضروری نہیں کہ سو فیصد درست ہو۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ جس چیز کو ہم تبدیلی سمجھ رہے ہیں وہ اصل میں تبدیلی نہیں ہے مگر وہی مادہ دوبارہ سے، کسی اور تناسب سے، کسی طرح سے مل رہے ہیں لہذا مادہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی ہے مگر مادہ کس طرح ایک دوسرے سے مکس ہو رہے ہیں شاید اس میں تھوڑی بہت تبدیلی ہے۔
اناگزَگورس یہ کہتا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ جو بنیادی طور پر مادہ ہے وہ یا ختم ہو جائے یا پیدا ہو جائے۔
جو مادہ ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گا اور اس میں تھوڑی بہت رد و بدل، تبدیلی کے نتیجے میں ہمیں مادہ کی مختلف شکل میں نظر آتی ہے۔
وہ کہتا تھا کہ؛
"There is everything in everything.”
یعنی ہر شے کے اندر ہر شے پائی جاتی ہے، اس سے اس کی اصل مراد یہ تھی کہ اگر مادے کی ایک چیز دیکھے، کوئی بھی چیز جیسے سیب، پتھر وغیرہ تو وہ عناصر جو پتھر کے اندر ہے وہی عناصر کھانے کے اندر بھی ہیں اور مختلف تناسب میں مکس ہوئے ہیں مگر ہر عنصر جو ہے وہ ہر چیز کے اندر پایا جاتا ہے۔
اناگزَگورس کو یہ خیال اس حوالے سے آیا کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو کھانے کے اندر جو اجزاء ہیں وہ ہمارے جسم کے اندر تبدیل ہو جاتی ہے، مثال کے طور پر ہمارے بال لمبے ہو جاتے ہیں ہماری ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں وغیرہ۔
تو اناگزَگورس کا یہ خیال تھا کہ کھانے کے اندر ہڈیاں ہوں گی، بال ہوں گے، کھانے کے اندر خون ہوگا، کھانے کے اندر جلد ہوگا وہ تمام چیزیں جو ہماری جسم میں بن جاتی ہیں وہ دراصل کھانے کے اندر تھوڑی تھوڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔
آج ہمیں پتہ ہے کہ واقعی یہ تھیری درست تو نہیں ہے بہرحال اناگزَگورس مگر اس حوالے سے درست کہہ رہا ہے کہ کھانے کے اندر جو اجزاء ہیں وہ ہمارے جسم میں تبدیل ہوتی ہے۔
اس نے اس کو مزید بڑھا دیا اس نے کہا کہ ہر چیز میں ہر چیز ہے۔ اس کی دوسری مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ برف بالکل سفید ہوتی ہے مگر جب وہ پگھل جاتی ہے تو اکثر وہ کالے پانی میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اناگزَگورس نے کہا کہ اس سفید برف کے اندر کالا پانی پہلے سے موجود تھا سفید کے اندر کالا موجود ہے اور کالے کے اندر سفید موجود ہے، ہر شے ہر شے میں شامل ہیں۔ اسی وجہ سے چیزیں دوسری چیزوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
شاید سب سے اہم اناگزَگورس کا جو خیا تھا وہ "Nous” کا "The mind” تھا۔ اناگزَگورس کا یہ کہنا تھا کہ کائنات کے اندر تمام عناصر کا مرکب (Mixture) وہ ایک "Nous” ایک "mind” ان کو عمل "action” میں لے کر آتا ہے اس کو
مرکب میں لے کر آتا ہے، ان کو گماتا ہے اور جس کے نتیجے میں ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں۔
یہ "mind” جو ہے وہ اناگزَگورس کے لئے دیوتا نہیں تھی بلکہ ایک قسم کا اصول تھا، ایک قدرتی قانون تھا جس کے تحت یہ دنیا چلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اناگزَگورس کے لئے دنیا ایک "mechanism” تھی، ایک میکینسٹیک (mechanistic) تفصیل تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا تھا کہ جسے یونان کے لوگ سمجھتے تھے کہ سورج اور چاند دیوتا ہیں مگر اناگزَگورس ان کو بالکل دیوتا نہیں مانتا تھا بلکہ اس کا یہ کہنا تھا کہ تمام سیارے جو ہمیں آسمان کے اندر نظر آتے ہیں درحقیقت وہ اسی مادے کے بنے ہوئے ہیں کہ جس مادے سے یہ دنیا بنی ہوئی ہے۔
اب یہ تصور ایتھنز کے لوگوں کو بالکل پسند نہیں آیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ تو آپ نے ہمارے دیوتا کے بارے میں بڑی عجیب و غریب قسم کی بات کی۔
اناگزَگورس نے کہا کہ سورج ایک metal یعنی ایک لوہا ہے جو بالکل لال اور گرم ہو چکا ہے اور جو کہ جل رہا ہے۔
اسی طرح اس نے کہا کہ چاند بھی اس چیز سے بنا ہے جس چیز سے دنیا بنی ہے اور یہ کہ چاند جو ہے وہ سورج کے روشنی کو reflect کر رہی ہے اور ہم دراصل چاند پر سورج کی روشنی دیکھ رہے ہیں، اس نے کہا کہ ستارے جو ہیں وہ ایک قسم کے اگ بگولا پتھر ہیں۔
اس نے Eclipses کے حوالے سے بھی بالکل درست کہا کہ جب چاند سورج کے سامنے آجائے تو پھر ایک eclipse پیدا ہوتا ہے یا زمین کا جو سایہ ہے وہ چاند پہ گر جائے تو بھی ایک eclipse پیدا ہوجاتا ہیں۔
یہ سب باتیں جب اس نے کہی تو ایتھنز کے لوگ اس کے سخت خلاف ہوگئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں آج مکمل طور پر سائنسی طور پر ثابت ہو چکی ہے اس کی ایک بھی بات غلط نہیں ہوئی۔ واقعی سورج اس مادے سے بنا ہوا ہے جس مادے سے یہ دنیا بنی ہوئی ہے۔ اس طرح چاند اور ستارے بھی اس مادے سے بنے ہوئے ہیں جس مادے سے یہ دنیا بنی ہوئی ہے یہ بات بھی درست ہے کہ سورج پر آگ لگی ہوئی ہے، سورج کی روشنی ہی چاند پر نظر آتی ہے جو ستارے ہمیں نظر اتے ہیں وہ بھی درحقیقت مختلف قسم کے سورج ہیں وہاں پر بھی آگ ہے اور وہی آگ ہمیں نظر آتی ہے سب باتیں درست ہیں۔
مگر ایتھنز کے لوگ اس کے سخت مخالف ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دہریہ ہے۔ اس نے ہمارے مذہب کے خلاف بات کی ہے لہذا اس کو مار دیں گے اس کو "choice” دی گئی کہ یا تو تم زہر کا پیالہ پی کے مر جاؤ یا تو پھر ہمارے شہر سے نکل جاؤ لہذا اناگزَگورس نے فیصلہ کیا کہ ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں اور اس نے ایتھنز کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔
اناگزَگورس نے ایتھنز کو تو چھوڑ دیا مگر اس کا اثر جو تھا اس نے پوری ایتھنز اور پوری دنیا پر غلبہ دیکھایا اور خاص طور پر ایتھنز کے ایک شہری جس کا نام تھا سقراط "Socrates” اس پر بہت زیادہ اثر ہوا وہ کیسے ؟
کہ اناگزَگورس کا جو شاگرد تھا آرکیلیس (Archelaus)، اس کا جو آگے شگرد تھا وہ تھا سقراط (Socrates)۔
– قسط: 18
– اناگزَگورس (Anaxagoras)
اناگزَگورس کی تقریباً 510BCE میں پیدائش ہوتی ہے اور وفات ہوتی ہے 428BCE میں۔
اناگزَگورس وہ فلسفی ہے کہ جس نے فلسفہ کو ایتھنز (Athens) پہنچایا۔
یہ کہا جاتا ہے کہ اناگزَگورس سقراط کا استاد بھی تھا اور اگراناگزَگورس نہ ہوتا تو فلسفہ کے بنیادی خیالات کبھی بھی ایتھنز نہ آتے۔ نہ سقراط، نہ افلاطون اور نہ ارسطو شاید پیدا ہوتے۔
اناگزَگورس علم فلسفہ اور سیکھنے کے اس قدر شوقین تھے کہ اس نے ایک لمبا سفر طے کیا کہ میں دنیا دیکھنا چاہتا ہوں، میں دنیا کو سمجھنا چاہتا ہوں، جب سفر سے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی تقریباً ساری جائیداد تباہ و برباد ہو چکی ہیں، اس کی زمین بنجر ہو چکی ہے، اس کا کسی نے خیال نہیں رکھا۔ مگر اس کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں تھی وہ کہتا تھا کہ بے شک یہ جائیدادیں میرے پاس نہ ہو، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، میں صرف فلسفہ سیکھنا چاہتا ہوں، میں صرف علم سیکھنا چاہتا ہوں۔
اس کے ایک دوست نے اس کے ملکیت کے تباہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تو اس نے یہ کہا کہ یا تو یہ بچتی یا میں بچتا اب یہ تباہ ہوئی ہے، اب میں اپنے اصل عشق یعنی فلسفے کی طرف جا سکتا ہوں۔
ایتھنز کا ایک سیاستدان تھا جس کا نام تھا پیریکلیز (Pericles)، وہ بہت ہی اہم سیاستدان تھے۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ ایتھنز میں جو محدود جمہوریت نظام، جس میں غلام اور عورتیں حصہ نہیں لے سکتی، اشرافیہ اور ڈیموس حصہ لے سکتے ہیں، وہ یہ چاہتا تھا کہ اس جمہوری نظام میں رہتے ہوئے لوگ کچھ تہذیب سیکھے، کچھ آرٹ کے بارے میں سیکھے، کچھ فلسفے کے بارے میں سیکھے، کچھ دنیا اور سائنس کے بارے میں سیکھے۔
لہذا اس نے اناگزَگورس کو دعوت دی کہ کیوں نہ آپ ایتھنز آئیں اور یہاں آکر اپنا فلسفہ پڑھائے۔
اناگزَگورس ایتھنز گیا اور اس نے وہاں کے لوگوں کو پڑھایا۔
اناگزَگورس دراصل ایک فلورلسٹ (Pluralist) بھی تھا اور "Eleatic School of Thought” سے بھی متاثر تھے۔
مثال کے طور پر وہ بھی یہی سمجھتا تھا کہ جو چیز ہم حس سے سمجھ رہے ہیں، آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہ ضروری نہیں کہ سو فیصد درست ہو۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ جس چیز کو ہم تبدیلی سمجھ رہے ہیں وہ اصل میں تبدیلی نہیں ہے مگر وہی مادہ دوبارہ سے، کسی اور تناسب سے، کسی طرح سے مل رہے ہیں لہذا مادہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی ہے مگر مادہ کس طرح ایک دوسرے سے مکس ہو رہے ہیں شاید اس میں تھوڑی بہت تبدیلی ہے۔
اناگزَگورس یہ کہتا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ جو بنیادی طور پر مادہ ہے وہ یا ختم ہو جائے یا پیدا ہو جائے۔
جو مادہ ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گا اور اس میں تھوڑی بہت رد و بدل، تبدیلی کے نتیجے میں ہمیں مادہ کی مختلف شکل میں نظر آتی ہے۔
وہ کہتا تھا کہ؛
"There is everything in everything.”
یعنی ہر شے کے اندر ہر شے پائی جاتی ہے، اس سے اس کی اصل مراد یہ تھی کہ اگر مادے کی ایک چیز دیکھے، کوئی بھی چیز جیسے سیب، پتھر وغیرہ تو وہ عناصر جو پتھر کے اندر ہے وہی عناصر کھانے کے اندر بھی ہیں اور مختلف تناسب میں مکس ہوئے ہیں مگر ہر عنصر جو ہے وہ ہر چیز کے اندر پایا جاتا ہے۔
اناگزَگورس کو یہ خیال اس حوالے سے آیا کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو کھانے کے اندر جو اجزاء ہیں وہ ہمارے جسم کے اندر تبدیل ہو جاتی ہے، مثال کے طور پر ہمارے بال لمبے ہو جاتے ہیں ہماری ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں وغیرہ۔
تو اناگزَگورس کا یہ خیال تھا کہ کھانے کے اندر ہڈیاں ہوں گی، بال ہوں گے، کھانے کے اندر خون ہوگا، کھانے کے اندر جلد ہوگا وہ تمام چیزیں جو ہماری جسم میں بن جاتی ہیں وہ دراصل کھانے کے اندر تھوڑی تھوڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔
آج ہمیں پتہ ہے کہ واقعی یہ تھیری درست تو نہیں ہے بہرحال اناگزَگورس مگر اس حوالے سے درست کہہ رہا ہے کہ کھانے کے اندر جو اجزاء ہیں وہ ہمارے جسم میں تبدیل ہوتی ہے۔
اس نے اس کو مزید بڑھا دیا اس نے کہا کہ ہر چیز میں ہر چیز ہے۔ اس کی دوسری مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ برف بالکل سفید ہوتی ہے مگر جب وہ پگھل جاتی ہے تو اکثر وہ کالے پانی میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اناگزَگورس نے کہا کہ اس سفید برف کے اندر کالا پانی پہلے سے موجود تھا سفید کے اندر کالا موجود ہے اور کالے کے اندر سفید موجود ہے، ہر شے ہر شے میں شامل ہیں۔ اسی وجہ سے چیزیں دوسری چیزوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
شاید سب سے اہم اناگزَگورس کا جو خیا تھا وہ "Nous” کا "The mind” تھا۔ اناگزَگورس کا یہ کہنا تھا کہ کائنات کے اندر تمام عناصر کا مرکب (Mixture) وہ ایک "Nous” ایک "mind” ان کو عمل "action” میں لے کر آتا ہے اس کو
مرکب میں لے کر آتا ہے، ان کو گماتا ہے اور جس کے نتیجے میں ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں۔
یہ "mind” جو ہے وہ اناگزَگورس کے لئے دیوتا نہیں تھی بلکہ ایک قسم کا اصول تھا، ایک قدرتی قانون تھا جس کے تحت یہ دنیا چلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اناگزَگورس کے لئے دنیا ایک "mechanism” تھی، ایک میکینسٹیک (mechanistic) تفصیل تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا تھا کہ جسے یونان کے لوگ سمجھتے تھے کہ سورج اور چاند دیوتا ہیں مگر اناگزَگورس ان کو بالکل دیوتا نہیں مانتا تھا بلکہ اس کا یہ کہنا تھا کہ تمام سیارے جو ہمیں آسمان کے اندر نظر آتے ہیں درحقیقت وہ اسی مادے کے بنے ہوئے ہیں کہ جس مادے سے یہ دنیا بنی ہوئی ہے۔
اب یہ تصور ایتھنز کے لوگوں کو بالکل پسند نہیں آیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ تو آپ نے ہمارے دیوتا کے بارے میں بڑی عجیب و غریب قسم کی بات کی۔
اناگزَگورس نے کہا کہ سورج ایک metal یعنی ایک لوہا ہے جو بالکل لال اور گرم ہو چکا ہے اور جو کہ جل رہا ہے۔
اسی طرح اس نے کہا کہ چاند بھی اس چیز سے بنا ہے جس چیز سے دنیا بنی ہے اور یہ کہ چاند جو ہے وہ سورج کے روشنی کو reflect کر رہی ہے اور ہم دراصل چاند پر سورج کی روشنی دیکھ رہے ہیں، اس نے کہا کہ ستارے جو ہیں وہ ایک قسم کے اگ بگولا پتھر ہیں۔
اس نے Eclipses کے حوالے سے بھی بالکل درست کہا کہ جب چاند سورج کے سامنے آجائے تو پھر ایک eclipse پیدا ہوتا ہے یا زمین کا جو سایہ ہے وہ چاند پہ گر جائے تو بھی ایک eclipse پیدا ہوجاتا ہیں۔
یہ سب باتیں جب اس نے کہی تو ایتھنز کے لوگ اس کے سخت خلاف ہوگئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں آج مکمل طور پر سائنسی طور پر ثابت ہو چکی ہے اس کی ایک بھی بات غلط نہیں ہوئی۔ واقعی سورج اس مادے سے بنا ہوا ہے جس مادے سے یہ دنیا بنی ہوئی ہے۔ اس طرح چاند اور ستارے بھی اس مادے سے بنے ہوئے ہیں جس مادے سے یہ دنیا بنی ہوئی ہے یہ بات بھی درست ہے کہ سورج پر آگ لگی ہوئی ہے، سورج کی روشنی ہی چاند پر نظر آتی ہے جو ستارے ہمیں نظر اتے ہیں وہ بھی درحقیقت مختلف قسم کے سورج ہیں وہاں پر بھی آگ ہے اور وہی آگ ہمیں نظر آتی ہے سب باتیں درست ہیں۔
مگر ایتھنز کے لوگ اس کے سخت مخالف ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دہریہ ہے۔ اس نے ہمارے مذہب کے خلاف بات کی ہے لہذا اس کو مار دیں گے اس کو "choice” دی گئی کہ یا تو تم زہر کا پیالہ پی کے مر جاؤ یا تو پھر ہمارے شہر سے نکل جاؤ لہذا اناگزَگورس نے فیصلہ کیا کہ ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں اور اس نے ایتھنز کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔
اناگزَگورس نے ایتھنز کو تو چھوڑ دیا مگر اس کا اثر جو تھا اس نے پوری ایتھنز اور پوری دنیا پر غلبہ دیکھایا اور خاص طور پر ایتھنز کے ایک شہری جس کا نام تھا سقراط "Socrates” اس پر بہت زیادہ اثر ہوا وہ کیسے ؟
کہ اناگزَگورس کا جو شاگرد تھا آرکیلیس (Archelaus)، اس کا جو آگے شگرد تھا وہ تھا سقراط (Socrates)۔
– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میں عباس علیزی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3737837106446795




🌲🌲🌹🌹