– فلسفہ کی تاریخ (History of philosophy) – قسط: 12 – ہیراکلائٹس اور ہوڈوز انو کا…

– قسط: 12
– ہیراکلائٹس اور ہوڈوز انو کاٹو (Hodos ano kato)
ہیراکلیٹس Contradictory Predict تصور کو آگے جاری رکھ کرکہتا ہے؛ "Hodos ano kato”
اس کا مطلب یہ ہے کہ؛
The path up the path down are one and same, all existence entities are made of pairs of contradictory predicates.
اب یہ بہت مبہم بات ہے کہ
The path up the path down are one and same.
یعنی وہ راستہ جو نیچے کی طرف جاتا ہے اور وہ راستہ جو اوپر کی طرف ہے برابر ہے۔
فرض کریں ! آپ پہاڑ پہ چڑھ رہے ہیں اور آپ کسی سے پوچھتے ہیں کہ بھائی اوپر جانے والا راستہ کدھر ہے اگر وہ ہیریکلائٹس ہوا تو وہ جواب دے گا کہ Hodos anu Kato یعنی اوپر جانے اور نیچے آنے کا راستہ ایک ہی ہے تو آپ تو کنفیوز ہو جاؤ گے۔ ہیراکلائٹس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مادے کے اندر جو تبدیلی کا عمل ہے اس کا نیچھے کا عمل اور اوپر کا عمل ایک ہی ہے (پیدا اور ختم ہونے کا عمل)۔
مثال کے طور پر ؛
The death of fire is the birth of air.
The death of air is the birth of water.
یعنی آگ کے موت کے نتیجے میں ہَوا پیدا ہوتی ہے اور ہوا کے موت کے نتیجے میں پانی پیدا ہوتا ہے یعنی کہ اوپر جانے کا راستہ، جب آگ ہوا میں تبدیل ہوتا ہے اور ہوا مزید آگے پانی میں تبدیل ہوتی ہے اور نیچھے جانے کا راستہ جب پانی واپس ہوا میں تبدیل ہوتا ہے اور ہوا آگ میں، یہ ایک ہی رستہ ہے۔
اور بہت مزیدار تصور ہے جو آج بھی سائنس کی دنیا استعمال ہوتا ہے کہ جب مادہ تبدیل ہوتا ہے اور جو "راستہ” تبدیلی کا اختیار کرلیتا ہے وہ ایک ہی راستہ ہے۔
– مزید ہیراکلائٹس کہتا ہے کہ
"Strife is justice”.
یعنی جنگ ہی عدل ہے۔
یہ کیا عجیب و غریب قسم کی بات ہے آج کل دنیا میں اتنی جنگیں ہورہی ہے کوئی بندہ یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ عدل و انصاف ہورہا ہے لیکن ہیریکلائٹس کا کیا مطلب تھا ؟
ہیریکلائٹس کا مطلب یہ تھا کہ تمام چیزیں جو ہمیں نظر آتی ہیں وہ متضاد قوتوں کے درمیان جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہی عدل، اس کے نتیجے ہی توازن (balance) اور اس کے نتیجے میں ہی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
وہ کہتا تھا ؛
All the things come into being by conflict of opposites and the sum of things flow like a stream.
یعنی ٹکراؤ سےجو نتیجہ بنتا ہے وہ ایک دریا کی طرح بہتا ہے۔ اس حوالے سے وہ مزید کہتے ہیں کہ؛
There is a harmony in the bending back as in the case of the bow and the lyre.
کہ جس طرح ایک تیر اور کمان کھینچنے سے اس کے درمیان قوتے پیدا ہوتی ہیں اسی طرح دنیا میں جو تبدیلیاں ہیں وہ ان متضاد قوتوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
– ہیراکلائٹس کہتا تھا "Follow the common”.
وہ سمجھتا تھا کہ "logos” مشترکہ (common) ہے ہر جگہ موجود ہے، مادے کے اندر بھی، انسان کے اندر بھی، مادے اور انسان کے ارتقاء میں بھی، کائنات میں ہر طرف موجود ہیں مگر انسان اس قانون کو سمجھنے سے قاصر ہے، ہم اس کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے اور اگر سمجھ جائے اور پھر ان پر عمل کرے تو علم آپ کی ہو سکتی ہے ۔
– ہیراکلائٹس کہتا تھا کہ؛
Wisdom is to know the thought by which all things are steered through all things.
کہ علم وہ چیز ہے کہ جس کے ذریعے آپ کو وہ اصول پتا چل جائے جو ہر چیز پر لاگو ہیں اور وہ اصول آپ اپنے بہتری کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔
– سیاست کے حوالے سے وہ کہتا تھا کہ؛
Laws must be defended like walls of city.
کہ جس طرح شہر کے دیواروں کا دفاع کرتے ہیں، جب دشمن آپ پر حملہ کردے اور آپ دیواروں پر کھڑے ہوکر دفاع کرتے ہیں اپنے شہر اور اور دیواروں کا کہ وہ نہ ٹوٹے، بلکل اسی طرح قوانین کا بھی تحفظ کرنا چاہیئے۔
وہ انقلابی نہیں تھا بس وہ چاہتا تھا کہ جو قوانین ہیں وہ قائم رہے ۔
– ہیراکلائٹس کی موت
ہیراکلائٹس کی موت تقریباً 60 سال کی عمر ميں ہوئی اس کو ورم (edema) ہو گیا تھا۔ ورم (edema) یعنی جب آپ کے جلد کے اندر بہت زیادہ پانی اکٹھا ہوجائے۔
اس وقت کے لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی کیا وجہ ہے۔
کسی نے ان کو کہا کہ تم اپنے جسم کے اوپر گھوبر ڈال دو اور پھر آپ دھوپ میں لیٹ جانا اور یہ جو سارہ پانی بھرا پڑا ہے یہ گھوبر اور سورج کے نتیجے میں ختم ہوجائے گا لیکن وہ پانی تو ختم نہیں ہوا ہیریکلائٹس خود ہی ختم ہوگئے۔
بہرحال ہیراکلائٹس نے جو بنیادی تصور دیا جس تصور میں اس نے دو متضاد تصوروں کو اکٹھا دیکھایا کہ دو متضاد چیزیں اکٹھی ہو سکتی ہیں اس پر ایک لمبی بحث (Debate) جاری رہی اور آج تک جاری ہے۔
آپ Hegal کو اٹھائے،
آپ Derrida کو اٹھائے،
آپ Karl Marx کو اٹھائے،
آپ Existentialism کو اٹھائے،
آپ Post Modernism کو اٹھائے،
اس پر آج تک بحث و مباحثہ جاری ہے۔
– ہیراکلائٹس کے بالکل الٹ جو فلاسفر کھڑا تھا اس کا نام تھا پرمینیڈیز (Parmenides) جس کا ذکر ہم آگے جاکر کریں گے۔ سقراط اور افلاطون کی جو بنیادی فلسفہ ہے وہ ہیریکلائٹس اور پرمینیڈیز کے درمیان بحث (debate) کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
– ہیراکلائٹس کے جو بنیادی خیالات تھے وہ مزید Stoic نے بھی جاری رکھے جو "Hellenistic Period” میں آتے ہیں۔ اس کا ذکر بھی ہم آگے جاکر کریں گے۔
– ہم نے تھیلیس کو دیکھا، اینیگزیمینڈر کو دیکھا، اینیگزیمینیز کو دیکھا، فیثاغورث کو دیکھا، ہیراکلائٹس کو دیکھا اور ان سب میں ہم نے ایک مشترک چیز دیکھ لی اور وہ یہ تھی کہ کوئی بنیادی اصول اور قوانین ہیں کہ جس کے نتیجے پوری کائنات چل رہی ہے۔
۰ تھیلیس کہتا تھا کہ تمام مادے کی بنیاد پانی ہے،
۰ اینیگزیمینڈر کہتا تھا کہ تمام مادے کی بنیاد Aperion ہے
۰ اینیگزیمینیز کہتا کہ وہ چیز ہَوا ہے،
۰ فیثاغورث کہتا تھا کہ وہ چیز حساب کے اصول اور قوانین ہیں۔
۰ جبکہ ہیراکلائٹس کہتا تھا کہ وہ چیز آگ ہے۔
حقیقت کیا ہے ابھی نہیں جانتے مگر اس بحث کے نتیجے میں وہ بنیادی خیالات اور تصورات قائم ہوئے کہ جس کو تمام فلاسفرز نے مدنظر رکھتے ہوئے وہ تھیریز بنائی جو تقریباً 2000 سال تک انسان کی سوچ پر غالب رہی۔
– ایلیٹیکس (The eleatics)
ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ فلسفے کے تاریخ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛
– Pre-Socratic philosophy
– Socratic philosophy
– Hellenistic philosophy
پری-سوکریٹیک (Pre-Socratic) فلسفہ کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہیں جو کہ ہیں؛
– The Founders
– The Challengers
– The Synthesizer
اس سے پہلے ہم نے ہم نے Founders کا ذکر کیا جس میں تھیلیس، اینیگزیمینڈر، اینیگزیمینیز، فیثاغورث اور ہیریکلائٹس شامل ہیں۔
ان سب کے حوالے سے جو مشترک بات تھی وہ یہ تھی کہ یہ سمجھتے تھے کہ دنیا اور کائنات کے مادے کی بنیاد ایک ہی چیز ہے، ایک اصول ہے، ایک ہی قسم کی چیز ہے جو مختلف شکلیں اختیار کر لیتی ہیں۔
تھیلیس کہتا تھا کہ وہ چیز پانی ہے، اینیگزیمینڈر کہتا تھا کہ وہ چیز Aperion ہے، اینیگزیمینیز کہتا تھا کہ وہ چیز ہَوا ہے، ہیریکلائٹس کہتا تھا کہ وہ چیز آگ ہے۔
اس کے بعد ہم ان فلاسفرز کے بارے میں بحث کریں گے جو Founders کو چیلنچ کرتے تھے۔ ان کا یہ خیال تھا کہ یہ تھیریز غلط ہیں۔
– Eleatics Challengers
Xenophanes, Parmenides, Zeno, Melisus
پھر اس کے بعد جو جواب دینے والے لوگ ہیں جس کو ہم Synthesizers کہتے ہیں ان میں شامل ہیں؛
"Ampedocles”, "Anaxagoras”, "Leucippus” and "Democritus”.
– لیکچرر : ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب : میثم عباس علیزی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3702838893279950




🌹🌹👍👍
v informative
JB WO khata tha chezay tazadat maie badlti haye to phly WO qu khta nechy s upper jany Ka rasta ek haye?
اس کے پچهلے قسط کها ملے ګے