عالمی ادب

~ تم بھی لکھنا اُس شب تم نے کتنی بار پِیا پانی (جاڑے کی پہلی چاندنی رات میں ایک…

~ تم بھی لکھنا اُس شب تم نے کتنی بار پِیا پانی

(جاڑے کی پہلی چاندنی رات میں ایک خط …..اپنے پیکرِ حوّا کے نام)

آپ کو دلِ مُستغرق کے کسی شگاف سے نکل کر آدابِ ہندی ! اور محبت کی ایک اور نشست میں مرحبا (یہ سلام آنکھوں سے دیکھنا ہو تو پاکیزہ کو راجکمار کو آداب کرتے دیکھ لیجیے گا )۔سلامتی آپ پر ایسے نازل ہو جیسے آپ کی زلفیں شام کو چھت پر ٹہلتے ہوئے کندھوں پر برستی رہتی ہیں۔ مجھے صرف ایک غم ہے وہ یہ کہ برستی بارش میں آپ کی ہنسی دیکھنے کے لیے مجھے اگلی برسات کا انتظار کرنا پڑے گا ۔اس کہر کی پھوار میں ہم نے آپ سے یہ فرمائش کر کے ایڈگر ایلن پو کی محبوبہ کی طرح آپ کو قبر میں زندہ نہیں اتارنا فی الحال۔
رات فی الوقت گہری ہو رہی ہے اور شیخ محیی الدین ابن عربی رحمہ اللہ کی کتاب ” الفتوحات المکیہ” میرے سرہانے کھلی پڑی ہے۔خط لکھتے لکھتے کبھی میں چاند کو گھورنے لگتا ہوں اور کبھی کھڑکی سے گزرتے کسی جگنو پر نگاہ پرتی ہے تو اس پر ترس آنے لگتا ہے کہ اس سرد رات میں یہ اپنی چمک کے ساتھ بھی بے گھر و بے آسرا ہے اور ہم جیسے بدحال آرام سے بستر میں لیٹے ہیں۔ حسین بن منصور حلّاج نے محبت کی ایک تعریف یوں کی ہے کہ پہلی بار پڑھنے سے تو عقل مبہوت ہو جاتی ہے اور ذہن الجھن میں جا ٹھہرتا ہے، اس نے کہا ہے کہ :
"محبت یہ ہے کہ جیسے ہی محبوب کا قرب ملے تم اپنی ساری اوصاف مٹا کر اپنے محبوب جیسے بن جاؤ”.
ان الفاظ کا ادراک مطالعے کے لمحات میں بس حیرانی کی حد تک تھا۔کچھ دن بعد شاور کے نیچے کھڑے کھڑے یادداشت نے مجھے ایک عجیب بھول بھلیاں دکھائیں ، جس کے اثر سے جانے میں کتنی ہی دیر دماغ سے عاری نہاتا رہا……….

پچھلی برسات میں جب میلے کے دن تھے ، میں برگد کے نیچے آپ کے چھت پر آنے کا منتظر تھا۔گھٹائیں ہر راہ کو بہا لے جانے کا عزم ظاہر کر رہی تھیں۔ جب آپ آئیں تو برکھا کا شور مچ گیا، آپ کی چھت کے کمرے کا چھپر کچھ آگے نکلا ہوا ہے ، جو اوٹ کا کام دے سکتا ہے۔مجھے دور سے یہی لگا کہ آپ اس کے نیچے ہی آرام سے چل رہی ہیں اور بارش سے محفوظ ہیں ، ادھر آپ کو یوں سجھائی دیا کہ میں برگد کے نیچے مسلسل بھیگ رہا ہوں کیوں کہ بارش بہت زوروں پر تھی اور آپ یہ سمجھ رہی تھیں کہ میں نہا رہا ہوں مزے سے۔جب کے حقیقت ہم دونوں کے خیال کے بر عکس تھی ، آپ بارش میں چل رہی تھیں اور مجھے بھیگتا خیال کر کے مسلسل خود بھی بھیگ رہی تھیں ادھر میری حالت یہ تھی کہ میں اسی برگد کے ایک دو شاخے کے نیچے پانی سے محفوظ کھڑا تھا(حالانکہ میں نہانا چاہ رہا تھا مگر آپ کی خاطر وہاں رک گیا کہ آپ اپنے اجلے کپڑے بارش میں گیلے نہ کریں اور میری طرح اوٹ میں ہی رہیں) اور میں یہی خیال کر رہا تھا کہ آپ بھی میری طرح اس چھپر کے نیچے ٹہلتی ہوئی بارش سے محفوظ ہیں۔ چناچہ آپ کو یہ معلوم ہو رہا تھا کہ میں بارش میں کھڑا ہوں اور میری نظر یہ دھوکہ کھا رہی تھی کہ آپ بھی میری طرح اوٹ میں ہیں۔یوں ہم دونوں اس صبح پورا ایک پہر یوں ہی خشک و تر ، ایک دوجے کو اپنا آپ سونپتے رہے۔اس پسِ منظر کا اصل منظر میری آنکھوں نے تب دیکھا جب بارش رکی اور آپ نے اپنے بالوں کی لٹ نچوڑی اور چند قطرے بہاؤ سے برسے۔آپ کا یوں بھیگتے رہنا اور میرا دو شاخے کی اوٹ میں چاہ کر بھی بارش میں نہ نکلنا اور یوں کھڑے رہنا ، حلاج کے اس جملے کا سلجھاؤ تھا ، یا الجھاؤ ؟ میں کچھ کہہ نہیں سکتا ۔
ابن عربی کو آپ کہتی ہیں ہاتھ نہ لگاؤں ، یاد ہے "ترجمان الأشواق” کی ابیات کے ایک ترجمے پر آپ ایسی بگڑیں کہ پورا آخری عشرہ روٹھی رہیں اور ستائسویں کی شب ذکر کے دوران بچے کو کہلا بھیجا کہ محترمہ کہہ رہی ہیں زندیق کے اذکار قبول نہیں ہوتے۔بھلا بتایے میری جان ! کہ اگر ہم زندیق ہیں تو آپ کیا ہوئیں؟ عقیدہ تو بلند و بالا جہت ہے آپ تو مانگ بھی ہماری مرضی کی نکالتی ہیں !! سبحان اللہ ! پھر سنا ہے کہ میری غیر موجودگی میں الماری کی کتابیں بھی دیکھی ہیں ، اور منہ بنا کر چلی گئی ہیں کہ میری ڈائری نہ مل سکی۔ سنیے ! وہ میرے سرہانے کے نیچے پڑی رہتی ہے اب آئیے تو لے جایے گا ۔میرا دل ، علم و فن اور ساری کتابیں آپ پر قربان !! اب خوش ہیں۔ہاں یہ التجا ہے کہ صفحے نہ پھاڑیے گا !! ۔ابن عربی جب کلام کرتے ہیں تو ان کا مخاطب ہر دل نہیں ہوتا۔یوں سمجھیے کہ شیخ کا مخاطب میں ہوں اور میری مخاطب آپ (شیخہء دلربا !)۔اب اس بات پر ناراض نہ ہونا کہ محترمہ کی دقت فہم پر طعن کر رہا ہوں ۔میری جان آپ ہی ہیں ابن عربی نہیں۔

___” الفتوحات المکیہ” میں فرماتے ہیں کہ :
《 عورت شہودِ حق کا سب سے مکمل و کامل مظہر ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں سے محبت کرنا اسی وجہ سے ہے۔ کیونکہ خود اللہ رب العالمین تو عالم کَون اور خلق سے غنی اور بلند ہے اس لیے اس دنیا میں حق کا مشاہدہ عین وجود میں ممکن نہیں ۔عورت ہی وہ ہستی ہے جس میں اس کشف کا اظہار سب سے اکمل اور غایتِ تمام ہوتا ہے.》
تو اب پہلے تو یہ عرض ہے کہ دیکھیے شیخ تو آپ میں حق کا مشاہدہ کروا رہے ہیں اور آپ شیخ کو برا بھلا کہتی رہتی ہیں۔میری حالت تو اب یہ ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد جب بھی شیخ کا نام سنتا یا لکھتا ہوں مجھ پر روعیت سی طاری ہو جاتی ہے۔اور آپ جانتی ہے کہ محبت کی عجیب علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ محبوب کا ذکر سن کر سناٹے کی رو طاری ہو جاتی ہے۔میری بھی یہی حالت ہوتی ہے۔پچھلے ہفتے والی بات عجیب بنائی تھی کہ جو پوچھا کہ فراک پہن کر گھومتی کیوں ہو ہر بار ، تو کہا کہ ہم آج کل مولانا رومی کے سلسلہ رقص میں شامل ہو گئے ہیں۔ لگتا ہے آپ جیسی ہی کسی جنت سے نکالی (میری ہم عمر ، کنواری ، پیاری پیاری ) حور دیکھ کر ہی ابن عربی نے ” الفتوحات المکیہ” لکھی تھی۔

اچھا ! قسم سے اس برسات والے دن جب تم ہنس ہنس کر بال نچوڑ رہی تھی تو واقعی ہی وہ اور منظر تھا ، وہ۔۔۔۔۔وہ اور کائنات تھی۔اس وقت وہ تم نہیں تھی ۔تمہاری ہنسی روح ازلی کی طرح مجھے اپنی گردش میں لپیٹے لیے جا رہی تھی، بارش اور سبزہ تو میری نگاہوں سے محو ہی ہو گیا اس لمحے۔میں محبت کے اثر سے جسم اور روح دونوں سے نکل گیا تھا اور ابھی تک شاید واپس نہیں آیا۔دلوں کو پھیرنے والے ہاتھ کی قسم !! ابن عربی نے سچ کہا ہے اور محبت کے کوزہ سے جس نے ایک بوند بھی پی ہے وہ اس کا انکار نہیں کر سکتا اور ، جو تم نہیں مانتی تو اپنے دل سے پوچھو !

نیند کا غلبہ مجھے زیادہ سطروں کی مہلت نہ دے شاید۔۔۔۔۔۔آدم کا ایک جُزو حوا کو بنانے میں ختم ہو گیا تھا ۔کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ حوا کو خدا نے آدم کے پہلو سے ہی کیوں نکالا؟ سر سے ، پاؤں سے ، پیٹ سے کیوں نہیں نکالا؟ اس لیے میری جان ! اس لیے ؛ کہ حوا اس کے روبرو رہے ، اس کی کروٹ بن جائے ، اس کے پہلو میں سما کر پھر اس کا جزو بن جائے۔انسان کی جسمانی خلقت اور محسوسات پر غور کرو ، پورے وجود ، سر ۔ دھڑ میں اس کی توجہ ، آنکھوں ، سانسوں کے قریب ترین اس کا پہلو ہی ہے ۔جب ہم گہری محبت کے احساس سے لبریز ہوتے ہیں تو ہم پہلو سے لپٹتے ہیں۔تم خود کیوں ایسے کرتی ہو ، میری گود میں کیوں سمائی جاتی ہو اور پہلو میں گم ہونے لگتی ہو کیوں کہ تم وہاں سے بنی ہو ، تمہاری تخلیق وہاں سے ہے۔ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔اس گہری محبت کے احساس میں آدم کو حوا کا وجود نظر آتا ہے اور حوا کو آدم کا پہلو۔حوا کو اصل میں آدم کے پہلو کی چاہت ہے دوسرے اعضاء وہ وہیں جا کر ہی چھونا چاہتی ہے۔جب تک آدم حوا کو پہلو میں نہ سمائے گا دونوں بے سکون رہیں ، صدیوں محبت تلاش کر لیں نہ ملے گی۔کیونکہ حوا آدم کا پہلو ہے ، اس پر مسلط اور قدموں کی طرح اس کے زیر نہیں ہے۔
اگر حوا کو خدا آدم کی پسلی کی بجائے دل سے بنا دیتا تو جانے آدم کی محبت ، انس اور وارفتگی کا عالم کیا ہوتا ؟ شاید وہ خدا کو بھول کر صرف حوا کا ہو جاتا ، اسے پوجتا ، اسے مانتا ، اپنی نسوں میں بس اس کو بسا لیتا ، صبح و شام اسی کا ہی نام لیتا اور شاید۔۔۔۔۔۔ خدا کی بندگی بھول کر حوا کی بندگی کرنے لگتا۔اسی لیے خدا نے اپنی محبت باقی رکھنے کے لیے حوا کو دل سے ہلکا سا دور رکھا۔ مگر دیکھ لو ! مانی آدم نے پھر بھی حوا کی ، جنت گئی ، فرشتے گئے ، جاودانی نعمتیں اور ابدی زندگی گئی ، مگر کیا کہنے اس کے کہ یہ سب چھوڑ کر حوا کو لیے دنیا میں چلا آیا۔حوا کا ساتھ ہو تو یہ سب دوبارہ مل جائے گا ۔اور تم بھی یہ جان لو ! کہ خدا نے آدم کو جنت بدر کر کے اور توبہ قبول کر کے جس راہِ ہدایت کے نزول اور اس پر چلنے کا کہا تھا ، حوا اس راہ کا سب سے انمول ترین زادِ سفر اور پڑاؤ ہے۔حوا کے بغیر آدم نہ جنت میں رہ سکا نہ دنیا میں۔اس کے ساتھ پیدا ہوا ، اس کے ساتھ جیا ، اور اسی کی آغوش میں آخری سانسیں لیں۔اور دوبارہ جنت میں بھی اس کے بغیر نہ جا سکے گا۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ خدا نے ہمیں جوڑے کی شکل میں بنایا اور پیدا کیا ، مگر کیا انسان ، میں ، تم ، آدم ، حوا سب صرف اس کی بندگی کے لیے پیدا ہوئے۔بندگی اس عظیم یکتا ذات کی ہم انفرادی صورت میں پیدا ہو کر بھی ادا کر لیتے۔حوا خود اکیلی عورتوں کو جنتی رہتی ، آدم اکیلا اپنے وجود سے خود مردوں کو پیدا کرتا رہتا (خدا کی قدرت میں یہ کیا بعید ہے بلکہ جنسی تخلیق سے زیادہ عام فہم بات لگ رہی ہے) ، کائنات بستی ، انسان وجود میں آتا رہتا مگر کیوں جان من ! ایسا نہیں ؟ ۔اس لیے کہ اس بندگی کی راہ میں آدم اور حوا ہم سفر ہیں۔خدا کو ان کی محبت اور پیار کی تڑپ بھی مطلوب ہے ، اس پہلو کی آرزو بھی مطلوب ہے جو ان میں مشترکہ ہے اور اگر میں یہاں مولانا جلال الدین رومی رحمہ اللہ کے روحانی الفاظ بولوں تو 《ان کا ایک دوسرے کو ٹٹولنے اور ایک دوجے کے وجود میں سرایت کرنے کا اضطراب بھی ، ان دو کا ؛ ایک بن کر، ایک خدا کی گواہی دینا بھی۔
آدم کا حوا کی آغوش میں چھپنا ایسا راز ہے کہ دنیا میں اس سے بڑا راز نہیں ہے ، اس راز سے پردہ اٹھانے کا وقت محبت کی آخری منزل ہے ، یہی اُس راہ ہدایت کا آخری پڑاؤ ہے جس کا ذکر میں نے کیا اور تم ششد رہ جاؤ گی ،تمہاری عقل حیرت کی انتہا کو چھو لے اب شاید ، کہ جب تم اس بات کو جانو کہ انسانی وجود اور پیکرِ آدمیت کی سب سے کامل تخلیق رسول خاتم سیدنا《محمد ﷺ》نے جب حجرہ کے اندر سجدہ کرتے تو محترمہ اُم المومنین سیدہ عائشہ بنت ابو بکر (رضی اللہ تعالی عنہما) پاؤں پھیلائے لیٹی ہوتیں ، حجرے کی جگہ کم تھی ، جب آنحضرتﷺ سجدہ میں جاتے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پاؤں سمیٹ لیتیں، جب آپﷺ سجدہ سے اٹھ جاتے تو محترمہ ام المومنین پھر ناز سے پاؤں پھیلا دیتیں۔اس منظر پر رکو!! اور ایک لمحے کو اسے اپنی اصل کی طرف لوٹا دو۔کیا عجیب ہو جو میں اگر یہ کہوں کہ آدم، حوا کے قدموں پر خدا کو سجدہ ریز ہے۔اب مجھے زندیقیت کی پاداش سہنے دو اور یہ بھی کہنے دو کہ اسی عظیم خیر الخلق ﷺ نے دنیا سے جب رحلت فرمائی تو اُن ﷺ کا سر مبارک اسی حوا کی گود میں دھرا تھا جس کے قدموں کے قریب وہ سجدہ کرتے رہے۔

اس بات کو اگلے خطوط میں زیادہ توضیح سے لکھوں گا ، اب تو پہلو نیچے کھسکا جاتا ہے، نیند سے۔یہ پہلو آپ کا منتظر ہے اور دل آپ کی بندگی کا آرزومند ہے۔شریعت کی دنیا میں حوا آدم کی بندی ہے مگر اے میرے دل کی دھڑکن ! محبت کے جہان میں آدم ، حوا کا بندی ہے اور یہ وہ راز ہے جسے اگلے خطوط میں شیخ ابن عربی تمہارے لیے بے نقاب کریں گے ، جیسے میرے لیے کر چکے ہیں۔

اڑتی سنی ہے کہ محترمہ بھی چاہتی ہیں کہ میں "طوق الحمامہ” کا مکمل ترجمہ کروں ، بڑی بات ہے !! جس دن آپ فیسبک پر آئیں گی میرا کیا بنے گا؟ خدا ہی جانتا ہے۔یہ ملفوظات زیر نظر کر کے مجھے اپنے تخیّلات و خیالات لکھنا۔گرمیوں میں یاد ہے میں تمہیں بتاتا تھا کہ آج رات میں نے دو بار اٹھ کر پانی پیا اور تم بھی لکھتی تھی کہ تم نے کتنی بار پانی پیا۔اب سردیوں میں کیا بتائیں ؟ چلو یہ سن لو کہ کل خواب میں ہم نے تمہارا ماتھا چوما، پانچ بار!! برا نہ ماننا۔

اور بتاؤ! سب خیریت ہے گھر میں۔وہ سرخ قمیض جس پر ننھے سیاہ پھول ہیں وہ تو کوئی پیرہنِ آسمانی معلوم ہوتا ہے۔اب اس میں آپ جمتی جو نہیں۔ہر چیز سرگوشی کر رہی ہوتی ہے کہ میں یہاں ہوں۔تو براہ کرم! اسے مجھے بجھوا دو ۔ایک تحفہ ہی صحیح……لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ•
اب میں اتنا بے شرم تو ہوں نہیں کہ ممتاز مفتی کی طرح تم سے انگیا اور بنیان بھی مانگوں۔

شیخ الصوفیہ جنید بغدادی رحمہ اللہ نے سرّی سقطی رحمہ اللہ کے ایک وعظ سے کامل محبت کا اظہار نقل فرمایا ہے ، کہتے ہیں :
《دو انسانوں میں اس وقت تک محبت کامل نہیں ہو سکتی جب تک ایک دوسرے کو "يا أَنا” (اے میرے جان و دل !! اے میں !! اے میرے !!) کہہ کر نہ بلائے.》

تو یا أنا !! اب مجھے نیند آنے لگی ہے۔میں تم کو چاند کی طرح تیرتے ہوئے بہت قریب محسوس کر رہا ہوں۔ کچھ پتہ نہیں کہ میں اب کہاں ہوں ، بستر پر ، باہر چاند پر ، تمہارے پاس ، قلم میں ، اس خط میں ۔۔۔پتہ نہیں یا پھر تمہارے نازک سینے میں دھڑک رہا ہوں!!۔میرا وجود یقینا بستر پر ہی ہے مگر میں چاند پر چل رہا ہوں۔اپنا خیال رکھنا!!
اس آدم کی ازلی محبوبہ کی مہکتی مانگ پر اور ٹھوڑی کے عین وسط میں دو طویل بوسے!! سلامت رہیے۔ اپنا خط مجھے شام کو نَل سے گزرتے ہوئے سونپ دینا۔

خدا حافظ!!

حنظلة خليق
دسمبر ٢٠٢٣ء


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3835066603390511

Related Articles

9 Comments

  1. میرے دوست!
    تمہارا خط پڑھ کر بے ساختہ یہ اشعار ذہن کے دریچوں سے نمودار ہوئے،
    غــازَلتُ مِــن غَــزَلي مِــنــهُـنَّ واحِـدَةً
    حَـسـنـاءَ لَيـسَ لَهـا أُخـتٌ مِـنَ البَـشَرِ
    یہ بات حقیقت ہے کہ پہلو میں سموتی محبوبہ، جاڑوں کی شب برستی بارش، تنہائی کے عالم میں کتاب سے گفتگو اور صحرا میں چمکتے چاند سا حسین شاید اس کائنات میں اور کچھ نہیں ہے اور یہی عشق ہے مگر یہ سب پانے کے لیے بھسم ہونا پڑتا ہے- اور بھسم ہوئے بنا عشق کی فریاد کرنا بے سود ہے- اور اسے لوگ بس پکارتے ہیں،
    عشق اگر به فریاد دل ما نرسد
    ای وای دلم وای دلم وای دلم

    اب تمہیں کیا بتاؤں کہ بھسم ہونا کیا ہے؛ اپنی آرزؤں، خواہشات اور چاہتوں سے بیگانہ ہو کر اپنے سارے اوصاف مٹا کر اپنے محبوب جیسے بن جانا ہی تو عاشقی ہے – روز و شب کی آہ و بکا، بے قرار التجائیں، خواہش کی تکمیل کے وظائف، محبت کی تسبیح، نہ جانے اور کیا کیا جتن کر لیےجائیں، پھر بھی "لن ترانی” سننے کو ملے تو جان لینا چاہیے کہ آپ بھسم نہیں ہوئے؛ ابھی اور جلنا اور تڑپنا ہو گا- لوگ تمہارے خط میں مہملیت چاہتے ہیں مگر جیسے ابن عربی کا مخاطب ہر دل نہیں ہوتا، جیسے پوّن چلنے سے پہلے اپنے راستے کا تعین نہیں کرتی، برکھا برسنے سے پہلے اپنا جل ترنگ نہیں سیکھتی اور ساز بجنے سے پہلے اپنے سُر طے نہیں کرتے، بالکل اسی طرح اظہار محبت بھی لفظوں کے کسی خاص مجموعے پر انحصار نہیں کرتا- کبھی تو ایک نگاہ ہی تمام کیفیات کا بیانیہ بن جاتی ہے اور بعض اوقات طوق الحمامہ اور امراء القیس بھی محبت کے سامنے سربسجود ہو کر اسے بیان کرنے سے قاصر رہتے ہیں-

    خیالات کا ایک دریا ہے جو اس خط میں بہنا چاہتا ہے مگر تم جانتے ہو دریا کناروں سے باہر آ جائے تو پھر غضب ناک ہو کر سب کچھ بہا لے جاتا ہے- سو اس سے پہلے کہ محبت کے ذکر میں کئی مجنوں، فرہاد، پُنوں، کیٹس، ورڈزورتھ اور اس قبیل کے اور لاتعداد محبت کے دعویدار اپنی محبتوں کی گٹھڑیاں اٹھائے نمودار ہو جائیں، میں مزید لکھنا موقوف کرتا ہوں-

    الوداع تو نہیں کہوں گا کہ یہ کائنات کا سب سےمشکل اور اذیت ناک لمحہ ہوتا ہے، اسی اذیت سے دوچار ہو کر ہی کسی نے کہا تھا، "وَهَل تُطيقُ وَداعاً أَيُّها الرَجُلُ”
    لیکن اے راہی! کیا بھلا تو اسے الوداع کرنے کی ہمت کر سکے گا ”
    لیکن پھر لکھ بھیجنے کی امید پر اس خط کو ہواؤں کے سپرد کر رہا ہوں کہ شاید وہ گزرتے ہوئے اسے تمہارے آنگن میں پھینک آئیں-

    تمہارا اپنا۔۔۔
    عبداللہ

  2. عقیدہ تو بلند و بالا جہت ہے آپ تو مانگ بھی ہماری مرضی کی نکالتی ہیں !! سبحان اللہ !
    شاندار

  3. Hanzlah Khaleeq بہت عمدہ تحریر ہے جناب، آپنے الفاظ کی فسوں کاری میں خود کو بہتوں سے بہتر ثابت کیا ہے۔ بارش میں بھیگتے لمحوں کا حال دل بھی کیا خوب بتلایا۔
    رہے زور قلم اور زیادہ

  4. یہ خط نہیں خطبہ ہے ۔۔۔نالائق مولوی کا
    یہ تحریر۔۔۔ آمد نہیں ۔۔۔خوشامد ہے
    یعنی بلاوجہ توڑ جوڑ کرکے الفاظ کاڈھیر ایک جگہ جمع کردیا،
    لیکن اگر لکھنے کا شوق ہے تو پہلے عمدہ اردو کتب پڑھیے ۔۔۔

  5. واہ کیا ” شرعی عشقیہ ” خط تحریر فرمایا ۔
    لیکن میرے نزدیک کچھ خاص رنگ نہیں جما پایا۔ اپنا جداگانہ طرز نگارش اختیار کریں یہ تو کئی ادبا کے اسلوب کا مکس اچار بن گیا۔ جا بجا کوٹیشنز سے خط سے زیادہ اقوال زریں کی ڈائری معلوم ہوتا ہے۔ انداز تخاطب کہیں آپ ، کہیں تم ۔۔۔ میں ۔۔۔۔ہم۔۔۔۔کسی ایک پر اکتفا بہتر ہوتا۔ وہ جو حفیظ جالندھری نے کہا تھا
    "بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں”
    تو بھئی یہ مکتوب بہت زوروں سے بنایا گیا ہے کیونکہ فطری سادگی اور روانی تحریر میں مفقود ہے۔

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/