– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 59 – تاریک دور (Dark ages) روم…

– قسط: 59
– تاریک دور (Dark ages)
رومی سلطنت کی تھوڑ پوڑ اور زوال کے بعد یورپ میں ایک ایسا دور آیا جسے یورپ کا تاریک دور (Dark ages) کہا جاتا ہے۔ یہ دور بنیادی طور پر ابتدائی قرونِ وسطیٰ یعنی 6ویں صدی سے لیکر 13ویں صدی تک جاری رہتا ہے۔
• تاریک دور کی خصوصیات
اس دور میں یورپ کی تہذیب اور ثقافت میں بہت سی تبدیلیاں آئیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عرصہ یورپ کے تاریخ کے زوال کا عرصہ تھا۔ علم، فلسفہ اور آرٹ، میں انسان بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ اس عرصہ میں قحط بھی ہوئی، لوگوں نے شہروں کو چھوڑ دیا، تجارت میں زوال آیا اور تعلیم و تعلم بنیادی طور پر پادریوں تک ہی محدود رہا۔
تاریک دور کے خصوصیات کو آسانی سے سمجھنے کے لئے ہم اس کو چار اہم نکات میں بیان کرتے ہیں۔
۱) سیاسی عدم استحکام
رومی سلطنت کے زوال کے بعد یورپ میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔ اس دور میں متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہوئیں جو ایک دوسرے سے مسلسل لڑ رہی تھیں۔
۲) جاگیردارانہ نظام
یورپ کے اس تاریک دور میں جاگیردارانہ نظام کا آغاز ہوا۔ جس کا اس سے پہلے قسط میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔
۳) مذہبی قیادت
تاریک دور میں عیسائیت یورپ کا غالب مذہب بن گیا اور پاپائی حکومت نے یورپ میں سیاسی اور مذہبی دونوں طرح سے ایک اہم مقام حاصل کر لیا تھا۔
۴) علمی اور تکنیکی پسماندگی
سب سے اہم یہ کہ تاریک دور میں یورپ میں علمی اور تکنیکی میدان میں بہت سی پسماندگی رہی۔ اس دور میں تعلیم کا فروغ نہیں ہو سکا اور قدیم یونانی اور رومی تہذیب کے علمی کاموں کو کھو دیا گیا۔
In 529AD the Church ordered the closing of Plato’s academy.
چرچ نے 529AD میں افلاطون کے اکیڈی جو کہ ایتھنز میں چل رہی تھی، اس کو بھی بند کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس اکیڈمی سے فلسفہ کی کفریہ افکار پھیل رہے ہیں۔
The notion of the Dark ages began with Enlightenment thinkers such as Francesco Petrarca in the 1330’s.
یورپ کے تاریک دور کا تصور 1330 کی دہائی میں فرانسیسکو پیٹرارک جیسے روشن خیال مفکرین نے پیش کیا تھا۔
یعنی یہ تصویر جو ہم نے اس عرصے اور دور کا کھینچا، یہ بنیادی طور پر روشن خیالی کے دور کے مفکرین کا خیال تھا۔
مگر اس عرصہ کے حوالے سے ایک دوسرا نقطہ نظر بھی موجود ہے۔
• تاریک دور کا دوسرا اور جدید پہلو
اگرچہ تاریخی اصطلاحات میں، تاریک دور (Dark Ages) سے مراد 6ویں صدی سے 13ویں صدی تک کا یورپی عہد ہے، اس کو کو اکثر ایک منفی دور کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس میں قدیم یونانی اور رومی تہذیب کی ترقی کا زوال (decline) ہوا اور تعلیم اور علم میں پسماندگی رہی۔ تاہم، حالیہ اور جدید تحقیق نے اس نقطہ نظر کو چیلنج کیا ہے اور تاریک دور کی مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
Modern revisinists scholarship emphasizes the achievement of the middle ages.
یعنی آج کل کے مورخین کلی طور پر قرونِ وسطیٰ (Middle ages) کی کامیابیوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ اِن کے مطابق جو تصویر کلی طور پر قرونِ وسطیٰ کی روشن خیال فلاسفہ و مفکرین نے کھینچی ہے، یہ درحقیقت ایسی نہیں ہیں بلکہ قرونِ وسطیٰ یا مبینہ تاریک دور میں بھی بہت سارے ایسے تخلیقات ہوئیں جس نے علم و فلسفہ اور آرٹ کو ترقی دی۔
Medieval scholasticism is the foundation upon which the modern school and university system was built.
یعنی قرونِ وسطیٰ یا بنیادی طور پر تاریک دور میں ہی تعلیم اور اسکولوں کی بنیاد رکھی گئی۔ اس دور کے دوران، بہت سے گرجا گھروں اور خانقاہوں میں اسکول قائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ، اس دور میں یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھی گئی، جن میں مشہور آکسفورڈ (1096AD) اور کیمبرج یونیورسٹی (1209AD) وغیرہ شامل ہیں۔
نیز تاریک دور میں بچوں کی کہانیوں کی ابتدا ہوئی۔ اس دور میں، بہت سی پریوں کی کہانیاں اور قصے لکھے گئے جو آج بھی بچوں میں مقبول ہیں۔
• قرونِ وسطیٰ کا فلسفہ
قرونِ وسطیٰ کے فلاسفہ دراصل خود کو فلاسفہ نہیں کہتے تھے بلکہ وہ اپنے آپ کو ماہرینِ الٰہیات، دینی علماء یا متکلمین (Theologians) کہتے تھے۔ دینی عقائد بالخصوص مسیحی عقائد کو ثابت کرنے کے لئے وہ فلسفہ کا سہارا بھی لیتے تھے مگر بنیادی طور پر وہ ازخود فلسفہ کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ درحقیقت، فلسفہ کو وہ یونان و روم کے کفریہ تہذیب و ثقافت سے جوڑتے تھے۔ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے، انہوں نے بھی اسی رومن یونانی تہذیب و فلسفہ سے بہت کچھ سیکھا بھی۔
• قرونِ وسطیٰ کا دور (Medieval Period)
5th – 12th century: Early medieval philosophy
12th – 16th century: Late medieval philosophy
قرون وسطیٰ کے فلسفہ ہم آسانی سے سمجھنے کے لئے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، ایک وہ جو پانچویں صدی سے شروع ہو کر بارھویں صدی تک جاری رہتا ہے اور دوسرا جو بارھویں صدی سے آگے سولھویں صدی تک جاری رہتا ہے۔
کلی طور پر پانچویں صدی سے لیکر سولھویں صدی تک کو ہم قرونِ وسطیٰ کا دور (Medieval period) کہتے ہیں۔
اس پورے دور کے اندر جو علمی مباحث ہوا کرتے تھے، اس میں مسیحی مفکرین نے بنیادی طور پر یہی کوشش کی کہ جو بہکے ہوئے اور کافر فلاسفہ ہیں وہ غلط اور مسیحی افکار و نطریات درست ہیں۔ خدا کے وجود، ان کی صفات، اور اس کے علاوہ تقدیر اور انسانی مرضی کے حوالے سے خاصا اور وسیع پیمانے پر بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔
کچھ مباحث ایسی تھی جوکہ پہلے سے ہی کاری تھے، جس کو ہم نے پچھلے اقساط میں پڑھا، جیسے کلیات کا مسئلہ (Problem of universals) وغیرہ۔
• قرونِ وسطیٰ کے دو بڑے مفکرین
اس دور کے سب سے بڑے مفکرین بنیادی طور پر درحقیقت دو ہیں جس میں ایک سینٹ آگسٹائن (Saint Augustine) اور دوسرا سینٹ تھامس اکوائنس (Saint Thomas Aquinas) شامل ہیں۔ ان دونوں کا قرونِ وسطیٰ میں وہی رتبہ ہے جیسے قدیم دور میں افلاطون اور ارسطو کا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوچ و نقطۂ نظر کے حوالے سے بھی سینٹ آگسٹائن کا جھکاؤ افلاطون، جبکہ سینٹ اکوائنس کا جھکاؤ ارسطو کی طرف تھا۔
Augustine reinterpreted Plato’s thought in Christan terms while Aquinas combined Aristotle’s thought with Christianity.
یعنی آگسٹائن نے افلاطون کے خیالات کی مسیحی تناظر میں ازسرنو تشریح کی، جبکہ اکوائنس نے ارسطو کے خیالات کو عیسائیت کے ساتھ ملا دیا اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سینٹ آگسٹین قرونِ وسطیٰ کا افلاطون اور سینٹ اکوائنس اسی دور کے ارسطو ہیں۔
• نتیجہ
تاریخی نقطہ نظر سے، تاریک دور میں مثبت اور منفی دونوں پہلو تھے۔ تاہم، جیسے کہ تحریر میں ذکر ہوا کہ حالیہ تحقیق اور جدید مفکرین کے مطابق تاریک دور کو صرف ایک منفی دور کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئیے بلکہ کلی طور پر اس دور میں بھی یورپی تہذیب اور ثقافت میں کچھ مثبت ترقی ہوئیں۔
– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3834233983473773




عمدہ تحریر
بہت معلوماتی
بہت خوب