عالمی ادب
سلامتی کی دعا سب کے نام ۔۔ ہاں تو آج سنڈے ہے اور ہر سنڈے ایک نہ ایک بک پر میرا …

سلامتی کی دعا سب کے نام ۔۔
ہاں تو آج سنڈے ہے اور ہر سنڈے ایک نہ ایک بک پر میرا تبصرہ لازمی آتا ہے ۔۔ لیکن آج کا تبصرہ میں کانپتے ہاتھوں بھری آنکھوں اور اداس دل کے ساتھ لکھ رہی ہوں ایسا کیوں ہے یہ آپ کو کتاب کا نام پڑھ کے اندازہ ہو جائے گا ۔۔ ہاں تو جی آج میں جس بک کا تبصرہ اپنے ساتھ لائی ہوں اس کا نام ہے ۔۔
مشہور جرمن فلاسافر اور ادیب گوئٹے کا مشہور ناول ” نوجوان ورتھر کی داستان غم”
میں نے یہ بک تقریبا آٹھ مہینے پہلے آرڈر کی تھی اور لیٹ پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ میں شروع کے کچھ صفحات پڑھ کے الجھن کا شکار ہو گئی تھی کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ یہ بہت زیادہ پیچیدہ ناول ہے
اس ناول کو میری پوری توجہ چاہیے تو میں نے سوچا تھا کہ جب مجھے لگے گا کہ میں اس کو ناول کو اپنی پوری توجہ دے سکتی ہوں تو ہی یہ ناول پڑھوں گی بس پھر اس ہفتے کچھ ایسا ہی وقت میرے پاس آگیا کہ میں نے اس کو اپنی پوری توجہ دے دی ۔۔ جو کہ مجھ پر بھاری پڑ رہی ہے ۔۔مجھے پتہ ہے میں اب اپنی اصل ذہنی حالت میں کچھ دن تو نہیں آؤں گی ۔
۔ اگر آپ درد سے بھری کہانی پڑھنے کے متلاشی ہیں، تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔
علامہ اقبال کہتے تھے کہ یہ ناول 40 سال کی عمر میں پڑھنا چاہیے۔
اس کتاب کے حوالے سے مصنف لکھتے ہیں کہ ’’اے عزیز ناظرین! اگر آپ میں سے کوئی ورتھر (مرد کا مرکزی کردار) کی ایسی تکلیف سے دو چار ہیں، تو آپ کو ورتھر کے صبر آزما دُکھ درد سے ایک قسم کی تسلی حاصل ہوگی، اور اگر بد قسمتی سے یا خود آپ کی اپنی غلطی سے آپ کو کوئی ایسا راز دار دوست نہ مل سکا…… جس کو آپ اپنے غم میں شریک کر سکیں، تو یہ چھوٹی سی کتاب آپ کی غم خواری کرے گی۔‘‘
اس خطرناک اور عبرت ناک ناول نے اس وقت کے یورپ کے نوجوانوں پر اتنا گہرا اثر چھوڑا کہ نوجوان خود کو قابو نہ کرسکے اور خودکشی کر بیٹھے۔ یہی وجہ تھی کہ یورپ کی کئی ریاستوں میں اس کتاب پر پابندی لگائی گئی۔
یہ کتاب خطوط پر مشتمل ہے
’’ورتھر‘‘ ایک نوجوان کی محبت کی کہانی ہے۔ اس کہانی میں جو مرکزی کردار دکھائے گئے ہیں…… ان میں ورتھر، شارلوٹے، البرٹ اور ولہلم شامل ہیں۔
ورتھر اپنے خیالات خطوط کے ذریعے اپنے دوست ولہلم کو سناتا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک قصبے میں رقص کے موقع پر ورتھر کی ملاقات شارلوٹے سے ہوتی ہے۔ وہ دونوں رقص کرتے نظر آتے ہیں اور ایک ساتھ گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
شارلوٹے خوش اخلاق لڑکی ہے۔ شارلوٹے اپنی ماں کی وفات کے بعد بچوں کا خاص خیال رکھتی ہے…… جو اس نے اپنی ماں سے وعدہ کیا ہوا تھا۔۔
ورتھر، شارلوٹے کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ آگے ہم البرٹ کو دیکھتے ہیں۔ البرٹ، شارلوٹے کا منگیتر ہے…… جس سے وہ محبت کرتی ہے…… جو جلد شادی کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ تینوں آپس میں دوستانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں۔
ورتھر جان چکا ہے کہ شارلوٹے ہمیشہ البرٹ کی ہے اور شارلوٹے بھی کسی بھی قیمت پر البرٹ کے ساتھ اپنا رشتہ کم زور کرنا نہیں چاہتی۔ وہ شدید دکھ میں پڑجاتا ہے۔ ورتھر بیگانگی کی حالت میں کھویا ہوا نظر آتا ہے۔
ورتھر اکثر تخیل کی دنیا میں محو نظر آتا ہے۔ فطرت کی خوب صورتی کی منظر کشی کرتا رہتا ہے اور ہومر ( مشہور یونانی شاعر اور فلاسفر) کی شاعری سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ورتھر، شارلوٹے سے البرٹ کی موجودگی اور عدم موجودگی میں ملتا رہتا ہے…… اور شارلوٹے بھی اس کا خیال کرتی ہے۔ ورتھر، شارلوٹے کے ساتھ وقت گزارتا اور بچوں سے پیار کرتا اور اپنے دل کو بہلاتا ہے ۔
ایک موڑ آتا ہے کہ شارلوٹے، ورتھر کی کم زوری بن جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ ورتھر کی ذہنی حالت بگڑ نے لگتی ہے۔ معلوم ہونے پر اس کا دوست ولہلم اسے تاکید کرتا ہے کہ وہ وہاں سے چلا جائے…… مگر ورتھر اس کی بات ٹال دیتا ہے اور وہ شارلوٹے سے ربط قایم رکھتا ہے۔
ورتھر اپنی محسوسات کو انتہا تک لے جاتا ہے۔ شارلوٹے اس کے خیالات کا مرکز بن جاتی ہے…… اور خیالات میں اس کو اپنے پاس پا کر ٹھنڈک محسوس کرتا ہے۔
ایک موڑ ایسا بھی آتا ہے کہ ورتھر کو لگتا ہے کہ وہ نظر انداز ہو رہا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے البرٹ اور شارلوٹے کی زندگی میں خلل ڈالنے کا گناہ کیا ہے۔
قدرت کے نظارے اس کو بے چین کرتے ہیں جو پہلے ورتھر کے لیے راحت کا سامان تھے۔ ورتھر اب پہلے جیسا نہیں رہتا۔ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ ہر چیز اسے دھوکا دے رہی ہے۔ وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
ورتھر بالکل اضطراب میں پڑ جاتا ہے۔ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے اور چلے جانے کا ارادہ کرتا ہے، پر وہ کامیاب نہیں ہوپاتا۔ وہ اپنے الم ناک انجام تک پہنچ جاتا ہے۔ آخر میں کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ البرٹ کو تحریر کرتا ہے کہ مجھے سیر و سیاحت کے لیے پستول چاہیے اور پھر ہمیشہ کے لیے اپنی جاں جانِ آفریں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس ناول کا اختتام یہیں پر ہوتا ہے۔۔
یہ ناول نہایت خوب صورت طریقے سے لکھا گیا ہے۔ چناں چہ کچھ آسان بھی ہے اور تھوڑا مشکل بھی۔
یہ روح کو ہلا کر رکھ دینے والی کہانی ہے کہ پڑھنے والا چونک کر رہ جاتا ہے۔۔
اس ناول کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشہور و معروف شخصیت نپولین بوناپارٹ نے کئی دفہ یہ کتاب پڑھی…… اور گوئٹے کے ساتھ اس کتاب کے حوالے سے بحث بھی کی اور اس ناول کو سراہا بھی۔
جرمن زبان و ادب کا یہ عالمی شہرت یافتہ ناول ہے۔۔
میرے خیال سے حساس اور کچے معصوم اور کم عمر ذہنوں کو یہ کتاب نہیں پڑھنی چاہیے ۔۔
لیکن یہ بھی ہے کہ
شاید یہ کتاب اس دور میں پڑھتے ہوئے آپ کو اس قسم کی محسوس نا ہو اور زیادہ محظوظ نہ کرے پر اس دور میں عشق و محبت کی تقاضا کچھ اور تھی اور اظہارِ محبت اور محبوب کی فراقت کی وجہ سے ملنے والے درد کی ٹیس کچھ مختلف تھی ۔۔۔
کس کس نے یہ کتاب پڑھی ہے کیا رائے ہے پڑھنے والوں کی ؟؟
ہاں تو آج سنڈے ہے اور ہر سنڈے ایک نہ ایک بک پر میرا تبصرہ لازمی آتا ہے ۔۔ لیکن آج کا تبصرہ میں کانپتے ہاتھوں بھری آنکھوں اور اداس دل کے ساتھ لکھ رہی ہوں ایسا کیوں ہے یہ آپ کو کتاب کا نام پڑھ کے اندازہ ہو جائے گا ۔۔ ہاں تو جی آج میں جس بک کا تبصرہ اپنے ساتھ لائی ہوں اس کا نام ہے ۔۔
مشہور جرمن فلاسافر اور ادیب گوئٹے کا مشہور ناول ” نوجوان ورتھر کی داستان غم”
میں نے یہ بک تقریبا آٹھ مہینے پہلے آرڈر کی تھی اور لیٹ پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ میں شروع کے کچھ صفحات پڑھ کے الجھن کا شکار ہو گئی تھی کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ یہ بہت زیادہ پیچیدہ ناول ہے
اس ناول کو میری پوری توجہ چاہیے تو میں نے سوچا تھا کہ جب مجھے لگے گا کہ میں اس کو ناول کو اپنی پوری توجہ دے سکتی ہوں تو ہی یہ ناول پڑھوں گی بس پھر اس ہفتے کچھ ایسا ہی وقت میرے پاس آگیا کہ میں نے اس کو اپنی پوری توجہ دے دی ۔۔ جو کہ مجھ پر بھاری پڑ رہی ہے ۔۔مجھے پتہ ہے میں اب اپنی اصل ذہنی حالت میں کچھ دن تو نہیں آؤں گی ۔
۔ اگر آپ درد سے بھری کہانی پڑھنے کے متلاشی ہیں، تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔
علامہ اقبال کہتے تھے کہ یہ ناول 40 سال کی عمر میں پڑھنا چاہیے۔
اس کتاب کے حوالے سے مصنف لکھتے ہیں کہ ’’اے عزیز ناظرین! اگر آپ میں سے کوئی ورتھر (مرد کا مرکزی کردار) کی ایسی تکلیف سے دو چار ہیں، تو آپ کو ورتھر کے صبر آزما دُکھ درد سے ایک قسم کی تسلی حاصل ہوگی، اور اگر بد قسمتی سے یا خود آپ کی اپنی غلطی سے آپ کو کوئی ایسا راز دار دوست نہ مل سکا…… جس کو آپ اپنے غم میں شریک کر سکیں، تو یہ چھوٹی سی کتاب آپ کی غم خواری کرے گی۔‘‘
اس خطرناک اور عبرت ناک ناول نے اس وقت کے یورپ کے نوجوانوں پر اتنا گہرا اثر چھوڑا کہ نوجوان خود کو قابو نہ کرسکے اور خودکشی کر بیٹھے۔ یہی وجہ تھی کہ یورپ کی کئی ریاستوں میں اس کتاب پر پابندی لگائی گئی۔
یہ کتاب خطوط پر مشتمل ہے
’’ورتھر‘‘ ایک نوجوان کی محبت کی کہانی ہے۔ اس کہانی میں جو مرکزی کردار دکھائے گئے ہیں…… ان میں ورتھر، شارلوٹے، البرٹ اور ولہلم شامل ہیں۔
ورتھر اپنے خیالات خطوط کے ذریعے اپنے دوست ولہلم کو سناتا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک قصبے میں رقص کے موقع پر ورتھر کی ملاقات شارلوٹے سے ہوتی ہے۔ وہ دونوں رقص کرتے نظر آتے ہیں اور ایک ساتھ گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
شارلوٹے خوش اخلاق لڑکی ہے۔ شارلوٹے اپنی ماں کی وفات کے بعد بچوں کا خاص خیال رکھتی ہے…… جو اس نے اپنی ماں سے وعدہ کیا ہوا تھا۔۔
ورتھر، شارلوٹے کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ آگے ہم البرٹ کو دیکھتے ہیں۔ البرٹ، شارلوٹے کا منگیتر ہے…… جس سے وہ محبت کرتی ہے…… جو جلد شادی کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ تینوں آپس میں دوستانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں۔
ورتھر جان چکا ہے کہ شارلوٹے ہمیشہ البرٹ کی ہے اور شارلوٹے بھی کسی بھی قیمت پر البرٹ کے ساتھ اپنا رشتہ کم زور کرنا نہیں چاہتی۔ وہ شدید دکھ میں پڑجاتا ہے۔ ورتھر بیگانگی کی حالت میں کھویا ہوا نظر آتا ہے۔
ورتھر اکثر تخیل کی دنیا میں محو نظر آتا ہے۔ فطرت کی خوب صورتی کی منظر کشی کرتا رہتا ہے اور ہومر ( مشہور یونانی شاعر اور فلاسفر) کی شاعری سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ورتھر، شارلوٹے سے البرٹ کی موجودگی اور عدم موجودگی میں ملتا رہتا ہے…… اور شارلوٹے بھی اس کا خیال کرتی ہے۔ ورتھر، شارلوٹے کے ساتھ وقت گزارتا اور بچوں سے پیار کرتا اور اپنے دل کو بہلاتا ہے ۔
ایک موڑ آتا ہے کہ شارلوٹے، ورتھر کی کم زوری بن جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ ورتھر کی ذہنی حالت بگڑ نے لگتی ہے۔ معلوم ہونے پر اس کا دوست ولہلم اسے تاکید کرتا ہے کہ وہ وہاں سے چلا جائے…… مگر ورتھر اس کی بات ٹال دیتا ہے اور وہ شارلوٹے سے ربط قایم رکھتا ہے۔
ورتھر اپنی محسوسات کو انتہا تک لے جاتا ہے۔ شارلوٹے اس کے خیالات کا مرکز بن جاتی ہے…… اور خیالات میں اس کو اپنے پاس پا کر ٹھنڈک محسوس کرتا ہے۔
ایک موڑ ایسا بھی آتا ہے کہ ورتھر کو لگتا ہے کہ وہ نظر انداز ہو رہا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے البرٹ اور شارلوٹے کی زندگی میں خلل ڈالنے کا گناہ کیا ہے۔
قدرت کے نظارے اس کو بے چین کرتے ہیں جو پہلے ورتھر کے لیے راحت کا سامان تھے۔ ورتھر اب پہلے جیسا نہیں رہتا۔ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ ہر چیز اسے دھوکا دے رہی ہے۔ وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
ورتھر بالکل اضطراب میں پڑ جاتا ہے۔ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے اور چلے جانے کا ارادہ کرتا ہے، پر وہ کامیاب نہیں ہوپاتا۔ وہ اپنے الم ناک انجام تک پہنچ جاتا ہے۔ آخر میں کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ البرٹ کو تحریر کرتا ہے کہ مجھے سیر و سیاحت کے لیے پستول چاہیے اور پھر ہمیشہ کے لیے اپنی جاں جانِ آفریں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس ناول کا اختتام یہیں پر ہوتا ہے۔۔
یہ ناول نہایت خوب صورت طریقے سے لکھا گیا ہے۔ چناں چہ کچھ آسان بھی ہے اور تھوڑا مشکل بھی۔
یہ روح کو ہلا کر رکھ دینے والی کہانی ہے کہ پڑھنے والا چونک کر رہ جاتا ہے۔۔
اس ناول کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشہور و معروف شخصیت نپولین بوناپارٹ نے کئی دفہ یہ کتاب پڑھی…… اور گوئٹے کے ساتھ اس کتاب کے حوالے سے بحث بھی کی اور اس ناول کو سراہا بھی۔
جرمن زبان و ادب کا یہ عالمی شہرت یافتہ ناول ہے۔۔
میرے خیال سے حساس اور کچے معصوم اور کم عمر ذہنوں کو یہ کتاب نہیں پڑھنی چاہیے ۔۔
لیکن یہ بھی ہے کہ
شاید یہ کتاب اس دور میں پڑھتے ہوئے آپ کو اس قسم کی محسوس نا ہو اور زیادہ محظوظ نہ کرے پر اس دور میں عشق و محبت کی تقاضا کچھ اور تھی اور اظہارِ محبت اور محبوب کی فراقت کی وجہ سے ملنے والے درد کی ٹیس کچھ مختلف تھی ۔۔۔
کس کس نے یہ کتاب پڑھی ہے کیا رائے ہے پڑھنے والوں کی ؟؟


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3831530293744142




بہت بہترین ناول ہے میں اسے دوبارہ پڑھنے کا آرزو مند ہوں کیونکہ میرے درد کی کیفیت اور ٹیس ورتھر والی ہے
میں نے یہ ناول اس لئے پڑھا تھا کیونکہ گروپ میں کچھ ماہ قبل اس پر تبصرہ دیکھنے کو ملا تھا لیکن جس قدر تعریف اس ناول کی کی گئ ہے مجھے یہ اتنا زبردست نہیں لگا ۔نا ہی میں اتنی اداس ہوئ جتنا کہ میں نے سنا ہے کہ لوگ اسے پڑھ کر غمگین ہوجاتے ہیں۔
میرے عقب میں یہ ہے وہ گھر جہاں پر گوئٹے نے رہ کر اس ناول کا کافی سارا حصہ مکمل کیا۔ژیورش سوئٹزر لینڈ
اچھی کوشش ہے یہ سلسلہ جاری رکھیں!
بورنگ لگا مجھے
یہ اردو میں کہاں سے ملے گا؟ میرے پاس ہے لیکن انگریزی میں ہے۔
بہت خوب۔۔۔۔
ya wo kitab ha jo Iqbal na Javeed Iqbal sa chupa kr rkhi the…..k is ko phrna k lea maturity darkar ha.
ماشاءاللہ خوبصورت تبصرہ 😊
ہندوستان میں یہ کتاب دستیاب نہیں ہے لہذا اس کا پی ڈی ایف ہو تو ضرور اطلاع کریں
پی ڈی ایف میں موجود ہے تھوڑی سی پڑھی تھی آگے نہیں پڑھ سکا۔ اس تبصرے کے بعد ایک بار پھر اسے پڑھنے کو کوشش کروں گا۔
محبت اور حاصل محبت۔ ( کچھ بھی دلیل دی جا سکتی ہے۔ ورتھر کا فیصلہ میرے نزدیک ٹھیک ہے۔ خود کشی کے بجائے وہ دیوداس بن کر زندگی بسر کرتا تو اچھا ہوتا).
یہ تو لکھنے والے پر منحصر ہے۔
تبصرے کی خوبصورت کوشش!
تحریر کو پوسٹ کرنے سے قبل ایک بار بغور پڑھ کر اسکی املا درست کر لیا کریں۔
اور دوسرا کوشش کریں کسی بھی کتاب کی کہانی مکمل عریاں مت کریں بس لوگوں کو اسکی سمت راغب کریں۔
اگر کہانی کو مختصراً مکمل بیان کر دیا جائے تو قاری کے لیے اسکے مطالعے میں بچتا ہی کیا ہے؟ بہرلازم تجسس ہی تو کہانی کی سندرتا ہے۔
شارلٹ۔ نہ کہ شارلوٹے
کیا یہ پی ڈی ایف میں مل سکتی ہے ؟