نگاہِ شوق سے راہِ سفر کو دیکھتے ہیں پھر ا…
پھر ایک رنج سے دیوار و در کو دیکھتے ہیں
نہ جانے کس کے بچھڑنے کا خوف ہے اُن کو
جو روز گھر سے نکل کر شجر کو دیکھتے ہیں
یہ روز و شب ہیں عبارت اِسی توازن سے
کبھی ہُنر کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ہمارے طرزِ توجّہ پہ خوش گمان نہ ہو
تجھے نہیں تری تابِ نظر کو دیکھتے ہیں
ہمارے سامنے دریا ہیں سلسلوں کے رواں
پہ کیا کریں کہ تری چشمِ تر کو دیکھتے ہیں
ہم اہلِ حرص و ہوس تجھ سے بے نیاز کہاں
دعا کے بعد دعا کے اثر کو دیکھتے ہیں
یہ بے سبب نہیں سودا خلا نوردی کا
مسافرانِ عدم رہگزر کو دیکھتے ہیں
وہ جس طرف ہو نظر اُس طرف نہیں اٹھتی
وہ جا چکے تو مسلسل اُدھر کو دیکھتے ہیں
ہمیں بھی اپنا مقلّد شمار کر غالبؔ
کہ ہم بھی رشک سے تیرے ہُنر کو دیکھتے ہیں
عرفانؔ ستار
از:-تکرارِ ساعت ص ۵۳/۵۴
انتخاب
سفیدپوش