منتخب غزلیں

دھوپ چمکی رات کی تصویر پیلی ہو گئی دن گیا اور س…

دھوپ چمکی رات کی تصویر پیلی ہو گئی
دن گیا اور سرد تاریکی نُکیلی ہو گئی

جانے کس کی جستجو میں اس قدر گھوما کئے
ہم جواں مردوں کی ہر پوشاک ڈھیلی ہو گئی

مے کدہ سے گھر کی جانب خود بہ خود کیوں آ گئے
سرد کمرے کی فضا کیا پھر نشیلی ہو گئی

ہم سرابوں کے سفر کے اس قدر عادی ہوئے
جل بھری ندیوں کی لذت بھی کسیلی ہو گئی

خوش نما دیوار و در کے خواب ہی دیکھا کئے
جسم صحرا، ذہن ویراں، آنکھ گیلی ہو گئی

(ابرار اعظمی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/