عالمی ادب

نظم "شطرنج” خورخے لوئس بورخیس/مترجم :اجمل کمال ا…

نظم "شطرنج”
خورخے لوئس بورخیس/مترجم :اجمل کمال
ایک گمبھیر کونے میں بیٹھے کھلاڑی سست رو مہروں کو آگے بڑھاتے ہیں
شطرنج کی بساط سورج نکلنے تک انہیں اپنی قید میں رکھتی ہے
اس بساط پر دو رنگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں
مہروں کی مختلف شکلوں میں کھیل کے طلسمی قوانین پوشیدہ ہیں
ہومر کے یونانی قلعے،سبک رفتار گھوڑے،
جنگجو ملکہ، پیچھے رہ کر فیصلے کرنے والا بادشاہ
غیر منصف پیشوا اور حملہ آور پیادے
کھلاڑیوں کے اٹھ جانے کے بعد،
اور موت کے گھاٹ اتر جانے کے بعد بھی
یہ رسم جاری رہتی ہے…

More

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3066259923604520

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/