"ایسا معلوم ہوتا کہ سارے بدن کی کھال میں سورا…

"ایسا معلوم ہوتا کہ سارے بدن کی کھال میں سوراخ ہو گئے ہیں اور خون ایک ایک مسام سے بہا جا رہا ہے۔ یہ دیکھنے کی تاب لانا بھی ممکن نہ تھا کہ تڑپتے ہوئے لوگ ایک فرش پر ڈھیر ہو جاتے اور اذیت کی شدت سے چیخنے لگتے۔۔ کچھ ہی دیر میں ان کا سانس اکھڑ جاتا اور دم نکل جاتا۔۔
جب تمام منتخب مہمان محل کی فصیل میں داخل ہو گئے تو شہزادے نے حکم دیا کہ بلند پھاٹک بند کر دیے جائیں اور ان پر قفل چڑھا دیے جائیں۔ اب سرخ موت یہاں داخل نہیں ہو سکتی۔۔ باقی دنیا اس سے نمٹتی رہے، اس نے ہنس کر کہا۔
مہمانوں کو تکلیف تھی تو اتنی کہ اب وہ حد سے زیادہ تفریح سے اکتانے لگے تھے۔۔۔ شہزادے نے ان کی دلچسپی کے لیے نقاب پوش رقص کا انتظام کیا۔۔ موت کسی لٹیرے کی مانند دبے پاؤں وہاں پہنچی اور رقص میں بن بلائے مہمان کی طرح شامل ہوگئی۔۔ وہ جہاں جہاں سے گزری لوگ درد کی شدت سے چیختے ہوئے زمین پر گرنے لگے۔۔۔"
(ایڈ گرایلن ہو کا افسانہ 'سرخ موت' مترجم: آصف فرخی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"موت ایک معزز مہمان ہے۔ جب وہ پیشگی اطلاع دے کر آئے تو اس کا روایتی وقار سے استقبال کرنا چاہیے۔ فوج کے پیشہ ورانہ آداب میں خاموشی اور سکوت، ادب اور احترام کی ہی صورتیں ہیں۔۔
جس شخص کو پھانسی دی جانی تھی۔۔۔ اس کے نقوش خاصے قبول صورت تھے۔۔۔ وہ پیٹن فروہار۔۔ اس کی بڑی سیاہ آنکھوں میں ایک فطری نرمی تھی۔۔۔ فوجی نصاب میں گنجائش رکھی جاتی ہے کہ کئی طرح کے لوگوں کو پھانسی دی جا سکے۔ یہاں تک کہ شرفاء بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔۔
تختہ دار پر عین پھانسی کے وقت سنائی دی جانی والی آواز کا وہ تعین نہ کرسکا۔۔۔ایک شدید تکلیف کے احساس کے ساتھ۔۔ وہ ایک ناقابلِ بیان قوس میں کسی پینڈولم کی مانند جھول رہا تھا۔۔تبھی روشنی کا ایک گولہ سا اس کی جانب لپکا۔۔
فوج اور تختہ دار سے کسی نہ کسی طرح چھوٹ کر۔۔ تمام تکالیف سہتے ہوئے۔۔ جب وہ کسی نہ کسی طرح اپنے گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہاں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے وہ چھوڑ گیا تھا۔۔اس کے بچے۔۔ اس کی بیوی جو زینے سے اتر کر اس کی منتظر تھی، اس کے چہرے پہ ناقابلِ بیاں خوشی تھی۔۔ وہ دونوں ہاتھ وا کر کے اس کی جانب لپکا۔۔ تبھی ایک اندھا کر دینے والی دودھیا روشنی اس کے چاروں طرف پھیل گئی۔۔۔
وہ پیٹن فروہار تبھی مر گیا تھا۔۔ اس کا جسم اپنی ٹوٹی گردن کے ساتھ۔۔ جھیل والے پل کی چوب سے دائیں بائیں جھول رہا تھا۔۔"
(ایمبرو زبیرس کی کہانی 'الو والی ندی کے پل کا واقعہ' مترجم: سید سعید نقوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی ادب کے تراجم کو نہایت محنت سے مرتب کرنے والے محترم یاسر حبیب صاحب کی نئی کاوش 'امریکی کہانیاں' سے چند اقتباسات۔
ناشر : سٹی بک پوائنٹ کراچی۔
Thanks Yasir Habib Sahib.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2993166204247226



